اتحاد قومی یا گروہی مفادات کے تحت۔ تحریر: نوبت مری

منگل 14 اکتوبر, 2014

بلوچ قومی جدوجہداپنے پیچھے ایک بہت طویل تاریخ رکھتی ہے۔ اس طوالت کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اسے کبھی بھی سطح بلوغت کو چھونے نہیں دیا گیا،یہ کبھی طفلی سطح سے آگے گیا ہی نہیں ۔ ایسا کبھی ہماری نادانیوں و ناسمجھیوں کی وجہ سے ہوا تو کبھی قابض طاقتوں کی چالبازیوں کی وجہ سے جس کی وجہ سے ماضی کی جدوجہد اپنا Objective حاصل کیے بغیر مایوسی کا سبب بن کر تعطل کا شکار ہوگئے۔ 70 کی جدوجہد شروع آزادی کے لیے ہوئی لیکن جلد ہی اس کو سوشلسٹ اور انقلابی نعروں نے اپنے لپیٹ میں لے لیا ۔ لندن گروپ یا لندن پلان اس کو کہیں زیادہ مناسب ہوگا جب چند پنجابی لندن سے بلوچستان پہنچ گئے اور ہمارے صفوں میں گھس کرتحریک کا رخ آزادی سے موڑ کر انقلابی کھوکھلے نعروں کی طرف لے گئے، جس نے بلوچ قومی جدوجہد کو ناکام کرنے میں بڑا کردار ادا کیا لیکن اس کی سب سے زیادہ بھاری قیمت مری قبیلے کو چکانا پڑا ۔ اسی جدوجہد میں مری قبیلے کے لگ بھگ 20 ہزار افراد جس میں مرد بچے بوڑھے ضعیف خواتین شامل تھے نے افغانستان میں پناہ لیا ہوا تھا، وہ پہلے قندھار پھر ہلمند ہجرت کرگئے، وہاں بھی ان پر پاکستانی ملاﺅں نے بمب برسانے شروع کردیئے، کئی بچوں بوڑھوں مرد و خواتین کو شہید کیا گیاایک ہزار سے زائد بچے اور بوڑھے خوراک کی کمی اور مختلف بیماریوں کی وجہ سے لقمہ اجل بن گئے لیکن پھر بھی مری قبیلے نے ہار نہیں مانی سب کچھ برداشت کیا ۔ پھر مری قبیلے کو پاکستانی سازشوں نے دو حصوںبجارانی اور گزینی میں تقیسم کردیا قبیلے کو آپس میں لڑانے کی ایڑی چوٹی کا زور لگایا گیا لیکن نواب مری کی دور اندیشی نے پاکستانی ایجنسیوں کے ہر چال کو ناکام بنادیا، اس تقسیم سے مری قبیلہ بلا شک کمزور ہوگیا لیکن اسے میں کمزوری نہیں سمجھتاکیونکہ قبیلہ یا قوم کمزور اس وقت ہوتا ہے جب خانہ جنگی میں چلاجائے مری قبیلے کو نواب مری اور حیربیار مری نے خانہ جنگی سے بچایا اور اپنی طاقت کو بجارانی شاخ کے خلاف استعمال کرنے کے بجائے دشمن کے خلاف استعمال کر کے اسے پوری قومی طاقت بنایا ۔
اس وقت بلوچ سرزمیں جسطرح قابضین کے قبضے میں ہے اور جو بلوچ قوم کی حالت زار ہے وہ وہ گزشتہ نادانیوں اور خانہ جنگیوں کے سبب ہے جس نے بلوچ کو کمزور کیا اور قابضین کے لئے بلوچستان کو ایک ترنوالہ بنایا۔ نوے کے دھائی میں جب افغانستان کو پاکستانی ملاﺅں نے کنٹرول میں لے لیا تو وہاں بھی انہوں نے مری قبیلے کو نشانہ بنانا شروع کردیا۔ جوانوں کو بازار سے اغوا کر کے انہیں شہید کر کے پھینکنے لگے جو kill and dump پالیسی پاکستانی ایجنسیاں اس وقت بلوچستان میں خود براہ راست اور اپنے زرخرید مذہبی ایجنٹوں سے کر وارہے ہیں یہی پالیسی افغانستان میں پاکستانی زرخرید ملا مری قبیلے کے ساتھ کر رہا تھا۔ جس نے مری قبیلے کو بلوچستان واپس آنے پر مجبور کیا حیر بیار مری اس وقت اپنا تعلیم روس سے مکمل کر کے ہلمندپہنچے تھے۔ انہوں نے اپنا ٹیم بنایا سنگت اکٹھے کیے خود دن رات ایک کر کے جو سامان افغانستان میںمری قبیلے کی حفاظت اور قومی جدوجہد آزادی کے لے اکٹھا کیا گیا تھا اسے بلوچستان لے آیا شاید استاد واحد قمبر کو بھی یاد ہوگا کہ کیونکہ واحد قمبر بھی جہاں تک میں نے سنا ہے شہید فیض محمد کے ساتھ ایک یا دو مرتبہ مڈی کو دریا سے پار کروا کر ریگستا ن پہنچانے میں ساتھ تھے۔ جہاں حیربیار مری اور اس کے ساتھی انہیں وہاں سے بلوچستان شفٹ کرتے تھے یعنی جن اذیتوں سے گذر کر اس مڈی کو جدوجہد کودوبارہ منظم کرنے کے لیے بلوچستان پہنچایا گیا وہ شاید حیربیار مری اور اس کے ساتھی جانتے ہوں گے کیونکہ وہ تکالیف انہوں نے سہے ہیں، یہ داستان کافی طویل ہے لیکن مختصرا یہ کہ جو مڈی حیربیار مری لایا اسے پورے بلوچستان میں جدوجہد کو منظم کرنے کے لیے تقسیم کیا گیا اور سنہ 2000 میں عملی طور پر جدوجہد کاآغاز ہوگیا۔
شروع سے لے کر آج تک حیربیار مری ہمیشہ قومی یکجہتی اور اتحاد کے لیے کوشاں رہے اور نیک نیتی سے آج تک اس قومی آزادی کی جدوجہد کو آگے لے جانے کی کوشش کرتے رہے ہیں اور بین الاقوامی طور پر بلوچ قومی آواز کو پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں جس کی وجہ سے حیربیار مری کے لیے باہر آنا جانا مشکل بنادیا گیا گھنٹوں ائیر پورٹوں پر روک کر تنگ کرناان سے طرح طرح کے سوالات پوچھنا معمول بن چکا ہے۔ اس کے باوجودبھی حیربیار مری سب کچھ برداشت کرر ہا ہے آج جب جدوجہد کے نام پر ہمارے لیڈر صاحبان نے دکانداریاں شروع کی ہیں قومی یکجہتی کو پارہ پارہ کر کے ہر کوئی روز نئی دکان سجاتا ہے اور اس پر مستزادیہ یہ کہ قومی مفادات سے منفی اعمال رکھنے کے باوجود وہ کسی طور یہ تیار نہیں کہ کوئی ان کے کردار پر تنقیدانہ جائزہ لے، اور جب ان پر تنقید ہوئی تو پھر آج بلوچ قومی آزادی کی جدوجہد کرنے والے بھی حیربیار کے خلاف ہوگئے اور بلوچ قوم کے سامنے طرح طرح کے پروپگینڈے کر کے ان کے کان بھرے جارہے ہیں کہ حیربیار ایک ڈکٹیٹر ہے وہ سٹالن بننا چاہتا ہے سب کو ڈکٹیٹ کرنا چاہتا ہے وغیرہ۔ میرا ان سے ایک سوال ہے کہ جس وقت جدوجہد شروع ہوا اس وقت بھی یہی حیربیار سب سے بات کرتا تھا سب کو کام کرنے کا طریقہ بتاتا اور کمک کرتا تھا اس وقت ڈکٹیٹر نہیں تھا کیونکہ اس وقت آپ کمزور تھے آج جو حیربیار کی وجہ سے قوم نے آپ کو کوئی طاقت دیا تو آپ اسی حیربیار کو ڈکٹیٹر اور خود قوم کو غلام بنانے کی چکر میں پڑگئے ۔ اس تنقید کرنے پر حیربیار مری کے خلاف زہر افشانی اور ان کے سنگتوں کے خلاف گالی گلوچ اور تضحیک آمیر شعر و شاعری کیا جانے لگا۔لیکن اس کے باوجود حیربیار سب سے قومی آزادی کے ایجنڈے پر اتحاد کے لیے کوشاں ہیں بلوچ لبریشن چارٹر کی صورت میں جو دستاویز تخلیق کیا گیا، اس کو تمام آزادی پسندوں اور قوم کے سامنے مرحلہ وار پیش کیا گیا آج کوئی ایسا شخص گواہی نہیں دے سکتا کہ حیربیار نے اس کے کسی بھی آرٹیکل میں قوم کو ڈکٹیٹ کیا ہو یا اپنا کوئی مفاد رکھا ہو۔ لیکن اس چارٹر کو بھی سبوتاژ کرنے کے لیے ہمارے آزادی پسند لیڈران نے قوم کو حیربیار کے خلاف گمراہ کرنے کی کوشش کی۔ کچھ عرصے پہلے بی ایل ایف کی جانب سے حیربیار مری کو قومی آزادی کی جدوجہد کے لیے نقصاندہ قرار دینے والا بیان پڑھ کر مجھے بالکل بھی حیرت نہیں ہوا کیونکہ یہ انسانی فطرت ہے جب تک بچہ چھوٹا ہوتا ہے کمزور ہوتا ہے ماں باپ اسے پال پوس کر بڑا کرتے ہیں طاقتور توانا بنادیتے ہیں اور وہی بچہ بڑا ہوکر ماں باپ کو بھول جاتا ہے اور ماں باپ کی ہر بات ان کوغلط لگنے لگتی ہے جب دوستوںمیں بیٹھتے ہیں تو ہر کوئی اپنے والد کے بارے میں بات کرتے وقت ہٹلر کے لقب کا انتخاب کرتا ہے۔
آج کے حالات کے تناظر میں جہاں ہمارے آزادی پسند لیڈران حیربیار مری کو قومی آزادی کی جدوجہد کے لیے نقصاندہ قرار دے رہے ہیں اور سننے میں آرہا ہے کہ حیربیار مری مڈی کے لیے زامران مری سے لڑنے پر آمادہ ہوا ہے اور مڈی کے لیے جو اصطلاح یعنی قومی مڈی کا سوشل میڈیا میں استعمال کیا جارہا ہے اس پر میں تھوڑا سا روشنی ڈالنے کی کوشش کرونگا اور چند حقائق قوم کے سامنے لانے کی کوشش کرونگا جس حیربیار مری کو قومی آزادی کی جدوجہد کو نقصان دینے اور اتحاد کو توڑنے کے الزام لگایا جارہا ہے اس نے چارٹر سے لے کر اب تک قومی اتحاد کے لیے کیا کوششیں کیںان پر ذرا ان آزادی پسندوں سے سوال کیا جائے
کہ کیا حیربیار مری نے تمام آزادی پسندوں کو بلوچ لبریشن چارٹر کے دونقاط پر اتفاق کرنے یعنی قومی آزادی اور آزادی کے بعد ایک سوشل اورجمہوری ملک تشکیل دینے کے لیے کوشش نہیں کیا؟ اس کا جواب ہمارے آزادی پسند لیڈروں نے کیا دیا؟ یہی کہ تمام پارٹیوں کا اپنا آئین اور چارٹر ہے ۔
اس کے بعد حمل حیدر کو بی این ایم اور ڈاکٹر نے اپنا نمائندہ بنا کرحیربیار کے پاس اتحاد کے لیے بھیجا ان کے ساتھ ایک اور دوست تھا جس کا نام میں سکیورٹی کی وجہ سے نہیں لینا چاہتا تو حیربیار مری نے ان سے پوائنٹس لانے کے لیے کہا کہ اتحاد کے لئے اپنے پواینٹس لاﺅ حمل حیدر اور ڈاکٹر سے سوال کیا جائے کہ کیا انہوں نے آج تک وہ پوائنٹس بھیجے؟ یہاں پر بشیر زیب کے آرٹیکل میں حیربیار مری کے اللہ نظر سے 2010 میں اتحاد کے لیے براہ راست بات چیت زیر بحث نہیں۔
براہمدغ بگٹی سے حیربیار مری کا ذاتی طور پر جنیوا جاکے ملاقات کرنا اور اتحاد کے لیے چارٹرپیش کرنا اور پھر براہمدغ کا جواب نہ دینا اور فون بند کرنا اس پر بھی پہلے کافی لکھا اور کہا جا چکا ہے لیکن اس کے بعد دوبارہ حیربیار مری کی براہمدغ بگٹی سے اتحاد کے لیے ملاقات کی کوشش کا ذکر کرونگانواب مری کے وفات کے بعد دوسرے دن جہا ں تک مجھے یاد ہے براہمدغ نے حیربیار کو فون کیا تعزیت کی تو حیربیار مری نے براہمدغ بگٹی سے کہا کہ میں دو دن میں جنیوا آرہا ہوں تو وہاں پر ملاقات کریں گے دوستوں نے حیربیار سے زامران مری سے بھی ملنے اور بات کرنے کا مشورہ دیا حیربیار نے سب دوستوں کے سامنے کہا کہ قومی آزادی کے لیے میں تمام دنیا کے لوگوں سے مل کر بات کرتا ہوں تو اپنوں سے کیوں نہیں کرونگا یعنی زامران نے جو بھی جرم کیے تنظیم توڑا اس کے باوجود حیربیار مری قومی مفادات کے تناظرمیں زامران مری سے بات کرنے پر آماد ہ ہوگئے۔