آزادی کی شاہراہ پر مختصر سفر۔۔۔۔ کچھ تضاد میرے سامنے ;تحریر: بشیر زیب بلوچ

ہفتہ 27 ستمبر, 2014

دوران انقلاب اور متحرک جدوجہد ہمیشہ سے تضادات کا موجب بنتے ہیں تضادات سیاست کا لازمی جز ہوتے ہیں مگر تضادات کا حل ہمیشہ سے ذہانت میں ہوتا ہے یہ دنیا کی مستند تاریخ رہی ہے اور میرا ایمان ہے کہ بلوچ تاریخ بھی اسکی گواہی دے گا نظریہ آزادی پر متفق اور عمل پیرا قوتوں میں بھی مختلف رویے مزاج فطری بات ہے کہیں پہ یہ ظاہر اور کہیں پہ پوشیدہ ضرور ہوتے ہیں۔ لیکن جب جدوجہد قدم بہ قدم آگے بڑھتی ہے اورردعمل میں دشمن کی جبر و بربریت میں اضافہ اور سازشیں بڑھ جاتی ہیں تو عام کارکن سے لے کر کیڈر تک اور سپاہی سے لے کر کمانڈر تک اور بعض مقامات پر بدقسمتی سے قیادت تک کے سوچ میں یہاں بے بنیاد تصورات حقیقت کے آمنے سامنے ہوجاتے ہیں تو خیالی تصورات اور بے بنیاد الزامات کا شیرازہ بکھر جاتا ہے اور وہ تمام تضادات کی صورت میں سامنے آتے ہیں ایسے میں تمام کمزوریاں، ناکامیاں اپنے اصل وجوہات کی بنا پر مشاہدے کا متقاضی ہوتے ہیں جو ایک ناپختہ اور کمزور سوچ کے لئے کسی دیوہیکل مصیبت سے کم نہیں ہوتے ہیں۔ اگر سمت رفتار اور عمل پھر بھی تصورات اور بے بنیاد باریک بینی سے مشاہدہ کی بنیاد پر استوار ہوں گے تضادات کے اصل حقیقت کو سمجھنے اور ان کا حل پیش کرنے سے ہی بصیرت اور اجتماعی سوچ کا عکس ظاہر ہوگا اور یہی جدوجہد اپنے تسلسل میں بہتر نتائج کے ساتھ اپنے متحرک ہونے کا ثبوت دے گا بصورت دیگر تضادات پر الجھا ؤ طول پکڑلے تو لازمی طور پر مایوسی پیدا ہوتا ہے اور تحریک کے بارے میں ایک منفی پہلو سامنے آتا ہے بدقسمتی کہیں یا میرے نظر کی کمزوری ، شاید میرا زاویہ نظر ہی غلط ہولیکن بلوچوں کے طویل اور قربانی سے لبریز جدوجہد نے اپنی کوکھ سے آج تک ایسے معاملہ فہم قیادت جنم ہی نہیں دیا جو اول الذکر ثابت ہو اسی ضمن میں ایک سال پہلے میں نے ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ صاحب سے کہا تھا : خواجہ آپ حادثاتی طور پر کہیں یا میدان خالی ہونے کی وجہ سے ہم ازخود لیڈر بن گئے ہیں(لیڈر بڑالفظ ہوگا) اور قومی تحریک کی ذمہ داریاں اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے ہیں۔ ہم آج تک پیدا ہونے والے تضادات کو صحیح معنوں میں سمجھ نہیں سکے، انکی وضاحت نہیں کرسکے اور انکا حل نہیں نکال سکے ہم سرگرداں نظر آرہے ہیں لہٰذا ہمیں اپنے ذمہ داریوں سے علی الاعلان دستبردارہونا چایئے آج تحریک قربانی کے جذبے سے سرشار نوجوان پیدا کرچکی ہے جو تحریک کو ایک منظم و صحیح سمت پر گامزن کرسکتے ہیں شاید ہم انکی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں لیکن ڈاکٹر صاحب نے یوں جواب دیا کہ آپ نہیں کرسکتے ہو اور بات ہے لیکن مجھ میں صلاحیتیں ہیں اور میں آخری دم تک دشمن کے خلاف لڑوں گا کوئی ساتھ دے یا نہ دے میں نے کہا دشمن کو تو کوئی معاف نہیں کرے گا ہم بھی آخری دم تک لڑینگے بات دشمن کی نہیں ہمارے اندرونی تضادا ت کی ہے ۔ میں آج بھی مایوسی کو کفر سمجھتا ہوں بات مایوسی کی نہیں ان حقائق کی ہے جن کا آج ہم سامنا کررہے ہیں قومی تحریک پر میرا یقین ہے یقین کیا میرا ایمان ہے کہ بلوچوں کے مقابلے میں شکست ہمارے دشمن کی ہوگی تمام تضادات مشکلات اور الجھنوں کے باوجود کیونکہ آج تمام کمزوریوں پر ہاتھ رکھ کر جرات کے ساتھ بات کرنے والے بلوچ کارکنان پیدا ہوچکے ہیں۔

پچھلے کچھ عرصے سے انہی اندرونی تضادات کے بارے میں جو کچھ قوم کے سامنے آرہا ہے اسکو دیکھ کر مجھے ایسا لگتا ہے کہ بعض جگہوں پر سوچ سمجھ کر بلوچ قوم کو گمراہ کیا جارہا ہے بہت سے حقائق ایسے ہیں جن کا میں بذات خود گواہ ہوں انکو مسخ کرکے پیش کیا جارہا ہے تو ایسے حالات میں، میں نے اپنا قومی فرض سمجھاکہ ان حقائق کو آپ کے سامنے رکھ دوں صرف اس نقطہ نظر سے کہ آپ ان پر غور کریں میرے اس بے ربط تحریر کو آپ بالکل غیر جانبدار ہوکر پڑھیں اور ان تمام واقعات پر غیر جانبداری سے غور کریں نہ میں ان حقائق کو بحیثیت فریق آپ کے سامنے پیش کررہا ہوں اور نہ ہی میرا مقصد کسی کی کردار کشی اور دل آزاری ہے یہ وہ حقائق ہیں جن کا سامنے آنا ان حالات میں بہت ضروری ہے غیر جابنداری کی بات اسلئے کی تاکہ گالی گلوچ کاپہلو یہاں پھر نمودار ہوکر حقائق کو دھندلا نا کردے۔ وسیع النظری، ذاتی تعلق اور جذبات سے ہٹ کر ان واقعات کے کسی بھی پہلو پر اگر کوئی سیاسی اخلاقیات کے دائرے میں اس بحث کو آگے بڑھانا چاہے تو میری خوش قسمتی ہوگی میری تحریر میں جھوٹ یا کوئی بے بنیاد بات اگر کوئی ثابت کردے تو میں بحیثیت ایک قومی مجرم قومی عدالت کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوں میرا نقطہ نظر آگاہی ہے تحریر کا مقصد کسی گروہ کسی شخصیت کو خوش کرنا یا ناراض کرنا نہیں شاید آپ یقین نہیں کرینگے اور کرنا بھی نہیں چایئے کیونکہ اندھی تقلید ایک غیر سیاسی عمل ہے ہر بات پر باریک بینی سے غور اور اسکے متعلق تحقیق کرنا اور ان کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرنا اندھی تقلید سے بچاتی ہے تو میں بھی آپ سے گزارش کرتا ہوں کہ کھلے ذہن اور کھلی آنکھوں سے جذبات کی پٹی اتاردیں۔
دوران جدوجہد اندرونی تضادات پر سنجیدگی ،بالیدگی، غیر جانبداری ، ایمانداری ، نیک نیتی، کھلے دل کھلے ذہن سے علمی ، سیاسی بنیادوں پر بحث مباحثہ کرنا انتہائی مثبت اور سیاسی عمل ہے لیکن ضد، بغض اور غیر انقلابی مقابلہ بازی میں ردعمل اور انا پرستی کی بنیاد پر بد اخلاقی اہم رازوں کو افشاں کرنا انتہائی غیر سیاسی غیر انقلابی اور نقصاندہ عمل ثابت ہوگا جن سے گریز کرنا چایئے دو تین سالوں سے اندرونی تضادات کے حوالے سے بحث ومباحثہ جس انداز میں جاری ہیں ہم بھی اس سے بے خبر نہیں ہیں کبھی کبھار حالات معلومات کی رسائی میں رکاوٹ کی وجہ بن جاتے ہیں جس کی وجہ سے میں براہِ راست اس بحث مباحثے کا حصہ نہیں بن سکتا اور شاہد آگے بھی بروقت حصہ نہیں بن سکوں کیونکہ حالات کچھ اسطرح سے ہیں لیکن اسکا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ میں مثبت اور تعمیری بحث مباحثوں اور تضادات پر کھل کر بات کرنے سے منحرف ہوں۔
اندرونی تضادات کے حوالے سے میں نے جو کچھ بھی دیکھا اور جہاں تک میری معلومات ہیں انکے متعلق آپ لوگوں کو آگاہی دینا چاہتا
ہوں ایسا بھی نہیں کہ میں کسی راز کی اہمیت کو نہیں جانتا یا پھر دشمن کی حقیقت اور طاقت کو نظر انداز کرچکاہوں یہ سب کچھ میرے سامنے ہے شروع سے ہمارا یہ ایمان رہا ہے کہ ہماری کسی بھی کمزوری سے دشمن کو کوئی بھی فائدہ نہ پہنچے آج حقیقت یہ ہے کہ اندرونی تضادات کی طوالت اور ان میں الجھا ؤکی وجہ سے دشمن کو بہت زیادہ فائدہ پہنچنے کا امکان ہے اگر انکوانکے حقیقت کے ساتھ سمجھا جائے اور انکا حل نکالا جائے تو یہ دشمن کے لئے کسی صورت بھی فائدہ مند ثابت نہیں ہونگے تو ہماری سوچ کا بنیاد ہی یہ ہے کہ دشمن کوکوئی بھی ایسافائدہ نا پہنچے جو بلوچوں کے لئے نقصان کا باعث ہو اور دشمن اور اس کے گماشتے بھی یہ اپنے ذہن سے نکال لیں کہ وہ بلوچوں کے اندرونی تضادات سے کچھ حاصل کرلینگے یہ وقت ضرور ثابت کرے گا کہ بلوچ سرزمین پر پنجابی دشمن کی عبرت ناک شکست ہوگی یہ میرا یقین اور ایمان ہے۔ایسے واقعات شاید آپ لوگوں کو کچھ نہ کچھ اصل حقائق کو سمجھنے میں مدد دیں ۔ میں نے بی ایس او حئی گروپ سے سیاسی سفر کا آغاز کیا آزادی کی جدوجہد میں غیر پارلیمانی سیاست اور بی ایس او کو سیاسی پارٹیوں کے چنگل سے آزادکرانے کو ہم نے نظریاتی سیاست کے طور پر لیااور اس وقت میرے تربیت کے پیچھے ڈاکٹر اللہ نذر کا ایک اچھا خاصہ کردار رہا حئی گروپ سے علیحدگی اور بی ایس او کے آزاد حیثیت کی بحالی کے بعد ایک ایسا سوال ہمارے سامنے کھڑا ہوا جس پر میں بہت کنفیوز ہوا کرتا تھا کہ کیا ہم بی ایس او کی آزاد حیثیت سے صرف نعرہ بازی کرتے رہینگے ؟ عہدیدار بناتے اور بدلتے رہینگے؟ اور جب طالب علمی کا دور گزر جائے گا اوربی ایس او سے فارغ ہوجائیں گے توپھر کیا ہم بھی پارلیمنٹ پرست نام نہاد قوم پرست پارٹیوں میں شمولیت اختیار کرلینگے یا سرکاری نوکری کرینگے؟ کیا یہ سب کرکے ہم نے صرف اتنے وقت آزادی کے لئے نعرہ بازی کی اور کچھ نہیں، اس سوال پر میرے اور ڈاکٹرصاحب کے درمیان 19جنوری 2002 ؁ء تربت ہاسٹل میں بحث ہوا میں آخر اس وقت قائل ہوا جب انہوں نے سادہ الفاظ میں میرے اوپر اعتماد کر کے کہا کہ اس کے بعد ہم مسلح جدوجہد کرینگے میں نے بھی زیادہ وضاحت طلب کرنا مناسب نہیں سمجھا میں نے کہا پھر ٹھیک ہے ہماری خواہش اور قومی تقاضہ بھی یہی ہے، میں آپ کے ساتھ ہوں۔ پھر سیاسی سفر کا آغاز ہوا کوئٹہ پہنچنے کے دو مہینے بعدڈاکٹر امداد بطو ر بی ایم سی یونٹ کے یونٹ سیکٹری بی ایس او مینگل سے مستعفی ہوکر بی ایس او آزاد میں شامل ہوگئے پھر 2003 میں بی ایس او آزاد اور بی ایس او استار کا انضمام ہوا، مالک بلوچ آرگنائزر مقرر ہوئے اور ڈاکٹر اللہ نذر نے پہاڑوں کارخ کیا اسی دوران مالک بلوچ امداد بلوچ کی رویوں یا تنظیمی کمزوریوں کی وجہ سے میرے ان کے ساتھ محدودسطح پر اختلافات ہوتے رہتے، میں شہیدآغا عابد شاہ، عقیل پرویز اور ڈاکٹر نسیم پیش پیش تھے، آخرمئی2004کو پنجگور میں کونسل سیشن منعقد ہوا3روز بحث مباحثہ کے بعد ڈاکٹر امداد نے ایک کابینہ کمیٹی تشکیل دی یعنی میں امداد چیئرمین آپ بشیر سینئر وائس چیئرمین پھر سعید یوسف دو ہفتے پہلے مینگل گروپ میں شمولیت کرچکا تھا سیکرٹری جنرل ہونگے میں نے اعتراض کیا کہ آپ سینئر دوستوں کو نظر انداز کرکے کیا کرنا چاہتے ہویعنی عابد شا، عقیل ، نسیم وغیرہ انہوں نے کہاان کی ضرورت نہیں پھر میں نے کہا میری بھی ضرورت نہیں ان دوستوں کے بغیر ۔ پھر مجھے بانک کریمہ بلوچ کے بھائی میرے قریبی دوست سمیر نے اکیلے سائیڈ پہ لے جاکر کہا کہ آپ سمجھو فیصلہ قبول کرو یہ فیصلہ ڈاکٹر اللہ نذر کا ہے میں نے اس وقت سمجھا کہ شاید میں معاملے کو سمجھ نہیں پارہا ہوں اسی لئے میں نے فیصلوں کو قبول کیا اوروائس چیئرمین منتخب ہوا اور عقیل، عابد شاہ، نسیم کنارہ ہوگئے اس کے بعد عابد شاہ، عقیل بی ایس او کی رکنیت سے مستعفی ہوگئے دوستوں کے مستعفی ہونے کے بعد میں نے امداد پر دباؤ ڈالا کہ سینئر دوستوں کو اس طرح نظر انداز کرنا صحیح نہیں ہے لہٰذا میں اور حمل حیدرنے ڈاکٹر امداد کے رضامندی کے بغیر پنجگور جاکر عابد شاہ، عقیل پرویز کے ساتھ مل کربات چیت کے ذریعے انہیں دوبارہ شمولیت کرنے پر رضامند کیا سینئر دوستوں کا اعتراض یہی تھا کہ ہمیں کنا رہ کش کرکے بی ایس او کے پلیٹ فارم سے جدوجہد کرنے سے روکا جارہا ہے کچھ عرصے بعد ڈاکٹر اللہ نظر بلوچ امداد بلوچ سمیت دیگر دوست 2005ء کو کراچی سے گرفتار ہوگئے ، اس وجہ سے تنظیم کاپورا بوجھ میرے کندھوں پرآگیا 2مہینے تک سخت پریشانی کے عالم میں میں دوستوں کو یکجاہ کرنے کی کوششیں کرتا رہامرکزی عہدیداروں میں صرف اور صرف حمل حیدر میرا ساتھ دیتے رہے باقی تمام دوست منظر عام سے غائب تھے ۔ ان حالات کو شاید مجھ سے بہتر حمل حیدر بیان کرسکے کیونکہ وہ اس وقت میرے ساتھ تھے چند ماہ بعد جب ڈاکٹر امداد کی رہائی عمل میں آگئی اور رہائی کے بعد ڈاکٹر امداد حیرت انگیز طور پر خاموش اور منظر عام سے غائب ہوگئے کچھ آزادی پسند حلقوں کی دباؤ پر آخر کار وہ میڈیا کے سامنے آئے اور ایک پریس کانفرنس کی مگر اس پریس کانفرنس میں بھی ڈاکٹر اللہ نذر کے اغوا اور گمشدگی کا ذکر ہی نہیں کیا پریس کانفرنس کے اگلے روز صبح سویرے اپنے والدکے ساتھ سبی روانہ ہوئے مجھے یہ سب کچھ اور امداد کا رویہ اچھا نہیں لگا میرے دماغ میں یہ بات چل رہا تھا کہ یہ سب کچھ اچھا نہیں ہورہا ہے اور مجھے اس اندیشے نے گھیر لیا کہ کل کوڈاکٹر امداد ڈاکٹر اللہ نذر کے اغوا نما گرفتاری کو پس منظر میں دھکیل نا دے ۔ پھر میں ایک دوست کے ساتھ سبی روانہ ہوا اور امدادسے اس کے گھر میں ملاقات کرکے اس بات کی وضاحت چاہی اور یہ بھی پوچھا کہ آپ کے آگے کے پروگرام کیا ہیں
انہوں نے کہا میں 2مہینے بعد کوئٹہ آؤنگا آپ اسوقت تک تنظیم کو سنبھالنامجھے یہ بہت ہی عجیب لگا اور میں نے جذباتی انداز میں ڈاکٹر امداد کو کہا کہ اگر 2دن میں واپس نہیں آئے اور پریس کانفرنس کرکے تمام حقیقت سامنے نہیں لائے تو میں اعلان کرونگاکہ امداد سودابازی کرچکا ہے ،ڈاکٹر اللہ نظر کی گرفتاری سے انکار کررہا ہے توامداد نے ہنستے ہوئے کہا کہ آپ کی باتوں پر کوئی یقین نہیں کریگا کیونکہ میں قلی کیمپ سے رہا ہوا ہوں میں نے کہا خیر دیکھا جائے گا اسکے بعد میں کوئٹہ روانہ ہوا 2دن بعد ڈاکٹر امداد کوئٹہ تشریف لائے جو مجھ سے کافی خفا خفا سے تھے اور اس نے آن لائن کے امین مشوانی کو ایک تفصیلی انٹرویو دیاہم بھی اسکے ساتھ تھے انٹرویو کے بعد مجھے بہت ہی سخت لہجے میں کہا کہ ابھی آپ خوش ہو انٹرویو کے چند دنوں بعد میرا اورڈاکٹر امدادکا امین مشوانی سے ملاقات ہوا امین مشوانی نے کہا کچھ دن پہلے گورنر ہاوس میں ہمارا اتفاقاً آئی ۔ایس ۔ پی ۔ آر کے ترجمان سے آمنا سامنا ہوا تو ایک دوست نے اس سے میرا تعارف کرایا توانہوں نے پوچھا کہ امین مشوانی تم ہو؟ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ بھائی مجھے لگتا ہے آپ بہت تیز صحافی ہو ہم نے ڈاکٹر امداد کو پابند کیا تھا کہ رہائی کے بعد اسکومنہ کھولنا نہیں ہے لیکن آپ نے تو ڈاکٹر امدادکی پوری کہانی نکلوا دی۔
