اب بس بھی کرو:تحریر : اسامہ بلوچ

منگل 24 نومبر, 2015

سنو پیاری بہن..!
اب بس بھی کرو چلانا تمہیں تو پتہ ہی ہے میں کر کیا سکتا ہوں جو کچھ ہو رہا ہے ہونے دو اپنے ساتھ بس سہتی جاو بہن، میں وہی بے ہس بھائی ہوں جسے آئے روز مسخ لاشیں دیکھ کر فرق نہیں پڑتا اجتماعی قبریں دیکھ کر میں سویا رہا اور فلاں آپریشن میں ماؤں بہنوں کو گھسیٹا گیا، بندوق کے بٹ سے مارا گیا لاتیں ماریں گئیں ڈنڈے برسا کر ان پر تشدد کیا گیا یہاں تک ان کے کپڑے پھاڑ دیئے گئے انہیں گاڑیوں میں جانوروں کی طرح لاد کر لیجایا گیا اُن ماں بہن بیٹیوں کی چیخ و پکار سن کر مجھے کیا فرق پڑا کہ تم اب بھی مجھ سے امید لگائے ہوئی ہو؟
مجھے میرے زات میں ہی گم رہنے دو تم کس خونی رشتے کی بات کرتی ہو؟ میں کیا سمجھا ہوں آج تک کہ رشتہ کیا ہے؟ مجھے تو یہ بھی نہیں پتہ تھا کہ کہ میرا میرے قوم سے غلامی کا رشتہ بھی ہے دوست کہتے تھے کہ ایک غلام دوسرے غلام سے ایک فکری رشتہ ہوتا ہے اسے کبھی سمجھ ہی نہیں پایا اس کو کبھی اہمیت ہی نہیں دی،
کاش میں یہ رشتے سمجھ پاتا تو شاید میں بہت پہلے جاگ جاتا بھائیوں کی سڑک کنارے لاشیں دیکھ کر احساس ہو جاتا یا ماں بہنوں کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر جاگ جاتا جن کے بھائی باپ بیٹے کئی سالوں سے لاپتہ ہیں ہیلی کاپٹر سے گرائے گئیں مسخ لاشیں دیکھ کر ہوش کے ناخن لیتا، ماں اور بہنوں کی فوجی گاڑیوں میں خون سے لت پت زندہ لاشیں دیکھ کر سمجھ جاتا اُن بہنوں کی آبرو سے کھلواڑکرتے ہوئے اُس فوجی کی اس قوم سے نفرت بھری مسکراہٹ دیکھ کر میں سمجھ جاتا کہ دشمن کو مجھ سے میرے قوم سے کتنی نفرت ہے وہ کونسی ظلم ہے جو میری آنکھوں سے نہیں گزری، مجھے تو ظلم کے آخری پہاڑ کے ٹوٹنے کا انتظار تھا، شاید یہ سب کافی نہیں تھے مجھے سمجھانے کے لیے کہ غلامی کا رشتہ ہونے کے ناطے کل کو میں بھی قابض کے ظلم کی زد میں آ سکتا ہوں. میں نے تو یہ بات زہن سے ہی نکال دی تھی کہ میں بھی ایک غلام ہوں دوستو کے ساتھ ہوٹل پر بیٹھا چائے کی چسکیاں دوستوں سے ہنسی مذاق میں مشغول تھا، مجھے کیا پتہ تھا کہ آج میرے ہی گھر وہ قیامت آئیگی جسے میں روز دیکھ کر منہ موڑتا رہا مجھے کیا پتہ کہ دشمن گھر کا دروازہ توڑ کر گھر میں داخل ہو گا بیمار امی جان کے سر کو شیشے سے مار کر اسے گھیسٹ کر مارتے ہوئے ٹوٹے ہوئے دروازے کے پاس مرنے کے لئے چھوڑ دیگا، میں تو انجان تھا کہ جب لوٹونگا تو گلی میں مجھے میری پیاری بہن کے بالوں کا کچھ حصہ سر کے جلد کے ساتھ پاونگا. اگر میں بہت پہلے سمجھ جاتا کہ میں غلام ہوں اور ان ظلم سہتی مظلوم ماں اور بہنوں کا مجھ سے غلامی کا رشتہ ہے، تو شاید آج تمہیں بچانے کی کوشش کرتا پیاری بہن مجھے سویا رہنے دو اور پونچھ لو ان آنکھوں سے آنسو اور بچا کر رکھو انہیں شاید خنزیر دشمن کو یہ خون بھرے آنسو دیکھانے سے ایک دن اور تماری آبرو سلامت رہے.
تم کن بھائیوں سے امید رکھتی ہو تم کونسے اداروں کی بات کرتی ہو کہاں جاؤ کس سے تمارے لیے احتجاج کا کہوں یہاں تو پارٹیوں کی بھر مار ہے ہر کسی نے اپنے لیے ڈیڈھ انچ کی مسجد بنا رکھی ہے کوئی ایک ادارہ تو نہیں یہاں جو ایک آواز ہو کر تماری جیسے بہنوں کا درد کسی کو سنا سکے یہاں تو محافظوں نے خود لوگوں کا جینا حرام کر رکھا ہے وہ تو خود تماری جیسی بہنوں کے گنہگار ہیں ان سے کیا امید رکھنا یہاں تو منشیات فروشی کے ذریعے ہماری غلام نسل کو تباہ کیا جا رہا ہے لوگوں کو بغیر ثبوت کے مخبر قرار دے کر مارا جا رہا ہے بس شخصیت پرستی کا بول بالا ہے یہاں تو مفاد پرستوں کو خدا بنا لیا گیا ہے یہاں سیاسی ادارے بھی مسلح گروہوں کے زیر اثر کام کرتی ہیں جس قومی ادارے نے قومی سوچ کو نقصان سے بچانے کے لیے ان کو روکنا چاہا ان مفاد پرستوں نے اس ادارے ہی کو توڑنے کی سازشیں کیں اسے کمزر کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی ایسے سازشی عناصر اور چوروں کو توڑنے والوں کو پناہ دیا، جہاں کوئی احتسابی پر یقین نہیں رکھتا وہ بلا کیا انصاف دے سکتے ہیں تمہیں؟ یا ان لوگوں سے انصاف مانگو گی جو ان تمام حقائق ریاست کے ظلم وجبر سے واقف ہوتے ہوئے بھی صف چوڑ کر بھاگ رہے ہیں اور اپنی زات کو خوش کر رہے ہیں یا ان حادثاتی نوابوں سے انصاف مانگتی ہو جو پوری قوم کو دس لاکھ ڈالر کی وارثی کا طعنہ دے کر ریاست کی گود میں بیٹھنے کے لئے راہ ہموار کر رہے ہیں؟ کوئی نہیں آئیگا بہن مجھ جیسے بے ہس بھائی کو بھی آواز دینا بند کرو خدا کرے تم کھبی لوٹ ہی نا آؤ وہی دفن ہوجاو یہاں تو کوئی تم سے آنکھیں ملانے والا ہے اور نہ ہی کوئی تمارے سوالات کا جواب دینے والا بس زندان میں اپنے تذلیل کے لیے تیار رہو یا اپنے آبرو کو بچانے کیلئے کسی طریقے سے جان دے دو لیکن یہ چیخنا چلانا اب بس بھی کرو،،

image_pdfimage_print

[whatsapp] آرٹیکلز. RSS 2.0