آوران نسل کشی تاحال جاری: ہمگام اداریہ

اتوار 26 جولائی, 2015

  بلوچستان میں جاری حالیہ آپریشنوں کی لہر اپنے مکمل شدت کے ساتھ تاحال جاری ہے اور ہر گذرتے دن کے ساتھ لاپتہ افراد اور بلوچ شہداءکی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ ہوتا جارہا ہے ، تازہ ترین اطلاعات کے مطابق گذشتہ دو ہفتوں کے دوران کوئٹہ ، مستونگ اور نوشکی سے اغواءکیئے گئے بلوچوں کی تعداد اب درجنوں میںہے جبکہ بلوچستان کے علاقے آوران میں پاکستانی خونریز آپریشن اور محاصرہ اب نویں روز میں داخل ہوچکا ہے ۔ عینی شاھدین کے مطابق آج سے نو دن پہلے عیدالفطر کے روز شروع ہونے والے آپریشن میں اب تک سو سے زائد بلوچ مردو خواتین شہید ہوچکے ہیں ، اس دوران پاکستانی فوج نے آوران کے علاقوں وہلی، لکو کچ، سید حاجی زیارت، زیرک، گوارو، نیلتاکی، بشوشگ اور مالار کو چاروں طرف سے اپنے مکمل محاصرے میں لیا ہوا ہے ، اس دوران جیٹ طیاروں اور گن شپ ہیلی کاپٹروں کی مدد سے وقفے وقفے سے بمباری کا سلسلہ جاری ہے جس سے کئی چھوٹی بلوچ بستیاں صفحہ ہستی سے مٹ چکی ہیں ، اس فضائی و ذمینی آپریشن میں پاکستان کے سینکڑوں کمانڈوز نے مختلف بلوچ بستیوں کو گھیر کر ان پر دھاوا بول کر قیمتی مال و اسباب لوٹنے کے بعد گھروں پر آتش گیر مادہ چھڑک کر انہیں آگ لگادی ۔ عینی شاھدین کے مطابق ان علاقوں میں بلوچوں کے بے گورو کفن لاشیں ہر جانب پھیلی ہوئی ہیں جس کی وجہ سے اب وہاں سے تعفن اٹھنے لگا ہے ، مسلسل محاصرے کی وجہ سے زخمی افراد کو طبی امدا میسر نہیں اس لیئے شدید زخمی افراد میں سے کئی زخموں کی تاب نا لاتے ہوئے جانبحق ہوئے ہیں ۔ علاقے میں پانی اور راشن کا شدید قلت پیدا ہوچکی ہے جس سے یہ شبہ ظاھر کیا جارہا ہے بھوک و پیاس کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد میں کئی گنا زیادہ اضافہ ہوسکتا ہے ، اس مسلسل محاصرے کی وجہ بیان کرتے ہوئے بلوچ مبصرین کا کہنا ہے کہ سینکڑوں کی تعداد میں بلوچوں کو شہید کرنے کی وجہ سے اب پاکستانی فوج میڈیا کو اس علاقے میں رسائی دینے سے کترارہا ہے اور محاصرہ ختم کرنے سے پہلے لاشوں کو نامعلوم مقام پر اجتماعی قبروں کی صورت میں دفن کرکے اپنے گناہوں پر پردہ ڈالنا چاہتا ہے ، یہ شبہ ظاھر کیا جارہا ہے کہ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی پاکستانی فوج آپریشن کے نام پر پہلے سے لاپتہ بلوچوں کو مار کر ان علاقوں میں پھینک کر عسکریت پسند ظاھر کرنا چاہتا ہے ۔
