آج کی قربانیاں کل کے آزادی کی ضامن ہیں۔بی ایس او آزاد پمفلٹ

جمعرات 24 ستمبر, 2015

ہمگام نیوز
معزز بلوچ عوام
قومی آزادی کی جنگیں، درد و غم کی ہزاروں داستانوں،تکلیف و مصیبتوں، بے گھری و نکل مکانی کی صبر آزما اذیتوں، اپنے جگر گوشوں کے جدائی کی کربناک عذاب جیسی مصیبتوں سے گزر کر ہی کامیاب ہو جاتی ہیں۔دنیا میں جتنے قوموں نے بھی آزادیاں حاصل کی ہیں، انہوں نے لاکھوں انسانی جانوں کی قربانی، بے گھری کا عذاب سہنے، اپنے بچوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے مرتے دیکھنے کی اذیت ناک واقعات کے باوجود مقصدکو مقدم جان کر ہی اپنی آزادیاں حاصل کی ہیں۔ آج اگر آزاد و مہذب ممالک پوری دنیا میں ترقی کی علامت سمجھے جاتے ہیں، دورِ غلامی میں انہوں نے قبضہ گیروں کے خلاف جنگ اور اپنے بچوں کی قربانیاں دے کرہی یہ مقام حاصل کیا ہے۔ قبضہ گیروں کی ہمیشہ سے کوشش یہی رہی ہے کہ مقبوضہ و غلام قوم کو ہر حوالے سے پسماندہ رکھ کر انہیں احساس کمتری کا شکار بنایا جائے، تاکہ انکار و مذاحمت کی قوت دم توڑ کر معدوم ہو جائے۔یہی ہُنر پاکستان بھی کئی عرصوں سے بلوچ عوام کے خلاف آزما رہی ہے، لیکن خود داری، آزادی پسندی، اور اپنی سرزمین سے والہانہ محبت پاکستان کی تمام سازشوں کو ایک حد تک ناکام بنانے میں کار آمد ثابت ہوئے ہیں۔
قابض ریاست کی روز اول سے ہی کوشش رہی ہے کہ بلوچ سرزمین پر موجود قیمتی وسائل کو دوسری کمپنیوں کے ہاتھوں بیچ کر اپنے مفادات کے لئے بلوچ وسائل کا استحصال کیا جائے۔ گوادر ڈیپ سی پورٹ، کوہلو و ڈیرہ بگٹی کے علاقوں میں ڈیپ ڈرلنگ پروجیکٹس، گڈانی پاور پلانٹ یا بلوچ وسائل کو آسانی سے پاکستان کے شہروں و چائنا تک منتقل کرنے کے لئے ترقی کے نام پر بننے والی سڑکیں و ریلوے لائن ہوں، ان تمام کا مقصد بلوچ سرزمین پر موجود قیمتی وسائل کی لوٹ مار اور بلوچ عوام کو ان کی ا پنی سرزمین پر اقلیت میں بدلنا ہے۔ سڑکوں کی تعمیر سے جہاں پاکستانی فوجی نقل و حرکت انتہائی غیر معمولی ہو جائے گی، وہیں پنجاب و دیگر علاقوں سے لاکھوں کی تعداد میں آباد کاروں کو بھلا کر بلوچ عوام کو اقلیت میں بدلنے کی کوششیں بھی شروع کی جا چکی ہیں ۔اپنے ان مزموم مقاصد کی کامیابی کے لئے گماشتہ سرداروں، نیشنل پارٹی، بی این پی مینگل و عوامی اور جماعت اسلامی و جمیعت علمائے اسلام سمیت تمام پارلیمانی پارٹیاں قابض ریاست کے معاون و ہمکار بنے ہوئے ہیں ۔ ان منصوبوں کے سامنے بننے والی رکاوٹ ’’بلوچ عوام‘‘ کے خلاف پاکستانی فضائیہ و زمینی فوج ایک خونی آپریشن کا ایک عرصے سے آغاز کر چکے ہیں۔ ان فوجی کاروائیوں میں روز بہ روز انتہائی شدت لایا جا رہا ہے تاکہ بلوچ عوام کو طاقت کے زور پر خاموش کرکے بلوچ وسائل سے قابضین استفادہ کر سکیں۔ مستونگ، مشکے، آواران، کوہلو، ڈیرہ بگٹی، پسنی و گوادر سمیت بلوچستان بھر کے تمام علاقوں میں قتل عام و آبادیوں پر بمباری سے قابض فورسز ہزاروں بلوچ فرزندان کو شہید ، زخمی و اغواء کر چکے ہیں۔ جبکہ کئی دیہاتوں کو بھی صفحہ ہستی سے مٹایا جا چکا ہے۔
