’’ آئی ایس آئی ایس‘‘ سے’’ آئی ایس آئی‘‘ تک تحریر : ذولفقار بلوچ

پیر 30 نومبر, 2015

نائین الیون کے بعد بہت سے دانشوروں نے پیشن گوئی کی تھی کے آنے والے دس سالوں تک امریکی پالیسیز دہشتگردی کے گرد ہی گھومتی رہیں گے لیکن آج اگر عالمی حالات پر طائرانہ نگاہ ڈال کر جانچا جائے تو بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آنے والے دس سال مزید امریکی پالیسیاں اور ترجیحات دہشتگردی اور مذہبی جنونیت کے خاتمے کے گرت ہی گھومتی رہیں گے ۔ 2001 سے ابتک امریکہ نے جتنے معرکے سر کیئے ، جہاں جہاں فتح کے جھنڈے گاڑھے ان سب کا حاصل و حصول مذہبی شدت پسندی کے مزید بڑھوتری کی صورت میں سامنے آرہی ہے۔ عراق سے امریکی فوج کی انخلاء کے بعد وہاں ایک طرف تو شیعہ سنی فسادات نے عراق کے وحدت پر بڑا سوالیہ نشان کھڑا کردیا ہے تو دوسری طرف سے سنی انتہاء پسند جماعت آئی ایس آئی ایس جسے عرب داعش کہہ کر پکارتے ہیں شام کے بعد عراق کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کرکے اپنے خلافت کا اعلان کردیا ہے ۔ آنے والے دنوں میں مشرق وسطی ٰ سمیت جنوبی ایشیاء اور خاص طور پر بلوچستان پر اس بدلتے عالمی منظر نامے کا کیا اثر ہوگا یہ ایک انتہائی اہم سوال ہے ، کیونکہ اگر باریک بینی سے دیکھا جائے تو یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ 2014 میں افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد تحریکِ طالبان افغانستان داعش جنگجووں کی طرح افغانستان پر کنٹرول حاصل کرنے کی سر توڑ کوشش کریں گے ، اسی طرح شمالی و جنوبی وزیرستان، سوات ، وانا وغیرہ اور ان سے منسلک علاقوں میں جہاں تحریکِ طالبان پاکستان خاص طور پر ملا فضل اللہ گروپ ، سجنا گروپ ، منگل باغ گروپ ، حافظ گل بہادر گروپ ، اعظم طارق گروپ ، شہریار محسود گروپ ، ازبکستان اسلامک موومنٹ اور ایسٹ ترکستان موومنٹ اپنا محفوظ جنت بنا چکے ہیں وہ بھی پیش قدمی کرنے اور اپنے علاقوں میں خلافت طرز کا کوئی ریاست بنانے کیلئے کوشش کرسکتے ہیں ۔ عراق میں آئی ایس آئی ایس کی پیش قدمیوں اور فتوحات کا افغانستان و پاکستان میں موجود گروہوں پر کیا اثر ہوگا یہ سوال اسی خطے میں ایک آزاد ریاست کے جدوجہد میں مصروف بلوچوں کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے ، کیونکہ اگر مستقبل میں یہاں بھی امریکی انخلاء کے بعد مذہبی شدت پسند گروہ پیش قدمی کرکے خلافت قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو پھر کیا بلوچوں میں کردوں کی طرح اتنی طاقت ہے کہ وہ لڑ کر ان مذہبی شدت پسندوں کو اپنے علاقوں میں داخل ہونے سے روک سکیں گے ؟ کردوں نے اپنے خطے کے اس بدلتے صورت حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے آزادی کا اعلان کیا ہے ، اور بہت جلد وہ اس پر ریفرنڈم بھی کرانے کی تیاریاں کر رہے ہیں ، لیکن اس سے پہلے کردوں نے یہ ثابت کیا کہ وہ اس مذہبی شدت پسندی سے خود کو محفوظ رکھنے کی قابلیت رکھتے ہیں بلکہ بوقتِ ضرورت وہ ان سے مقابلہ بھی کرسکتے ہیں ، تادم تحریر YPG کے کرد جنگجو اپنے علاقے ’’ کوبانے ‘‘ کی حفاظت کیلئے آئی ایس آئی ایس سے لڑرہے ہیں ، کردوں کو آزادی پلیٹ میں سجی نہیں مل رہی بلکہ اس کے پیچھے انکی نا صرف سو سالہ قربانیوں اور جدوجہد کی تاریخ ہے بلکہ صحیح موقعوں پر صحیح فیصلے کرنا بھی اس میں شامل ہے ، میرے خیال میں عالمی صورتحال کی پرکھ اور سیاسی بالیدگی کی جتنی ضرورت بلوچ قوم تحریک کو آ ج ہے شاید کبھی نہیں تھی ، اسلئے ہر بدلتے صورتحال کا تجزیہ اور اس پر غور اور اس کے اثرات کا بلوچ کاز پر اثرات کی جانچ ہی صحیح معنوں میں بلوچ سیاسی کارکنوں کا کام ہے تاکہ بلوچ قومی تحریک کے حوالے سے مستقبل کیلئے موزوں حکمت عملیوں پر عمل پیر ا ہوا جاسکے ۔ ہم اپنے ار گرد کسی بھی وقوع پذیر واقعے سے چشم پوشی کے متحمل نہیں ہوسکتے ، یہاں تو پورے مشرقِ وسطیٰ کا نقشہ ہی بدلنے والا ہے بلکہ کافی حد تک بدل چکا ہے ، آئی ایس آئی ایس نے خلافت کا اعلان کردیا ہے کرد اپنے آزادی کا اعلان کرنے والے ہیں ۔ اس حوالے سے بلوچ سیاست کیا رخ اختیار کرسکتی ہے اور کونسا رخ اختیار کرنا چاہئے ایک انتہائی اہم موضوعِ بحث ہے ، اسی موضوع کو مدنظر رکھ کر میں موجودہ حالات کا ایک مختصر خاکہ اپنے محدود علم و دانست کے مطابق پیش کرنے کی کوشش کرنا چاہوں تو بحث کا آغا ز عراق اور آئی ایس آئی ایس سے ہی ہوگا۔
آئی ایس آئی ایس جس کا انگریزی مخفف Islamic state in Iraq and Syria ہے عرب دنیا میں داعش کے نام سے جانی جاتی ہے ۔ یہ القاعدہ سے ٹوٹ کر بننے والی ایک سنی مذہبی انتہاء پسند جماعت ہے ۔ یہ اپنے نام کی حد تک محدود ایک ریاست نہیں بلکہ اب یہ ایک عملی ریاست کا شکل اختیار کرچکا ہے ( گوکہ ناجائز) یہ شام کے شہر الرقع سے لیکر عراقی شہر فلوجہ تک پھیلی ہوئی ہے ۔ یہ اپنے زیر قبضہ علاقوں پر ناصرف مکمل کنٹرول رکھتا ہے بلکہ وہاں پورے نظامِ زندگی کو چلا رہا ہے ، انکی عدالتیں ، اسکولیں حتیٰ کے میونسپل کمیٹی بھی کام کر رہے ہیں ، یہ اپنے زیر قبضہ علاقوں میں تیل کے کنووں سے پورا ٹیکس وصول کر رہے ہیں اور کافی حد تک عوام کو بنیادی ضروریاتِ زندگی بھی مہیا کر رہے ہیں ۔ آئی ایس آئی ایس اصل میں 2006 کے دوران سامنے آنے والی سیاسی جماعت اسلامک اسٹیٹ آف عراق سے نکلی ہوئی مسلح جماعت ہے ، اس کا پہلا امیر امریکی حملے میں مارے جانے والے زرقاوی کو کہا جاتا ہے ۔ زرقاوی پہلے افغانستان میں ایک گروپ کو لیڈ کر رہے تھے لیکن بعد میں انہیں عراق بھیجا گیا جہاں انہوں نے القاعدہ سے منسلک مسلح تنظیم بنائی ۔ آئی ایس آئی ایس کے نام سے یہ جماعت 2013 میں سامنے آئی اور بہت جلد عراق اور شام میں حکومتوں کے خلاف لڑنے والے مسلح تنظیموں میں اسکا نام سر فہرست آنے لگا ۔ اس کے امیر کا نام ابو بکر البغدادی ہے ۔ شام میں باتھسٹ اسد حکومت کے خلاف مذہبی جنونیوں کے بغاوت کے آغاز کے وقت یہ سب القاعدہ سے منسلک جماعت ’’ جبہت النصریٰ ‘‘ کے پلیٹ فارم سے لڑ رہے تھے ، لیکن بغدادی یہ چاہتے تھے کہ جبہت النصریٰ کے امیر ابو محمد الگولانی انہیں امیر تسلیم کریں اور اس کے حکمت عملیوں کے مطابق چلے ، لیکن الگولانی نے اس سے انکار کردیا جس کی وجہ سے بغدادی نے آئی ایس آئی ایس قائم کرکے خود کو الگ کردیا ، اس کے اعلان کے ساتھ ہی کہا جاتا ہے کہ جبہت النصریٰ کے آدھے سے زیادہ جنگجوو ں نے آئی ایس آئی ایس میں شمولیت اختیار کرلی ۔اس کے فوراً بعد القاعدہ نے داعش جنگجووں سے قطع تعلقی کا اعلان کردیا اور اس کے کسی بھی عمل کی ذمہ داری اٹھانے سے انکار کردیا ہے ۔ ماہرین کے مطابق القاعدہ کے اندر یہ اختلافات 1999 میں سامنے آئے تھے جب زرقاوی نے اسامہ بن لادن سے اختلاف رکھنا شروع کیا تھا ان اختلافات کے دو بنیادی وجوہات تھے زرقاوی کو لگتا تھا کہ القائد ہ شیعوں کے خلاف اتنی شدت سے کاروائی نہیں کر رہا جتنا کرنا چاہئے ، زرقاوی شیعہ فرقے کے خلاف ایک مکمل جنگ چھیڑنا چاہتے تھے وہ اپنے گروپ کی مدد سے عراق میں کئی شیعہ تاریخی مقامات کومنہدم کرچکے تھے لیکن القائدہ اپنی توجہ شیعہ فرقے سے زیادہ مغرب کی طرف کرنا چاہتا تھا دوسرا اختلاف انکے طریقہ کار پر تھا زرقاوی ایک اسلامی ریاست اور خلافت چاہتے تھے تاکہ وہیں سے وہ پوری دنیا پر اپنے حملوں کی تیاری کریں لیکن اسامہ اس کے خلاف تھے ۔اسی اختلاف نے 15 سال بعد آئی ایس آئی ایس کو جنم دیا جو زرقاوی کے فلسفے پر عمل کرتے ہوئے پیش قدمی کر رہے ہیں ۔ شام میں آئی ایس آئی ایس ، جبہت النصریٰ سمیت کئی اور مذہبی شدت پسند تنظیمیں النصریٰ فرنٹ کے نام سے اسد حکومت کے خلاف جنگ لڑ رہے تھے،ابتداء میں آئی ایس آئی ایس قائم ہونے کے بعد بھی القائدہ سے جڑا ہوا تھا لیکن شام میں دوران جنگ ان کے ایمن الظواہری سے اختلافات شروع ہوگئے ۔ ابوبکر البغدادی چاہتے تھے کہ ایک طرف سے اسد حکومت کے خلاف لڑی جائے تو دوسری طرف سے اپنے زیر قبضہ علاقوں میں حکومت کا اعلان کرکے یہاں اسلامی ریاست بنائی جائے لیکن ایمن الظواہری آئی ایس آئی ایس کے طریقہ کار سے نالاں تھے انہوں نے ان کے طریقہ کار جس میں عام آبادیوں پر بلا امتیاز حملے شامل تھے کو القائدہ کیلئے نقصاندہ قرار دیا اور بغدادی کو حکم دیا کے وہ شام چھوڑ کر اپنی توجہ صرف عراق پر مرکوز کریں اور شام کی ذمہ داری القاعدہ سے دوسری منسلک جماعت النصریٰ فرنٹ کے ہاتھوں میں دے دی، یہاں سے اختلافات نے شدت اختیار کی اور آئی ایس آئی ایس مکمل الگ ہوگیا ۔ اسکے بعد انہوں نے پیش قدمی کرکے نا صرف عراق کے کئی مرکزی شہروں پر قبضہ کیا ہوا ہے بلکہ شام کے اہم علاقوں پر بھی ان کا قبضہ ہے ۔اسکے بعد کچھ علاقوں پر کنٹرول کیلئے آئی ایس آئی ایس او النصریٰ فرنٹ کے بیچ کئی جھڑپیں ہوچکی ہیں جن میں ان کے کئی جنگجو ہلاک ہوچکے ہیں ۔ ماہرین کہتے ہیں کہ ایک انتہائی قلیل مدت میں آئی ایس آئی ایس کا ابھر کر سامنے آنا اور اتنی بڑی طاقت بننے کے پیچھے ان کے کرشماتی لیڈر ابوبکر البغدادی جو ابو دعا کے نام سے بھی مشہور ہیں کا ہاتھ ہے جن کے حکمت عملیوں کے بدولت نا صرف آج آئی ایس آئی ایس ایک وسیع رقبے پر قابض ہے بلکہ اس سے متاثر ہوکر آج مغربی ممالک سے بھی کثیر تعداد میں مسلمان آئی ایس آئی ایس کے پلیٹ فارم سے لڑ رہے ہیں۔43 سالہ بغدادی عراق کے شہر سمارہ میں پیدا ہوئے،وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اسلامک اسٹیڈیز ، شاعری اور تاریخ میں گریجویشن کی ہے ۔وہ 2005 سے لیکر 2009 تک امریکی فوج کے ہاتھوں گرفتار رہے تھے ۔ رہائی کے بعد انہوں نے دوبارہ اپنی تنظیم اسلامک اسٹیٹ ان عراق میں کام شروع کیا اور 2010 میں اس کے امیر بن گئے ، لیکن دوسری طرف بہت سے ماہرین کا کہنا ہے کہ بغدادی کے کردار سے زیادہ داعشوں کی کامیابی کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے عراق کے سابق صدر صدام حسین کے بعث پارٹی سے الحاق کیا ہے آج بعث پارٹی کے کئی سابق کارکن اور صدام حسین کے کئی وفادار سابق جنرلز اور فوجی ان کے ساتھ ہیں کیونکہ نورالمالکی کے شیعہ حکومت کے آنے کے بعد سنی باتھسٹ خود کو نظام سے الگ تھلگ پاتے تھے ۔ ماہرین کے مطابق عراقی شہروں پر حملوں کے سارے منصوبے صدام حسین کے سابق جنرلز تیار کر رہے ہیں جبکہ دوسری طرف سے بہت سے ماہرین کا کہنا ہے کہ داعشوں کے کامیابی کے پیچھے سب بڑا راز ان کامالی طور پر بے انتہاء امیر ہونا ہے ایک طرف سے عرب دنیا کے امراء بشار الاسد کے خلاف لڑنے کیلئے انہیں بے تحاشا پیسہ فراہم کر رہے ہیں تو دوسری طرف سے وہ تیل کے کنووں سے بھی کمائی کر رہے ہیں بہت سے تیل کے کنویں قبضے کے بعد انہوں نے شامی حکومت کو دوبارہ مہنگے داموں بیچیں جہاں سے انہوں خطیر رقم ملی ہے۔ اس کے علاوہ شام کے علاقے النبوک پر قبضہ کرنے کے بعد وہاں کے قدیم جگہوں سے نوادرات نکال کر بیچی گئی ہے، جن کی مالیت 36 ملین ڈالر ہوتی ہے ، جن میں 8000 سال پرانے نوادرات شامل ہیں ۔امریکی خفیہ اداروں کے ایک رپورٹ کے مطابق عراق کے شہر موصل پر قبضہ کرنے سے پہلے ان کے پاس 875 ملین ڈالر تھے لیکن موصل پر قبضہ کرنے کے بعد داعشوں نے وہاں کے تمام بینکوں کو لوٹا جس سے ان کا بجٹ اب 2بلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے اور دوسری طرف موصل کے فوجی چھاونی پر قبضے کے دوران ہاتھ آنے والے جدید ہتھیاروں سے انکے عسکری قوت میں بھی بے تحاشہ اضافہ ہوچکا ہے ۔
آئی ایس آئی ایس کے قیام سے لیکر ان کے مضبوط ہونے تک جو بھی وجوہات ہوں لیکن آج یہ ایک حقیقت بن چکی ہے کہ وہ ایک بہت بڑے طاقت کی صورت میں سامنے آئیں ہیں انہوں نے نا صرف عراق کے زیادہ تر سنی علاقوں پر قبضہ کیا ہوا ہے بلکہ اب وہ نا صرف مغربی ممالک بلکہ سعودی عرب ، ایران اور ترکی کیلئے بھی بہت بڑا خطرہ بن چکے ہیں ۔ انہوں نے اپنے مستقبل کے حوالے سے ایک نقشہ بھی شائع کیا ہے جس میں ان تمام علاقوں کو ظاھر کیا گیا ہے جہاں وہ پیش قدمی کا ارادہ رکھتے ہیں اور اسلامی خلافت قائم کرنا چاہتے ہیں ۔اس نقشے میں بلوچستان بھی شامل ہے ۔ اب ایک سوال اٹھتا ہے کہ کیا وہ پاکستان و افغانستان میں موجود مذہبی شدت پسند گروہوں کے ساتھ ملکر اس خطے میں پیش قدمی کریں گے سب سے اہم کیا اس پیش قدمی میں بلوچستان شامل ہوگا ؟ اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان میں موجود شدت پسند گروہوں کے شام کے شدت پسندوں سے گہرا تعلق ہے ۔ ایک رپورٹ کے مطابق ابتک تحریک طالبان اپنے کئی جنگجو شام بھیج چکا ہے ، جو پاکستان اور ترکی کے حکومتوں کی معاونت سے کراچی سے خاص طور پر ترکی کے طیاروں میں ہوتے ہوئے شام پہنچے ہیں ۔جس سے شامی باغیوں اور تحریک طالبان کا تعلق ظاھر ہوتا ہے لیکن اسکے باوجود دو اہم وجوہات ایسے ہیں جن کی وجہ سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ داعش جنگجو اس خطے میں خاص طور پر بلوچستان کی طرف مستقبل قریب میں پیش قدمی کرنے کی کوئی کوشش نہیں کریں گے ۔
۱۔پاکستان و افغانستان میں موجود طالبان القاعدہ سے منسلک ہیں ۔ ان کے قیام سے لیکر ابتک القاعدہ انہیں مکمل طور پر مالی ، عسکری اور عددی لحاظ سے کمک کرتا رہا ہے، اس وجہ سے یہ ہمیشہ سے اپنا امیر اعلیٰ اسامہ بن لادن کو سمجھتے رہے ہیں اور اسامہ کے بعد یہ سب ایمن الظواہری کے پابند ہیں ۔ آئی ایس آئی ایس اور القاعدہ کے بیچ اختلافات اور بعد میں علیحدگی کی وجہ سے پاکستانی شدت پسندوں کے تعلقات داعش جنگجووں سے بگڑ گئے ہیں ۔ القاعدہ سے منسلک ہونے کی وجہ سے تحریکِ طالبان ابتک اپنے تمام جنگجو النصریٰ فرنٹ کے مدد کیلئے بھیجتا رہا ہے جو شام میں داعشوں کا سب سے بڑا حریف ہے جن کے بیچ علاقوں کے کنٹرول کے حصول پر لڑائیاں ہوچکے ہیں ۔ دوسری طرف سے ابوبکر البغدادی نے خود کو خلیفہ قرار دیتے ہوئے تمام مسلمانوں کو بیعت اور اطاعت کا کہا ہے لیکن القاعدہ اور طالبان یہاں پہلے سے ہی خلیفہ ملا عمر کو مانتے ہیں ، جس کے وجہ سے اب انکے بیچ نیا تنازعہ کھڑا ہوچکا ہے ۔
۲۔ دوسری اہم وجہ بلوچ زمینی حقائق ہیں ۔ اگر دیکھا جائے تو داعشوں نے عراق کے تمام ان علاقوں پر حملہ اور قبضہ کیا ہے جہاں سنی اکثریت میں رہتے ہیں کیونکہ صدام حسین کے بعد امریکا نے عراق کی حکومت نورالمالکی کے سربراہی میں شیعہ فرقے کے ہاتھوں میں دے دی جس کی وجہ سے وہاں کے سنی حکومت سے خائف ہیں ۔ نورالمالکی نے بھی تمام وزارتیں اور اہم عہدے شیعوں کو دے کر سنی مسلک کو الگ تھلگ کردیا ہے جس کی وجہ سے سنی دوبارہ اقتدار کے طلبگار ہیں ۔ اس حوالے سے پہلے ہی داعشوں کی سیاسی جماعت سابقہ اسلامک اسٹیٹ آف عراق نے کئی شیعہ مخالف سنی احتجاج بھی کروائے کئی جلسے بھی منعقد کرکے عوامی رائے اپنے حق میں ہموار کیا ۔ یہی وجہ ہے کہ جب داعش ان سنی اکثریتی شہروں میں داخل ہوئے تو انہیں کوئی خاص مزاحمت کا سامنا کرنا نہیں پڑا۔ایک تو طویل شیعہ سنی فسادات اور اختلافات کی وجہ سے سنیوں میں شیعہ مخالف اور مذہبی جنونی جذبات بھی غالب تھے جو آئی ایس آئی ایس کو ان علاقوں میں نظریاتی گراونڈ بھی فراہم کرتے تھے ۔ اسی وجہ سے عراق کے دارلحکومت بغداد سے چند کلومیٹر دور ہونے کے باوجود وہ بغداد پر حملہ نہیں کر رہے کیونکہ وہاں انہیں وہ نظریاتی گراونڈ نظر نہیں آرہی ۔ اگر بلوچ سماج کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات صاف عیاں ہوتی ہے کہ بلوچ سیکیولر روایات کی وجہ سے بلوچ مذہبی طور پر معتدل ہیں اور کسی بھی مذہب، فرقے یا مسلک کو جذب و برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ بلوچ اکثریت اعتدال پسند ہیں اور مذہبی جنونیت کی نفی کرتے ہیں ۔ جس کی وجہ سے ہمیشہ سے بلوچستان میں ترقی پسند قوم پرست نظریات کو پذیرائی تو حاصل رہی ہے لیکن مذہبی جنونیت کبھی اتنا جڑ نہیں پکڑ سکا ہے ۔ داعش کے علاوہ اگر کبھی تحریک طالبان پاکستان یا افغانستان بھی کبھی یہاں علاقوں پر کنٹرول حاصل کرکے خلافت قائم کرنا چاہیں بھی تو انہیں کبھی بلوچستان میں کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی کیونکہ چھوٹی افرادی قوت کے باوجود بڑے شہروں اور علاقوں پر قبضہ کرنے اور قبضے کو قائم رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ ان علاقوں میں آپ کو عوامی حمایت حاصل ہو آپ کیلئے نظریاتی گراونڈ موجود ہو ۔ طالبان کئی دہائیوں سے فاٹا وغیرہ میں بآسانی اس لیئے رہ رہے ہیں کیونکہ وہاں انہیں کسی نا کسی حد تک نظریاتی گراونڈ میسر ہے وہاں لوگ زیادہ تر مذہبی کٹر پن کا شکا ر ہیں جو ان مذہبی جنونیوں کو اپنے تئیں جگہ فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔
ان سب عوامل کے باوجود یہاں قابلِ غور بات یہ ہے کہ اگر ایک طرف سے دنیا کیلئے آئی ایس آئی ایس خطرہ بنا ہوا ہے اور اپنے مذہبی جنونیت کے ساتھ علاقوں پر قبضہ کرکے وہاں کنٹرول حاصل کرنا چاہتا ہے تو دوسری طرف آئی ایس آئی ایس کے ایجنڈے کے طرز پر بلوچستان میں آئی ایس آئی اپنے مذہبی شدت پسندوں کو بلوچ سماج میں داخل کر رہا ہے اور مذہبی جنونیت کو بڑھوا دینے کی سعی کر رہا ہے ۔ بلوچستان پر قبضہ کے بعد سے ابتک پاکستان یہاں کئی بڑے پیمانے کے فوجی آپریشن کرچکا ہے جن میں ہزاروں بلوچوں کو شہید اور ہزاروں کو لاپتہ کیا جاچکا ہے ۔ اپنی اس بربریت کی وجہ سے پاکستان 4 بڑے بلوچ مزاحمتی تحریک کچل چکا ہے لیکن ہر بار کچل دینے کے باوجود بلوچ تحریک نے دوبارہ سر اٹھایا ہے اور پہلے سے بھی زیادہ شدت اور جدت کے ساتھ بلوچ تحریک آزادی کے کاروان کو آگا بڑھاتا رہا ہے ۔اس کی سب سے بڑی وجہ بھی یہی ہے کہ مذہبی شدت پسندی سے دور ہونے کی وجہ سے بلوچ سماج میں ترقی پسند خمیر موجود ہے اور یہ ترقی پسند سوچ ہی پاکستان کے اس ناجائز رشتے جو مذہب کے نام سے جڑا ہے کو مسترد کرکے قوم پرستی کو وہ نظریاتی گراونڈ میسر کرتی ہے جو کسی بھی تحریک کا اساس ہوتا ہے ۔ گذشتہ دس سالوں کا اگر ہم جائزہ لیں تو پاکستان نے یہاں ظلم و بربریت کے ہر حربے کو استعمال کیا ہے ۔ فضائی بمباری ہو یا لوگوں کے گھر جلانا ، لاپتہ کرنا ہو یا مسخ شدہ لاشیں پھینکنا پاکستان ہر طرح سے اس تحریک کو دبانا یا کچلنا چاہتا ہے لیکن ان تمام مظالم کے باوجود تحریک ایک جگہ سے تھوڑا معدوم ہوکر دوسری جگہ زور پکڑتا ہے پھر اسی طرح دوسری جگہ سے تیسری جگہ شہروں میں زیادہ سختی ہو تو پہاڑوں میں تحریک شدت پکڑتی ہے پہاڑوں میں اگر سختی ہو تو پھر شہروں میں تحریک زور پکڑتا ہے ۔ پاکستان گذشتہ 10 سالوں کے دوران عملاً 20000 سے زائد بلوچوں کو شہید یا لاپتہ کرچکا ہے جن میں کئی سرکردہ لیڈر بھی شامل ہیں لیکن اس کے باوجود تحریک کے وقعت و وسعت پر کوئی اثر نہیں آرہا دوبارہ اس کی سب سے بڑی وجہ بلوچ سماج میں قوم پرستی و ترقی پسند رجحانات کا ہونا ہے جو بلوچ تحریک کو خام مال مہیا کرنے اور تسلسل سے مہیا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ اب پاکستان بلوچ قومی تحریک کے اس بنیاد پر نظریاتی حملہ کرنا چاہتا ہے ۔ قابض یہاں ایک سلسلہ وار منصوبے کے تحت اپنے مذہبی شدت پسند اور شدت پسند نظریات کو بنیادی سطح سے لانا چاہتا ہے۔ جس کا آغاز بلوچستان کے کونے کونے میں مدارس قائم کرنے سے ہوا، اس وقت بلوچستان میں سرکاری فنڈ سے چلنے والے سینکڑوں مدارس قائم ہیں جنہیں مکمل طور پر ریاست کی طرف سے اسپانسر کیا جاتا ہے دوسرے مرحلے میں پاکستان نے تبلیغی جماعتوں کی صورت میں اپنے پروپگینڈے کا آغاز کیا ، ہر جگہ تبلیغی مرکز قائم کیئے گئے ، بلوچستان کے ہر کونے میں تبدیلی جماعتیں بھیجیں گئی ، ہر سال کئی بڑے بڑے تبلیغی اجتماعات منعقد کی جاتی ہے ۔اب پاکستان کے اسی منصوبے کا تیسرا مرحلہ آچکا ہے جہاں پاکستان لشکرے جھنگوی طرز کے مذہبی شدت پسند عسکری جماعتوں کو بلوچستان میں داخل کر رہا ہے ۔ ایک طرف سے ان مذہبی جنونیوں کو پنجاب سے لاکر آئی ایس آئی یہاں منتقل کرکے انہیں کھلی چھوٹ دے رہی ہے تو دوسری طرف سے اپنے گماشتے اور جرائم پیشہ افراد پر مشتمل ڈیتھ اسکواڈز کو مذہبی رنگ دیکر ان سے کاروائیاں کراکے یہ تاثر بھی ابھار رہا ہے کہ بلوچ سماج میں مذہبی شدت پسندی وجود رکھتی ہے ۔ بلوچستان میں شیعہ مسلک پر حملے ، عورتوں پر تیزاب پھینکنا ، پنجگور میں تعلیمی اداروں میں بچیوں کے تعلیم پر پابندی لگانا اور حملے کرنا سب اسی منصوبے کے شاخسانے ہیں ۔ اس کے پاکستان دو فوری فائدے حاصل کرنا چاہ رہا ہے ایک تو عالمی سطح پر یہ ظاھر کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ بلوچ سماج اصل میں افغانستان کی طرح مذہبی جنونیت اپنے اندر رکھتا ہے تاکہ دنیا بھر میں بلوچ کا جو سیکیولر چہرہ ظاھر ہے اسے مسخ کیا جائے اور مستقبل میں اس خطے میں ہونے والے کسی بھی تبدیلی کے وقت رائے عامہ بلوچ کے حق میں نہیں جا پائے تو دوسری طرف ان کاروائیوں سے پاکستان بلوچ خاموش اکثریت کو طاقت سے مرعوب کرکے مذہبی شدت پسند گروہوں کی طرف مائل کرنا چاہتا ہے وہ ایسا تاثر قائم کرنا چاہتا ہے کہ جو شخص بھی اگر ان مذہبی شدت پسندوں کی طرف ہوگا تو وہ محفوظ رہے گا تاکہ بلوچ سماج کے مذہبی اعتدال پسند اقتدار پر نظریاتی حملہ کرکے مذہبی جنونیت کی جڑیں یہاں قائم کی جائیں جس سے بلوچ ترقی پسند و قوم پرست نظریات کو کوئی گراونڈ نا مل سکے اور وہ بار بار سر نا اٹھا سکیں ۔ مستقبل میں وہ مزید شدت کے ساتھ ایسی کاروائیاں کریں گے اور گاہے بگاہے شاید ایسے بہت سے اقدامات سامنے آئیں جن سے مذہبی جنونیت کو یہاں فروغ اور بڑھاوا ملے ۔
