آواران میں آپریشن کے خلاف کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔بی ایچ آر او

بدھ 22 جولائی, 2015

کوئٹہ ( ہمگام نیوز ) بلوچ ہیومین رائٹس آرگنائزیشن کی جانب سے آواران میں پچھلے چار دنون سے جاری آپریشن اور اس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں نہتے خواتین و بچوں کی ہلاکت کے خلاف کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے میں بڑی تعداد میں خواتین و بچوں، انسانی حقوق کی تنظیموں کے ارکان اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن میں آواران سمیت بلوچستان بھر میں ہونے والے انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف نعرے درج تھے۔ کراچی پریس کلب کے سامنے شرکاء نے آواران میں جاری آپریشن و متاثرہ علاقوں کی تاحال گھیراؤ کے خلاف شدید نعرہ بازی کرتے ہوئے آپریشن فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ شرکا ء سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں نے کہا کہ عید کے روز سے آواران میں شروع ہونے والا آپریشن تا حال جاری ہے۔ وسیع علاقے میں فضائی بمباری اور عام آبادیوں کو نشانہ بنانے سے سینکڑوں خواتین و بچوں سمیت متعدد بزرگ شہید و زخمی کیے جا چکے۔ جبکہ درجنوں نہتے لوگ فورسز اغواء کرکے اپنے ساتھ لے گئے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں جاری رکھتے ہوئے فورسز نے متاثرہ علاقوں سے متعدد بلوچ خواتین کو بھی اغواء کرلیا،جنہیں اپنے کیمپ منتقل کرنے بعد چھوڑ دیا گیا۔ مقررین نے کہا کہ علاقے میں شدید گرمی ، جھونپڑوں کو جلانے ، خوراک پانی کی عدم دستیابی کے باعث متاثرین کھلے آسمان تلے بھوک و پیاس کی شدت کی وجہ سے شدید پریشانی و مشکلات کا شکار ہیں۔ وہلی، زیریک کے دیہات جو کہ بمباری سے سب زیادہ متاثر ہوئے ہیں وہ تاحال فورسز کے گھیرے میں ہیں، رشتہ داروں و ہمسائیوں کو لاشوں و زخمیوں تک رسائی نہ دینے کے باعث خدشہ ہے کہ لاشیں شدید گرمی کی وجہ سے گل سڑ جائیں گی، جبکہ شدید زخمی بھی بروقت علاج نہ ملنے کی وجہ سے موت کا شکار ہوجائیں گے۔بمباری سے متاثرہ ایک اور دیہات سے چھ لاشیں برآمدہوئیں جن میں دو خواتین اور 4عمر رسیدہ بزرگ شامل تھے، جنہیں مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت اونٹوں اور باربرداری کی دیگر جانوروں کی مدد سے متاثرہ علاقے سے منتقل کرکے محفوظ علاقوں میں دفنا دئیے۔انہوں نے مزید کہا کہ شدت پسندی کے نام پر ہونے والی کاروائیوں سے براہ راست عام آبادیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ جنگی قوانین و انسانی حقوق کا احترام کیے بغیر روزانہ کی بنیاد پر اس طرح کی کاروائیوں سے بلوچستان میں انسانی بحران جنم لینے کا خدشہ ہے۔ بلوچ ہیومین رائٹس آرگنائزیشن 
نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں، سول سوسائٹی اور میڈیا نمائندوں سے اپیل کی کہ وہ صورت حال کا صحیح طور پر تجزیہ کرنے اور انسانی حقوق کی پامالیوں سے مہذب ممالک کو آگاہ کرنے کے لئے اپنی پیشہ ورانہ زمہ داریاں بروقت نبھائیں۔ 

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0