ایک غلام قوم کی حیثیت سے بلوچ کو قابض ریاست پاکستان کی شکل میں ایک غیرمہذب دشمن کا سامنا ہے۔ جنگی اخلاقیات و اصولو ں کی پامالی، گھروں کو لوٹ کر جلانے، خواتین پر تشدد و انہیں اغواء کرنے ، بچوں و نہتے افراد کو اغواء کرکے اپنے ٹارچر سیلوں میں تشدد سے شہید کرنے جیسی دہشتگردانہ کاروائیاں روزانہ قابض فورسز کے ہاتھوں بلوچستان کے طول و عرض میں ہو رہے ہیں۔ لیکن بلوچ قومی تحریک عوام کے اندر اپنی جڑیں مضبوط کرنے کے سبب اس طرح کی دہشتگردانہ کاروائیوں کے باوجود روز بہ روز شدت کے ساتھ اُبھر رہی ہے۔ بلوچستان میں اپنے قبضے کی کمزور ہوتی گرفت کو مضبوط کرنے اور بلوچ وسائل کا استحصال جاری رکھنے کی غرض سے قابض ریاست نے کئی اور محاز بلوچ تحریک کے خلاف کھولے ہیں۔ تاکہ بلوچ عوام کی حمایت کو آزادی کی تحریک سے ختم کیا جا سکے۔ ان پالیسیوں میں میڈیا کے ذریعے بلوچ آزادی پسندوں کے خلاف جھوٹی پروپگنڈہ،لشکر جھنگوی ، اور دیگر مذہبی شدت پسندوں کے ذریعے بلوچ عوام کو تقسیم کرنے کے فرقہ واریت کی فروغ، بلوچ عوام کو مایوس کرنے کے لئے بلوچ جہد کاروں کے خلاف جھوٹی باتیں پھیلانے سمیت اس طرح کے مختلف کاؤنٹر پالیسیاں شامل ہیں، ان تمام سازشوں کا مقصد بلوچ عوام کو تحریک آزادی سے دور رکھنا ہے۔ تاکہ پاکستان ، بلوچ سرزمین پر اپنے قبضے کو برقرار رکھ سکے۔قابض ریاست کو اس بات کا اچھی طرح سے ادراک ہے کہ اگر بلوچ عوام یکجاہ ہو کر قابض کے اداروں کے خلاف مذاحمت کریں، تو بلوچستان میں قابض کی غیر فطری وجود عوامی طاقت کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوگی، اسی لئے اپنے زر خریدوں کے ذریعے سیکولر بلوچ معاشرے کو آپس میں دست و گریباں کرنے کے لئے مختلف ہتھکنڈے آزمائے جا رہے ہیں۔ قابض ریاست کو بلوچ عوام سے کوئی ہمدردی نہیں، بلکہ انہیں اس سرزمین پر موجود وسائل کی ضرورت ہے جن کی حفاظت ہزاروں سالوں سے بلوچ فرزندان کرتے آرہے ہیں۔
بلوچ فرزندان۔۔۔
غلامی کی زندگی میں خوشحالی، امن، آسودگی، معاشی ترقی، تعلیم و روزگار جیسی سہولتوں کے لئے کوششیں کرنا، ایک لا حاصل کوشش ہے۔ قابض طاقتیں کبھی بھی یہ نہیں چاہینگی کہ غلام قوم تعلیم و روزگار کی سہولتوں سے بہرہ ور ہو کر اپنے بچوں کو تعلیم دلوا سکے، قابض ریاست تعلیم یافتہ طبقے کو تسلسل کے ساتھ نشانہ بنا کر اس خوف کا بارہا اظہار کرچکی ہیں۔معلمِ آزادی شہید صبا دشتیاری، شہید زاہد آسکانی ’’سنچار‘‘، شہید کمبر چاکر، الیاس نذر،سمیت ہزاروں اسٹوڈنٹس و ٹیچرز کو صرف اس لئے شہید کیا جا چکا ہے کہ وہ نوجوانوں میں شعور و تعلیم کو عام کرنے کی جدوجہد کررہے تھے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ قومی تاریخ و سرزمین سے واقف نوجوان قابض کے اداروں و اس کی قبضہ گیریت کو کبھی برداشت نہیں کر سکتے۔ بلوچ قوم کی آزادی ہی آنے والے نسلوں کی خوشحالی،و امن کا ضامن ہے۔اپنی آزادی اور آنے والے نسلوں کی خوشحال زندگی کی قیمت پر اگر آج جدوجہد سے دور رہے ، تو قابض ریاست و سرداروں کو ہم خود یہ موقع دے رہے ہیں کہ وہ ہمارے وسائل اور ہماری نسلوں کا استحصال جاری رکھیں۔
بلوچ عوام ۔۔۔! ایک غلام قوم کے فرزند ہونے کی حیثیت سے آپ کے پاس کھونے کو غربت، پسماندگی و غلامی کے سواکچھ نہیں، پانے کو ایک روشن مستقبل اور آزاد بلوچ وطن ہے۔
یہ ہمارا ایمان ہے کہ فتح ہر حال میں بلوچ عوام کی ہو گی۔
جدوجہد آخری فتح تک
نشر و اشاعت
بی ایس او آزاد

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0