جس وقت ڈاکٹر اللہ نظرکو منظر عام پرلایاگیا تھا اس سے کچھ دن پہلے اچانک کابینہ کا اجلاس بلایا گیا میں جس میں شرکت نہیں کرسکا فون پر حال احوال میں مجھے بتایا گیا کہ ڈاکٹرامداد کو تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بٹھانے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ ڈاکٹر اللہ نظر کی رہائی عمل میں آئے میں نے اس بھوک ہڑتا ل والے فیصلے کی مخالفت کی اور کوئٹہ آگیالیکن فیصلہ ہوچکا تھا پھرامداد کا بھوک ہڑتا ل پہ بیٹھنا اور بھوک ہڑتال کوعورتوں کی طرف سے میڑھ کرنے پر ختم کرنا اور ساتھ ہی ساتھ بلا مقصد اوربلا جواز خلیل، محی الدین اور گنگزار سے کراچی میں امداد کی ملاقاتیں اور بی ایس اوکے انضمام کا غیر رسمی اجلاس پھر انضمامی سلسلہ یہ سب کچھ اسی دوران شروع ہوا۔ ڈاکٹر اللہ نظر کوکوئٹہ جیل وارڈ میں منتقل کیا جاچکا تھا اسی دوران میں ان سے ملنے گیااورجیل وارڈ میں ان سے ملاقات ہوئی باتوں باتوں میں ہی میں نے وہی 19جنوری 2002والا موضوع چھیڑ دیا اور میں نے ڈاکٹر صاحب سے کہاکہ ابھی تو بی ایس اوکاانضمام ہونے والا ہے میں سرفیس سیاست سے کنارہ کش ہوکر مسلح جدوجہد شروع کرونگاآپ تو جیل میں ہواور دوسرے دوستوں سے میرا رابطہ نہیں آخر ہوگا کیا تو وہ کہنے لگا آپ اور امداد بلوچ بیٹھ کر اس بارے میں اپنا فیصلہ کریں ، میں نے کہا ٹھیک ہے۔ پھر میں امداد کے پاس چلا گیا امداد نے میری باتوں پرکوئی خاص توجہ نہیں دی میں نے دوبارہ ڈاکٹر اللہ نذر سے ملاقات کی اور انکو ماجرہ سنایاتو ڈاکٹر اللہ نزرنے مجھے امداد کے لئے ایک پیغام دیا اور جب میں پیغام لے کر ڈاکٹر امداد کے پاس پہنچا تو اس نے کہا ٹھیک ہے رات کو بیٹھ کر بات کریں گے رات کو جب ہم بی ایم سی ہاسٹل کے کمرے میں ان مسئلوں پر بات کرنے بیٹھے توامداد نے ایک دم بی ایل ایف پر چڑھائی شروع کردی اور اس کا موضوع بحث بی ایل ایف ہی رہا جس کو وہ صبح تک اوپر نیچے کرتا رہا کہ یہ ان ایجوکیٹڈ لوگ ہیں میں نے ان کو نزدیک سے دیکھا ہے یہ سارے چور ڈاکواور منشیات فروش ہیں اور سب اپنے رشتہ داروں کو تحریک میں اولیت دیتے ہیں اور یہ سب اپنے آپ کو چی گویرا سے کم نہیں سمجھتے، دوسرے کی باتوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتے ہیں۔ مسلسل 6گھنٹے کے مغز ماری کے بعد کہانی ختم ہوتے ہوتے میں نے کہا آپ نے مجھے قلی کیمپ جانے سے پہلے یہ سب کیوں نہیں بتایا آج کیوں بتارہے ہو؟ انہوں نے جو دلائل دیئے وہ تسلی بخش نہیں تھے کہ جن سے میں مطمئین ہوجاتااور جو کچھ میں نے کہا اور جو دلائل پیش کیے مجھے لگ رہا تھا کہ ڈاکٹر امداد انکو سنتے ہی سنی ان سنی کررہا تھا یعنی کوئی اہمیت نہیں دے رہا تھا اس رودا د کو لے کر میں دوبارہ سے ڈاکٹر اللہ نذر سے ملا اور تمام کہانی اس کے سامنے پیش کی لیکن ڈاکٹراللہ نذرجس طرح کا اندھا اعتماد ڈاکٹر امداد پر کررہے تھے اس میں میری تمام باتیں اور خدشات کوئی معنی نہیں رکھتے تھے کیونکہ ڈاکٹر اللہ نذر نے مجھے کہا ڈاکٹرامداد ایسا نہیں ہوسکتا شایدآپ ڈاکٹر امداد کے نقطہ نظرکو سمجھ نہیں سکے میرے لئے یہ سب کچھ پریشان کن تھا میں انہی حالات کے ساتھ چلتا رہا بی ایس او کے انضمام کا اعلان ہوااسی دوران ڈاکٹر اللہ نظر تربت جیل منتقل کردیے گئے میں انضمام کے متعلق اپنے خدشات اور ساتھ ہی ساتھ ڈاکٹر امداد کی اصلیت، اس کے مسلح جدوجہد سے انحراف اور مسلح جدوجہد کی مخالفت کے باوجود ڈاکٹر اللہ نذرکا اس پر اندھے اعتماد کے حوالے سے اپنی پریشانی کے ساتھ کراچی روانہ ہوا میں استاد قمبر کے بھتیجے سمیر بلوچ سے کراچی میں ملاقات کا خواہش مند تھا ، جس سے میری کافی جان پہچان تھا، جیسے تیسے کرکے اس سے ملاقات ہوگئی ہم ریگل چوک کراچی میں ملے اور تفصیلی حال احوال ہواتو سمیر بلوچ نے استادواحد قمبر سے کسی بھی طرح کے رابطوں سے انکار کردیا۔ میں نے دیکھا کہ وہ ان مسئلوں سے بے زاری اور عدم دلچسپی کا اظہار کررہا تھا جو میرے سمجھ سے بالا تر تھا لیکن اچانک دو دن بعدمجھے پتہ چلا کہ سمیربلوچ دبئی پہنچ گئے ہیں مجھے اس خبر نے حیرت زدہ کردیا کیونکہ جدوجہد کے حوالے سے ہم دوستوں کے بیچ بہت سے وعدے اور ارادے ہوئے تھے خاص کر مسلح جدوجہد کے حوالے سے دوسری طرف اتنی قربت اور دوستی کے باوجود اپنے دبئی جانے کے پروگرام کے حوالے سے مجھے اعتماد میں نہیں لیا مجھے یہ گمان گذرا کہ شاید دوستوں کا اعتماد مجھ سے اٹھ چکا ہے لیکن پھر بھی میں ہمت نہیں ہارا اور استاد واحد قمبر کا ایک اور رشتہ دار کوئٹہ میں ڈھونڈ نکالا جو بی ایس او کا سی سی ممبر اور کراچی میں زیر تعلیم تھا نام لینا مناسب نہیں ہے۔ میں اور حمل حیدر نے ان سے ملاقات کی اور تمام قصہ سنایا انہوں نے کہا نہیں آپ لوگوں پر بی ایل ایف کے دوستوں کا مکمل اعتماد ہے امداد کی ساری باتیں جھوٹ ہیں آپ لوگ اگر کام کرنا چاہتے ہیں تو میں دوستوں سے رابطے میں ہوں ان سے بات کروں گا اور اس نے ہمیں بتایا کہ بی ایل ایف کے دوستوں کی طرف سے ایک پمفلٹ بھیجا گیا ہے جس کو تقسیم کرنا ہے میں نے وہ پمفلٹ ڈاکٹر امدادکو پہنچائے تو ڈاکٹر امداد نے اٹھانے اور تقسیم کرنے سے انکار کردیا تھا۔ میں نے اس سے دریافت کیا کہ کیسے پمفلٹ ہیں؟ اس نے کہا کہ شہید یحیٰی عبدین کے بارے میں ہیں میں نے کہا چلو ہم تقسیم کردینگے پھر کوئٹہ کے ایک ہوٹل میں مکران کے رہائشی سے وہ پمفلٹ وصول کیے پمفلٹ نوشکی میں بی این پی کے جلسے میں تقسیم ہوئے۔ اسی دن اچانک جناح روڈ پر امداد سے ٹکراؤ ہوا پھر اُس دوست کو امداد مجبور کرکے اپنے ساتھ بی ایم سی لے گئے اور میں حمل حیدر سریاب روانہ ہوئے صبح واپس بی ایم سی آئے امداد سویا ہوا تھا اس دوست سے ملاقات ہوئی ان سے امداد کے بارے میں پوچھا ، بی ایل ایف کے حوالے سے امداد کا موقف جاننا چاہا تو یہ دوست بھی امداد کی باتوں سے مکمل مطمئن تھے اور کہنے لگا امداد صحیح کہہ رہا ہے ، بی ایل ایف میں خامیاں اور کمزوریاں ہیں پھر میں خاموش رہا حمل جذباتی ہوکراس دوست سے کہنے لگا کہ آپ نے ایک رات میں اپنا موقف تبدیل کردیا۔ پھر بی ایس او سنگل کا سنٹرل کمیٹی اجلاس کراچی میں منعقد ہوا ۔ مجھ سمیت 6مرکزی ارکان کو سنٹرل کمیٹی اٹینڈنہ کرنے کی پاداش میں عہدوں سے فارغ کردیا گیا اور باقی فارغ ہونے والے دوست مجھ سے بار بار رابطہ کررہے تھے کہ آئیں ہم اپنا ایک فیصلہ کرینگے یا احتجاج کرینگے میں نے ردعمل میں بی ایس او کے عہدے سے اپنی فراغت کو تسلیم کیا بلکہ اس کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے اصول کی پاسداری سمجھا وہ اخباری بیان ریکارڈ پر موجود ہے۔پھر اچانک معلوم ہوا کہ امداد اور خلیل نے C.Cکو واپس کال کرنے کی درخواست کی ہے۔ انضمام کے دو مہینے بعد ہی بحران پیدا ہوچکا تھا، میں بی ایس او کے عہدے سے فارغ کوئٹہ گیا امداد سے پوچھا یہ کیا قصہ ہے انہوں نے کہا مختلف زونوں میں کونسلروں کی چناؤ میں دھاندلی ہوئی ہے۔ بی این پی مینگل اور نیشنل پارٹی کے من پسند کونسلر سلیکٹ ہوئے ہیں ہم C.Cکال کرکے ان کو کینسل کرنا چاہتے ہیں میں نے کہا C.Cکب ہے ؟ انہوں نے کہا کل سی سی ہے۔ میں نے کہا تو پھرآپ لوگ اکثریت میں نہیں وہ تو کینسل نہیں ہونگے پھر کیا ہوگا ۔ پھر امداد نے کہا بس ہم نے ایک سیاسی تجربہ کیا وہ ناکام ہوا سیاست تجربہ کا نام ہے کبھی کامیاب کبھی ناکام ہوتا ہے ۔ میں نے کہا پھر بی ایس او واپس پارٹیوں کا دم چھلہ بن جائے گا۔۔۔!!تو انہوں نے کہا جی ہاں لیکن آؤ میرے ساتھ دو میں وہ کام کروں گاجو بی ایس او 30سالوں میں نہیں کرسکا۔ امداد اُس وقت بلوچ وائس ٹی وی چینل کے کام میں مکمل مصروف عمل تھا، لیکن میں مطمئن نہیں ہوا میں نے خلیل کو فون کیا امداد کے پاس بلایا بحث مباحثہ ہوا، امداد اور خلیل کے درمیان تلخ کلامی ہوئی اس نے کہا بی ایس او آپ کی وجہ سے ہاتھ سے گیا وہ کہتا نہیں آپ کی وجہ سے میں نے کہا یہ بات چھوڑو جتنے بھی ہم خیال سی سی کے دوست ہیں ، ان کو کوئٹہ بلاکر کوئی حل ڈھونڈنکالینگے۔ پھر خلیل بلوچ کا اتفاق ہوا ۔ امداد نے توجہ نہیں دیا پھر میں اور خلیل بلوچستان یونیورسٹی آئے رابطہ شروع ہوا۔ حمل حیدر، ساجد بلوچ کراچی میں تھے سی سی اٹینڈ کرنے کی معذرت کی۔ شیرباز جمالدینی نئے شادی شدہ تھے انہوں نے آنے سے انکار کیا اور کہا میں اس وقت مصروف ہوں میں بی ایس او سے بڑا کام کررہا ہوں مجھے شیرباز کی باتیں سن کر حیرانگی ہوئی کہ آخر یہ کیسا کام ہے جو شیرباز سرانجام دے رہا ہے میرے اسرار پر جب اس نے یہ خیالی کہانی پیش کی کہ میں حسنین جمالدینی کے سربراہی میں قومی مڈی کو سنبھال رہا ہوں میں مصروف ہوں اسلئے آنہیں سکتا تو مجھے اس سفید جھوٹ پر حیرت ہوا اور میں اس دن شیرباز کے مزاج کو سمجھ گیا کیونکہ مجھے جو تھوڑی بہت علم تھی اس کے مطابق شیرباز جمالدینی کا حسنین جمالدینی سے تنظیمی حوالے سے دور کا بھی واسطہ نہیں تھا وہ کچھ اور دوستوں کے ساتھ شہری حوالے سے معمولی ذمہ داریاں نبھا رہا تھا ۔خیر ان دوستوں کی غیر موجودگی میں بھی آخر کار سی سی کا اجلاس منعقد ہوگیا۔ اجلاس مجھ سمیت عہدوں سے فارغ دوستوں کودوبارہ بحال کرنے کے حق میں نہیں تھا جب میری رائے لی گئی تو میں نے بحالی کی مخالفت کی ، آخر سی سی کے اجلاس میں اکثریتی فیصلہ یہ آیا کہ پرانے کونسلروں کا چناو قابل قبول ہوگا جسے ہمیں تسلیم کرنا پڑا یہ سی سی اجلاس واحد رحیم اور اسکے دوستوں کی وجہ سے بدمزگی کا شکار ہوا بحث مبا حثے کے دوران شدید تلخ کلامی کی وجہ سے اجلاس برخاست کرنا پڑا کیونکہ واحد رحیم سمیت نیشنل پارٹی کے حامیوں نے واک آؤٹ کیا اور دوبارہ واپس نہیں آئے ان کو منانے کی زیادہ تر کوششیں امان اللہ، محی الدین و دیگر دوستوں کی طرف سے ہوئی۔ جب محی الدین اور امان اللہ ان کو منانے میں ناکام ہوئے تو محی الدین نے کہا سارے مسئلے امداد اور خلیل کی وجہ سے ہوتے ہیں لہٰذا ان دوستوں کا ڈیمانڈ ہے کہ امداد اور خلیل تنظیم سے کنارہ کش ہوجائیں۔ امداد اور خلیل ایک طرف ہوئے اور استعفیٰ دینے کے لئے تیار ہوگئے اور موقف ظاہر کی کہ ہماری وجہ سے اگر بی ایس اوٹوٹ جائے تو قومی نقصان ہوگا لہٰذا ہم استعفیٰ دینگے میں اور دیگر دوستوں نے منت سماجت کی اوردلیل دیے کہ یہ سب محی الدین کی چال ہے آپ لوگ ایسا نہ کریں لیکن انہوں نے ہماری بات نہیں مانی استعفیٰ دے دیا اور استعفیٰ قبول بھی ہوگئے اور واحد رحیم والے بھی واپس نہیں آئے محی الدین کا منصوبہ کامیاب ہوگیا اور اس کے لئے چیئرمین بننے کے امکانات زیادہ ہوگئے کیونکہ میدان خالی ہوچکا تھا۔ استعفوں کے بعد مکمل بحرانی کیفیت نے بی ایس او کو گھیر لیا اس کے بعدمجھے اور محی الدین کو تنظیمی دورہ پر کراچی اور مکرا ن جانا پڑا جب ہم کراچی میں تھے تو محی الدین نے ایک دن میرے سامنے کھل کراس بات کا اظہار کیا کہ اخترمینگل اور بی این پی کے بغیر ہم کچھ بھی نہیں اور ہم ان کے بغیر اس سیاست کو آگے نہیں لے جاسکتے یہ سن کر مجھے اور بھی پریشانی لاحق ہوگیا اور میں نے جلدی سے ڈاکٹر امداد سے رابطہ کیا اور اس کو محی الدین کے ارادوں سے آگاہ کیا اور یہ گزارش کی کہ آپ لوگ اس بارے میں جلد از جلد کچھ کریں ڈاکٹرامداد نے کہا ابھی کچھ نہیں ہوسکتا جب میں نے کہا کہ میں کچھ کروں گا آپ میرا ساتھ دیں توڈاکٹر امداد نے کہا تم کچھ بھی نہیں کرسکتے کیونکہ محی الدین کے ساتھ سردارعطااللہ مینگل، سردار اخترمینگل ، سینیٹر ثناء اور حبیب جالب کی سوچ اورآئیڈیا زہیں اور تم اکیلے ہو امداد کے مایوس کن باتیں سننے اور اسکے حوصلہ شکنی کے باوجود میں نے یہ فیصلہ کرلیا کہ مجھ سے جو بھی بن پڑا میں کروں گا میں بی ایس او کو اسطرح سے محی الدین اور بی این پی کے جھولی میں نہیں ڈالوں گا۔ کراچی میں محی الدین نے فیصلہ کیا کہ میں(محی الدین) کراچی میں کام کروں گا اورآپ مکران
جائیں تو میں نے محی الدین کا یہ فیصلہ مان لیا اس وقت میں بالکل اکیلا تھا کافی سوچ بچار کے بعد مجھے جس شخص پر یقین تھا وہ میرا ہم خیال قریب تر قابل احترام دوست حمل حیدر تھاجس کومیں نے بلایا اس سے ملاقات کی اور تمام صورتحال سے آگاہ کردیااور پھر حمل حیدر کو مکران جانے کا کہا کہ آپ میرے ساتھ چلیں میں اکیلا ہوں لیکن حمل حیدر نے مکران جاننے سے انکار کردیا میں نے اسے قائل کرنے کی تمام کوششیں کی محی الدین کا ارادہ اسکے سامنے رکھا، تنظیم کو بحرانی کیفیت سے نکالنے کے لئے اپنے ارادے اسکو بتادئیے منت سماجت سے لے کر جذباتی کرنے تک کے گْر آزمائے مگر حمل حیدر ٹس سے مس نہیں ہوا اور مجھے یہ جواب دے دیاکہ میں مایوس اورنا اُمیدبندہ کچھ نہیں کرسکتا آخر میں نے مجبور ہوکریہ کہا کہ مجھے تربت میں رہائش کی سہولیت نہیں ہے اور تمھارے سوا وہاں میرا کوئی جان پہچان بھی نہیں ہے لہذا تم صرف میرے رہائش کے حوالے سے میرا ساتھ دو باقی کام میں خود کروں گا لیکن وہ اس بات پر بھی راضی نہیں ہوامجبوراً مجھے اکیلے ہی تربت جانا پڑاراستے میں میں سوچتا رہا کہ ڈاکٹر امداد ، خلیل اور حمل حیدر جیسے زمہ دار دوستوں نے کیوں اپنی زمہ داریوں سے روگردانی کی وہ بھی ایسے حالات میں جہاں تنظیم ایک بحرانی کیفیت میں مبتلا ہے دوست سارے مایوسی کی طرف جارہے ہیں اور بچا کچھا بی ایس او سیدھی طرح محی الدین سے ہوتے ہوئے بی این پی کے گود میں ڈالا جارہا ہے۔ ایسے حالات میں ،میں کہاں بھاگ رہا ہوں کیا مجھے بھی ڈاکٹر امداد خلیل بلوچ اور حمل حیدر جیسے دوستوں کی طرح کنارہ کش ہوکر تماشا دیکھنا چاہیئے یا پھر ان تمام تلخ سچائیوں کے ساتھ کارکنان کے بیچ جانا چاہیئے اور بی ایس او کو بچانے کی ذمہ داری نبھانا چاہیئے انہی خدشات اور ارادوں کے ساتھ دو دن تک تربت میں یوں ہی گھومتا رہا اور کوشش کرتا رہا کہ کچھ دوست مل جائیں تاکہ مجھے کام کرنے میں آسانی ہودوستوں کے تلاش کے دوران ہی اچانک چلڈرن پارک تربت میں حمل حید ر پر نظر پڑی اس کو دیکھ کر میں بہت زیادہ خوش ہوااور دل میں یہ گمان گزرا کہ میرے باتوں نے حمل حیدر پر کچھ نا کچھ اثر تو کیا کہ وہ کراچی سے تربت آگیا، میں بہت گرم جوشی سے اس سے ملا اور کہا کہ چلو اچھا ہوا تم مایوسی سے نکل آئے لیکن حمل حیدر نے مجھے جو جواب دی اس نے مجھے اور زیادہ حیرت زدہ کردیا کہ بشیر جان آپ خوش نا ہوں میںیہاں آپ کے لئے نہیں آیا ہوں کل عدالت میں میری پیشی ہے میں اسی سلسلے میں آیا ہوں مجھے اپنے ملنے کی گرم جوشی پر ندامت ہوا خیر پھر بھی میں مایوس نہیں ہوا اور ہمت نہیں ہارا میں نے درفشاں نامی دوست کو اپنے ساتھ لیا اور مکران کا دورہ شروع کیا اور دوستوں سے ملاقاتیں کی اور دورہ مکمل ہونے کے بعد میں دوبارہ کوئٹہ آیا کونسل سیشن ہوا جس میں ہم دوست منتخب ہوئے سیشن کے دوران محی الدین نے زور و شور سے اپنے اس موقف کو دہرایا کہ خلیل انتشار پھیلانے والا شخص ہے سیشن کے دوران ڈگری کالج میں اس شخص کے داخلے پر پابندی لگائی جائے جب دباو بڑھا تو خلیل نے یہ بات قبول کی اور کہا کہ اگر یہ بی ایس او کے مفاد میں ہے تو میں سیشن سے دور رہوں گا جب ہم دوست منتخب ہوئے اور تنظیم نے بھی ایک سمت اختیار کی تو اسکے بعد امداد بھی جیسے مایوسیوں کے دلدل سے نکل کر سامنے آئے اسیلئے تو کہتے ہیں کامیابی کے دعویدار بہت لیکن میرا دوست حمل پھر بھی مایوس تھا اور اس کا کونسل سیشن والاتقریر دوستوں کو بھی یاد ہے پھر ناراضگی کی حالت میں حمل نے مجھے ڈگری کالج کی سبزہ زار پر بٹھایا اور کہا کہ آپ لوگوں میں ہمت ، جرات ہے مجھ میں نہیں ہے۔ میں آپ کو حقیقت بتاؤں کہ مجھے تحریک سے کوئی سروکار نہیں میرا باپ معذور ہے گھر کی مجبوری ہے میں نے آپ کو اتنے عرصے سے نہیں بتایالیکن آج بتاؤں گا کہ میں اپنی معاشی بدحالی سے نکلنے کے لئے دبئی جارہا ہوں آپ ناراض نہیں ہوں ، میں نے کہا ناراضی کی بات نہیں مجبوری ہر ایک کی ہوتی ہیں لیکن ذاتی مجبوریاں تحریک سے زیادہ نہیں ہے۔ وہ دبئی چلا گیا پھر میں نے بطور چیئرمین سیاسی سفر کا آغاز کیا اکثر سوچتا رہتا تھاکہ میں ان دوستوں کے پیچھے کیوں بھاگ رہا ہوں؟ انکی حالت یہ ہے یہ اب تک اپنے کام اور موقف پر مطمئن نہیں تو یہ باقی دوستوں کو کیا مطمئن کریں گے اوردوسری بات یہ کہ بی ایل اے اور بی ایل ایف میں کوئی فرق نہیں ہے حکمت عملی کی بنیاد پر صرف نام تبدیل ہیں کیوں میں اپنا وقت اور توانائی دوستوں کے پیچھے بھاگنے میں ضائع کررہا ہوں پھر میں نے بی ایل اے کے دوستوں سے رابطہ کیا بی ایل اے کے دوستوں کی طرف سے مجھے یہ میسج ملا کہ آپ یا آپ کے دوست بحیثیت بلوچ بی ایل اے کے پلیٹ فارم سے مسلح جدوجہد کرنا چاہتے ہیں تو ٹھیک ہے اگر آپ بحیثیت بی ایس او کے چیرمین اور آپ کے دوست بطور ایک تنظیم بی ایس اوکے ہم سے کسی بھی قسم کی قربت چاہتے ہیں تو ہم اسکے لئے تیار نہیں کیونکہ ہم اس روایت اور رجحان کو ختم کرنے کے حامی ہیں جو پارلیمانی پارٹیوں نے اپنے مفادات کے لئے بی ایس او کے متعلق قائم کی ہیں ہم بی ایل اے کے دوست چاہتے ہیں کہ اداروں کی حیثیت بحال ہو اور انکی حدبندی اور اختیارات واضح ہوں اسکے بعد میں اور چند دوستوں نے بحیثیت بلوچ نوجوان بی ایل اے میں شمولیت اختیار کی انہی دوستوں نے عسکری حوالے سے اپنی زمہ داریاں نبھانا شروع کی اور میں نے بی ایس او کے اندر موجود اپنے بااعتماد دوستوں کے سامنے بھی یہ بات واضح کردی اور ان کے سامنے اس بات کی بھی وضاحت کردی کہ بی ایس او بحیثیت ایک طلبا تنظیم اپنے ادارے کے اندر رہتے ہوئے اپنے کام اور اپنے پالیسیوں کے بابت آزاد ہے پالیسی سازی اور حکمت عملی کے حوالے سے بی ایس او کے اپنے ادارے بااختیار ہیں اور رہیں گے، بحیثیت طلبا تنظیم بی ایس او غیر مسلح جدوجہد کے تحت قومی کاز میں اپنا کردار نبھائے گا میں اور جن دوستوں نے مسلح جدوجہد کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس کا بی ایس او سے کوئی تعلق نہیں ہوگایہ ہمارا انفرادی فیصلہ ہے اور ہم پوری دیانت داری سے بی ایس او کے حوالے سے اپنی ذمہ داریا نبھائیں گے اگرڈاکٹر اللہ نذر کے گرفتاری اور امداد بلوچ کی منتشر سوچ اور ذمہ دار ساتھیوں کی مایوس کن ذہنی کیفیت کا سامنا نا ہوتا اور محی الدین کے مذموم عزائم اور بی ایس او کی بحرانی کیفیت کا سامنا نہیں ہوتا تو میں کبھی بھی بی ایس او کے حوالے سے ذمہ داریاں اپنے کاندھے پر نہیں اٹھاتا۔میرا فیصلہ صرف اور صرف مسلح جدوجہد کے حوالے سے بی ایل اے کا پلیٹ فارم ہی ہوتا دوہری ذمہ داریاں اٹھانے کا پس منظر صرف اور صرف اس وقت کے حالات تھے اور میں نے دوستوں میں یہ بات بھی واضح کردی کہ اگر کوئی اپنی مرضی سے مسلح جدوجہد کے لئے کسی بھی مسلح تنظیم کے پلیٹ فارم کا چناو کرے گا وہ اسکا انفرادی فیصلہ ہوگا جس سے بی ایس او اسے بحیثیت ایک آزادی پسند طلبا تنظیم نہیں روکے گی اور دوسری طرف بی ایس او کسی بھی بلوچ نوجوان کو کسی بھی صورت میں مسلح جدوجہد کے لئے مجبور نہیں کرے گا اور نا ہی کسی قسم کا دباو ڈالے گا اور نا ہی بی ایس او کے اندر رہتے ہوئے مسلح جدوجہد کے لئے لابینگ کرے گا اس دوران اکثر و بیشتر نواب مری سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہا بحث و مباحثے ہوتے رہے نواب صاحب یہ جانتے تھے کہ ہمارے دوستوں کا تعلق مسلح جدوجہد کے حوالے سے بی ایل اے سے ہے اور ہم فکری حوالے سے حیربیار سے قریب ہیں مسلح جدوجہد کے حوالے سے نواب صاحب سے اکثر بحث مباحثے ہوتے تھے نواب صاحب بذات خود مسلح جدوجہد کے حامی تھے اور انہوں نے کبھی بھی روایتی سیاسی طریقہ کار کو مسلح جدوجہد پر ترجیح نہیں دی ۔
ڈاکٹر اللہ نذرکے رہائی کے بعد ان سے میری پہلی ملاقات فروری 2007ء میں نوشکی کے قریب بی ایل اے کے کیمپ میں ہوایہ اس وقت کی بات ہے جب ڈاکٹر اللہ نذر کو دوست علاج کے لئے افغانستان بھیج رہے تھے اسوقت ڈاکٹر اللہ نذر نے مجھ سے یہ سوال کیا کہ کیا آپ ابھی بی ایل اے کے ساتھ ہو ؟ میں نے پوچھا کہ کیا ڈاکٹر صاحب بی ایل اے اور بی ایل ایف میں کوئی فرق ہے؟ ڈاکٹر صاحب نے کہا نہیں کوئی فرق نہیں میں ویسے پوچھ رہا تھا کیونکہ بی ایس او اور بی این ایم کے اکثر دوستوں کی وابستگی و قربت بی ایل ایف کے ساتھ ہے ۔ تو میں نے ڈاکٹر صاحب کوانکی گرفتاری ڈاکٹر امداد کی منتشر الخیالی اور باقی دوستوں کے مایوسی اور ان سے جیل وارڈ میں ہوئی ملاقاتوں کا روداد سنایااور تمام وجوہات اسکے سامنے رکھے خیر ہماری بات اس سے آگے نہیں بڑھی میرے اور ڈاکٹر صاحب کے نشست کے بعد مجھے کچھ خدشات لاحق ہوئے لیکن پھر بھی میں نے انکو سنجیدگی سے نہیں لیا سوچا کہ یہ میرے اور ڈاکٹر صاحب کے دوستی کا نتیجہ ہوسکتا ہے، لیکن دودن بعد جب شہید صدو مری کو دوستوں نے بولان کیمپ روانہ کیا اور ذمہ داری دینے کو کہا تو شہید نے ڈاکٹر کے سامنے واضح الفاظ میں کہا میں بولان جاکر کام ضرور کروں گا لیکن بی ایل ایف کے نام پر اسی بات پر استاد اسلم کا تلخ ردعمل سامنے آیا اور ا س نے ڈاکٹر االلہ نذر کے سامنے یہ سوال رکھا کہ یہ کیا سوچ جنم لے رہا ہے؟ اگر ہمارے اس سطح کے دوستوں میں یہ سوچ جنم لے چکا ہے تو باقی دوستوں کا کیا ہوگاکیا بی ایل اے اور بی ایل ایف میں کوئی فرق ہے؟ اگر ہے تو مجھے سمجھائیں ،ڈاکٹر نے کہا نہیں ایسی بات نہیں ہے ایسی سوچ نہیں ہے آپ غلط سمجھ رہے ہیں ہم ایک ہیں صرف حکمت عملی کے تحت مختلف ہیں اس واقعہ کے بعد میرے خدشات اور زیادہ بڑھ گئے کہ اگر یہ سوچ اسی زاویے سے بڑھتی رہی تو مستقبل میں کیا ہوگا،لیکن پھراس خیال سے دل کو تسلی دی کہ آہستہ آہستہ یہ سوچ پختہ ہوتے ہوتے قومی شکل اختیار کرلے گا،پھر آگے سفر جاری رہا اسی دوران بلوچستان یونیورسٹی میں میری گرفتاری کے لئے چھاپے مارے گئے دوستوں پر دباو ڈالا گیا کہ وہ بی ایس او کے جدوجہد سے کنارہ کش ہوجائیں لیکن بی ایس او کے دوستوں کا شدید ردعمل سامنے آیاکئی بار ریاست کی طرف سے مجھے گرفتار کرنے کی کوششیں کی گئی جو ناکام ثابت ہوئے ریاست کے انہی کوششوں اور ڈاکٹر اللہ نذر کے گرفتاری کے تجربے کو سامنے رکھتے ہوئے بی ایس او کے مرکزی دوستوں نے یہ فیصلہ کیا کہ میں تنظیمی زمہ داریاں خفیہ طریقے سے سرانجام دوں اور جتنا بھی ممکن ہوسکے گرفتاری سے بچ سکوں اور زیر زمین رہ کر کام کروں میں نے دوستوں کا فیصلہ تسلیم کیا کیونکہ اسوقت حالات ہی ایسے تھے اور دوست مختلف طریقوں سے ان حالات میں اپنے جدوجہد کو جاری رکھے ہوئے تھے میرا ہمیشہ سے اس بات پر زور رہا کہ روایتی طریقہ کار اور شخصیت پرستی کا خاتمہ ہو تاکہ کسی ایک شخص پر دوستوں کا انحصار نا ہو اور وہ کسی بھی حالات میں اپنے کام کو جاری رکھ سکیں کیونکہ ڈاکٹر اللہ نذر کی گرفتاری کے بعد تنظیم کی حالت کا تجربہ ہمارے سامنے تھا میں نے بحیثیت چیرمین سی سی کو مضبوط کیا اور ادارے کے فیصلوں پر انحصار کا رجحان پیدا کیا میں کبھی کبھار فون پر دوستوں کو ضرورت کے مطابق اپنے رائے سے آگاہ کرتا تھا اور میں روایتی طریقہ کار سے اسلئے بھی اجتناب برتتا تھاکہ دوستوں کو کسی قسم کا نقصان نا ہو اور مسلح جدوجہد میں حصہ لینے والے تمام دوستوں کو ہم نے بی ایس او کے عہدوں سے فارغ کردیا تاکہ کسی بھی قسم کا جواز موثر نا ہو اور مسلح سوچ والے دوست ایک طلبا تنظیم کے داخلی فیصلوں پر کسی بھی طرح اثر انداز نا ہوں جس کی واضح مثال شہید امیر الملک بلوچ ہے جوکہ سی سی کا ممبر تھا۔اسی طرح عرفی ’’کوہی‘‘ اور بھی کئی ایسے دوست تھے۔ باقی سنگت ثناء، عابد شاہ، ذاکر مجید، زاہد بلوچ جن کا بی ایل اے یا مسلح جدوجہد سے کوئی تعلق نہیں تھا وہ سرفیس میں کام کررہے تھے۔یعنی سرفیس اور مسلح جدوجہد کو الگ رکھنا سب سے زیادہ ہماری کوشش تھی جس کے حوالے سے نواب خیر بخش مری سے کافی بحث مباحثہ ہوتا رہتا تھا اسوقت یہ تاثر عام کیا گیا تھا کہ میں نے بی ایس او کو حیر بیار مری کا گروپ بنایا ہے اور میں شخصیت پرستی کا شکارہوں لیکن ایسا نہیں تھا میں انفرادی حوالے سے بی ایل اے کے پلیٹ فارم سے مسلح جدوجہد کا حصہ تھا لیکن اس کے باوجود میں نے کبھی بھی کسی بھی موقع پر بی ایس او کے پلیٹ فارم کواسکی آئینی حیثیت سے ہٹ کر کسی اور ڈگر پر چلایااور نا ہی بی ایس او کے آئین اور اس کے اداراہ جاتی فیصلوں کی پامالی کی کسی ایک تنظیم ، پارٹی یا شخصیت کی ثناہ خوانی کے حوالے سے آج بھی اگر کوئی ثبوت پیش کرسکے تو بڑی بات ہوگی میرے دور کے بیانات ریکارڈ پر ہیں کسی اخباری بیان میں کسی بھی شخصیت یا پارٹی یا پھر کسی تنظیم کی تعریف و ثنا ء ہو۔میرے خیال میں ریکارڈ پر بھی ایسا کچھ نہیں ملے گا(قطع نظر بی ایس او سے فراغت کے بعد ایک اخباری بیان کے جسے میں نے انفرادی حوالے سے حیربیار مری کے متعلق دیا تھا) بی ایس او کے
مرکزی اجلاسوں میں بھی شرکت نا کرنے کی بڑی وجہ یہی تھی تاکہ ریاست کو کسی بھی قسم کا کوئی جواز نا ملے اور یہ تاثر بھی عام نا ہو کہ میں انفرادی حوالے سے تنظیم کو کسی اور تنظیم کے زیر اثر چلا رہا ہوں 2010ء میں بی ایس او کے سی سی کا اجلاس زیر صدارت سیکرٹری جنرل زاہد بلوچ منعقد ہوا ۔ اجلاس میں بحث مباحثہ کے بعد مجھے کال کیا گیا کہ ہم فیصلہ کررہے ہیں کہ جو زندہ ہیں ان کے پوسٹر نہیں چھاپیں گے جلسوں میں لیڈروں کے تصاویر آویزاں نہیں کرینگے میں نے کہا زاہد آپ کو یاد ہوگا میں نے 2006کراچی میں یہ بحث چھیڑا تھا کہ ابھی تک کوئی لیڈر کوئی ہیرو نہیں ہے‘ یہ فیصلہ تاریخ کریگی ابھی جنگ جاری ہے پتہ نہیں کون ہیرو کون زیرو ہوگا۔ پھر اس اجلاس میں فیصلہ ہواکہ شخصیتوں کے پوسٹر ، پینافلیکس جلسوں میں آویزاں نہیں کئے جائینگے صرف شہداء کی تصاویر آویزاں کی جائینگی۔ مجھے یاد ہے مشکے کے جلسے میں بی ایس او اور بی این ایم کے دوستوں کے درمیان اسی نقطہ اورڈاکٹر اللہ نذر کی تصویر آویزاں نہ کرنے پر تلخی بھی ہوئی تھی۔ بی ایس او کے دوستوں نے کہا ہمارا فیصلہ ہے بی این ایم والے دوست بضدتھے اور مسلسل تکرار کررہے تھے اس وقت بھی ہم میں سے کسی دوست نے یہ نہیں کہا کہ بی ایس او کو حیربیار مری یا کسی اور دوست کی تصویروں کی تشہیر کرنا چاہیے۔اگر بی ایس او، بی ایل اے کا ریکروٹمنٹ کا ذریعہ ہوتا ریکروٹمنٹ کے حوالے سے بی ایل اے کا پابند ہوتاتوکیا مکران میں بی ایس او کے کارکن نہیں تھے کہ ہم انہیں بی ایل اے میں شامل کرتے اگر میں صرف بی ایل اے میں تھا تو بی ایس او کے ایسے دوست تھے جو آج بھی زندہ سلامت ہیں جو بی ایل ایف، بی آر اے حتیٰ کہ لشکر بلوچستان میں کام کررہے تھے اور کررہے ہیں یہ ان کا انفرادی فیصلہ تھامیں نے کسی کو منع نہیں کیا کہ صرف بی ایل اے صحیح ہے حتیٰ کہ مکران کے کچھ دوستوں نے مجھ سے رابطہ کیا کہ ہم مسلح جدوجہد کرنا چاہتے ہیں میں اس وقت 2010میں بولان کیمپ میں تھا۔ تو وہاں بی ایل ایف کا ایک ذمہ دار دوست آیا تھا ملک جلات خان مری اس کو یاد ہوگا میں نے ان دوستوں کے بارے میں ملک کو بتایا کہ ان کو سنبھالو ان کے فون نمبر بھی ملک کے حوالے کیااگر میں چاہتا تو تنگ نظری یا بی ایل اے پرست بن کر ان کو بی ایل اے کے کیمپ بلاتا۔
اگر ہم فکری ہم آہنگی اور اداروں کی حدبندی کو مدنظر رکھ کر کام نہیں کرتے اور ہمارے دوستی کی بنیاد صرف اور صرف شخصیت پرستی پر استوار ہوتا تو جب حیربیار کے سفارتی نمائندہ مقرر کرنے پر بی این ایف دو گروہوں میں تقسیم ہوا جہاں شروع میں حیربیار مری کو سفارتی نمائندہ مقرر کرنے کا بیان جاری کیا گیا اور پھر دوسرے دوستوں کی طرف سے لاتعلقی کا اظہار کیا گیا تو کیا اس موقع پر میں بحیثیت بی ایس او کے چیرمین حیربیار مری کے حق میں ایک بیان بی ایس او کے طرف سے جاری نہیں کرسکتا تھا ؟میں نے چیرمین ہونے کے باوجود یہ فیصلہ تنظیم اور اس کے اداروں پر چھوڑ دیا اور یہ سب کچھ ہونے کے باوجود نا تو حیربیار مری نے اور نا ہی اس کے قریبی ساتھیوں نے مجھ پر کسی بھی قسم کا دباو ڈالا کہ میں انکی حمایت میں کچھ کہوں سب اپنے سیاسی اور اخلاقی حدود میں تمام مسئلوں کو لے کر کام کررہے تھے ۔
جب نیشنل پارٹی کی طرف سے یہ پالیسی بیان جاری ہوا کہ مزاحمتی تنظیمیں ہمارا سیاسی موقف سنیں اور ہم سے دلیل اور منطق کی جنگ کریں بجائے ہمیں غدار قرار دینے کے تو اگلے دن بی ایل اے کے ترجمان میرک کا بیان آیا کہ ہم نیشنل پارٹی سے مکالمہ کرنے کے لئے تیار ہیں بشرط کہ نیشنل پارٹی اپنا موقف آزادی کے حوالے سے واضح کرے اسی دوران بی ایس او کے سیکرٹری جنرل زاہد بلوچ سے میرا حال ا حوال ہوا وہ اعتراض کررہا تھا کہ بی ایل اے کے اس پالیسی بیان سے ہمیں اختلاف ہے میں نے کہا بالکل صحیح ہے آپ لوگ بی ایس او آزاد کا پالیسی بیان جاری کریں اگلے دن دوستوں کے مشورے سے بیان جاری ہوا؛ ’نیشنل پارٹی سے مکالمہ مذاکرات نہیں صرف اور صرف جنگ ہوگی‘ یہ اخباری بیان بھی ریکارڈ پر موجود ہے یہ ایسے واضح ثبوت ہیں جن سے یہ صاف ہوجاتا ہے کہ دونوں تنظیمیں اپنے سیاسی اور اخلاقی حدود میں کام کررہے تھے ۔حیربیار کی طرف سے مجھے چارٹر ملا پڑھ کر میں نے اس وقت بطور چیئرمین فیصلہ نہیں کیا نہ ہی کوئی اخباری بیان جاری کیا کہ چارٹر قابل قبول ہے ۔ میں نے چارٹر اسی وقت سیکرٹری جنرل زاہد بلوچ ، وائس چیئرمین کریمہ بلوچ کی طرف روانہ کیااور ان سے کہا کہ آپ لوگ چارٹر کا بغور جائزہ لیں اور اس پر کھل کر بحث مباحثہ کریں اور اسکے بعد آپ کے جو بھی تجاویز ہو وہ دوستوں کی طرف روانہ کردیں ،کریمہ بلوچ کی ترمیم شدہ پوائنٹس مجھے آج بھی یادہیں (البتہ میں نے بعد میں سابقہ چیئرمین کی حیثیت سے یعنی بی ایل اے کے پلیٹ فارم سے چارٹر کی حمایت کی)اسی طرح حمایت سرمچاران ریلی کے متعلق فیصلہ بھی بی ایس او کے سینٹرل کمیٹی کی طرف سے کیا گیا تھا اور یہ بی ایس او کا اپنا فیصلہ تھا جبکہ ریلی میں بی ایل اے کا پمفلٹ تقسیم ہوا تو اس میں بی ایل اے کے طرف سے اس ریلی کے نام حمایت سرمچاران ریلی پر اعتراض کیا گیا تھا اور اس میں یہ تجویز دی گئی تھی کہ سرمچاران کے بجائے اگر آزادی ہوتا تو زیادہ بہتر ہوتا اگر یہ فیصلہ بی ایل اے کی طرف سے ہوتا تو بی ایل اے کے دوست اس نام پر کیوں اعتراض کرتے ؟
