آزادی کیلئے قومی لیڈر کی بجائے کئی طبقاتی لیڈرز کی آواز سنائی دیتی ہے۔ ایڈوکیٹ انور بلوچ

پیر 22 دسمبر, 2014

سویئزرلینڈ (ہمگام نیوز) سیاسی رہنما محمد انور بلوچ ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ استحصالی طبقات جاگیردار ،سرمایہ دار اور سردار قدیم تاریخ سے مظلوم اقوام کو غلام بنانے میں قابض حکمرانوں کو ساتھ دینے اور طبقاتی نظام کو تحفظ فراہم کر نے کیلئے بالادست ریاست کی غاضبانہ اور ظالمانہ قبضہ کو دلائل کے ساتھ جواز فراہم کر کے مظلوم اقوام کی قومی ملکیت کو لوٹ مار کر نے کیلئے قابض کے تسلط کو جائز اور حکمرانی کو قانونی حق سمجھ کر محفوظ راستہ دے کر قابض کی رہنمائی کر تے ہوئے وثوق کے ساتھ کہتے رہے ہیں کہ مظلومیت تمہاری مقدر کی طرف سے ہیں لحاظہ یہی تمہاری تقدیر ہے جس پر راضی ہونا بلائی ہے مگر حقیقت تو یہی ہے کہ استحصالی طبقات نے کھبی بھی غلامی کے خلاف اور نہ ہی تبدیلی کے حق میں قامیت کو قبول کرکے ساتھ دیا ہے بلکہ ہمیشہ حالات کے مطابق کجی اختیار کرکے موقع پرستی کی طاق میںرہے ہیں اس وقت پارلیمان اور ازادی دونوں طرف سے یہی سب کچھ بلوچ قوم کے ساتھ ہورہاہے جیسے چشم پوشی نہیں کیا جا سکتا۔کچھ جاگیردار اور سردار قابض ریاست کے ساتھ لوٹ مار میں شریک کرسی کی خاطر تحریک کے خلاف اور کچھ باہر وآزادانہ محفوظ زندگی کے ساتھ تحریک میں دست و گریبان ہیں جنہوں نے ملکر مومیت کو پارہ پارہ کرکے تحریک کے منظم و متحد ہونے میں خلل پیدا کرکے اپنے طبقاتی حاکمیت اور روایتی سیاست کو بچانے کی فکر میں تحریک کو منتشرکرنے میں دست اول کا کردار ادا کر رہے ہیں انہی کمزوریوں کی وجہ سے تحریک کے خلاف ایک ڈیتھ اسکواڈ کے بجائے آئی ایس آئی نے مزید کئی دہشت گرد گروپ بلوچستان میں منظم اور فعال کر دئے ۔مخبروں کی تعداد نا قا بل شمار ہوگئے ہیں ۔بلوچستان کے ہر علاقے میں بے خوف و خطرہ فو جی اپریشن اورلوگوںکو اغواءکے بعد قتل یاکہ ہمیشہ کیلئے غائب کرنا حد سے تجاوز کرکے تاہنوز جاری ہے ۔مکین ایک دوسرے علاقوں میں ہجرت کرکے مہاجر بنکر محتاج کی سی زندگی گذارنے پر مجبور ہو رہے ہیں اسکے بوجود بین الاقوامی سطح میں بلوچ قوم کیلئے خاطر خواہ نوٹس نہیں لیا جارہا ہے کیونکہ اب تک بلوچ قومی تحریک میں آزادی کیلئے قومیت کی بنیاد پر قومی قیادت اور قومی لیڈر کی بجائے کئی طبقاتی لیڈرز کی آواز سنائی دیتا ہے جو ایک تحریک کے طور پر سمجھنے سے بالا تر ہے اسلئے تحریک کی حمایت کر نا مشکل نہیں بلکہ کافی دشوار بھی ہے اگر یہی حالت رہی اخر کار بلوچستان کا دوسرا وزیرستان کا ہونا خارج از امکان سمجھا نہیں جائے گا گو کہ تحریکوں میں ہر قسم کی اور ہرقسم کی زیادتی کا ہوناممکن ہے مگر یہ بھولنا نہیں چائے کہ منظم تحریک میں ایسا ہونا جسکا مستقبل مظلوم قوم کیلئے نوید کا پیغام ہو جہاں استحصالی طبقہ مکمل اپنی طبقاتی حثیت دستبردار قومیت میں آزادی کی جدوجہد میں یکساں برابری کی بنیاد شریک ہو یاکہ قابض کی خوشنودی میں شریک جنکا حثیت بالکل واضح ہوتا ہو۔ مگر بلوچ تحریک میں اب تک یہ سب کچھ واضح نہیں اور نہ ہی تحریک قومیت کی بنیاد پر ہے بلکہ بقاعدہ ماضی کی طرح روایتی طریقے پر چل رہاہے جس کا قبضہ سردار اور نوابوں کے ہاتھوں میں موروثی ہے جیسے قومیت میں لانا باقی ہے ان حقیقت سے انکار کرنا یاکہ رائے اختلاف رکھنے والے انقلابی نہیں ہو سکتے پھر ایسے لوگوں کے پیچے کھڑے ہونا یاکہ انکا ساتھ رہنا تحریک آزادی کی مفاد میں نہیں بلکہ تحریک مزید بے راہ روی¿ کا شکار ہو جاتا ہے ایسے حالات میں انقلابی اپنی صفوں کو درست کرکے بلا لحاظ سچائی ،حقیقت پسندی اور انقلابی کی پاسداری کرتے ہوئے قومیت کی بنیاد پر آزادی کی جدوجہد کواپنا شعار بنا لیں اور سائنسی انداز میں منظم ومضبوط کرکے تحریک کے طور پر پیش کرنے کی ضرورت پر قائم رہیں ۔ کوئی بھی تحریک گروہوںمیں تقسیم ہو کر اپنامقاصد حاصل کرنے کی بجائے پراکسی وار کا موجب بنے گا اور نہ ہی بین الاقوامی توجہ کا مرکز ہوگا۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0