ان سارے عوامل کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ بآسانی کہی جاسکتی ہے کہ عراق میں دنیا کا سر درد بنے آئی ایس آئی ایس ہو یا پھر بلوچ نسل کشی کا مرتکب بلوچستان میں آئی ایس آئی ہو ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں دونوں اپنے اپنے طریقے سے ایک مخصوص علاقے میں مذہبی جنونیت اور شدت پسندی کو بڑھاوا دے رہے ہیں ۔ دونوں کے اعمال سے نا صرف متاثرہ خطے بربادی کا شکار ہونگے بلکہ یہ عالمی امن و آتشی کیلئے ایک خطرہ بنے رہیں گے ۔ میرے خیال میں جہاں دنیا آئی ایس آئی ایس کے جنگجووں کے خلاف صف بندی کر رہا ہے اور عراقی حکومت کی ہر ممکن مدد کر رہا وہیں دنیا کو آئی ایس آئی کے خلاف بھی ایک واضح حکمت عملی کے ساتھ آنا ہوگا اور بلوچوں کی ہر ممکن مدد کرنی پڑے گی تاکہ مذہبی شدت پسندی اور عدم رواداری کے سامنے بند باندھا جائے ، جس طرح کرد آج ایک طرف سے ان مذہبی شدت پسندوں کے سامنے بہت بڑی دیوار بن چکے ہیں ، لیکن ان سب کے باوجود ہماری لیڈر شپ اور سیاسی جماعتوں و کارکنوں کو وہ سیاسی بالیدگی اور حکمت عملی دکھانے کی ضرورت ہے جو کردوں نے عراق میں دکھائی ۔ ہمیں ایک طرف سے بلوچستان میں پاکستان کی طرف سے پھیلائے جانے والے مذہبی جنونی پروپگینڈہ اور کاروائیوں کا اب مقابلہ کرنا ہوگا تو دوسری طرف سے ایک واضح حکمت عملی کے ساتھ بلوچ عوام سے جڑ کر اسے اس مذہبی جنونیت کے لہر کے خلاف تیار کرنا ہوگا اور اپنے اس نظریاتی گراونڈ کا حفاظت کرنا ہوگا جو ہمیشہ سے بلوچ قومی تحریک کو ایندھن و خام مال فراہم کرتا رہا ہے ۔آج بلوچ صرف ایک دشمن سے مد مقابل نہیں ہے بلکہ تین دشمنوں سے ایک ساتھ لڑ رہا ہے ایک پاکستان کی صورت میں قابض ہے دوسری سرمایہ دارانہ سامراجیت و کمرشلائزیشن کا غلبہ ہے تو تیسری طرف سے سعودی عرب ، ایران ،پاکستان کی طرف سے اسپانسرڈ مذہبی شدت پسندی ہے اب ان تین دشمنوں کے بیچ میں سے کہا ں مقابلہ کرنا ہے کہاں توازن برقرار رکھ کر چلنا ہے اور کہاں سمجھوتہ کرنا ہے بے انتہاء سیاسی بالیدگی ، عاقبت اندیشی اور وسیع النظری کا متقاضی ہے ۔ یہ جنگ بہت وسیع ہے اور جب جنگ وسعت اختیار کرلے پھر تنگ نظرانہ سیاست ، محدودیت اور گروہیت اپنے ہی زوال کا باعث بن جاتا ہے اس وسیع جنگ میں ان تین دشمنوں سے نمٹنے کیلئے موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے سب سے پہلے اپنے تئیں موجود تنگ نظرانہ سیاست ، محدودیت اور گروہیت کو ختم کرنا اتنا ہی ضروری بن چکا ہے جتنا کہ یہ جنگ بذاتِ خود جتنی ضروری ہے ۔
(نوٹ : یہ مضمون اگست 2014میں لکھی گئی ہے )

image_pdfimage_print

[whatsapp] آرٹیکلز. RSS 2.0