آواران آپریشن ، فورسزنے ایک مہینے بعد محاصرہ ختم کردیا، ۔بی این ایم

بدھ 19 اگست, 2015

کوئٹہ ( ہمگام نیوز ) بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی ترجمان نے کہا کہ اٹھارہ جولائی عیدالفطر کے دن فورسزکی بمباری کے بعد آواران میں مالار کے کئی دیہاتوں کو فورسز نے گھیرے میں لیا ہوا تھا، کل ایک مہینے سے زائد عرصہ گزرنے کے بعدفورسز وہاں سے نکل گئی ہے مگر وہاں انسانی وجود کا کوئی نشان موجود نہیں ہے۔ جن نقصانات کا خدشہ کیا جا رہا تھا، نقصانات اس سے کئی گنا زیادہ ہیں۔ کئی گاؤں صفحہ ہستی سے مٹ گئے ہیں۔ ان میں وہلی، زیرک، حبیبی زیارت، ملا حاجی زیارت، شاہ دوست میتگ، بشوشگ سمیت کئی گاؤں شامل ہیں۔ایک مہینے تک ان علاقوں کے گھیراؤ کے دوران زندہ بچ جانے والے لوگوں کو قریبی پہاڑوں میں رستہ دیکر ہزاروں کی آبادی کو بے گھر کردیا گیا ہے۔ شہید یا اغوا ہونے والوں کی تعداد کا اندازہ سو سے زائد بتایا جا رہا ہے۔کیونکہ کئی ایسے لوگ ہیں جن کا تاحال پتہ نہیں ، جن کے شہید ہونے کے خدشات ہیں۔ شہیدوں میں صرف ایک کی لاش مل سکی ہے جسے بارش کے بعد ندی کی پانی تھوڑی دور بہا کر لے گیا تھا۔ یہ لاش نذیر بلوچ کے نام سے شناخت ہوئی ہے جس کی شہادت کا ذکر پہلے بھی آیا ہے۔ مٹی کے گھروں اور جھونپڑیوں پر مشتمل یہ گاؤں ایک ویرانے کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ اس آپریشن میں ہزاروں افراد بے گھر ہوکر آئی ڈی پیز بن گئے ہیں۔ زیرک گاؤں میں میزائلوں کے گرنے کے نشانات اور ٹکڑے پائے گئے ہیں۔کئی دوسرے گاؤں میں جانا اور سروے کرنا باقی ہے۔ایک مہینے تک گھیراؤ میں میزائل حملے سے بچے ہوئے گھروں کو مارٹر وں سے تباہ کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی شہید ہونے والوں کی لاشوں کو اجتماعی قبروں میں دفنانے کی خدشات ہیں تاکہ فورسزااپنے جرائم کو چھپا سکے۔ علاقہ مکینوں تک رسائی حاصل کرکے جلد ہی مزید تفصیلات سامنے لائی جائیں گی۔چشم دید لوگوں کا کہنا ہے کہ کوئی گھر، مکان یا جھونپڑی وجود نہیں رکھتا۔ دو زیارت حبیبی زیارت اور ملازیارت کو بموں سے تباہ کرکے تمام نشانات مٹائے گئے ہیں۔ یہ گاؤں ایک ایسا منظر پیش کر رہے ہیں کہ کوئی علاقہ فتح کرنے کے بعد تمام باقیات کو ختم کرکے اپنا نیا نظام لانا چاہتا ہو۔ اس دوران ہم میڈیا اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کو دعوت دیتے رہے کہ محاصرے کا جائزہ لینے آواران کا دورہ کریں، آج ایک دفعہ پھر دعوت دیتے ہیں کہ وہ بمباری سے تباہ شدہ گاؤں میں اپنے نمائندے بھیج کر اپنا فرض پورا کریں۔ بمباری سے نہتے بلوچوں کی شہادت کا ثبوت فورسزکا ایک مہینے تک ان گاؤں کا گھیراؤ ہے، شاید اس دوران وہ ثبوت مٹانے میں کامیاب ہوگیا ہو لیکن بلوچ قوم ان مظالم کے سامنے مضبوط دیوار بن کر بلوچ شناخت، ثقافت اور وسائل کی دفاع کرتا رہے گا۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0