آواران کے علاقے گُشانگ میں 5 نومبر کو بیادِ شہدائے ڈیرہ بگٹی عظیم الشان جلسہ عام منعقد ہوا۔

ہفتہ 8 نومبر, 2014

کوئٹہ (ہمگام نیوز)آواران کے علاقے گُشانگ میں بی آر پی اور بی آر ایس اوکی طرف سے شہدائے ڈیرہ بگٹی کی یاد میں 5 نومبر کو بیادِ شہدائے ڈیرہ بگٹی عظیم الشان جلسہ عام منعقد ہوا جس میں دور دراز علاقوں سے بلوچ مرد اور خواتین نے بڑی تعداد میں شرکت کر کے اس پُرآشوب صورتِ حال میں جلسے کو کامیاب بنایا ۔ جلسے سے بی آر پی اور بی آر ایس او کے رہنماؤں نے خطاب کیا ۔بی آر ایس او کے بانک مہلب بلوچ، بانک لدّی بلوچ اور بی آر ایس او کے سینئر وائس چیئر پرسن بانک گوہر بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ قومی جہد کو مذہبی انتہاء پسندی کے نام پر کاؤنٹر کرنے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے۔اسکی واضح مثال گورکوپ میں ذکری فرقہ سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں پر تشدد اور آوارن ذکر خانہ پر وحشیانہ حملہ کرکے 8نہتے اور بے گناہ بلوچ فرزندوں کو بے دردی سے شہید کرنا ہے۔پنجگور اور تربت میں بلوچ طلبات اور اساتذہ پر حملے ، عطا شاد ڈگری کالج پر حملے، ڈاکٹر مالک کے گھر کے قریب واقع بلوچ ڈیلٹا ٹیچنگ سینٹرپر حملے قابلِ مذمت اور ناقابلِ برداشت ہوچکے ہیں۔با نک گوہر بلوچ نے مزید کہا کہ میں تمام اساتذہ کرام سے اپیل کرتی ہوں کہ اس مشکل صورتِ حال میں کلیدی کردار ادا کرتے ہوئے تعلیمی اداروں کو فعال کرنے میں اپنی تمام تر توانائیوں کو بروائے کار لائیں جس میں بی آر ایس او ہر ممکن کمک کے لیے ہمیشہ تیار ہے۔بلوچ قوم کے نوجوان بلوچ قوم کی مستقبل اور بلوچستان کی آزادی کی ضمانت ہیں۔بی آ ر پی کے رہنماؤں بانک شاری بلوچ اور جنگینی بلوچ نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ بلوچستان میں حالات کو درست کرنے کی بات کرتے ہیں وہ بلوچ قوم کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے کیونکہ بلوچ قوم اپنی شناخت و اپنی وت واجہی اور اپنے وطن کی آزادی کے لیے جدوجہد کر رہی ہے جو کہ انقلابی اور بین القوامی قوانین کے عین مطابق ہے۔ رہنماؤں نے کہا کہ یہ بلوچ شہداء کی قربانیوں کا نتیجہ ہے کہ آ ج بلوچ قوم کے گھر گھر آزادی کا پیغام پہنچ چکا ہے اور ہر بلوچ فرزند بلوچستان کی آزادی کو اپنا مقصد سمجھتا ہے۔دشمن اور سازشی عناصر بلو چ آزادی کی جدوجہد کو حالات کی خرابی گردانتے ہیں جو سراسر جھوٹ ہے بلوچستان کے حالات کی خرابی کی وجہ جہدِ آزادی ہے جس میں بلوچ فرزند ان اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر جدوجہد کر رہے ہیں جس نے ریاست کی قبضہ گیریت کا کمر توڈ دیا ہے۔ جو لوگ حالات کو درست اور جہدِ آجوئی کو ختم کرنے کی بات کرتے ہیں وہ بلوچ قوم کے مجرم ہیں کیونکہ صرف قوم پرستی کے نعروں سے کوئی حقیقی قوم پرست نہیں بن جاتا بلکہ قوم پرست وہ ہوتا ہے جو اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر قوم کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر دے ۔بی آر پی کے مر کزی رہنما ء واجہ بابا بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں تعلیم یافتہ علم و شعور سے لیس رہنماؤں نے اپنے قو م کو غلامی سے بیدار کر کے آزادی اور خودمختاری کا درس دے کر آزادی حاصل کیں ہیں آج کا یہ مقدس دیوان علم وآگہی کا پیغام دیتا ہے ۔ ہم میر حمل و جیئند کے وارث ہیں جنہوں نے بلوچ قوم کی بقاء کے لیے اپنی سریں قربان کر کے شہادت کو ترجیح دی، ہم نواب نوروز خان اور نواب اکبر خان کے بھیٹے ہیں جنہوں نے اپنی نوابی سمیت اپنا سب کچھ بلوچ قوم کے روشن مستقبل کے لیے قربان کر کے بلوچ قوم میں شعور کی شماء روشن کردی۔ بابا بلوچ نے مزید کہا کہ میں اپنے بہن فرزانہ مجید کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے بلوچ اسیران کے مسئلے کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنے کے لیے کوئٹہ سے اسلام آباد تک طویل پید ل مارچ کیا۔۔بابا بلوچ نے کہا کہ آج بلوچستان میں آزادی کی جلکیاں روز روشن کی طرح عیاں ہیں ،سرداری نظام کا خاتمہ ہوچکا ہے، منشیات فروش دم توڈ چکے ہیں ۔میرے قائد نے مجھے ہر وقت اتحاد کا درس دیا ہے ، پارٹی کو فعال کرنے اوربلوچ قوم کی نفسیات کو جیتنے کا درس دیا ہے۔ میرے قائد میرے پارٹی کے آئین و منشوردوسرے آزادی پسند پارٹیوں سے ہم آہنگی کا درس دیتا ہے۔بی ایس او آزاد کے سینٹرل کمیٹی کے رکن لطیف جوہر بلوچ نے غالبََا46روز بھوک ہڑتال برداشت کر کے دنیا کو بلوچستان میں قبضہ گیرکی انسانی حقوق کی پامالیوں کا حساس دلاتا ہے جو کہ نیک شگون ہے ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0