ایک طرف آوران میں تاریخ کی بدترین بلوچ نسل کشی کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری طرف پاکستان نے گذشتہ تین دن سے پسنی کے علاقوں ببر شور اور ریک پشت کو بھی مکمل اپنے محاصرے میں لیا ہوا ہے اور گھر گھر تلاشی کے نام پر گھروں میں لوٹ مار مچایا ہوا ہے ، اس دوران چادر و چاردیواری کی پامالی کرتے ہوئے پاکستانی فوج نے نا صرف خواتین و بچوں کو زدوکوب کیا بلکہ کئی بلوچ مردوں پر بد ترین تشدد کرکے انہیں اغواءکرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے جن میں خدا گنج ولد عیدو ، غوث بخش ولد سخیدار،رفیق مراد ولد مراد،صابر ولد برات ،ظفر جان،پولیس حوالدار مراد ولد صالح ، سرتاج ولد صالح ، واہگ دوست دل،شکیل ، ناصر شامل ہیں ، آخری اطلاعات آنے تک اب بھی مذکورہ علاقے فوج کے محاصرے میں تھے ۔
بلوچستان میں جاری حالیہ تیز ترین بلوچ نسل کشی اور آپریشنوں کو بلوچ تبصرہ نگار پاکستان چین اقتصادی راہداری معاہدوں سے جوڑ رہے تھے ، ان کا کہنا ہے کہ پاکستان ان علاقوں سے بلوچ نسل کی صفائی کرکے یہاں نو آبادکاری چاہتا ہے تاکہ چین کو ان علاقوں میں محفوظ سرمایہ کاری کا موقع دیا جائے اور دوسری طرف بلوچوں کو اقلیت میں بدل کر بلوچ قومی تحریک آزادی کو کمزور کیا جاسکے۔ اس حوالے سے پاکستان نے اپنے ارادے اس وقت مکمل طور پر طشت ازبام کردیئے جب گذشتہ دن قابض پاکستان کے فوج کے چیف آف آرمی اسٹاف راحیل شریف نے بلوچستان کے علاقے پنجگور میں آکر اس جاری بلوچ نسل کشی کا جائزہ لیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ حالیہ نسل کش آپریشنوں میں مزید شدت لائی جائیگی اور بلوچ آبادیوں پر ذمینی و فضائی حملے جاری رہیں گے ، انہوں نے اپنے آپریشنوں کے اس سلسلہ کو بھی اقتصادی راہداری کی کامیابی کی ضمانت قرار دیا ، انہوں نے کہا ہے کہ ” گوادر پروجیکٹ سے پاکستانی کی بقا وابستہ ہے اور پاکستانی آئین و اسکو نہ مانے والوں کے خلاف زمینی و فضائی کاروائی جاری رہے گی“ ۔ پاکستانی قبضہ کو بلوچستان پر آج پوری بلوچ قوم مسترد کرتی ہے اس سے صاف ظاھر ہے کہ پاکستانی فوج کے سربراہ بلوچ قوم کو مٹانا چاہتا ہے ، اور آوران سمیت بلوچستان کے دوسرے علاقوں میں شدت کے ساتھ بلوچ نسل کشی ان کے انہی عزائم کا شاخسانہ ہے ۔
ایک طرف پاکستانی آرمی آوران سمیت بلوچستان بھر میں ایک بدترین نسل کشی کا مرتکب ہوکر تاریخ میں انسانی المیوں کا ایک نیا باب رقم کررہا ہے اور دوسری طرف پاکستان فوج کے چیف ببانگ دہل بلوچوں کو مٹانے اور ان آپریشنوں کے شدت میں اضافے کا اعلان کررہا ہے لیکن ان دہشت گردانہ عزائم اور عوامل کے خلاف افسوسناک حد تک نا صرف عالمی و علاقائی میڈیا غافل نظر آتا ہے بلکہ انسانی حقوق کے ذمہ دار ادارے اور امن عالم کے غرض سے قائم اقوام متحدہ بلوچستان میں جاری اس نسل کشی کو اپنے مصلحت پسندانہ خاموشی کا نظر کرکے ایک اور آرمینیا ، بوسنیا ، بنگلہ دیش جیسی انسانی المیے کو دعوت دے رہے ہیں ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] اداریئے. RSS 2.0