آواران: زلزلے کے ایک سال بعد بھی متاثرین مشکل میں

اتوار 28 ستمبر, 2014

بیشتر افراد عارضی پناہ گاہوں میں مقیم ہیں انکا شکوہ ہے کہ حکومتی دعووں کے باوجود مشکلات دور نہیں ہوسکیں
آواران (ہمگام نیوز)

اس ضلع کے اب بھی بیشتر افراد عارضی پناہ گاہوں میں مقیم ہیں اور ان کا شکوہ ہے کہ حکومتی دعووں کے باوجود ان کی مشکلات دور نہیں ہوسکی ہیں،بلوچستان میں تباہ کن زلزلے کے ایک سال بعد بھی متاثرین کی اکثریت اپنے گھروں میں آباد نہیں ہوسکی ہے جبکہ حکومتی عہدیداروں نے کہا ہے کہ مکانات کی تعمیر کی علاوہ ان لوگوں کو دیگر سہولتیں بھی فراہم کی جارہی ہیں،24 ستمبر 2013ءکو آنے والے 7.7 شدت کے زلزلے میں سب سے زیادہ تباہی ضلع آواران میں ہوئی جہاں چارسو افراد ہلاک ہوئے اور ہزاروں مکانات منہدم ہوگئے تھے،اس ضلع کے اب بھی بیشتر افراد عارضی پناہ گاہوں میں مقیم ہیں اور ان کا شکوہ ہے کہ حکومتی دعوو¿ں کے باوجود ان کی مشکلات دور نہیں ہوسکی ہیں،آواران کی تحصیل جھاوکے باشندے رشید بلوچ نے کہا کہ حکومت نے لوگوں کو گھر بنانے کے لیے چیک کے ذریعے رقم ادا کی لیکن پسماندہ علاقے کے لوگوں کے لیے یہ چیک کسی بھی طرح فائدہ مند ثابت نہیں ہوئے،ان لوگوں کو تو پتا ہی نہیں کہ بینک اکاونٹ کیا ہوتا ہے یہ چیک جو ہے کاغذ کے اس ٹکڑے سے انھیں پیسے ملیں گے بھی یا نہیںبہت سے علاقوں میں لوگوں نے گھاس پھونس اور کچھور کے خشک پتوں سے اپنے عارضی گھر بنائے ہوئے ہیں ابھی تک کچھ بھی نہیں ہوا،ضلع آواران کے ڈپٹی کمشنر اور زلزلہ زدگان کی بحالی کے منصوبے کے ڈائریکٹر عزیز احمد کا کہنا تھا کہ بعض علاقوں میں چیک کیش کروانے میں لوگوں کو مشکلات پیش آرہی ہیں لیکن اس کا بھی جلد ازالہ کر دیا جائے گا۔بلوچستان کا شمار ان علاقوں میں ہوتا ہے جہاں زیر زمین ہونے والی تبدیلیوں کی وجہ سے اکثر زلزلے آتے رہتے ہیں۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0