یہاں ایک اور واقعے کا ذکر کرنا مناسب سمجھوں گا جب ڈاکٹر اللہ نذر جیل سے رہا ہوکر اپنے علاقہ چلے گئے تو ڈاکٹر امداد کو مشکے بلالیا ڈاکٹر امداد سے واپسی پر حال احوال ہوا اس نے کہا کہ مجھے بی ایل ایف کے لئے کام کرنے پر آمادہ کرنے کی خاطر بلایا گیا تھا۔ میں نے اپنا موقف واضح کردیا ہے کہ اگر بی ایل ایف ڈاکٹر خالد اور غلام محمد سے لاتعلقی اختیار کرے ان کی جگہ امداد بشیر ایک اوردوست (نام لینا مناسب نہیں)کو کمانڈ کونسل میں اٹھائے پھر میں کام کروں گا (قطع نظر اس کے کہ اس وقت امداد لاعلم تھا کہ میرا بی ایل اے کے ساتھ تعلق ہے)میں نے کہا پھر کیا ہوا۔ کہنے لگے وہ سوچیں گے اگر ڈیمانڈ پورا نہیں ہوا تو میرا ان سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ میں نے کہا اگر آپ کا ان دوستوں کے ساتھ ہم آہنگی نہیں تو بی ایل اے کے دوستوں سے حال احوال کرکے کام شروع کریں۔ امداد نے کہا ان میں کوئی فرق نہیں یہ دونوں ایک ہی ہیں صرف نام تبدیل ہیں۔ میں نے کہا پھر آخر کیا ہوگا ۔ انہوں نے کہا سیدھی سی بات ہے کہ آپ مسلح جدوجہد کا سوچ ترک کردیں ورنہ ان کی غلطیوں کی وجہ سے مارے جاؤ گے، یہ نہ سوچوآپ شہید ہونگے بلکہ یہ خودکشی ہوگی، اگر آپ کو مسلح جدوجہد کا شوق ہے تو پھر صبر کرو۔ بی ایس او کو مسلح جدوجہد سے دور رکھو میں اور آپ اپنا ایک علیحدہ مسلح تنظیم بنائینگے ۔ میں نے کہا چھوڑو امداد آپ کی غلطیوں اور کمزوریوں کی وجہ سے بی ایس او ‘ بی این پی کا بغل بچہ بننے سے بال بال بچ گیا۔آپ کچھ نہیں کرسکتے ہو۔ 28دسمبر 2006ء کے اس ملاقات کے بعد میں نے امداد کی سوچ اور منفی ارادوں کو صحیح طور پہ سمجھا کہ امداد کس راستے پہ گامزن ہے ۔میرے ذہن میں سوالات ابھر رہے تھے کہ امداد کس ایجنڈے پر کام کررہا ہے۔ امداد کی اپنی رہائی کے بعد اپنے پہلے پریس کانفرنس میں ڈاکٹر صاحب کا ذکر نہ کرنا وہ بھی ریکارڈ پر ہے پھر میرے اصرار و دباؤ پر پھر سے پریس کانفرنس کرنا پھر اچانک ڈاکٹر صاحب کے لئے کراچی میں تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھنا اور کراچی میں نام نہاد سوشلسٹوں کے کہنے اور خواتین کے میڑھ پر بھوک ہڑتال ختم کرنا پھر بی ایس او کا انضمام کرنا پھر سائیڈ ہونا اور محی الدین کو راستہ دینا اور بلوچ وائس ٹی وی چینل کا ڈرامہ رچانا جس کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں تھا اور نوجوانوں میں مسلح جدوجہد کے حوالے سے مایوسی پھیلانا یہ تمام باتیں میرے ذہن میں مختلف سوالات اُبھار رہے تھے۔ میں سمجھ رہا تھاضرور کوئی بات ہے جس کی پردہ پوشی کی جارہی ہے اور صاف طور پر ڈاکٹر امداد اپنے موقف سے ہٹ کر کسی اور ایجنڈے پر کام کررہے تھے جو کسی بھی حوالے سے بلوچ قومی تحریک سے تعلق نہیں رکھتا تھاامداد کے تمام باتیں اور اعمال سیدھی طرح قومی تحریک پر منفی اثرات ڈال رہے تھے ۔
2008ء میں بی این ایم کا کونسل سیشن جب کراچی میں منعقد ہوا ان دنوں میں میں میڈیا سے دور تھا ایک دن زاہد بلوچ سے فون پر حال احوال ہوا تو اس نے مجھے بتایا کہ میں کراچی میں ہوں اور بی این ایم کا کونسل سیشن چل رہا رہے اور مجھے حیرت انگیز بات یہ بتائی کہ کونسل سیشن میں ایک پینل سامنے آیا ہے جس کی سربراہی ڈاکٹر منان اور ڈاکٹر امداد کررہے ہیں اس پینل کی طرف سے پارٹی صدر کے لئے شہید غلام محمد کے مد مقابل ڈاکٹر منان اورنائب صدر کے لئے ڈاکٹر امداد اور سیکٹری جنرل کے لئے خلیل بلوچ سامنے آرہے ہیں اور زاہد بلوچ نے ہنستے ہوئے مجھ سے پوچھا کہ یہ کیا ہورہا ہے ؟اور امداد کہاں سے اور کیسے ان لوگوں کے بیچ وارد ہوگئے ہیں ( زاہد بلوچ بھی امداد کے تمام حرکات سے واقف تھے کیونکہ میں اور زاہد اکثر امداد کے مشکوک حرکات پر غور اور بحث کرتے رہتے تھے اور میں نے امداد کی تمام باتیں زاہد کے سامنے رکھ دیے تھے)۔ میں نے کہاکہ اللہ خیر کریگا آگے دیکھتے ہیں کیا ہوگا۔ سیشن کے بعد خضدار میں میری ملاقات ڈاکٹر دین محمد اور بی این ایم کے ایک اور دوست سے ہوا جو زندہ سلامت ہے پتہ نہیں آج کل کہاں ہے پہاڑوں میں یا کسی شہر میں، اُس دوست کا نام لینا مناسب نہیں ہے۔ ان دونوں سے ملاقات کے دوران میں کونسل سیشن کا حال پوچھااور امدادکے اسطرح نمودار ہونے کی وجہ پوچھی اورامداد کے نائب صدر بننے کا معاملہ جاننا چاہا کیونکہ سارے دوست جانتے تھے کہ امداد بی این ایم اور شہید غلام محمد کے بارے میں کیا موقف رکھتے تھے امداد تو بی این ایم اور شہید غلام محمد کے کٹر مخالفین میں شمار ہوتے تھے ۔ ڈاکٹر دین محمد نے کہا کہ مجھے خود حیرانگی ہوئی کہ امداد اچانک کہاں سے آیا ہے اور مجھے غلام محمد نے کہا کہ ڈاکٹر دین محمدآپ امداد کے حق میں دستبردار ہوجائیں میں نے غلام محمد سے کہا یہ فیصلہ کس نے کیا ہے کہنے لگا وہ باتیں چھوڑو ۔ میں نے کہا امداد تو آئی ایس آئی کا بندہ ہے کیا یہ ان کا فیصلہ ہے؟ کہنے لگے نہیں یار ڈاکٹر اللہ نظر والوں نے یہ فیصلہ کیا ہے۔ تو میں نے کہا یہ کیا مداخلت ہے؟۔ غلام محمد نے کہا بس یار مسئلہ نہیں ہے ، مولاداد نہیں مان رہا ہے آپ سبکدوش ہوجاؤ ۔ میں نے کہا ٹھیک ہے ۔میں نے پارٹی کے مفاد میں اس فیصلے کو قبول کرلیا۔ ڈاکٹر دین محمد نے کہا کہ پھر مجھے حیرانگی اس وقت ہوا جب اچانک ڈاکٹر منان غلام محمد کے مقابلے میں کھڑا ہوگیا اس کے بعد ہم نے اور غلام محمد نے مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ۔(اللہ کرے ڈاکٹر دین محمد رہا ہوں وہ اور دیگر دوست ان باتوں کے گواہ ہیں) میں اس بات پر حیران تھا کہ آخر ڈاکٹر اللہ نذرسب کچھ جاننے کے باوجود ڈاکٹر امداد پر کیوں اتنا بھروسہ کررہے ہیں کیا وہ امداد کو سمجھ نہیں پارہے ہیں خیر جو کچھ ہوا آج امداد کا کردار قوم کے سامنے ہے۔
نومبر 2008ء کو بی ایس او آزاد کا کونسل سیشن کوئٹہ میں منعقد ہوا ۔ میرے لئے وہاں جانے کا خطرہ بھی تھا اور بولان اُس وقت دوستوں کے لئے فری زون بھی تھا۔ میں بولان میں کونسل سیشن منعقد کرواسکتا تھا لیکن سوچا صرف اپنے جان کو بچانے کے خاطر پورے بی ایس او کے حوالے سے ریاست کو جواز فراہم کرنا صحیح نہیں ہے۔ بولان میں سیشن منعقد کرنے کے بعد دوستوں کا کیا ہوگا اُس کا مجھے اندازہ تھا (اسی وجہ سے ہم نے بولان کی بجائے بلوچستان یونیورسٹی میں سیشن منعقد کروایا۔)کونسل سیشن کے قریب آتے آتے ڈاکٹر امداد نے سنگت ثناہ سے کافی قربت حاصل کرلی تھی اور بی ایس او کے تمام سینئر دوستوں کو امداد کے قربت کے حوالے سے کافی تحفظات تھے کیونکہ بی این ایم کا کونسل سیشن دوستوں کے سامنے تھا میں خود کونسل سیشن کرواکر الگ ہونا چاہتا تھا اور میری اپنی خواہش تھی کہ چیرمین سنگت ثناہ ہو لیکن باقی تمام دوست مجھ پر دباو ڈال رہے تھے کہ مجھے تنظیم کو اگلے دور کیلئے سنبھالنا چائیے تاکہ حالات کچھ واضح ہوں خاص کر میری بہن کریمہ بلوچ کی مسلسل کوشش تھی کہ میں دوبارہ چیرمین شپ کے لئے سامنے آوں دوستوں کی رائے اور دباو کے باوجود اس سلسلے میں میں نے سنگت ثناء سے ملاقات کی اور امداد کے حوالے سے دوستوں کے تحفظات بھی اسکے سامنے رکھے اور اسے ہر ممکن سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ امداد سے دور رہے لیکن
بدقسمتی سے شایدشہید سنگت ثناہ مجھ پر اعتبار نہیں کررہے تھے اور وہ ڈاکٹر امداد کے کہنے پر لابنگ میں مصروف تھے انہی دنوں میں میرے ایک عزیز اور قریبی دوست حکیم بلوچ نے اصرار کیا کہ مجھے ڈاکٹر امدادسے ملنا چایئے میں نے وجہ پوچھی تو شہید حکیم جان نے کہا یوں ہی آپ ان سے ایک مرتبہ ضرور ملیں کوئی اور ہوتا تو شاید میں نہیں ملتا لیکن میں شہید حکیم کی بات کو ٹال نہیں سکا کیونکہ میں اسکا بہت زیادہ احترام کرتا تھا جب میں امداد سے ملا تو اس کا مشورہ یہ تھا کہ مجھے اگلے دور کے لئے چیرمین نہیں آنا چایئے جب میں نے وجہ پوچھی کہ کیوں نہیں آنا چایئے؟ اور امداد تم مجھے کس حیثیت سے یہ مشورہ دے رہے ہو؟ کیا تم بحیثیت بی این ایم کے نائب صدرمجھے یہ مشورہ دے رہے ہو تو اس نے کہا کہ نہیں میں بھائی کے حیثیت سے کہہ رہا ہوں۔ میں نے کہا کیوں نہیں آؤں؟ اس نے کہا کہ سعید فیض دو دفعہ چیئرمین ہوا تو رسواء ہوا آپ بھی رسواء ہونگے ۔ میں نے کہا وہ وقت ثابت کریگا ، کون رسواء ہوگا آپ بھی بے فکر رہیں مجھے سعید فیض سے تشبیہ نہ دیں۔ میرے انکار پر انہوں نے دھمکی آمیز انداز میں کہا میں آپ کے خلاف کونسلروں میں کام کرونگا اور اُن کو بتاؤنگا کہ پرانے قیادت کو تبدیل کرو۔ میں نے کہا ٹھیک ہے یعنی میں سمجھونگا کہ بی این ایم کی مداخلت ہورہی ہے اورمیں شہید غلام محمد کے نوٹس میں یہ بات لاؤنگاکہ آپ کی پارٹی ہماری تنظیم میں کیوں مداخلت کررہی ہے توڈاکٹر امداد نے مجھ سے کہا یہ پارٹی کا نہیں میرا اپنا فیصلہ ہے ۔جب سیشن شروع ہوا توڈاکٹر امداد، خلیل، ڈاکٹر منان کی سرگرمیاں تیز ہوگئے اور انہوں نے مسلسل کونسلروں سے رابطہ رکھا اور سنگت ثناء کے لئے لابنگ میں اپنا اثر رسوخ استعمال کیااور میرے حوالے سے مسلح جدوجہد اور روپوشی کو جواز بنا کر وہی بے بنیاد سوالات اُٹھائے جوبی این ایم کے کونسل سیشن میں ڈاکٹرامداد نے بجار صاحب کے متعلق اٹھائے تھے کہ وہ کہاں ہے اور کس لئے روپوش ہے؟وغیرہ وغیرہ انہی بے بنیاد سوالات کی وجہ سے سیشن میں مجھ سے ایسے سوالات شروع ہوئے کہ کہیں کہیں پر مجھے ایسا لگا کہ میں جوائنٹ انوسٹیگیشن کاسامنا کررہا ہوں میں سیشن میں نہیں دشمن کے کسی عقوبت خانے میں ہوں اور مجھ سے تفتیش ہورہا ہے سیاسی سوالات نہیں۔ اس بات کی گواہی سیشن میں موجود تمام دوست دیں گے کیونکہ وہ سوالات میرے اپنے کردار کے حوالے سے تھے نا کہ سیاسی پالیسیوں کے حوالے سے تھے اسکے باوجود میں نے شہید سنگت ثناء کے سامنے تمام صورتحال رکھنے کی حتی الامکان کوشش کی لیکن اس نے کہا میں دستبردار نہیں ہونگا میں مقابلہ کرونگا مجھے کچھ دوست مجبور کررہے ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ کے وہ دوست ڈاکٹر امداد وغیرہ ہیں؟ اگر وہ ہیں تو اتنا آپ سمجھیں کہ وہ آپ کے دوست نہیں ہیں۔شہید ثناء نے کہانہیں اگر میں ہار گیا تو علی الاعلان نتائج تسلیم کروں گا خیر ہم الیکشن کی طرف گئے الیکشن کے نتائج سامنے آئے جن کو شہید سنگت ثناء نے اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے تسلیم کیا سنگت ثناء کا سیشن کے بعد کا پریس کانفرنس اس بات کی گواہ ہے لیکن اسکے بعد بھی ڈاکٹر امداد کی کارستانیاں رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے بی ایس او میں ناکامی کے بعد ڈاکٹر امداد نے بی آر پی کی طرف رخ موڑ لیا اورناجانے کیسے شہید سنگت ثناء کو اپنے خیالات پر قائل کرلیا اسی دوران گلزار نامی شخص جس کو کرپشن کی بنیاد پر بی ایس او آزاد سے فارغ کردیا گیا تھا،جس نے بی ایل اے کے نام پربہت سے بلوچ معتبرین سے چندہ جمع کر کے ذاتی غرض سے استعمال کیا تھا ،یہ بات سامنے آنے پر اسے بی ایس او سے فارغ کردیا گیا چندہ لینے والوں میں سے ایک بزرگوار نے بذات خودبی ایس او سے شکایت کی تھی جو آج بھی زندہ ہے اور اس بات کا گواہ ہے ۔جب ہمیں ڈاکٹر امداد کے اس نئے منصوبے کاعلم ہوا تو ہم نے یہ تمام صورتحال براہمدغ بگٹی کے سامنے رکھنا بہتر سمجھا تاکہ بی این ایم اور بی ایس او کے بعد بی آر پی ڈاکٹر امداد کی شر سے محفوظ رہ سکے رابطہ نا ہونے کی وجہ سے ہم نے یہ تمام باتیں سنگت حیربیارمری کے ذریعے براہمداغ بگٹی تک پہنچائیں اور یہ اطلاعات دی کہ گلزار اور امداد آپ لوگوں کی پارٹی میں شمولیت کررہے ہیں جن کی اصل حقیقت یہ ہے ، دوسری جانب ڈاکٹر امداد بی این ایم کے نائب صدر ہیں اور گلزار بلوچ کو بی ایس او میں کرپشن کی وجہ سے فارغ کردیا گیا ہے لیکن ناجانے کیوں براہمداغ بگٹی نے ہماری باتوں پر توجہ نہیں دی امداد اور گلزار کو گلے لگا لیا اور بی آر ایس او بناکر گلزار کو چیئرمین بنادیا، پھر بی آرایس او کی جانب سے بی ایس او آزاد کے خلاف امداد کی سربراہی میں منفی پروپگنڈہ مہم چلااس کی گواہ مجھ سے زیادہ بانک کریمہ بلوچ ہے۔ اس سارے قصے میں میرے ناقص رائے کے مطابق سنگت ثناء کی دوستی اور خلوص نے امداد کے زریعے اسے گرفتاری اور شہادت تک پہنچایا آج ڈاکٹر امداد کہاں ہے اور گلزار دوست کہاں ہے یہ پوری قوم جانتی ہے ۔بی ایس او کے سیشن کے بعد جب میں بی این ایف کے اجلاس میں شرکت کے لئے کراچی گیا تو خلیل بلوچ بھی وہاں موجود تھے خلیل بلوچ سے لی مارکیٹ میں میری ملاقات ہوئی، دوران گفتگو خلیل بلوچ سے میں نے یہ شکایت کی کہ ڈاکٹر امدادکومیں جانتا ہوں مجھے اس سے کوئی گلہ اور افسوس نہیں ڈاکٹر منان نے بھی جو کچھ کیا اس کا بھی مجھے افسوس نہیں لیکن آپ ان لوگوں کے ساتھ مل کر جس طرح سے بی ایس او کے کونسل سیشن پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے تھے، اس کا مجھے بہت افسوس ہے آپ اگر اس طرح سے بی ایس او کے دوستوں کے لئے سیشن میں مہم چلانے کو بہتر سمجھتے تھے تو کم از کم ایک بار مجھ سے مل کر صورت حال جاننے کی کوشش تو کرتے کہ میں دوبارہ سے چیرمین کیوں بن رہا ہوں اصل حالات کیا ہیں انکو سمجھنے کی کوشش کرتے اگر بحیثیت ایک قوم دوست کے آپ کو زرا برابر بھی یہ لگتا کہ مجھے چیرمین بننے کا شوق لاحق ہے تو آپ جو بہتر سمجھتے وہ کرتے۔ خلیل بلوچ نے میرے سوال کے جواب میں کہا کہ کافی عرصے سے آپ سے ملاقات یا رابطہ نہیں ہو پایا ہے اسی لئے ظاہر ہے غلط فہمیاں پیدا ہونگی ۔ میں نے کہا آپ کوضرور اندازہ تھا کہ روپوشی کے دوران میں کہاں تھا اور کیا کررہا تھا ضرورت یہی ہے بغیر ملاقات بغیر رابطے سے ایک دوسرے پر اعتماد ہونا چاہیئے پھر تفصیلی حال احوال ہوا غلط فہمیاں دور ہوئیں ۔ پھر 10دن بعد اچانک بی ایس او (محی الدین) کا قلات میں سیمینار منعقد ہوا ، یاد دلاوں کے انضمامی سیشن کے بعد باقاعدہ فیصلہ ہوا تھا کہ اگر کوئی اور بی ایس او بنائے گا تو وہ غیر آئینی ہوگا ان کے ساتھ الائنس نہیں ہوگا اور ان کے پروگراموں میں شرکت نہیں کی جائیگی۔لیکن صبح اخبار میں دیکھا بی این ایم کے سیکرٹری جنرل خلیل بلوچ بی ایس او (محی الدین) کے سیمینار میں خطاب کررہے ہیں۔ وہ محی الدین جس کا مطالبہ تھا کہ خلیل بلوچ انتشار پھیلا رہا ہے اسے ڈگری کالج کے گیٹ کے اندر داخلے کی اجازت نہیں دینی چاہیئے مجھے اس بات پر حیرت ہورہا تھا کہ اس دس دن کے اندر پھرسے وہ کونسی غلط فہمیاں خلیل بلوچ اور ہمارے درمیان جنم لے چکے ہیں کہ خلیل بلوچ بی ایس او محی الدین کے سٹیج پر تقریر کرنے پہنچ گئے۔
