آلیان کردی اور بلوچ پناہ گزین

اتوار 13 ستمبر, 2015

جنگ زدہ شام سے یورپ جانے کی کوشش میں ترکی کے ساحل کے قریب کشتی ٹوٹنے کی وجہ سے آلیان کردی اور اسکا خاندان سمندر میں ڈوب کر جانبحق ہوئے ، وہ ان لاکھوں شامیوں میں سے تھے جو شام سے تحفظ جان کی خاطر بھاگ کر براستہ ترکی یورپ جانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ان ڈوبنے والوں میں جب ترکی کے ساحل پر آلیان کردی کی سرخ شرٹ میں ملبوس الٹی پڑی لاش کی تصویریں میڈیا میں آئیں تو ہر طرف ہنگامہ برپا ہوگیا ، مسلسل کئی دن تک یہ خبر عالمی میڈیا کے شہہ سرخیوں میں رہا اور سوشل میڈیا میں ٹرینڈ کرتا رہا ۔ لاکھوں کروڑوں لوگ آلیان کردی سمیت شامی مہاجرین سے ہمدردی کرنے لگے اور بالآخر جرمنی نے بھی آسٹریا کے سرحد پر پھنسے ہزاروں پناہ گزینوں کیلئے اپنے دروازے کھول دیئے اس وقت تک جرمنی ہر سال کم از کم دس لاکھ شامیوں کو اپنے ملک میں پناہ دے رہا ہے ۔
آلیان کردی کی الٹی پڑی لاش انسانیت کے چہرے پر ایک ایسا زناٹے دار تھپڑ ثابت ہوا جس نے کئی عالمی اداروں، عالمی میڈیا اور سربراہان مملکت کے آنکھیں عارضی طور پر کھول دیں ، لیکن آج کے گلوبل ولیج دنیا میں انسانیت کا المیہ یہ ہے کہ یہاں میڈیا میں جو بِکتا ہے وہ دِکھتا ہے اور انسانیت بھی محض وہاں جاگتی ہے یہاں میڈیا پر کچھ دِکھتا ہے ، لیکن شام کے مرغزاروں اور ترکی کے ساحل سے بہت دور ایک سنگلاخ ذمین بلوچستان کے نام سے آباد ہے جہاں اقوام متحدہ کے ایک رپورٹ کے مطابق کم از کم 33000 بلوچ بچے پاکستانی مظالم کی وجہ سے آئی ڈی پی کی حیثیت سے رہتے ہیں اور ان میں سے 33 فیصد شدید غذائی قلت کا شکار ہیں اور اب تک کم از کم 8 سے 10 ہزار غذائی قلت کی وجہ سے جانبحق ہوچکے ہیں ، لیکن یہ بلوچ آلیان گمنامی کے ساتھ دفن ہورہے ہیں نا عالمی میڈیا اور نا عالمی ادارے اور نا ہی خیراتی ادارے کبھی ان کا پرسان حال بنے ۔
بلوچستان پر پاکستانی قبضے کے بعد سے ابتک بلوچ آزادی کیلئے ایک طویل جنگ لڑی جارہی ہے ، جو مختلف ادوار سے ہوتے ہوئے ، مختلف مدو جزر سے گذرتے ہوئے آج کے تاریخ تک شدت کے ساتھ جاری ہے ، اس جنگ میں پاکستان بدترین انسانی حقوق اور جنگی قوانین کا خلاف ورزی کرتے ہوئے بلوچ سوال آبادیوں کو بمباری کا نشانہ بناتا رہا ہے جس کی وجہ سے ہزاروں بلوچ اپنے گھر بار چھوڑنے اور مہاجر کی زندگی گذارنے پر مجبور ہیں ۔ 1970 کے دہائی میں بھی پاکستانی مظالم سے بچنے کیلئے ہزاروں کی تعداد میں بلوچ افغانستان ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے ، آج بھی افغانستان میں ایک جگہ 3700 قبریں ان مہاجر بلوچوں کی موجود ہیں جو افغانستان میں مہاجر کی زندگی گذار تے ہوئے دارفانی سے کوچ کرگئے یا نام نہاد مجاہدین سے اپنا دفاع کرتے ہوئے شہید ہوئے ۔ موجودہ بلوچ تحریک کے آغاز سے ہی پاکستانی مظالم کی وجہ سے بلوچ مہاجرت شروع ہوئی لیکن جب ڈیرہ بگٹی میں اکبر خان بگٹی پر پاکستان نے 2005 میں انکے گھر پر حملہ کیا جس میں ہندو برادری کے کئی مرد و خواتین شہید ہوئے کے بعد اقوام متحدہ کے رپورٹ کے مطابق صرف ایک سال کے دوران ڈیرہ بگٹی ڈسٹرکٹ کی ایک تہائی آبادی نے اپنے آبائی علاقے چھوڑ کر سندھ ، پنجاب اور افغانستان کی طرف کوچ کرگئے۔