آزادی کی تحریکیں اداروں کی مضبوطی سے ہی کامیا ب ہو سکتی ہیں، بی ایس او آزاد

جمعہ 11 ستمبر, 2015

کراچی(ہمگام نیوز) بی ایس او آزاد حب چوکی زون آرگنائزنگ باڈی اجلاس زیر صدارت زونل آرگنائزر منعقد ہوا۔ اجلاس کے مہمان خاص بی ایس او آزاد کے مرکزی ممبر دوستین بلوچ تھے،اجلاس میں مرکزی سرکیولر ، زونل سہ ماہی رپورٹ، تنظیمی امور، تنقیدی نشست، سیاسی صورت حال اور آئندہ لائحہ عمل کے ایجنڈے زیر بحث رہے۔ اجلاس کی شروعات بلوچ شہدا کی یاد میں دو منٹ کی خاموشی کے بعد ہوئی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بی ایس او آزاد کے رہنماؤں نے کہا کہ تنظیمی تربیت حاصل کیے بغیر ایک قو م کو سیاسی حوالے سے منظم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کی تحریکوں میں اداروں کے اندر رہ کر اور انہیں مضبوط کرکے ہی کامیابی حاصل کیا جا سکتا ہے، کیوں کہ ریاستی نظم و ضبط کو سنبھالنے اور ریاستی مشینری کے تمام پرزوں کو مربوط رکھنے کے لئے ایک منظم تنظیم درکار ہوتی ہے۔ بی ایس او آزاد بلوچ نوجوانوں کی تنظیمی تربیت کرکے انہیں ان کے فرائض سے آگاہ کررہی ہے تاکہ بلوچ نوجوان مستقبل کی بلوچ ریاست کو بہتر طور چلا سکیں۔رہنماؤں نے کہا کہ بلوچ قومی آزادی کی تحریک اس وقت کامیاب ہوگی جب تحریکی کارکنان اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کرتے ہوئے اپنا کردار ادا کریں گے۔ کیوں کہ زمہ دار سیاسی کارکنان ہی عوامی اعتماد حاصل کرکے انہیں متحرک کرسکتے ہیں۔ آج بلوچ عوام کی تحریک میں باقاعدہ شمولیت اُ ن کارکنان، اسیران و عظیم شہدا کے قربانیوں کی مرہونِ منت ہے جن کے قول و فعل میں کوئی تضاد موجود نہ تھا، اور نہ ہی ان کی سیاست موقع پرستی پر مبنی تھی۔ قومی سیاست کو مقدس سمجھ کر انہوں نے قومی سیاست جیسے مقدس شعبے سے گھناؤنا مذاق کرنے والے نیشنل پارٹی، بی این پی مینگل اور ریاستی مکروہ عزائم کو بلوچ عوام کے سامنے بے نقاب کرکے ہی عوامی حمایت حاصل کی ہے۔بی ایس او آزاد کے رہنماؤں نے کہا کہ ریاستی مشینری مقامی دلالوں کے ذریعے تحریک کو کاؤنٹر کرنے کے لئے کئی محازوں پر بیک وقت عمل پھیرا ہے، اپنی کٹھ پتلی میڈیا اور کٹھ پتلی حکومتوں کے ذریعے قومی تحریک اور بلوچ معاشرے کی سیکولر شناخت کو مٹانے کی ہر ممکن کوششوں میں ہے تاکہ بلوچ قومی تحریک کو عا لمی سطح پر غیر ذمہ دار ثابت کیا جاسکے۔ لیکن بلوچ تاریخ اس بات کا گواہ ہے کہ بلوچ معاشرے میں مذہبی جنونی کبھی بھی پنپ نہیں سکے ہیں،حالیہ چند عرصوں سے فرقہ واریت کے نام پر ہونے والی کاروائیاں کرنے والے شدت پسند بلوچ سماج سے تعلق رکھنے والے افراد نہیں بلکہ ریاستی فورسز کی زیرسایہ پرورش پانے والے گروہوں کے ارکان ہیں ۔جو کہ تحریک کو کاؤنٹر کرنے کے لئے اس قسم کی سرگرمیوں میں آنے والے وقتوں میں مزید شدت لا سکتے ہیں۔ ان حالات میں بلوچ نوجوانوں کی یہ زمہ داری ہے کہ وہ وسیع الذہن ہو کر نازک صورت حال کا باریک بینی سے جائزہ لیں۔ تاکہ تمام ریاستی ہتھکنڈوں کو بروقت بے نقاب کیا جا سکے۔ اجلاس میں سیاسی صورت حال، تنقیدی نشست اور آئندہ لائحہ عمل کے ایجنڈوں پر مباحثہ کے بعد زونل آرگنائزنگ باڈی تشکیل دی گئی۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0