آرمی نے خواتین اور بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ بی این ایم

منگل 18 نومبر, 2014

کوئٹہ(ہمگام نیوز) بلوچ نیشنل موؤمنٹ کے مرکزی ترجمان نے کہا کہ ریاستی فورسز نے کیچ کے علاقے شاپک میں آبادی پرفائرنگ کر کے ایک بلوچ بیٹی حفصہ ولد میار کو زخمی کر دیا۔کل نوشکی میں کلی غریب آباد و گرد و نواح میں سرچ آپریشن کے نام پر بلوچ گھروں پر دھاوا بول کر چادر و چاردیواری کی پامالی کی گئی اور کئی بلوچ فرزندوں کو اغوا کیا ۔ مرکزی ترجمان نے کہا کہ ٓج شاپک میں ریگولر آرمی نے آبادی پر حملہ کر کے گھروں میں لوٹ مار کی اور خواتین و بچوں کوتشدد کا نشانہ بنا کر علاقہ خالی کرنے کی دھمکیاں دیں اور کئی فرزندوں کو اغوا کیا۔ جس پر سرزمینِ بلوچستان کی بہادر ماؤں،بہنوں ،بیٹیوں نے اجتجاجی مظاہرہ کیا اورفورسز کے سامنے ڈٹے رہے اور فورسز نے مظاہرین پر فائرنگ کی جس سے بانک حفصہ میار گولی لگنے سے زخمی ہو گئیں اور فورسز نے اسکے بعد پھر آبادیوں پر دھاوا بول کر گھروں میں موجود بچے کچے سامان خورد نوش کی اشیا اور بستروں کو لوٹ کر شاپک میں کجھور کے باغات اور دوسری فصلوں کو جلایا۔مرکزی ترجمان نے کہا کہ قابض ریاستی فورسز کی جانب سے آپریشن اس وقت بھی شدت کے ساتھ جاری ہے اور پورا علاقہ سردی میں بے سر سامانی کی حالت میں محصور ہے۔نام نہاد حکومت اور اسکے نمائندئے آج بلوچ فرزندوں کی غیرت ننگ اور زندگیوں سے کھیل رہے ہیں اور انکے ہاتھ بلوچ فرزندوں ماؤں ،بہنوں کے خون سے رنگے ہیں یقیناًتاریخ کے ساتھ بلوچ قوم ان ریاستی داشتاؤں کو کبھی معاف نہیں کرئے گی۔مرکزی ترجمان نے مزید کہا کہ آج مقبوضہ بلوچستان میں ڈیرہ بگٹی، کوہلو ،نوشکی، اسپلنجی و آواران سے مکران تک فورسز کی بلوچ نسل کشی ،آبادیوں پر یلغار تیزی کے ساتھ جاری ہے اور نام نہاد میڈیا اور انسانی حقوق کے ادارے تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0