آزاد بلوچستان کا باسی ہونے پر فخر کریں،تحریر: سیم زہری

جمعرات 10 اگست, 2017

چند دنوں پہلے کی بات ہے ہم نورگامہ میں ایک شادی کی تقریب میں شامل تھے. زہری کے دیگر معززین و معتبرین بھی موجود تھے. نورگامہ زہری کے نوجوان ثقافتی رقص (بلوچی چاپ) سے لطف اندوز ہو رہے تھے اور باہر بیٹھے معززین اس چاپ کو انجوائے کر رہے تھے.
چاپ سے فارغ ہو کر نوجوان بیٹھ کر پانی پیئے اور خوش گپیوں میں لگ گئے. سامعین نے بھی واہ واہ کیا.
انہی معززین میں چئیرمین عبدالرحمن درازئی بھی شامل تھے. انہوں نے بھی نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کے لئے دو لفظ بول دئیے. کہنے لگے زہری کے نوجوانوں میں بہت ٹیلنٹ ہے. ابھی آپ لوگوں نے جس طرح چاپ کا میدان سجایا مہارت کی بات ہے. چیئرمین صاحب نے مزید تعریف کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان بھر پور تیاری کریں اس چودہ اگست پر میں آپ لوگوں کو خضدار لیے چلتا ہوں وہاں خوب ناچو.
بیچارے سب نوجوان خوش ہوئے کہ ہمیں اپنی ٹیلنٹ کا مظاہرہ کرنے کا موقع ملے گا. لیکن انہیں کیا پتہ کہ چئیرمین انہیں کیوں وہاں نچوانا چاہتا ہے. کیونکہ چئیرمین کی ضرورتیں ہیں. ان کے جسم کے ساتھ بھی ایک پیٹ جڑا ہوا ہے. اس کے علاوہ دیگر دنیا داری بھی ہے. اگر چار ہٹے کٹے نوجوان ان کے کہنے پر پنجابی کی جشن آزادی میں ناچیں گے تو کیا نقصان. اپنے ہی بھائی کا بھلا ہو گا. اور چئیرمین عبدالرحمن درازئی تو بہت مشکلات کا سامنا کرنے کافی جدوجہد بس کنڈیکٹر سے لیکر سکول ماسٹر پھر پارٹی میں شمولیت پھر پارٹی لیڈر کا ہر الیکشن میں پارٹی بدلنا جیسے مشکل حالات سے گزر کر چیئرمین کا عہدہ حاصل کر سکے. ابھی اللہ کا دیا ہوا سب کچھ ہے بڑے فخر سے اپنے نام کے ساتھ چئیرمین کا لاحقہ لگائے اپنی تعارف کرتے ہیں. مجال کہ کوئی مائی کا لال ٹوک دے.
یہ باتیں مجلس کے کونے میں بیٹھے میں بھی سن رہا تھا. میرے ذہن میں انڈین فلم کا گانا “ناچ میری بلبل تجھے پیسہ ملے گا” گردش کرنے لگا. لیکن سوچنے لگا کیا چئیرمین صاحب ان نوجوانوں کو خضدار لے جا کر نچوائے گا تو کیا پیسہ بھی دے گا. یا بلبل مفت میں ناچے گا.
ایک لمحے کے لیے میرے ذہن میں آیا کھڑے ہوکر شعلے فلم کا مشہور ڈائلاگ بول دوں “نہیں بسنتی نہیں ان کتوں نے سامنے مت ناچنا” لیکن کیا کریں حالات ہی ایسے ہیں کہ بسنتی بیچارہ مظلومیت کا شکار ہے اس سے کچھ بھی کروایا جا سکتا ہے. کیونکہ بسنتی کی شعور کی کمی کے باعث صرف تھالی چٹ لوگوں سے پالا پڑا ہے جنہیں نے اسے اپنے جیسا ڈھالا ہے.
کچھ شعور رکھتے ہوئے بھی خوف، لالچ مراعات کے وجہ سے ایسے ناسور سسٹم کا حصہ بن کر سب اچھا ہے کا راگ الاپنے لگے ہیں. انہیں لالچ پچھلے الیکشن میں ہاتھ نہ آنے والی نوکری کو اس بار حاصل کرنے کا ہوتا ہے
تو اب بس جو معتبر کہیں گے اسے کرنا ہوگا. کہاوت بہت مشہور ہے کچھ پانے کو کچھ کھونا پڑتا ہے. یہاں یہی تھیوری اپلائی کی جا رہی ہے مگر سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ایک نوکری چند واہ واہ پانے کے عیوض کھو کیا رہے ہو
اپنا حق، اپنا زمین، اپنا مقصد، اپنی آزادی، اپنی قومی حمیت و غیرت تو سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا جتنا پانے کی جستجو کی جتن میں لگے ہو کہیں اس سے لاکھ درجہ زیادہ کھو تو نہیں رہے. کسی بھی جاندار چاہے انسان ہو یا جانور اس کے لیے زندگی سے افضل ہوتا ہے اسکا آزاد ہوجانا
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ نوجوانوں کو تفریح کا سامان میسر ہوتا. نوجوانوں کے لیے یونیورسٹیوں کے دروازے کھلے ہوتے،
نوجوانوں کے لیے سپورٹس کے میدان میں نام پیدا کرنے کا موقع ملتا لیکن یہ سب کیسے ممکن ہو سکتا جبکہ ان کا معتبر خود دشمن کے تلوے چاٹتا ہے. اور وہ تلوے چاٹ یہ بھی جانتا ہے کہ گاؤں دیہات کے لوگوں کو کیسے بھکایا جا سکتا ہے.
یہ میں نہیں یہ وہ سوچتا ہے جو خود کسی اور کا تلوے چاٹ ہے وہ ایسا سوچ سکتا ہے کیونکہ اسے ایسے موقع ہر بار ہم نے ہی دیا ہے کسی بھی قاتل خونی بدمعاش کے ہاتھ میں بندوق چار گھاٹ ایک گاڑی دیکھ کر سائیں و میر کا درجہ ہم ہی دیتے ہیں.
اگر چیئرمین جیسا انسان نوجوانوں سے ناچنے کی امید کر سکتا ہے تو میں بھی انہی نوجوانوں سے وطن کی آزادی کے لیے لڑنے مرنے کی بھی امید کر سکتا ہوں. اگر وزیر اعلیٰ آپ کو ایک چپراسی کی نوکری دے کر تیری قیمت کا اندازہ ایک نوکری سمجھ سکتا ہے تو میں آپ کی محنت کا بدل آزاد بلوچستان بھی سمجھ سکتا ہوں. وہ آزادی جس کے لیے سروں کے قطار لگ گئے اور کہیں اب بھی جہد مسلسل میں اپنے حصے کو وقف کر رہے ہیں. وہ آزادی جہاں کسی میر معتبر کسی در دروازے پر سر جھکائے کھڑا نہ ہونا پڑے. وہ آزادی میرے آپ کے ہمارے آنے والے نسلوں کی پہچان ہوگی . آپ صرف ہمت کریں حوصلہ کریں اپنے آپ اپنی حیثیت کو پہچان لیں. نظریہ شعور مخلصی ایمانداری کے سامنے یہ کرائے کے میر نواب وڈیرے موم کے پتلوں جیسے زیادہ کچھ نہیں.
آپ چودہ اگست کو ناچنے والوں میں سے نہیں
بلکہ آزاد بلوچستان کا باسی ہونے پر فخر کریں.

image_pdfimage_print

[whatsapp] آرٹیکلز. RSS 2.0