اکبر خان بگٹی کے شہادت کے بعد بلوچستان کے علاقوں ڈیرہ بگٹی اور کوہلو سے میں بڑے پیمانے کے فوجی آپریشن کے بعد ہزاروں کی تعدادمیں ہجرت شروع ہوئے ۔ اقوام متحدہ کے ایک رپورٹ کے مطابق صرف 2006 تک 84000 بلوچ صرف ان دو ڈسٹرکٹوں سے دربدر ہوئے ان میں 26000 خواتین اور 33000 بچے شامل تھے۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق صرف ڈیرہ بگٹی سے 50000 بلوچ ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔ پاکستان کے اپنے ہی ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیشن کے رپورٹ کے مطابق 2006 کے بعد 250,000 افراد نے ان دو ڈسٹرکوں سے ہجرت کی جن میں سے کم از کم 10000 غذائی قلت کی وجہ سے جانبحق ہوئے۔
2006 سے لیکر ابتک کے سالوں میں نا صرف لاکھوں بلوچ بے گھر ہوکر آئی ڈی پی اور ریفیوجی کی زندگی گذارنے پر مجبور ہوئے ہیں بلکہ پاکستان نے یونیسف جیسے عالمی اداروں سمیت ، ایدھی فاونڈیشن جیسے خیراتی اداروں کو یہ باقاعدہ دھمکی دی کہ وہ بلوچ پناہ گزینوں کی کوئی مدد نہیں کرے اور نا ہی کوئی کیمپ بنائیں۔ ان ابتدائی سالوں کے بعد پاکستانی آپریشن نے پورے بلوچستان میں وسعت اختیار کی ، اس دوران بلوچستان کے علاقوں کوئٹہ ، خضدار ، آواران اور مکران کے علاقوں سے لاکھوں لوگ ہجرت پر مجبور ہوچکے ہیں لیکن عالمی اداروں پر بندش کی وجہ سے کبھی بھی کوئی حتمی رپورٹ منظر عام پر نہیں آسکا ، خاص طور پر گذشتہ دو سالوں کے دوران پاکستان مکران کے مختلف علاقوں میں پاکستان چائنا اکانومک کوریڈور کا راستہ بلوچوں سے صاف کرنے کیلئے روزانہ کے بنیاد پر آپریشن کررہا ہے جس کی وجہ سے مذکورہ علاقوں کی آدھے سے زیادہ آبادی ہجرت پر مجبور ہوئے ہیں ۔
بلوچوں کی ایک کثیر تعداد ہجرت کرکے افغانستان میں سکونت پذیر ہونے پر مجبور ہوئی ہے ، لیکن وہ پاکستانی مظالم سے وہاں بھی محفوظ نہیں رہے ، روزانہ کے بنیاد کہیں ناکہیں پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے ایجنٹ افغانستان میں بلوچ پناہ گزینوں پر حملہ کرتے ہیں اور پناہ گزینوں کے گھروں پر دستی بم پھینکنے کے بھی کئی واقعات رونما ہوچکے ہیں جن میں ابتک درجنوں بلوچ شہید ہوچکے ہیں جس کی تازہ ترین مثال پائیند خان بگٹی کی شہادت ہے جسے پاکستانی خفیہ اداروں کے ایجنٹوں نے افغانستان میں نشانہ بناکر شہید کردیا۔
ایک ایسے وقت میں جب پوری دنیا کی توجہ آلیان کردی پر ہے اور دنیا پناہ گزینوں کے مسئلے پر سوچ بچار کررہی ہے ، ایسے وقت میں بلوچستان جو پاکستان کے بدترین مظالم کا شکار رہا ہے اور ہزاروں لوگ ہجرت کرنے اور دوسرے علاقوں میں سالوں سے پناہ لینے پر مجبور ہیں کو نظر انداز کرنا ایک عظیم انسانی المیہ ثابت ہوگا ، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پاکستان نے تمام عالمی و علاقائی خیراتی اداروں پر ان پناہ گزینوں کی مدد کرنے پر غیر اعلانیہ پابندی لگا دیا ہے اور ہجرت کرنے کے باوجود مختلف علاقوں میں ان پناہ گزینوں کو اغواء کرنے اور شہید کرنے کا سلسلہ چلا رہا ہے ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] اداریئے. RSS 2.0