بلوچستان میں بڑے آپریشن کا آغاز کردیا گیا ہے ، بی این ایف

پیر 17 نومبر, 2014

کوئٹہ (ہمگام نیوز)بلوچ نیشنل فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے بیان جاری کرتے ہو ئے کہا کہ موجودہ نام نہاد حکومت اور ریاستی فورسز و خفیہ اداروں کی جانب سے بلوچستان میں بڑے آپریشن کا آغاز کر دےا گیا ہے۔آواران،مشکے ،بولان،قلات اور گرد نواح میں گزشتہ ایک ماہ سے فورسز کی آمد کا سلسلہ جاری ہے اور ابھی بھی فورسز کے دستے جنگی سازو سامان اور جنگی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے خضدار،بیلہ ،کوئٹہ سے آ رہے ہیں جو ایک انتہائی سخت اور بلوچ کش خونی آپریشن کی تیاریوں کا مظہر ہے، جس کا باقاعدہ آغاز آج مشکے اور آواران کے درجنوں علاقوں ،قصبوں کو زمینی فورسز نے محاصرہ اور فضائی سروئے کے ذریعے شروع کیا۔ ےہ سلسلہ پورے بلوچستان میں جاری ہے جہاں سول آبادی کو محصور کرنے کے ساتھ ریاستی فورسز کی لوٹ مار و خواتین و کمسن بچوں کا اغواءبلوچستان میں بربریت کو ایک نئے روپ میں ٹرانسفر کرکے بنگلہ دیش جیسی غیر اخلاقی و غیر انسانی تاریخ دہرانے کی خدشات جنم لے رہے ہیں ۔ڈیرہ بگٹی میں 3 بلوچ خواتین کو انکی بچیوں اور بچوں سمیت اغواءاس کی آمد کی نشانی ہے ۔ بولان سنی شوران میں عام آبادیوں پر بمباری اور نہتے بلوچ عوام کا اغواءریاست کی اپنے قبضہ کو طول دینے اور بلوچ کشی کا تسلسل ہیںایسی نازک صورتحال میں اقوام متحدہ سمیت عالمی قوتوں کی خاموشی حیران کن ہے ، مشرق وسطیٰ کے بعد بلوچستان میں ایسے عناصر کی موجودگی باعث تشویش ہو نا چاہئے اور بلوچ قوم بھر پور جواب دینے کے لیے تیار رہے

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0