آزادی کی کھٹن اور طویل جدوجہد کو شہداء نے اپنی خون سے زندہ رکھا ہے۔بی ایس ایف

بدھ 19 اگست, 2015

کوئٹہ (ہمگام نیوز)بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کئے گئے ایک بیان میں کہاہے کہ قومی آزادی کی طویل اور کھٹن جدوجہدکو شہداء نے اپنی خون سے تسلسل دیکر زندہ رکھا ہے شہید میر علی محمد مینگل شہید الطاف بلوچ شہید رضا جہانگیر بلوچ شہید امداد بلوچ شہید حاجی عبدالرزاق بلوچ شہید رمضان بلوچ شہید غفور بلوچ اور دیگر بلوچ شہداء کی بے لوث اور رضاکارانہ جدوجہد تاریخ میں سنہرے الفاظوں سے یاد کیا جائیگا ترجمان نے کہاکہ قومی آزادی کی تحریکوں کا ہمیشہ خون سے آبیاری ہوئی ہے بلوچ قوم بھی حصول آزادی کے لئے قربانیوں سے کھبی بھی پیچھے نہیں ہٹے ہیں تاریخ کے انمٹ صفحات ہزاروں بلو چ شہداء کی فہرست نوشتہ دیوار ہے کہ آزادی کی تحریکوں کو جارحیت اور تشدد سے کھبی بھی ختم نہیں کیا جا سکتا 1948سے جاری بلوچ جہد آزادی کو ختم کرنے کے لئے ریاست کاؤنٹر انسرجنسی کے تمام تر پالیسیوں کے باوجود جہد آذادی کے سلسلہ کو روکنے میں مکمل ناکام ہوکر ایک نفسیاتی شکست کا سامنا کررہے ہیں ریاست بلوچ جہد آزادی کو روکنے کے لئے کئی دیگر قوتوں سے مدد لیکر بلوچ سرزمیں پر اپنی ابدی تسلط اور عمل داری کے لئے کئی جارحانہ ہتکھنڈے استعمال کرتے رہے ہیں لیکن بلوچ جدوجہد ان کے لئے ان کے اعصاب شکن جدوجہد ثابت ہواہے یہ سب بلوچ شہداء کی اپنی سرزمین سے کمٹمنٹ کے اعلی ثبوت ہے جنہوں نے ریاست کو ایک ہیجان اور سراسیمگی میں مبتلاء کئے ہیں ترجمان نے کہاکہ بابو نوروز خان اور ان کے ساتھیوں کی دھوکہ دہی سے گرفتاری کے بعد شہید علی مینگل جہالاواں میں ان کے جدوجہد کو جاری رکھا60اور70کے عشرے میں ایوبی اور بعد ازاں بھٹو آمریت کے خلاف بھر پور مزاحمتی جدوجہد کی ایوبی ادوار میں انہیں پس زندان بھی کیا گیا انہیں ورغلانے اور لالچ دینے کی کئی کوششیں کی لیکن وہ رہائی پانے کے بعد ایک دفعہ پھر پہاڑوں کا راستہ لے کر جہالاوان میں مذاحمت کا علامت بن گیا کئی معرکوں میں زخمی ہوئے بھٹو کی جانب سے بھی انہیں پیغام دیا گیا کہ وہ یہ راستہ چھوڑ کر ریاستی فریم ور ک میں آکر بدلہ میں مراعات حاصل کریں لیکن علی محمد نے ان کی اس پیش کش کو ٹھکراکر اپنی جدوجہد جاری رکھی اور بعد ازاں وہ قومی محاذ پر ایک دوبدو جھڑپ میں شہید کئے گئے ترجمان نے کہاکہ علی محمد مینگل سمیت تمام بلوچ شہداء کا کردار بلوچ قوم کے لئے ایک میراث کے طور پر موجود اور مشعل را ہے ان کی کوششیں سنگ میل ہے ترجمان نے کہاکہ آج بھی بلوچ آزادی خواہ کامریڈوں کو غیر انسانی تشدد کے ساتھ شہید کیا جارہاہے ایک جائز اور اصولی مطالبہ کے پاداش میں بلوچ قوم کی نسل کشی جاری ہے ستم ظریفی تو یہ ہے کہ اقوام متحدہ اس سلسلے مین چپ سادھ لی ہے جو ریاستی جارحیت کے لئے ایک حوصلہ افزائی سے کم نہیں ریاست کو اس خاموشی سے مزید خون بہانے کا حوصلہ مل رہاہے حالانکہ بلوچ مسئلہ ایک دیرینہ مسئلہ ہے جو اقوام متحدہ کو بار بار توجہ دلا رہاہے اقوام متحدہ سمیت تمام انسان دوست قوتین بلوچ قومی مسئلہ سے آگاہ ہے اسی مسئلہ سے جڑے ہزاروں بلوچ لاپتہ ہے ہزاروں شہید کئے گئے ہیں سیاسی و نظریاتی جدوجہد کو کچلا جارہاہے بلوچ قوم اپنی ہی سرزمین پر مہاجرت کی زندگی گزار رہاہے تمام تر ریاستی مشینری بلوچ قوم کے خلاف استعمال کیا جارہاہے اقوام متحدہ اور انسان دوست قوتوں کو آگے آنا چاہیے اور بلوچ قومی آزادی کے حوالہ سے نتیجہ خیز بامعنی اور سنجیدہ کوششوں کے ساتھ بلوچ قوم کی جداگانہ حیثیت کو تسلیم کرنا چاہیے تاکہ بلوچ سرزمین پر جاری انسانی خونریزی کا خاتمہ ممکن ہوسکے

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0