یہ تو سرفیس سیاست کی چیدہ چیدہ واقعات ہیں جن کو میں نے آپ لوگوں کے سامنے رکھنا ضروری سمجھا تاکہ موجودہ سیاسی حالات کو سمجھنے میں آپ لوگوں کو کچھ نا کچھ آسانی ہو ۔ اب آتے ہیں مسلح تنظیموں کے درمیان تضادات کی طرف ان مسائل کے جس پہلو کو میں دیکھ اور سمجھ سکا اسکو آپ لوگوں کے سامنے رکھ رہاہوں اور یہ یقینی بات ہے کہ اس کے کم و بیش کچھ اور پہلو بھی ہونگے جنہیں جاننا ہم سب کے لئے بہت ضروری ہیں بحیثیت ایک سیاسی کارکن جو کچھ میں نے دیکھا اور محسوس کیا جہاں تک سمجھ سکا وہ آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں جب سنگت حیربیارمری لندن میں گرفتار ہوئے انکی گرفتاری کے دوران انکی تمام زمہ داریاں زامران مری نے سنبھال لی لیکن جب وہ رہا ہوکر باہر آئے تو انکی رہائی کے چند مہینے بعد دوستوں کے سامنے یہ بات عیاں ہوئی کہ زامران مری اور حیربیار مری کے بیچ کرپشن کے حوالے سے اختلافات پائے جاتے ہیں اور یہ مسئلہ حل ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا ہے اسی سلسلے میں وقتاًفوقتاًمختلف دوست اس سلسلے میں نواب صاحب سے ملتے رہتے تھے اسی بیچ نواب صاحب کے ہدایت پر حیربیار مری نے زامران مری کو کام کرنے کے حوالے سے ایک موقع دیا اور مسئلے کو دوستوں کے بیچ غور کرنے کے لئے رکھ دیا، لیکن اسی دوران کچھ عرصے بعد زامران مری نے پھر سے حیربیار کے زیرنگرانی کام کرنے سے انکار کردیا اور ایک سیاسی تقریب میں شرکت سے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ میں حیربیار مری کے زیر نگرانی کام نہیں کروں گاجب اس صورتحال سے نواب صاحب کو آگاہ کیا گیا کہ تو نواب صاحب نے حیربیار مری پر یہ دباو ڈالا کہ آپ کا چھوٹا بھائی ہے کسی بھی طرح سے اسے سنبھالو پھر اچانک ایک ہفتے بعد حیربیار کا بیان سامنے آیا کہ لیڈر شپ کے درمیان اختلافات ہیں اگر اختلافات حل نہیں ہوئے تو میں تحریک سے کنارہ کش ہوجاؤنگا ۔فون کے ذریعے حیربیار سے رابطہ کرکے بیان کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا زامران غیر ذمہ داری کررہا ہے کام کرنے کو تیار نہیں ہے ۔ نواب صاحب بضد ہے کہ آپ ہر حالت میں اسے اپنے ساتھ چلاؤ میں نے مجبور ہوکر یہ بیان جاری کیا ہے کہ اگر معاملہ ایسا ہے تو میں کنارہ کشی اختیار کرونگا لیکن دوستوں نے سنگت حیربیار مری کو یہ رائے دی کی یہ مسئلے کا حل نہیں ہے ہم دوبارہ سے نواب صاحب سے مل کر اس مسلئے کو حل کرنے کی کوشش کریں گے ہمیں یقین ہے کہ یہ مسئلہ ضرور حل ہوجائیگا ۔سنگت حیربیار مری کے موقف کو سننے کے بعد میں نے ضروری سمجھا کہ نواب صاحب سے ان مسائل پر بات چیت ہو ۔میں نے زاہد بلوچ کو فون کرکے کہا جاکر نواب صاحب کو حال احوال کریں کہ اصل حقیقت کیا ہے اور ان اختلافات کی صورت میں بی ایس او کیا کردار ادا کرے ۔ تو زاہد بلوچ نواب صاحب سے ملاقات کرنے گیا۔ زاہد نے کہا کہ نواب صاحب نے بیٹھتے ہی مجھے کہا کہ آپ کو بشیر نے بھیجا ہے، میں نے کہا ہاں،پھر نواب صاحب نے پیغام دیا اگر آپ لوگ خاموش رہو تو صحیح ہے(اور اس بات کا اعتراف گرفتاری سے چندماہ قبل زاہد بلوچ نے دوستوں کے سامنے ایک ملاقات میں کیاتھا)۔پھر حیربیار کے اختلافاتی بیان پر بی ایل اے کاتبصراتی و تجزیاتی بیان آیا۔اگراس مسئلے پر بھی بغور جائزہ لیا جائے تو اس دور میں بی ایس او کا کردار واضح طورپر نظر آئے گا کہ وہ بحیثیت ایک ادارہ آزادانہ طورپر اپنے فرائض سرانجام دے رہا تھا وہ کسی شخصیت یا پارٹی کے زیر دست نہیں تھا اگر اس وقت لگنے والے الزامات میں ذ رہ برابر بھی سچائی ہوتا تو بی ایس او آزاد اس مسئلے پر حیربیار کے حق میں اور زامران کے خلاف کوئی نا کوئی بیان ضرور جاری کرتا لیکن ایسا کوئی بیان نہیں دیا گیا۔ ہم نے کوشش کی کہ معاملے کا کوئی حل نکالیں۔استاد اسلم کو ہم نے مشورہ دیا کہ آپ باقی سارے کام چھوڑ کر نواب صاحب کے پاس جاکر مسئلے کا کوئی حل نکالیں۔اسلم بلوچ نے بھی تمام حالات اور مجبوریوں کے باوجودنواب صاحب سے ملنے کاذمہ اٹھایااورنبی دادمری کو ساتھ لے کر نواب صاحب سے ملنے چلا گیا۔ ملاقات کے بعد مجھے فون کرکے بتایا کہ مسئلہ حل نہیں ہورہا آپ کراچی آئیں میرا کراچی جانا اس وقت کافی مشکل تھا پھر بھی میں نے انکار نہیں کیا میں وہاں چلا گیا بقول استاد اسلم ،نبی دادمری اور ایک دوست قبیل مری کے نواب صاحب زامران کو بھی ساتھ چلانے پر بضد ہیں ،تو پھر میں نے قبیل سے پوچھا کہ حیربیار کی گرفتاری کے دوران آپ کو دوستوں نے زامران کے پاس بھیجا آپ کچھ عرصے انکے قریب رہے اصل حقیقت کیا ہے ؟آپ تو بہت کچھ جانتے ہوں گے تو قبیل مری نے کچھ ایسے واقعات سنائے جن کو سننے کے بعد مسئلے کو سمجھنے میں کافی آسانی ہو گئی اور ہم نے ضروری سمجھا کہ یہ باتیں نواب صاحب کے سامنے رکھی جائیں تاکہ انہیں علم ہو کہ مسئلے کی اصل حقیقیت کیا ہے اور کوئی بھی فیصلہ کرنے میں نواب صاحب کو آسانی ہو قبیل مری نے کہا کہ زامران میرا قریبی دوست ہے لیکن اس مسئلے میں حیربیار مری بالکل بھی غلط نہیں ہے میں نے انکو کہاکہ پھرلازمی طور پر آپ کو نواب صاحب کے سامنے رکھنی چاہیئے اور نواب صاحب کو اصل حقائق سے آگاہ کرنا چاہیئے تو قبیل مری نے کہا کہ نواب صاحب ہمارے بزرگ ہیں بہت سی باتیں ہم انکے سامنے اسطرح سے نہیں رکھ سکتے ہیں پھر ہم نے اسے کہاکہ دوست یہ بلوچ قوم کے مفادکا مسئلہ ہے اسکا حل ہونا بہت ضروری ہے آپ اپنے روایتی احترام کے خاطر پورے کام کو نقصان دینا مناسب سمجھیں گے؟ تو اس نے کہا ہر گز نہیں تو ہم نے کہا سچائی اور حقیقت سامنے رکھنے میں کیا برائی ہے پھر وہ دوست راضی ہوگیا۔ ہم نے اسکے بعد پھر پروگرام بنایا نواب صاحب سے ملاقات کا،اسکے بعد میں نے اور اسلم بلوچ نے اس سلسلے میں حسنین جمالدینی سے ملاقات کی اور اسکو مشورہ دیا کہ وہ بھی ہمارے ساتھ نواب صاحب سے ملنے آئیں اس نے کہا کہ ٹھیک ہے میں بھی ساتھ چلوں گا اور یہ باتیں نواب صاحب کے سامنے رکھیں گے اس ملاقات کے بعد ہم نے ملنے والے تمام دوستوں کے نام نواب صاحب کو لکھ کر ارسال کردیے کہ اس سلسلے میں یہ دوست آپ سے ملاقات کریں گے جن میں میں ، اسلم بلوچ،حسنین جمالدینی اور تین مری دوستوں کے نام شامل تھے نام نواب صاحب کے طرف بھیجنے کے دوسرے دن سے ہی حسنین جمالدینی نے ہم سے رابطہ منقطع کردیا۔ ہمارے ملنے کا ایک ہی ذریعہ موبائل فون تھا جو اس دوست نے بند کردیا ہمارے بار بار رابطہ کرنے پر وہ ہمیں دستیاب نہیں ہوا اس دوران ملاقات کے لئے نواب صاحب کے گھر کے علاوہ ایک اور جگہ کا تعین کیا گیا کیونکہ اتنے دوستوں کا نواب صاحب کے گھر پر ملاقات مناسب نہیں تھا جس کے حق میں نواب صاحب بھی نہیں تھے۔ نواب صاحب کی رضامندی سے جس جگہ کا ملاقات کے لئے تعین ہوا تھا ہم وہاں جانے کے لئے تیار تھے مگر عین ملاقات والے دن نواب صاحب کا پیغام آیاکہ ملاقات ،مقررہ وقت پہ ہوگا لیکن ملنے والے دوستوں کے لسٹ سے میرا اورحسنین جمالدینی کا نام نکال دیا گیاتھااور ہمیں یہ کہا گیا کہ نواب صاحب نے کہا ہے کہ یہ چھوٹا سا مسئلہ ہے متعلقہ دوست مل بیٹھ کر حل کریں گے اگر یہ ان دوستوں سے حل نہیں ہوا تو اسکے بعد اسکے حل میں دیگر سیاسی دوستوں کو شامل کیا جائے گا اسکے بعد حسنین جمالدینی ویسے ہی اپنارابطہ منقطع کرچکے تھے میں نے دوستوں کو کہا کہ آپ جا کر دیکھ لیں کیا حل نکلتا ہے بعد میں صلح مشورہ کریں گے۔ جب دوستوں کی نواب صاحب سے ملاقات ہوئی اور دوست ملاقات کے بعد مجھ سے ملے تو معلوم کرنے پر استاد اسلم نے کہا کہ یہ مسئلہ ہم سے حل ہوتا ہوا نہیں نظر نہیں آرہا یہ مزیدالجھتا جارہا ہے ملتے ہی نواب صاحب نے کہا کہ سیاسی دوستوں کو اس مسئلے میں بٹھانے کے بجائے آپ لوگ اسکو حل کریں اگر آپ لوگوں سے حل نہیں ہوا تو پھر سیاسی دوست اس میں شامل ہوں اس وقت اس مسئلے میں سیاسی دوستوں کو شامل کرنا مناسب نہیں دوستوں کے بقول نواب صاحب سے ہمارا مباحثہ اس مسئلے سے شروع ہوکر تلخی اور انفرادی واقعات تک پہنچ گیا لہٰذاہم نے مزید تلخی کی طرف لے جانے سے ختم کرنا بہتر سمجھا مجھے نواب صاحب سے ملنے والے دوستوں نے کہاکہ ہمیں اندازہ نہیں ہورہا کہ اصل مسئلہ کیا ہے بیچ میں کوئی غلط فہمی ہے یا کوئی اور مسئلہ ہے جس کا ہمیں علم ہی نہیں ہم کچھ نہیں کہ سکتے بہرحال ہم اپنے کام پر توجہ دیں اور اس مسئلے کو دیگر ہم خیال سیاسی دوستوں کے سامنے رکھیں تاکہ وہ اس بارے میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔ پھر حیربیار سے حال احوال ہوا انہوں نے کہا کہ تمام صورتحال آپ دوستوں کے سامنے ہے آپ جوکرنا چاہتے ہیں کریں میری طرف سے آپ لوگوں کو مکمل اختیار ہے۔ اگر کہیں بھی مجھ سے کسی صلح ومشورے کی ضرورت پیش آئی تو ٹھیک ورنہ آپ دوست جو بھی فیصلہ کریں مجھے منظور ہے ۔
اس وقت شہروں میں کریک ڈاؤن تیزی کے ساتھ شروع تھا اور مسخ شدہ لاشوں کا سلسلہ تیزی کے ساتھ جاری تھا ہم بی ایل اے کی طرف سے اپنے حکمت عملی کے تحت شہری نیٹ ورکوں کو سرگرمی ناکرنے کی پابند کرچکے تھے۔ ہمارے صلح مشورہ کے بعد فیصلہ ہوا کہ اس معاملے میں فون پر ویسے ہی ڈاکٹر صاحب والوں سے بات ہوا ہے اب وہاں جاکر تفصیلی حال احوال کرینگے پھر میں شہید امیرالملک اور قاضی مشکے روانہ ہوئے۔پہلے ہی رات ڈاکٹر صاحب سے صبح تک حال احوال ہوتا رہا۔ ڈاکٹر صاحب کا موقف تھا کہ جب ادارہ نہیں ہوگا سردار ی اور نوابی کے ذریعے آپ لوگ تحریک کو چلائینگے تو ایسے مسائل ضرور پیدا ہونگے ۔ کافی بحث مباحثہ کے بعد یعنی 20دن بعد میں ڈاکٹر صاحب، بجار صاحب رسمی طور پر بیٹھ گئے پھر ڈاکٹر صاحب نے کہا کیاآپ کوبی ایل اے کی طرف سے مکمل اختیار ہے؟ میں نے کہا جی ہاں بلکل اختیار ہے۔پھر گپ شپ شروع ہوا کافی بحث مباحثے کے بعد بجار صاحب نے اپنا تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے درمیان جتنی بھی قربت ہے لیکن بی ایل اے اور بی ایل ایف کے الگ الگ ناموں کی وجہ بھی ایک تضاد ہے پھر انہوں نے تجویز دیا کہ ڈاکٹر صاحب نواب صاحب کو پیغام دینگے کہ آ پ پہلے بھی ہمارے لئے قابل احترام تھے اور آج بھی ہیں جہاں تک زامران کی بات ہے تو اس کے بارے میں ہم نے پہلے بھی کچھ سنا ہے اور آج بھی دوست سن رہے ہیں لہٰذا حیربیار مری سے ہمارے کئی برسوں سے اچھے تعلقات رہے ہیں اور ہمیشہ تحریک کے حوالے سے ہمارے ساتھ تعاون کرتا رہا ہے ہمیں ان کے سواکوئی بھی خاص نظر نہیں آرہا ہے، ڈاکٹر صاحب ہمارا ویسے بھی سپریم کونسل موجود ہے یہ دوست یعنی بی ایل اے اپنا ایک کونسل تشکیل دینگے پھر ان کے ساتھ بیٹھ کر بی ایل اے اور بی ایل ایف کا انضمام کردینگے۔ پھر ڈاکٹر صاحب نے کہا بجار صاحب کا یہ تجویز صحیح ہے آپ کا کیا خیال ہے۔ میں نے کہا مجھے بھی قبول ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا نہیں آپ اپنے دوستوں سے رابطہ کرکے ان سے پوچھ لیں کہ اُن کا کیا موقف ہے۔ میں نے کہا ان کوبھی قبول ہوگا(قطع نظر 2008کو بولان کیمپ میں استاد اسلم، ڈاکٹر اللہ نظر، اختر ندیم اور ماسٹر سلیم انضمام کے حوالے سے آئے تھے ۔ اس دیوان میں میں موجود نہیں تھا، میں کسی کام کے سلسلے میں دیوان سے پہلے ہی کہیں چلا گیا تھا بعد میں مجھے دوستوں نے دیوان کے ایجنڈا اور مجلس کے متعلق بتایا لیکن میں دیوان میں موجود نہیں تھا اس لئے میں اس دیوان کے متعلق کچھ نہیں بتاسکتا ہوں اس دیوان کے حوالے سے دیوان میں موجود دوست خود وضاحت کرسکتے ہیں)۔ تو ہمارا مجلس برخاست ہوا ۔ میں اور ڈاکٹر صاحب شام کو فون پر گئے استاد اسلم سے حال احوال ہوا میں نے فون ڈاکٹر صاحب کے حوالے کیا آپ خود بات کریں اور اسلم کو دیوان کی تفصیل بتادیں پھر ڈاکٹر صاحب نے حال احوال کیا۔ انہوں نے تمام تفصیلات سے اسلم بلوچ کوآگاہ کیا تو اسلم بلوچ نے کہا کہ یہ دوست یعنی( بشیرزیب)وہاں آپ کے ہاں موجود ہے آپ لوگ جو بھی فیصلہ کرینگے ہمیں قبول ہوگا۔ڈاکٹر سے حال احوال کے بعد دوبار ہ سے میرا اسلم سے بات چیت ہوا تو انہوں نے کہا آپ فی الحال اُدھرہی مشکے میں موجود رہیں اور دوستوں کے ساتھ ان تمام مسئلوں پر تفصیلاً حال احوال کرتے رہیں آپ لوگ جو بھی فیصلہ کریں گے ہمیں قبول ہوگا اسکے بعد ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ ابھی حیربیار سے حال احوال کرنا باقی ہے میں نے کہا ٹھیک ہے لیکن کبھی سردی زیادہ ہونے کی وجہ سے کبھی نیٹ ورک خراب ہونے کی وجہ سے تو کبھی حیربیار مری کے یا ڈاکٹر صاحب کے موجود نا ہونے کی وجہ سے حال احوال نہیں ہوپارہا تھا۔ اس دوران پورے دو مہینے گزر گئے۔ مشکے میں ایک رات میں ، شہید امیرالملک اور ڈاکٹر صاحب رات کوفون پر گئے تو ڈاکٹر صاحب کاا حوال حیربیار سے ہوا۔ فون کا سپیکر آن تھا مجھے یاد ہے ان کے درمیان یہ باتیں ہوئی کہ اگرہم دوستوں کا حال احوال صرف 20منٹ کے دورانئے کا ہے تو صحیح ہے اگر نہیں تو میں آپ لوگوں کو تکلیف دوں گا کیونکہ میں کسی کام کے سلسلے میں کہیں جارہا ہوں دعا کرے اگر کام ہوگیا تو پورے قوم کا فائدہ ہوگا۔ تو ڈاکٹر صاحب نے کہا میں اور یہ دوست آئے ہیں آپ سے تفصیلی حال احوال کرنے ، مسئلہ نہیں ہے وہ کام ضروری ہے ہم آپ کا انتظار کرینگے ۔ پھر ایک یا ڈیڈھ گھنٹے بعد اس کا فون آیا ڈاکٹر صاحب نے فون اٹینڈ کیا اور تمام تضادات اور ہمارے تجویز کے بارے میں حیربیار کو آگاہ کیا تو انہوں نے کہا بی ایل اے کا اور کمیٹی یا کونسل کی ضرورت نہیں ہے یہ دوست بشیر وہاں موجود ہے آپ لوگ دونوں تنظیموں کی جانب سے باقاعدہ فیصلہ کریں اور مجھے صرف فیصلہ سنادیں مجھے قبول ہے، گراؤنڈ میں آپ لوگ ہیں تمام مسائل آپ لوگوں کے سامنے ہیں ۔ پھر ڈاکٹر صاحب اور حیربیار مری کے بحث مباحثے کے بعد ڈاکٹر صاحب نے حیربیار کواپنے کچھ مشکلات اور مڈی کی کمی کے بارے میں آگاہ کیا اور کہا کہ یہ اگر جلد از جلدممکن ہو توبہتر ہوگاکیونکہ ہمیں انکی سخت ضرورت ہے تو انہوں نے کہا ٹھیک ہے میں پوری کوشش کروں گا آپ بے فکر رہیں۔ فون سے واپسی پر ڈاکٹر نے کہا یار ویسے تو حیربیار کے بارے میں یہ تاثر ہے کہ وہ نہیں مانتا ہے وہ اس طرح ہے اُس طرح ہے لیکن وہ سب کچھ ماننے کو تیار ہیں۔ تو میں نے کہا ڈاکٹر مجھے بھی بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ وہ یعنی حیربیار انا پرست، مغرور، ڈکٹیٹر ہے لیکن آج تک میں نے ایسی کمزوری یا خامی اس شخص میں نہیں دیکھا ہے (پھر اکثر دوست خاص کر شہید امیرالملک کہتے تھے کہ آپ زیادہ کیوں حیربیار کی تعریف کرتے ہیں شہید امیر کہتا تھا کہ ڈاکٹر اور حیربیار کے درمیان انضمام کے حوالے سے فون پر جو حال احوال ہوا وہ میرے سامنے ہوا، شہید امیر کے ان باتوں کا دوست گواہ ہے۔)پھر ایک سردی کی رات کو میں اور ڈاکٹر صاحب آگ کے نزدیک بیٹھے تھے ڈاکٹر صاحب نے فرمایا، یار آپ اور بجار صاحب کی جو تجویز ہے اس پر ہمیں غور کرنا چاہیے کیونکہ اس میں ہم براہ راست نواب صاحب کو نظر انداز کررہے ہیں آپ کیا سمجھتے ہو۔ ایک لمحہ کے لئے میں خاموش رہا پھر میں نے کہا ڈاکٹر اس میں نواب صاحب کو نظر انداز کرنے کی بات نہیں ہے ہاں اگر حیربیار کی کوئی بھی خامی، کمزوری، سودابازی، غلطی یا جرم کا آپ کو علم ہے تو مجھے معلوم نہیں۔ آپ اگر دوسروں کے سامنے وہ باتیں بیان کرنا مناسب نہیں سمجھتے ہو تو براہ مہربانی کم از کم مجھے تو بتاؤ مجھ پر تو آپ کو یقین ہے ۔ ڈاکٹر نے کہا نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے حیربیار ہمارا دوست تھا اور دوست ہے ، بقول ڈاکٹر کے حیربیار میرے لئے ذاتی حوالے سے بھی ایک بھائی کی حیثیت سے بہت کچھ کیا ہے میں جس کا احسان مند ہوں۔پھر صبح تک میرا اور ڈاکٹر کا بحث مباحثہ چلتا رہا لیکن سب بے نتیجہ ثابت ہوا۔ بجار صاحب کا سب کو علم ہے کہ وہ اپنے کام سے کام رکھنے والا بندہ ہے اور خاموش طب انسان ہے انہوں نے اچانک دودن بعد مجھ سے پوچھا، کیا ہوا اس دیوان کا میں نے کہا ڈاکٹر صاحب کہہ رہا ہے اس تجویز پر دوبارہ غور فکر کرنا ہوگا پھر بجار صاحب نے کوئی بات نہیں کی اور خاموش ہوگئے۔ میں اس وقت ڈاکٹر کے کیمپ میں موجود تھا اچانک اس وقت کالم نویس شبیر بلوچ کیمپ پہنچا۔ 6سال پہلے جب شبیر بی ایس او میں تھا۔میرے اور شبیر کے بہت قریبی تعلقات تھے لیکن 6سال کے درمیان میرا ان سے بالکل حال احوال یا ملاقات نہیں ہوا تھا تو میں نے محسوس کیا شبیر کا رویہ ہمارے حوالے سے سوالات خدشات سے بھری پڑی تھی۔ ان کا پہلے والا رویہ نہیں تھا پھر صبح میں اور شبیر نے اکیلے بیٹھ کر تضادات کے حوالے سے مجلس شروع کردی تو شبیر نے کہا آپ قبائلی نہیں بنومجھے لگتا ہے کہ آپ لوگ حیربیارمری کی اندھی تقلیدکرتے ہو وہ جو کہتا ہے تم لوگ اندھا اعتماد کرتے ہو اور حیربیار مری اتحاد اور انضمام کیخلاف ہے اور آپ لوگ اسکے فالور ہو پھر کافی بحث مباحثہ کے بعد میں نے شبیر سے کہا آپ ابھی جاکر ڈاکٹر صاحب سے بات کریں، وہ تیار ہے تو میں بی ایل اے کی طرف سے تیار ہوں اورہم آج آپ کے سامنے اعلان کردینگے پھر اندازہ ہوگا حیربیار انکاری ہوگا یا نہیں۔ پھر شبیر اور ڈاکٹر صاحب کے درمیان مجلس ہوا ۔ جو باتیں ہوئے وہ میرے سامنے نہیں ہوئے اُن باتوں کی وضاحت خود ڈاکٹر صاحب اور شبیر بلوچ کرسکتے ہیں لیکن شبیر پھر خاموشی سے واپس چلا گیا۔ پھر میں نے ڈاکٹر کو مایوسی کے عالم میں کہا ڈاکٹر سارے مسائل اور تضادات آپ کے سامنے ہیں پچھلے تین مہینوں سے میں یہاں بیٹھا ہوں میرے بہت سے کام ہیں جنہیں مجھے نمٹانا ہے اس لئے اب مجھے جانا چاہیئے آگے جو کچھ ہوگا ہم آپ سے فون پر حال احوال کرتے رہیں گے ۔ انہوں نے کہا نہیں آپ ٹھہریں استاد واحد قمبر کے رہائی کے امکانات ہیں شاید وہ رہا ہوجائے مجھ سے زیادہ آپ ان کو تمام تضادات کے متعلق صحیح معلومات دے سکو گے میں نے کہا ٹھیک ہے کچھ دن انتظار کرکے دیکھتے ہیں آخر کار استاواحد قمبر رہا ہوکر کیمپ پہنچ گئے تو ایک دن ڈاکٹر صاحب نے مجھے اور استادقمبر کو اکیلا بٹھایا اور کہا آپ تمام باتوں پر بحث مباحثہ کریں تو استادقمبر نے شروع سے اپنی گرفتاری سے رہائی تک کے تمام حالات کا مجھے بتایا پھر میں نے تفصیلی تمام مسائل اختلافات کا ذکر کیا تو استاد نے صرف اتنا کہا کہ میں نواب صاحب کے موقف کو جاننے کے لئے کوئی بندہ بیجھوں گاایسا مسئلہ نہیں ہے مجھے تسلیاں دینا شروع کردیا کہ حیربیار کی محنت اور کمٹمنٹ کومجھ سے بہتر اور کوئی نہیں جانتا ، اگر کوئی غلط فہمی ہے تو میں مکمل معلومات کرکے پھر حال احوال کرونگا،بالکل بی ایل اے ، بی ایل ایف ایک ہی ہے اور آگے ایک ہی نام پر کام کرینگے۔ استاد واحد قمبر کی باتوں کو سن کر مجھے تھوڑا سا حوصلہ ملا ڈاکٹر کو کہا ابھی استاد قمبر آگئے ہیں تمام باتوں سے انکو آگاہ بھی کیا گیا ہے لہٰذا مجھے اجازت دو پھر فون پر حال احوال ہوگا آپ لوگ تسلی سے اپنا مجلس کریں، پھر میں وہاں سے روانہ ہوکر توتک چلا گیا، پھر توتک میں آپریشن ہوا میں وہاں سے نکل کر قلات کیمپ پہنچا وہاں ایک سفید ریش مری جس کو ہم ماما کہتے ہیں لیکن اس کا اصلی نام مجھے یاد نہیں ،وہ آیا اور مجھے بلایا اور کہا کہ میں نے اختلافات کے بارے میں سناتو میں سیدھا نواب صاحب کے پاس چلا گیا تو انہوں نے کہاکہ ہاں زامران اور حیربیار کے درمیان ضرور اختلافات ہیں جہاں تک حیربیار کی بات ہے حیربیار کی محنت اور خلوص سے کوئی انکار نہیں کرسکتا ہے شاید زامران عمر کے لحاظ سے پختہ نہیں ہے یا مجھے عزیز ہے میرا چھوٹا بیٹا ہے، اگر اس مسئلے کے حوالے سے میر عبدالنبی بنگلزئی ، ڈاکٹر اللہ نظر اور بشیر زیب بیٹھ کر جو بھی فیصلہ کرینگے مجھے قبول ہوگا اگر زامران نہیں مانتا ہے اگر وہ غلط ثابت ہوتا ہے اور مجرم ٹھہرتے ہیں تو یہاں سے کوئی بلوچ بھیج کر وہاں اس کو مار دو ، وہ بلوچوں سے زیادہ نہیں ہے۔پھر بقول ماما ‘ نواب صاحب خاموش ہوئے اور تھوڑی دیر بعد کہنے لگے پتہ نہیں میں نے جذبات میں بڑی بات کہہ دی پتہ نہیں بچے کو مروانا برداشت ہوگا یا نہیں۔ ان باتوں کا گواہ خود ماما ہے ۔ میں (بشیر زیب)نے کہا ٹھیک ہے میں فی الحال بولان کیمپ جارہا ہوں راستوں کے تمام سیکورٹی رسک کے باوجود میں اسی دن بولان کیمپ پہنچا تو استاد اسلم سے حال احوال ہوا ، استاداسلم نے بتایا یار ڈاکٹر اور قمبرنے حال احوال کیا ہے اور کہا ہے آپ اور بشیر زیب کو بات چیت کرنے کے لئے واپس مشکے آنا ہوگا۔ میں نے مشورہ دیا کہ ان حالات میں ہمارا مشکے جانا مناسب نہیں ہوگا مشکے سے بولان میں جن مشکلات سے گزر کر پہنچا ہوں اسکا مجھے علم ہے یہ مناسب نہیں ہوگا ، توتک کی تازہ صورتحال ، مشکے کے حالات اور ہاں بولان میں ہمارے ہرطرف راستوں کی صورتحال اور دوسری طرف کام کے حوالے سے تمام دوست ادھر اُدھر ہیں ان کو برابر کرنا پھر ہمارا صلح، مشورہ ہوا ہم نے ایک تفصیلی خط لکھ کر استاد حمل کے ایک دوست جو عرف ڈاکٹر کے نام سے مشہور تھا، مکران کا دوست تھا اسکے ساتھ روانہ کیا اس دوست کو شاید یاد ہوگا۔ کاربن کے ذریعے لکھے گئے وہ خط کی کی کاپی اب بھی میرے ساتھ ہے خط میں ہم نے واضح کیا تھا کہ روایتی وجذباتی انداز میں نہیں بلکہ تمام مسائل کو سائنسی اور حقیقی بنیاد پرپرکھ کر اسکے بعد جو بھی نتیجہ ہو اس کے بنیاد پر آپ جو فیصلہ کرینگے وہ ہمیں قبول ہوگا آپ لوگوں کو اختیار ہے شروع سے مسئلے کی نوعیت کو دیکھیں قادر مری کی جانب سے بلوچ قومی مڈی کودوستوں سے روکنا اس مسئلے میں نواب صاحب کا فریق بننا اور بلا وجہ ہم دوستوں کو فریق بنانا ان سب کا جائزہ لیں اسکے بعد ہمارے حصے میں جو بھی ہوگا ہم اسے قبول کرنے کو تیار ہیں خیر دو تین دن بعد وہ دوست مشکے پہنچ گئے ڈاکٹر صاحب کا حال احوال ہوا تو انہوں نے ہنستے ہوئے کہا خط نہیں تھا پورا کوئسچن پیپر تھا۔خیر پھر کہنے لگا حیربیار کو بولو کوئی نیا نمبر ہمارے لئے روانہ کریں اس سے حال احوال کرنا ہے۔ زیادہ میں نے بھی نہیں پوچھا۔ پھر استاد اسلم نے نمبر روانہ کیا۔ تقریباً چاردن بعد استاد اسلم فون رینج سے کافی دور تھا میں کام کے سلسلے میں فون پر گیا وہاں میرا حال احوال ڈاکٹر صاحب سے ہوا وہ کافی برہمی کا اظہار کررہے تھے اور کہہ رہے تھے آپ کا دوست حیربیار ماننے کو تیار نہیں اور الٹا کہہ رہا ہے ہمارایعنی بی ایل ایف کا موقف واضح نہیں ہے۔ دوسری بات حیربیار نے کہا اگر بی این ایف میں دوست دوبارہ بی آر پی کو شامل کرینگے تو آج کے بعد بی این ایف سے میرا سپورٹ مکمل ختم ہے۔ میں نے ڈاکٹر صاحب سے پوچھا کیسا سپورٹ مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا خیر ڈاکٹر صاحب کے گلے شکوے اور پھر خدا حافظ کرنے کے بعدمیں نے اسلم کے لئے پیغام بھیجا کہ آپ کل آئیں ضروری کام ہے، تو صبح استاداسلم کیمپ آگیا میں نے ڈاکٹر صاحب کی باتیں انہیں بتادیں تو انہوں نے کہا مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ حیربیار نے کیوں ایسا کہا خیر ہم فون پرگئے اور حیربیار سے ہم نے احوال کیا تو انہوں نے کہا ڈاکٹر صاحب اور استاد قمبر نے میرے ساتھ حال احوال کیا ہے لیکن دونوں تمام تضادات کو نظر انداز کرکے روایتی انداز میں صرف اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ آپ زامران سے خوش ہوجاؤ اور قادر مری کیلئے آپ پیسہ روانہ کرو ۔حیر بیار نے کہا میں نے انہیں کہا کہ بھائی آپ اصل حقائق کو جاننے سمجھنے کے لئے تحقیق کرو مسئلہ کیا ہے کیسے شروع ہوا ۔ لیکن وہ بضد تھے آپ بلوچستان کے حالات دیکھ رہے ہو آج لوگ شہید ہورہے ہیں ، گھر تباہ ہورہے ہیں۔پھر اسلم نے بتایا ڈاکٹر صاحب کہہ رہے تھے کہ آپ نے کہا ہے کہ بی ایل ایف کا موقف واضح نہیں ہے اور بی این ایف کے حوالے سے آپ نے کہا ہے کہ اگر بی این ایف نے بی آر پی کواپنے ساتھ واپس شامل کیا تو میرا سپورٹ ختم ہوگا۔تو حیربیار نے کہا میں حیران ہوں دوست میرے باتوں کو نہیں سمجھتے ہیں یا سمجھنے کی کوشش نہیں کررہے۔ میں نے بحث مباحثہ کے دوران صرف اتنا کہا ہے کہ بی ایل ایف کی موقف جس طرح نیشنل پارٹی کے حوالے سے واضح ہے بی این پی کے حوالے سے نہیں ہے حالانکہ دونوں میں کچھ فرق نہیں ہے اور بات بی این ایف کی ہے، تو میں نے صرف اتنا کہا ہے کہ اس طرح کے اتحاد سے کیا فائدہ کہ بی این پی کی خاطر بی آر پی نے اتحاد سے علیحدگی اختیار کی ہم ایسے اتحاد کو کیسے سپورٹ کریں۔اگلے دن پھر میں نے ڈاکٹر صاحب سے حال احوال کیا میں نے ڈاکٹر صاحب کو بتایا کہ حیربیار کے بات چیت کے اصل حقائق یہ ہیں شاید آپ نے غلط سمجھا ہے انکی باتوں کو۔ پھر انہوں نے کہا شاید فون کا حال احوال ہی ایسا ہے میں سمجھ نہیں پایا پھر اگلے دن میں اور اسلم بلوچ نے استاد واحد قمبر سے حال احوال کیا تو استاد قمبر نے مجھے بتایا کہ آپ ذرا سوچیں مسائل پر غور کریں آپ سیاسی بندے ہیں ہمیں سیاسی مزدور نہیں ہونا چاہیے۔ میں نے استادقمبر کو کہا میں نہیں سمجھ رہا آپ کیا کہنا چاہتے ہو پھر انہوں نے کہا قبائلی لوگ ہمیشہ دوستی نہیں کرسکتے۔ انہوں نے ہزار خان کا مثال دیا کہ مجھے افغانستان میں مکرانی کہا ہے۔میں نے کہا استاد وہ تو مجھے پتہ ہے لیکن شاید ہزار خان اسی وقت سے دوست نہیں تھا اور آج کہاں بیٹھا ہے یہ مجھے اور آپ کو معلوم ہے اس وقت استاد واحد قمبراور ڈاکٹر اللہ نزر اس بات پر زور دے رہے تھے کہ تمام مسائل سے چشم پوشی کرکے خو ش ہوا جائے درگزر کیا جائے جب کہ ہمارا موقف یہ تھا کہ اگر آج ان مسائل پر باریک بینی سے غور نہیں کیاگیا اور ان مسائل سے درگزر کرکے ان کا سد باب نہیں کیا گیا تو مستقبل میں یہ دوبارہ سے اس سے بھی بدترین شکل میں سامنے آئیں گے اور مزید مشکلات پید اکریں گے دوستوں کے ساتھ اس مسئلے پر کافی بحث مباحثہ ہوا لیکن یہ سب نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوا۔ اسی دوران بولان کے قریب ایک تعمیراتی کمپنی پر حملہ ہوا اس حملے کے سلسلے میں یو بی اے کا نام سامنے آیا ہمیں شک گزرا کہ ہوسکتا ہے قادر مری زامران مری کے توسط سے یہ سب کچھ کررہا ہے لیکن اس وقت یقین سے کوئی بھی نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ واقعی یہی لوگ ہیں کیونکہ اکثر و بیشتر چھوٹی موٹی تنظیموں کے نام اخبارات کے حد تک سامنے آتے رہتے تھے اس دوران کچھ عرصے کے لئے میں دوستوں سے رابطہ نہیں کرسکا کیونکہ کام کے سلسلے میں ایسے علاقے میں رہا جہاں فون کی سہولت نہیں تھی کچھ عرصے بعد جب مجھے قلات کے قریب فون کی سہولت میسر ہوئی تو میں نے زاہد بلوچ سے حال احوال کیا انہوں نے مجھے بتایا کہ آپ رابطے میں نہیں تھے لہٰذا ہمارے سی سی کا اجلاس ہوا ہے ہم نے مرکزی آرگنائزنگ کمیٹی تشکیل دیا ہے ۔ میں نے زاہد کو کہاکہ بہت اچھا کیا بہتر یہی ہوگا کہ آپ اپنے کام کو دوستوں کے صلاح مشورے سے آگے بڑھاتے جائیں ۔ ہم کچھ عرصے اسپلینجی میں رہے اس دوران بہت سے دوستوں سے ملاقات ہوئی اور اسی دوران ہمیں حیربیار مری کا میسج ملا کہ آپ قریب ہیں دو چار زمہ دار دوستوں کو قادر مری کے پاس بھیج دیں قومی اور تنظیمی مڈی جو اس کے پاس ہے اسکا تو جب فیصلہ ہوگا تب دیکھیں گے لیکن قادر مری کے پاس میرے اپنے ذاتی استعمال کی کچھ سازو سامان ہیں آپ دوست ان کو میرا یہ پیغام دیں کہ وہ میرا ذاتی سامان واپس کردیں ہم نے اس پیغام کے ساتھ ماسٹر کی سربراہی میں دو اور دوستوں کو قادر مری کی طرف روانہ کیا ،دو دن بعد جب یہ دوست واپس آئے توانہوں نے قادر مری کا پیغام ہمیں سنایا کہ میں قادر مری نواب صاحب کے اجازت کے بغیر ایک تیر بھی نہیں دوں گا آپ لوگ نواب صاحب سے بات کریں دوران ملاقات جب دوستوں نے اس سے یو بی اے کے بارے میں پوچھا تو اس نے یکدم سے یہ شکایت کی کہ بی ایل اے نے یو بی اے کو سرکاری تنظیم قرار دیا ہے تو دوستوں نے ان سے کہا کہ واجہ لبریشن آرمی جیسے تنظیمیں روزانہ اخباری بیانات کے زریعے لوگوں میں الجھاو پیدا کرتے ہیں تو یوبی اے کا اچانک ظہور دوستوں کو اسی سلسلے کی کڑی لگا تو کیا قادر مری یو بی اے آپ لوگوں کی تنظیم ہے؟ تو قادر مری نے اقرار کیا کہ ہاں یہ ہماری تنظیم ہے تو دوستوں نے اس سے یہ سوال پوچھا کہ یہ تنظیم آپ نے بنائی تو قادر مری نے کہا میری اتنی اوقات کہاں کہ میں تنظیم بنا سکوں میں ایک قبائلی بندہ ہوں مجھے جو کچھ بھی نواب صاحب کہے گا میں ویسا ہی کروں گا ۔ایک دن انہی مسائل اور تضادات کے سلسلے میں ایک طویل نشست جس میں اسلم بلوچ، شاہ جان، میں، میر عبدالنبی بنگلزئی اور میر عبدالنبی بدوزئی(چھوٹامیر)موجود تھے تفصیلاً حال احوال ہوا میں نے میر عبدالنبی بنگلزئی سے ان حالات کے بارے میں ان کا موقف جاننا چاہا اور پوچھا کہ نواب صاحب سے اس بارے میں انکی کوئی ملاقات یا بات چیت ہوئی ہے ان حالات میں نواب صاحب کا موقف کیا ہے اور یہاں اسپلنجی میں یہ بات عام ہے کہ یو بی اے نامی تنظیم کے پیچھے نواب صاحب کی پشت پناہی ہے کیا یہ سچ ہے ؟اور حیربیار کے بارے میں آپ کا موقف کیا ہے؟ میر عبدالنبی بنگلزئی نے کہا کہ حیربیار کی کوششیں اور قربانی میرے سامنے ہیں لہٰذا اس وقت تک میں حیربیار کے کاموں سے مطمئن ہوں انہوں یہاں ایک غلطی کی ہے کہ چارٹر اختر مینگل کو کیوں پیش کیا ہے، باقی نواب صاحب نے میرے ساتھ ایسی باتیں نہیں کی جو میں بیان کروں۔پھر ہم نے قادر مری والے ملاقات کا ذکر بھی میر صاحب سے کیا اور ان سے پوچھا کہ آپ کس تنظیم سے تعلق رکھتے ہو ہم آپ کو کس تنظیم کا باقاعدہ سنگت سمجھیں تو انہوں نے کہا میرے لئے سب قابل احترام ہیں باقی باتوں کی میر صاحب خود وضاحت کرسکتے ہیں۔پھر ہم نے سوچا آیا UBAنواب صاحب کا فیصلہ ہے یا قادر مری کا ذاتی فیصلہ؟ پھر استاد رزاق سے حال احوال ہوا جو شروع سے ہی قادر مری کے ساتھ کام کررہے تھے لیکن یو بی اے والے مسئلے کے بعد وہ قادر مری کو چھوڑ کر شاہ جان کے ساتھ مل کر کام کررہے تھے اور اس وقت بی ایل اے کے کیمپ میں موجود تھے ہم نے ان سے قادر کو چھوڑ کر یہاں آنے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا کہ جب یہ یو بی اے والا مسئلہ شروع ہوا تو میں کراچی گیااور نواب صاحب سے پوچھاکہ کیا UBAآپ نے بنایا ہے؟نواب صاحب نے صاف صاف انکار کیا کہ مجھے UBAکے بارے میں کچھ علم نہیں ہے تواسکے بعد میں نے قادر مری کے ساتھ رہنا اور کام کرنا مناسب نہیں سمجھا۔اسی دوران ہم سے ملنے کیلئے جب استاد حمل اپنے چند دوستوں کے ساتھ آئے تو دوران ملاقات دوستوں سے پتا چلا کہ بی ایل ایف اور یو بی اے استاد حمل والے کیمپ کو مشترکہ طور پر چلا رہے ہیں قادر مری کے دوست اور استاد حمل کے دوست ایک ہی کیمپ میں ایک ساتھ کام کررہے ہیں استاد حمل کے دوستوں میں شہید حکیم جان اور انکے ایک کزن عرف قمبر میرے بہت ہی پرانے اور قابل اعتبار دوست تھے جب میں نے قمبر سے یہ پوچھا کہ یہ یو بی اے اور بی ایل ایف والا کیا چکر ہے یہ استاد حمل اور آپ دوستوں کا علاقائی فیصلہ ہے یا اس بارے میں بی ایل ایف کی قیادت اور ڈاکٹر اللہ نذر بھی علم رکھتے ہیں؟ تو قمبر نے مجھے کہاکہ یہ سب کچھ ڈاکٹر صاحب کی رضامندی سے ہوا ہے ڈاکٹر صاحب اور قادر مری کے اچھے تعلقات ہیں اورضرورت پڑنے پر ہمیں قادر مری تھوڑی بہت فوجی سازوسامان بھی مہیا کرتا ہے تومجھے اس بات پہ بہت زیادہ حیرات ہوا اور میں سوچنے لگا کہ ایک تنظیم کو بلا جواز توڑنے والوں کی اس سطح تک حوصلہ افزائی ہو تو پھر ہمارے جدوجہد کا کیا بنے گا بحیثیت فریق ہم نے تمام مسئلہ ڈاکٹر صاحب اور اسکے دوستوں کے سامنے رکھا کہ وہ مسئلے کا کوئی بہتر حل نکالیں گے لیکن ڈاکٹر صاحب اور اس کے دوستوں نے ان مسائل اور تضادات کوجس سنجیدگی سے لیا اس کا خلاصہ بی ایل ایف اور یو بی اے کے لین دین سے میرے سامنے واضح ہوچکا تھاویسے کہتے ہیں مایوسی گناہ ہے لیکن اس دن کے بعد میں بذاتخود موجودہ دوستوں کے بیچ انضمام و اتحاد نامی خواہشات سے مکمل مایوس ہوگیا، اور مجھے یقین ہوا کہ مستقبل قریب میں بلوچ قومی تحریک میں کم از کم ان موجودہ قوتوں کے بیچ کوئی بھی فطری اتحاد مشکل ہے لیکن مجھے قومی تحریک میں انقلاب جیسے عمل پر پورا یقین ہے میں اس سے ہرگز مایوس نہیں ہوں ان تمام حالات کو مدنظر کھ کر ہم تمام دوستوں نے مل کر یہ فیصلہ کیا کہ ان تمام مشکلات کے باوجود اپنے کام کو ہر حالت میں جاری رکھیں گے اور اپنے کام کے بنیادی جزویات پر پھر پور توجہ دیں گے اسپلنجی سے نکل کر ہم دوستوں کے پاس شور پارود پہنچے اوربی ایس او کے حوالے سے میرا زاہد بلوچ کے ساتھ ملاقات طے ہوا دو دن بعد ہم ایک مقام پر زاہد سے ملے زاہد جب ملنے آئے تو ڈاکٹر منان بھی انکے ساتھ موجود تھا بی ایس او کے علاوہ ان مسائل کے حوالے سے بھی کافی بحث ومباحثہ ہوا لیکن حقیقت میں مجھے ان مسائل اور تضادات کے حوالے سے کوئی حوصلہ افزاء صورتحال نظر نہیں آرہا تھا پھر میں نے ادھر اُدھر جانے کی بھی کوشش نہیں کی اس دوران صرف ڈاکٹر صاحب والوں سے فون پر حال احوال ہوتا رہتا تھا شکوے شکایتیں اور کچھ نہیں یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہا ۔اسی دوران مجھے معلوم ہواکہ بی ایس او کا کونسل سیشن مشکے میں شروع ہونے والا ہے کونسل سیشن کے شروع ہونے سے صرف دو دن قبل میرا زاہد بلوچ سے فون پر حال احوال ہوا جب میں نے کونسل سیشن کا پوچھا تو زاہد بلوچ نے کہا کہ ہاں دو دن بعد شروع ہوگا آپ آجائیں تو میں نے کہاکہ ہمارے طرف حالات ٹھیک نہیں ہیں میں نہیں آسکتا اس وقت ہمارے طرف پورے علاقے کو سیل کیا گیا تھا اور تمام راستوں کی ناکہ بندی کی گئی تھی اور راستوں پر خصوصی نگرانی بھی کی جارہی تھی تو شایدمیرے لئے دو دن کے مختصر مدت پر کونسل سیشن میں شرکت کرنا بہت ہی مشکل تھا لہذا دوستوں کی طرف سے مختصر مدت اور حالات کی خرابی کی وجہ سے میں کونسل سیشن میں شرکت نہیں کرسکااسی دوران مختلف ذرائع سے ایسے اطلاعات بھی موصول ہورہے تھے کہ بی ایس او کے چند ذمہ دار دوست کھلے عام صرف ایک تنظیم بی ایل ایف کی شب روز حمایت اور پرچار کررہے ہیں اور دوسری طرف یہ کہہ رہے ہیں کہ اتحاد اور ٹوٹ پھوٹ کی وجہ حیربیار اور بی ایل اے ہیں۔کچھ دنوں بعد جب زاہد بلوچ سے میرا ملنا ہوا اور اس سے اس بارے میں پوچھا اور اصل تمام حقائق جتنے بھی مجھے معلوم تھے اس کے سامنے رکھے اور ماضی قریب کے بی ایس او کے کردار کے بارے میں اس کو یاد دلایا کہ بی ایس او کے لئے تمام آزادی پسند قوتیں قابل قدر ہیں اور بی ایس او تمام حقیقی آزادی پسند قوتوں کی سیاسی اور اخلاقی حمایت کرتی ہے اور ان قوتوں سے حمایت حاصل کرتی ہے جو میں سن رہا ہوں اگر آپ لوگ حقیقت میں اس ڈگر پر چل رہے ہیں تو یہ بی ایس او کے لئے کسی صورت بھی نیک شگون نہیں ہوگا جتنی بھی میری سمجھ تھی میں نے زاہد کو سمجھانے کی کوشش کی اور اس سے سمجھنے کی بھی کوشش کی گوکہ زاہد بلوچ باقاعدہ بی ایل ایف کا رکن نہیں تھاوہ بحیثیت بی ایس او کے چیرمین کام کررہے تھے لیکن اس کے باوجود وہ اسی ڈگر پر چلتا رہا چند دنوں بعد شہید رضا جہانگیر نے پیغام بھیجا کہ آپ سے ملنا ہے میں نے کہا ٹھیک ہے وہ ملنے آئے جب ملاقات ہوئی تو ان کے پاس کچھ خاص نہیں تھا انہی مسائل اور تضادات پر بات چیت ہوا میں نے اپنی تمام معلومات کا کچا چٹہ اسکے سامنے رکھ دیا، میں بحیثیت سابقہ چیرمین اور ایک نظریاتی دوست کے انکو بی ایس او کے کردار کے حوالے سے اپنے معلومات دینا مناسب سمجھ رہا تھا اور انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ پچھلے چھ سات سالوں کی دوستوں کی جدوجہد کے تسلسل کو آپ دوستوں کو کس طرح برقرار رکھنا ہے تاکہ بی ایس او کا حالیہ کردار بی ایس او کے ماضی کے کردار سے بالکل ہی مختلف نظر آئے اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں لیکن ان دوستوں(زاہد بلوچ، شہید رضا جہانگیر) سے ملاقات کے کچھ عرصے بعد میرے علم میں یہ بات آئی کہ یہ بات زور و شور سے کئی حلقوں میں گردش کررہا ہے کہ میں نے زاہد اور رضاجہانگیر کولالچ اور مرعات کے ذریعے بی ایل اے کی حمایت کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی ہے مجھے یہ سن کر کافی حیرت ہوااور میں سوچنے لگا کہ کیا واقعی بی ایل اے کو کسی بھی سطح پر بی ایس او کی حمایت کی ضرورت ہے ؟جس کے لئے بی ایس او کے دوستوں کو مرعات اور لالچ دی جائے اس کے بعد بی ایس او کے دوستوں سے ملنا میرے لئے توبہ کا مقام ٹھہرا میں نے کان پکڑ کر بی ایس او کے کسی بھی عہدے دار سے ملنا بند کردیا تھوڑے بہت جو رابطے تھے وہ بھی میں نے منقطع کردیے کیونکہ اگر ایسے بچگانہ حرکات اور منفی عزائم ہوتے جسطرح یہ دوست بیان کررہے تھے توماضی میں بحیثیت چیرمین میں یہ سب کچھ آسانی سے کرسکتا تھا میں اس وقت بغیر کسی مرعات اور لالچ کے بی ایس او کے کارکنوں کو صرف اورصرف بی ایل اے کی حمایت اور باقی مسلح تنظیموں سے دور رہنے کی ہدایت کرتا کوئی ایک کارکن بھی اگر کسی ایسے بے ہودہ یا بچگانہ حرکت کی گواہی دے تو میں دوستوں کی عدالت میں پیش ہونے کے لئے تیار ہوں ماضی تو دور کی بات انہی تضادات اور کشیدگیوں کے بیچ تقریباً ڈھائی سال سے ڈاکٹر صاحب کے چند دوست بابو نوروز وغیرہ ہمارے ساتھ رہے علاقائی مجبوریوں کی وجہ سے ہم نے تقریباً ڈھائی سال سے زیادہ کے عرصے تک ان کے ساتھ مل کر کام کیا اور وہ شب و راز ہمارے ساتھ رہے مسائل اور تضادات پہ بحث مباحثہ اور اپنی رائے انکے سامنے رکھنے کے علاوہ یہ دوست کبھی بھی یہ ثابت نہیں کرسکیں گے کہ انکو کسی لالچ یا مرعات کے ذریعے ڈاکٹر صاحب کی حمایت نا کرنے اور بی ایل اے کی حمایت کرنے پر مجبور کیا گیا ہو ، اب اگر کوئی حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرے تو یہ بات صاف ہوجاتی ہے کہ بی ایل اے کے دوستوں کی سوچ اور طریقہ کار کبھی بھی منفی رہا ہے اور نا ہی انہوں نے کبھی منفی عزائم رکھے ہیں ۔ اسی دوران بی ایس او کا ایک مصالحتی وفدہمارے ہاں تشریف لایا اور ایک ڈرافٹ پیش کیاجس میں BLA, BLF, BRA, UBAکے نام درج تھے۔ میں نے سوال اٹھایا کہ لشکر بلوچستان BNLF, LB بھی مسلح تنظیم ہونے کا دعوی کرتے ہیں اور آزادی پسند ہیں تواس ڈرافٹ میں انکے نام کیوں شامل نہیں کیے گئے ہیں ۔ تودوستوں نے جواب دیا کہ لشکر بلوچستان LB کا موقف واضح نہیں وہ بی این پی مینگل کا پریشر گروپ ہے اور BNLFنے BLFکوتوڑا ہے۔ میں نے کہا پھر UBAنے کس کو توڑاہے؟جب اس بات پر میں نے ان سے دلیل چاہا توانہوں نے کہا نواب صاحب نے UBAکو بنایا ہے وہ ہمارے لئے قابل احترام ہے میں نے کہا ٹھیک ہے مجھے آج بھی بی ایس او کے دوستوں پر مکمل اعتماد ہے آپ لوگ جائیں، نواب صاحب سے پوچھیں کہ بی ایل اے اور حیربیار اور دیگر دوستوں سے ایسا کیا جرم سرزد ہواکہ آپ کو یو بی اے بنانے کے ضرورت پیش آئی( بقول آپ کے اگر واقعی نواب صاحب نے یو بی اے بنایا ہے اور یوبی اے کی ذمہ داری اٹھانے کو تیار ہیں)اور جب تک آپ دوست اس بارے میں نواب صاحب کا جواب نہیں لاتے میں اس وقت تک آپ دوستوں کا انتظار کروں گااگر نواب صاحب نے بی ایل اے کے کسی بھی جرم کو بطورمضبوط اور حقیقی جواز پیش کیا اور اسی جواز کے بنیاد پر UBAکی تشکیل کو تسلیم کیااوریو بی اے کی ذمہ داری قبول کی تو آپ آئیں مجھے بتائیں میں یو بی اے اور نواب صاحب کا حمایتی بن جاوں گا اور آپ گواہ بن جائیں اگر اسکے بعد ہم نے حیربیار مری کی حمایت کی یا بی ایل اے کے حمایت کی تو ہم بھی ایسے ہی مجرم شمار ہوں گے جو جرم بی ایل اے اور حیربیار مری پر ثابت ہوگا ورنہ تو آج بلوچ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد قومی سوچ کی وجہ سے میرے ساتھ بھی ہیں اور دوستوں کی محنت قربانی اور جدوجہد کی بدولت ہم فوجی سازوسامان سے لیس بھی ہیں بلوچ قوم کے ایک حلقے میں شہید دوستوں کی قربانیوں کی وجہ سے ہم بااعتبار بھی ہیں اور جدوجہد بھی کررہے ہیں موجودہ سیاسی ماحول میں روایت پسندی کے مطابق بی ایل اے کی ادارے کے تحت نا تو ہمارے لئے گوریلا کمانڈر کے القاب ہیں اور نا ہی قومی ہیرو ، قومی لیڈر،وژنری لیڈر کی ثناہ خوانی ہے اور نا ہی کوئی مخصوص شناخت و حیثیت مقرر ہے تو کیا میں خودغرضی جیسے مست جانور پر سوار ہوکر خدانخواستہ کسی بھی معمولی کمزوری کو جواز بنا کر اپنا ایک علیحدہ گروپ بناکرالگ سے ایک تنظیمی شو شہ کروں تو کیا بی ایس او اور آپ مجھے بھی تسلیم کریں گے ؟ میں بھی ایک لیڈر بن کر ایک تنظیم کا مالک بن جاوں گا اور اگر ایسا ہوگا تو کیا یہ قومی تحریک کی ضرورت ہوگی یا بلوچ قوم اور موجودہ حالات کی ضرورت ہوگی یا ایک عسکری و انقلابی ضرورت ہوگی اسکی وضاحت کون کرے گااس مجلس کے دوسرے شرکاء گواہ ہیں کہ بی ایس او کے وفد کی طرف سے مجھے کوئی بھی اطمنان بخش جواب نہیں ملامیں نے انہیں یہ بھی کہا کہ ایک مرتبہ کسی دوست نے انہی حالات اور بدقسمتیوں کے تناظر میں حیربیار مری کے سامنے یہ سوال رکھا کہ آپ اب بھی بلوچ نوجوانوں پر بہت زیادہ بھروسہ کرتے ہیں اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود بہت سے دوستوں پر اندھا اعتماد کرکے ماضی کی طرح انکو بھی ہر طرح کی طاقت فراہم کرنے میں پوری طرح سیاسی اور انکی اخلاقی مدد میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتے ہیں اگر خدانخواستہ یہ بھی ماضی کے تجربے جیسا ثابت ہواور یہ دوست بھی الگ تنظیم اور الگ شناخت کے چکر میں پڑ جائیں اور اپنے حقیقی مقصد کو بھول جائیں اور ساتھ ہی ساتھ آپ کی مخالفت شروع کردیں تو آپ کیا کریں گے تو حیربیار مری نے کہا کہ میں اپنے قومی فرض اور ضمیر کے مطابق کسی تیسرے بلوچ کو بھی اسی طرح دشمن کے خلاف اور اپنے قومی مقصد کے حق میں اپنی بساط کے مطابق قوت مہیا کروں گا وہ جو بھی کریں گے وہ انکے ضمیر اور سوچ کے مطابق انکا فیصلہ ہوگا اور یہ تو تاریخ یاد رکھے گی فلحال تو حالات ایسے ہی ہیں ۔