آزادی کی وکالت شہداء نے اپنی جان کی قیمت پر ادا کی:بی ایس ایف

پیر 13 نومبر, 2017

کوئٹہ (ہمگام نیوز)بلوچ وطن موومنٹ بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ پر مشتمل اتحاد بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے قومی دن 13 نومبر یوم شہداء بلوچ کے مناسبت اپنے جاری کئے گئے بیان میں کہا ہے کہ شہدائے بلوچستان کے موقع پربلوچ آزادی خواہ عوام نے یکسوئی اور یکجہتی کے ساتھ بلوچ وطن سمیت بیرون وطن آزادی کے لئے جدوجہد کرنے والے قومی ہیروز شہداء کو زبردست الفاظ مین خراج تحسین پیش کی یہ ایک قوی عزم کو دہرانے کی روایت ہے کہ آزادی کی جدوجہد آزادی کے حصول تک بغیر کسی وقفہ کے جاری رہیگا جبکہ شہداء کے ادھورے خواب کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے بلوچ قوم ہرطرح کی قربانی دینے کا حوصلہ رکھتا ہے ترجمان نے کہاکہ دنیا میں جتنے بھی آزادی کی تحریکیں چلی ہیں وہ قربانیوں کے شاہراہ پر چلتے ہوئے اپنی منزل حاصل کی ہے جن قوموں نے اپنی آزادی، بقاء اور شناخت کے لئے جدوجہد نہ کرتے ہوئے غلامی قبول کی ان قوموں کا تاریخ میں کوئی نام نشان نہیں رہا جیسے کہ ریڈ انڈین اور مغل قوم جن کا کوئی نام نشان نہیں اور آج ان کے اپنی کوئی الگ شناخت باقی نہ رہا وہ مختلف قوموں میں ضم ہوکر اپنی وجود کھو بیٹھے ترجمان نے کہاکہ 13 نومبر1839ہماری تاریخ کا ایک روشن اور سنہرا باب ہے جو بلوچ جدوجہد کی بنیاد ہے موجودہ بلوچ آزادی کی تحریک13 نومبر کی شہداء کے تحریک کا تسلسل ہے جب 1839کو انگریز سامراج نے توسیع پسندی اور قبضہ کی نیت سے بلوچ وطن پر حملہ کرکے بلوچستان کو اپنے دست نگر رکھنے کی کوشش کی تو اس وقت کے بلوچ فرمان روا شہید میر محراب خان نے بلوچستان کی آزادی اور خود مختاری پر ہر قسم کے سمجھوتہ سے انکار کرتے ہوئے انگریز سامراج کے خلاف محاز آزادی کو ترجیح دیتے ہوئے جنگ لڑی اگر چہ ان کے پاس افرادی قوت کی کمی تھی انگریز ایک بڑے لاؤ لشکر کے ساتھ حملہ آور تھے لیکن انہون نے وسائل اور افرادی قوت کے کمی کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے انگریزی قبضہ کے خلاف میدان میں کود پڑے اوربہادری اور سرفروشی کے ساتھ اپنے ساتھیوں سمیت جام شہادت نوش کی محراب خان اور ان کے ساتھیوں کی یہ کوشش آنے والے بلوچ نسلوں کے لئے مشعل راہ بن کر تاریخ مین ایک نمایاں اور معتبر مقام حاصل کی شہید محراب خان اور ان کے ساتھیوں کا یہ تاریخی عمل بلوچ قوم کو آزادی کی جدوجہدلئے ہمیشہ بے قرار کرتا رہا اور محراب خان سے شروع ہونے والے یہ جدوجہد آج 178سالوں میں داخل ہوچکی ہے بلوچ شہداء نے قربانیوں اور شہادت کے روایت قائم رکھتے ہوئے جہدآزادی کے تسلسل کو ہمیشہ سے برقرار رکھتے آرہے ہیں بلوچ شہداء نے اپنی قربانیوں سے بلوچ جدوجہد کومزید منظم اور مضبوط کی ہے شہداء نے غیر معمولی قربانیوں سے فلسفہ آزادی کو مزید نکھار کرہماری رہنمائی کرکے واضح کیا ہے آزادی کی جدوجہد آرام دہ راستوں پر چل کر حاصل کی نہیں جاسکتی بلکہ یہ صبرآزما اور پرخار راستہ ہے اس کاشعور کسی کالج یا یونیورسٹی سے حاصل نہیں کیا جاسکتابلکہ آزادی کے لئے قربانی کا بحر بیکران درکار ہوتا ہے اور یہ آپ کو غلامی کے خلاف آزادی کے احساس سے حاصل ہوتاہے ترجمان نے کہاکہ شہداء کی جدوجہد سے وابستگی اصل میں شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کا بہترین اظہارہے ہمیں اس موقع پرتجدید عہد کرتے ہوئے ریاست کو ایک پیغام دینا چاہیے کہ بلوچ قوم کسی بھی قیمت پر اپنی آزادی کی جائز مطالبہ سے دستبردار نہیں ہوں گے جس آزادی کی وکالت شہداء نے اپنی جان کی قیمت پر ادا کی ہم اسی تسلسل اور روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اپنی جان مال اور سب کچھ داؤ پہ لگانے کے لئے شعوری زہنی اور نظریاتی طور پر تیا ر ہیں ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0