اس ملاقات کے بعد نا تو بی ایس او کا وفدواپس آیااور نا ہی انکی طرف سے کوئی جوا ب آیاویسے تو ہمارے ہم خیال دوست سوشل میڈیا کے ذریعے اور دیگر مختلف زرائع سے سیاسی دوستوں اور بلوچ عوام کے سامنے ان تضادات کی نوعیت اور حقیقت کو بہتر طور پر واضح کرتے جارہے ہیں لیکن بدقسمتی سے غیر سیاسی رویے اخلاق سے عاری حرکات اور منفی عزائم نے ان تضادات کی نوعیت اور حقیقت کو سمجھنے میں کافی پیچیدگیاں پیدا کردی ہیں جھوٹ اور بے بنیاد باتیں اتنی زیادہ ہو گئی ہیں کہ ہمارے دوست اور عوام الجھن کا شکار ہوگئے ہیں میرے اس بے ربط تحریر کا مقصد صرف اور صرف اس الجھن کو کم کرنا ہے زندگی اور موت کا بھروسہ نہیں آج ہم زندہ ہیں کچھ بدبخت لوگ ہمارے اعمال اور کردار کا ازخود تعین کرکے اسکی وضاحت کرتے پھررہے ہیں کل کو موت اپنی آغوش میں لے لے تو یہ کیا کریں گے اس کا اندازہ شاید ہمیں ہورہا ہے اسلئے یہ حقائق دوستوں کے سامنے لانا ضروری سمجھا اکثر دوست ہمدرد اس خواہش کا اظہا رکرتے ہیں کہ آپ اختلافات کو کم کرنے میں کردار ادا کریں دراصل حقیقت یہ ہے کہ میں پچھلے تمام عرصے میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ہمارے ہاں اعتماد کا فقدان ہے اور بدقسمتی سے سیاسی رویے نا پید ہیں اناپرستی اور ہٹ دھرمی کا دور دورہ ہے، مجھے تو ایسا لگ رہا ہے کہ اگر کوئی کہے کہ کوا کالا ہے تو دوسرا اسے سفید کہنے میں زرا برابر بھی عار محسوس نہیں کرے گا آپ کسی سے بات کریں اس سے بحث کریں ان مسائل اور تضادا ت کو زیر غور لائیں تو وہ اپنے سوچ کے مطابق اس سے کوئی مطلب نکال کر ڈھنڈورا پیٹنا شروع کردے گا نا کوئی وضاحت مانگے گا اور نا ہی کوئی سوال کرے گا ان حالات میں کیا کیا جائے آپ بہتری کی کوشش کرتے ہیں اس بہتری کو کوئی اپنا سا رنگ دے کر اس سے اپنے عزائم پورا کرتا ہے ۔ کبھی کبھار رسماً ڈاکٹراللہ نزرسے فون پر حال احوال ہوتاہے تو میں ان سے کہتا ہوں کہ ساس اور بہو کی طرح گلے شکوے اور تو تو میں میں سے کچھ نہیں ہوگا آپ ایک ذمہ دارانہ کردار ادا کریں کھل کر آگے آئیں اور موثر طریقے سے ان مسائل کا حل نکالیں میں تو ایک عام سپاہی ہوں میں کچھ نہیں کرسکتا ڈاکٹر صاحب ان باتوں کا گواہ ہے پچھلے کچھ عرصے سے غیر سیاسی اور غیر اخلاقی رویوں کی حوصلہ افزئی کی وجہ سے دن بدن نفرت بڑھ رہی ہے جو کسی صورت بھی قومی تحریک کے لئے نیک شگون نہیں اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ غیر سیاسی اور غیر اخلاقی رویوں کی حوصلہ افزائی سے وہ زبان بندی کریں گے تو مجھے لگتا ہے کہ یہ انکی بھول ہے یہ مزید خرابیوں کا سبب بنیں گے میرا ذاتی رائے ہے کوئی بھی اختلاف رکھ سکتا ہے اختلافی نقطہ نظر اور اختلافی رائے کسی بھی نوعیت کے ہوسکتے ہیں اور انکا سطح بھی مختلف ہوسکتا ہے تلخی بھی ممکن ہے لیکن اسکا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ اسکو دشمنی تصور کیا جائے اور اسکے ردعمل میں غیر سیاسی اور غیر اخلاقی رویوں اور رجحانات کی حوصلہ افزئی کی جائے میں بذات خود کسی بھی طرح کے تنقیدی اور اختلافی رائے کی قدر کرتا ہوں بشرطیکہ اسکی بنیاد حقیقی طور پرسیاسی ہو اور سیاسی پہلو سے کی جائے دیگر علاقوں سے آزادی پسند دوستوں کے کام طریقہ کار اور حکمت عملی میں جو خامیاں، کمزوریاں اور تضادات سامنے آچکے ہیں ان سے کوئی بھلے انکار کرے مگر وہ آج حقیقت بن کر ہمارے سامنے ہیں، اگر میں مجموعی صورتحال کو سنی ان سنی کردوں اور اس سے اتفاق بھی نا کروں تو میرے آس پاس جو کچھ ہورہا ہے اس سے میں کیسے نظریں چرا سکتا ہوں جس علاقے میں ،میں ہوں وہاں سب تنظیموں کے کیمپ موجودتھے لیکن چند ماہ پہلے UBAکا کیمپ بھی وجود میں آگیا اب یو بی اے کے کیمپ کے بننے کے پیچھے جو کہانی ہے وہ عجیب و غریب ہے اسلئے یہاں پیش کررہا ہوں تاکہ قوم دوست سنجیدہ قوتیں اس پر غور کریں کہ اگر یہ سلسلہ ایسے ہی چلا تو قومی تحریک کا انجام کیا ہوگا اور ہمارے اس چیخ و پکار کی وجہ کو بھی سمجھیں کہ کیا جائز ہے یا کیا ناجائز ہے، ڈاڈا نامی ایک شخص جسکا تعلق بی ایل اے سے تھا جو تقریباً تین سال قبل کسی وجہ سے کام چھوڑ کر گھر بیٹھ چکا تھا اور بی ایل اے کے ذمہ دار دوستوں کے سامنے ایسے مطالبے رکھ چکا تھا جو کسی صورت قابل قبول نہیں تھے لہذادو سال بعد اسکے کسی ذاتی دوست نے اسکو کیمپ میں بلایا اور تنظیم کے ذمہ دار ساتھیوں کے علم میں لائے بغیر اس بندے سے کام لینا شروع کیا اور اسے یہ تسلی دی کہ آپ کے پرانے مطالبات مانے جائیں گے دو ماہ بعد یہ دونوں آپس میں کسی بات ہر الجھ گئے اور جب یہ بات تنظیم کے ذمہ داران تک پہنچی تو انہوں نے پوچھا یہ بندہ کیسے کیمپ میں پہنچا یہ تو کام چھوڑ کر جاچکا تھا لہذا کوئی بھی فیصلہ ہونے تک یہ شخص پابند ہے کیمپ میں ہی رہے گا یہاں وہاں نہیں جائے گا جب تک ذمہ دا ر دوست آکر اس مسئلے کی چھان بین نا کریں اسکے باوجود اس شخص نے اپنے دو تین قریبی رشتہ داروں کو بغیر اجازت کیمپ بلالیا اور ایک رات خاموشی سے کیمپ سے فرار ہوا اور جاتے ہوئے کیمپ سے بندوق اور دو موٹر سائیکلیں بھی لے گیا اور کچھ دنوں بعد پتا چلا کہ اس نے یو بی اے کے نا م سے کیمپ کھولا لیا ہے اور یو بی اے کا کمانڈر ہے تو ایک تنظیم کا مجرم اور چور دوسرے تنظیم کا کمانڈر بن گیا اب یہی کمانڈر صاحب لوگوں کو دھمکیاں دیتا ہے ایک علاقے میں ایک ہمدرد بلوچ کے گھر جاکر عورتوں بچوں کے سامنے اسکو گالیاں دے کر اسکا بندوق چھینتا ہے اور آتے جاتے ہوئے جب دوستوں سے آمنا سامنا ہوتا ہے تو مورچہ بند ہوتا ہے کہ جیسے دشمن سے سامنا ہوتے وقت کیا جاتا ہے تو میرے سامنے یہ سوال کھڑا ہے کہ ہمارے تنظیم کے چور کو کیا کیا جائے جو دوسرے تنظیم کا کمانڈر بن چکا ہے؟ برداشت ،اخلاقیات ، سیاسیات اور انقلاب میں اس کی کیا حد بندی ہے ؟ ہمیں ایسے حالت میں کیا کرنا چائیے فلحال تو ہم برداشت پہ گزارا کررہے ہیں اسی دوران بی آر اے کے دوستوں کا اس یو بی اے کے کمانڈر سے کچھ مسئلہ ہوا یو بی اے کے کمانڈر نے بی آر اے کے چند دوستوں کو بہلا پھسلا کر اپنے ساتھ شامل کرلیا تو بی آر اے والوں نے قادر مری سے اس کی شکایت کی اور علاقائی ہمدرد سے بندوق چھیننے اور اسکی بے عزتی کرنے کا واقعہ بھی قادر مری کے سامنے رکھدیا، بقول بی آر اے کے ذمہ دار ساتھی کہ قادر مری نے کہا ہے کہ اگر اس نے بی آر اے والوں کے ساتھ ایسا کیاہے تو بہت غلط کیا ہے میں اس سے بات کروں گا اور اگر یہ بی ایل اے والوں کے ساتھ ہوا ہے تو بہت اچھا ہوا ہے تم بی ایل اے والوں کا سفارش مت کرو ان کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہئے ۔ایسے منفی عزائم اور غیر سیاسی اور غیر انقلابی اور غیر اخلاقی رویوں اور رجحانات کی حوصلہ افزائی قومی تحریک کو کس ڈگر پر لے جائے گی اسکے بارے میں سوچنا ہر قوم دوست بلوچ کا فرض ہے آج ہمیں ایسے مشکلات درپیش ہیں ان مسائل کے بیچوں بیچ اگر کوئی شخص اتحاد اتفاق اور انضمام کی باتیں کرتا پھرے اور ان تمام مسائل کو نظر انداز کریں تو میرے خیال سے یہ بالکل بھی سطحی سوچ کا عکاس ہوگا حقیقت میں ان مسائل سے نمٹنے کے لئے ہمیں کوئی نا کوئی فیصلہ تو لینا ہوگا لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ایک مرتبہ یہ تمام مسائل بلوچ عوام کے سامنے بھی آجائے تاکہ آنے والے کل میں چور مچائے شور والا قصہ نا ہو شروع دن سے ایمان کی حد تک ہمارا سوچ صر ف اور صرف دشمن سے آزادی تھا اورہے ہمارے جدوجہد کا محور اور مقصد بھی یہی تھا لیکن بدقسمتی سے آج اسی جدوجہد کے بطن سے ایسے مسائل نے ہمیں گھر لیا ہے ۔ہم اور ہمارے دوست کبھی بھی اتفاق اور اتحاد کے خلاف رہے اور نا کبھی ہوں گے لیکن اتنے سارے بنیادی مسائل اور خامیوں کے عمارت پر کوئی اتحاد اور اتفاق کا سطحی جذباتی اور خوشنما رنگ کیسے چڑھائے گا بلوچ سیاسی تاریخ آپ لوگوں کے سامنے ہے بی ایس او کے درجن بھر اتحاد و انضمام سیاسی پارٹیوں کے درجنوں اتحادیں اور انکا انجام آج یہ ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم حقیقت پسندی کا مظاہرہ کریں حقیقت کو تسلیم کرنے میں ہمیں کوئی شرمندگی نہیں ہونا چا ہیئے میں ذاتی حوالے سے چند بنیادی نکات پر ایک خیال پیش کروں گا دوست اس پر سوچ بچار کریں ہوسکتا ہے یہ ترمیم اور ردبدل کے ساتھ ایک قابل قبول ڈرافٹ بن سکے جو ہمارے طریقہ کار کی بہتری کیلئے کام آسکے جس کے ذریعے ہم اپنے قومی تحریک کو مظبوط اور موثر بنا سکیں:
(1)سب سے پہلے بی ایل اے کے دوست تحریری شکل میں بی ایل اے کی تشکیل اور جدوجہد کی جواز کی وضاحت کریں اور اتنے سارے آزادی پسند عسکری گروپوں کے بیچ بطور عسکری پسند تنظیم اپنے جداگانہ جدوجہد کا اخلاقی سیاسی جواز پیش کریں اور اس کے بعد تمام مسلح تنظمیں بی ایل اے کی موجودگی میں اپنے تشکیل اور جدوجہد کے لئے بنیادی جواز کی وضاحت کریں اور ساتھ ہی ساتھ اس ضابطہ اخلاق کی نشاندہی کریں جس سے انکے بیچ فکری ہم آہنگی کی نشاندہی ہوسکے یہ سب کچھ ثبوت دلیل کے ساتھ ہو ۔
(2)علمی بحث مباحثہ ، تنقید،تنقیدی رائے،مکالمہ بازی،سیاست کے ناقابل تردید جزویات ہیں اور انہی جزویات کے بل بوتے پر صحت مندانہ رجحانات کی پرورش ممکن ہوتی ہے اس سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا یہ سیاست میں طریقہ کار کے حوالے سے علاج کی حیثیت رکھتے ہیں انکی حقیقت کو تسلیم کرکے انکے لئے عوامی سطح پر اخلاقی حد بندی کرنا چاہیے اور یہ فیصلہ تمام آزادی پسند قوتوں کا متفقہ فیصلہ ہونا چاےئیے کیونکہ سوشل میڈیا پر ہونے والے حرکات نے ہمارے سیاسی اخلاقیات کی حقیقت طشت از بام کردی ہے ۔
ایک چھوٹی سی مثال دوں گا کہ ڈاکٹر صاحب، براہمداغ خان، بالاچ خان کی افغانستان میں موجودگی کے بارے میں ہمیں تو معلوم تھا لیکن اس دوران ثابت کریں یا ثبوت دیں کہ ایک مقام پر بھی ہمارے منہ سے ایسی بات نکلی ہو کہ اس سے ظاھر ہوجائے کہ وہ کہاں ہیں، حالانکہ اس وقت براہمداغ اور بالاچ کے حوالے سے ہم سے بی ایس اوکے سرکلوں میں سوال جواب ہورہے تھے کہ واقعی وہ پہاڑوں میں لڑرہے ہیں یا ہم ویسے ان کی تعریف کررہے ہیں۔ میراجواب ہمیشہ یہی تھا کہ واقعی یہ دوست بلوچستان کے پہاڑوں میں میں موجود ہیں میرا نیت بت تراشی نہیں تھا بلکہ سیکورٹی خدشات کے مجبوری کے تحت دروغ گوئی سے کام لیا جاتا، تاکہ وہاں ان کی زندگی کو خطرہ اور افغانستان پر کوئی دباؤ نہ پڑے کہ معاملات خراب ہونگے لیکن آج کیا ہورہا ہے فلانی کہاں ہے کس شہر میں کس مکان میں موجود ہے کس پہاڑ کس کیمپ میں موجود ہے سب ظاھر کیا جارہا ہے ،یہ گالی گلوچ ، الزامات ، بہتان بازی کس سیاسی اخلاقیات میں شمار ہوتے ہیں اور ان سے کس طرح مسائل حل ہونگے ؟ مجھے لگتا ہے کہ یہ نفرت میں اضافے کا باعث بن کر کسی دن آتش فشاں کی طرح ایک ہی دھماکے سے لاوا اگلے گی جس کا کام صرف اور صرف جلا کر راکھ کرنا ہوگا ۔
(3) مستقبل میں کسی بھی مذاکراتی عمل میں بلوچوں کی بااعتبار حلقوں میں سے کچھ قابل قبول شخصیات کی شرکت کو یقینی بنایا جائے شہداء کے ورثاء میں بھی ایسے با اعتبار شخصیات موجود ہیں جو تمام آزادی پسند قوتوں کے لئے قابل قبول ہو کوئی بھی اتحاد اور مذاکراتی عمل ایسے شخصیات کی نگرانی کے بغیر نا ہو کیونکہ ہمارے آج تک کے اعمال نے بد اعتمادی کی ایسی گہری کھائی بنالی ہے کہ جسے بھرنے میں بہت زیادہ وقت لگے گا اور اس بیچ مزید بد اعتمادیاں سامنے نا آئیں اگر آئیں بھی تو انکے ذمہ داران کا تعین آسان ہو اس لئے یہ بہت ضروری ہے، یہاں میں ایک چھوٹے سے واقعے کا ذکر کرنا چاہوں گا، اس وقت کی بات ہے جب بی ایس او آزاد کا سربراہ ڈاکٹر اللہ نظر بلوچ تھا ایک صبح میں بلوچستان یونیورسٹی گیا تو بی ایس او آزاد کے سرکل پر ایک 45یا 50سالہ بلوچ مہمان بیٹھا ہوا تھا پھر حال احوال میں انہوں نے اپنا تعرف کرتے ہوئے کہا کہ مکران کا بندہ ہوں، بدقسمتی سے میں ان کا نام بھول گیا ہوں،انہوں نے کہا میں 82یا 86کے دور میں بی ایس او کا سرگرم کارکن رہا ہوں تو انہوں نے کہا کہ اس وقت ہمارے آپسی سیاسی اختلافات اس نتیجے پر پہنچ گئے کہ میں بی ایس او کے ایک دھڑے کا رکن تھا میرا بھائی دوسرے دھڑے کا رکن تھا ہم اپنے گھروں میں تقسیم ہوچکے تھے روزانہ گھروں کے حد تک ہمارے بحث و مباحثے ہوا کرتے تھے جذباتی ہوکر لڑنا جھگڑنا روز کا معمول ہوچکا تھا ایک دن گھر میں میں اور میرا بھائی بحث مباحثہ کے دوران جذباتی ہوگئے اور نوبت جھگڑے تک پہنچ گئی میں نے پستول نکال کر بھائی کو مارنے کی کوشش کی توماں درمیان میں آگئی اور رونے پیٹنے لگی تو پڑوسی بھی آگئے بیچ بچاو ہوگیا اور ہم ایک برے حادثے سے بچ گئے اگر اس دن میں اپنے بھائی کو مار دیتا اسکے بعد جو سیاسی حالات بنے اس میں میرا ضمیر مجھے کیا کہتا آپ اس پر ضرور سوچیں اور میں آپ دوستوں سے گزارش کرتا ہوں کہ خداراسیاست میں کبھی بھی فضول جذبات کو حاوی ہونے نہیں دینا آپ لوگ اس طرز کی جدوجہد یا سیاست نہ کریں۔

سب آزادی پسند دوستوں سے دل کی گہرائیوں سے عرض ہے کہ وہ کھلے ذہن کھلے سوچ سے اپنا ہر قدم رکھیں کیونکہ آج قومی تحریک ہم سے تقاضہ کررہا ہے کہ ہم شخصیت پرستی ،قبائلیت، علاقائیت پرستی، پارٹی بازی اور ذاتی دوستی اور تعلقات کے حصار سے باہر نکل آئیں اور سنجیدگی سے قومی اور اجتماعی مفادات کے لئے کام کریں۔
سچائی کی روشنی تب دب جائیگی جب دنیا کے تمام علمی خزانے، لائبریریاں، کتابیں جل کر تباہ و برباد ہوجائیں،سچائی کی روشنی تب دب جائیگی جب دنیا کے تمام کاغذ کے صفحے جلا دیئے جائیں ، قلم کی سیائی خشک ہوجائے ،سچائی کی روشنی تب دب جائیگی جب مظلوم کی بندوق کی نلی سے ظالم کے خلاف گولی نہ نکلے ،سچائی کی روشنی تب دب جائیگی جب دنیا کے تمام بے غرض انسان موت کے منہ ایک ہی دن چلے جائیں ،سچائی کی روشنی تب دب جائیگی جب شہداء کے لہو ب کا بہنا ندی خشک ہوجائے، وگرنہ منفی کردار اور دروغ گوئی کا چٹان جتنا بھی بلند ہو سچائی کے سامنے ریت کی دیوار ہی ثابت ہونگے۔
نہ میں سچائی کو بیان کرنے والا سقراط ہوں کہ زہر کاپیالہ پی سکوں سچائی کی خاطر
اور نہ میں شہید درویش ہوں کہ بہادری کی علامت بن جاؤں
نہ دنیا کے ان نامی گرامی جنگجوؤں کی طرح ہوں
صرف بلوچ ہوں ایک بلوچ قومی سپاہی کی حیثیت سے جینا چاہتا ہوں، ایک سپاہی کی حیثیت سے لڑنا چاہتا ہوں، ایک سپاہی کی حیثیت سے وطن پرمر مٹنا چاہتا ہوں۔
باقی مجھ سے کوئی زیادہ توقع رکھے تو یہ ان کی بے قوفی اوراندھا دھند اعتماد کے سوا کچھ نہیں ایسے ذہن پر ماتم کرنے کے سوائے میرے پاس کچھ نہیں ہے۔
*********ایسر مس ***********

image_pdfimage_print

[whatsapp] آرٹیکلز. RSS 2.0