اس سلسلے میں ہم نے طارق فتح کو میسج کیا کہ وہ زامران کو کہیں حیربیار کو فون کرے بات کرے طارق کو ہم نے اس لیے میسج کیا کیونکہ وہی زیادہ تر زامران کے ساتھ ہوتا ہے طارق فتح نے کہا کہ میں آپ لوگوں کا میسج دونگا اس کے بعد نہ طارق فتح کا کوئی میسج آیا نہ زامران نے کوئی فون کیا۔ اس کے دو دن کے بعد حیربیار مری جنیوا روانہ ہوئے تو میں، شبیر، فیض اور جمال ناصر بھی ان کے ساتھ گئے ہماری کوشش تھی کہ جب براہمدغ حیربیار سے ملاقات کریںگے تو زامران بھی ساتھ ہوں اور حیربیار مری نے اس پر اتفاق کیا کہ ہم سب سے ملیں گے اور قومی یکجہتی کے لیے سب سے بات کرنے کو تیار ہیں۔اسی دوران کچھ سندھی قوم پرست جو کافی عرصے سے براہمدغ حیربیار اور زامران کی ملاقات کروانےکی کوشش کر رہے تھے وہ بھی امریکہ اور یورپ سے جنیوا آئے جن میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک امریکن عورت بھی شامل تھی وہ براہمدغ اور زامران سے ملنے کے بعد مایوس واپس لوٹ گئی۔ ان سے ملاقات کرنے کے بعد سندہی قوم پرست دوستوں نے حیربیار سے ملاقات کی اور براہمدغ اور زامران کے رویے پر مایوسی کا اظہار کیا اور دوسر ے دن واپس امریکہ چلے گئے۔دس دن حیربیار اور ہم باقی سنگت جنیوا میں موجود رہے لیکن کبھی نہ زامران نظر آیا اور نہ ہی براہمدغ جس دن ہم واپس آگئے دوسرے یا تیسرے دن یو این کے دفتر کے آگے براہمدغ، زامران، حمل حیدر، جاوید، نورالدین اور بختیار ڈومکی ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے تصاویر انٹرنیٹ میں شائع ہوئے اور اس کے کچھ ہفتے کے بعد ڈومکی علاقے میں ایک نئی تنظیم بلوچ ریپبلکن گارڈ نمودار ہوا یعنی اتحاد کے بجائے ایک نیا دکان کھولا گیا۔ اس پر حیرت نہیں ہوا کیونکہ آزادی کے نام پر یہی کیا جاتارہا ہے اتحاد
کی بات کر کے روزقوم کو بے وقوف بنانے کے لیے نئی پارٹیاں اور تنظیم بنائے جارہے ہیں اگر یہی اتحاد ہے تو مجھے نہیں لگتا کہ حیربیار مری یا ہمارا کوئی سنگت جو اس جدوجہد کو منزل تک پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں قبول کرےں گے کیونکہ ہماری نظر میں یہ قوم سے دھوکہ ہے اور اسے کوئی بھی ذی شعور انسان قبول نہیں کر سکتا۔
حیربیار مری نے جب چارٹر پیش کیا تو اسے یہ کہہ کر بی این ایم ، بی ایس او اور بی آر پی نے مسترد کر دیا کہ حیربیار مری کا کوئی پارٹی نہیں ہے لہذا پہلے وہ کوئی پارٹی بنائےں یا کسی پارٹی میں شمولیت کرےں تو پھر چارٹر پر غور کیا جاسکتا ہے۔ ان کی اس سوچ پر بالکل بھی تعجب نہیں ہوتا کیونکہ وہ قومی آزادی اور یکجہتی کے نام پر یہی تو کر رہے ہیں۔ جاوید مینگل کی لشکر بلوچستان براہمدغ کی بی آر اے زامران مری کی بی ایل اے کو توڑ کر یوبی اے حمل حیدر کی بی این ایم بختیار ڈومکی کو اس اتحاد میں شامل کرنے کے لیے بی ا ٓر جی کا قیام یعنی اتحاد کے لیے یا تو آپ کسی پارٹی یا تنظیم کو توڑ کر اتحادکی بات کرو یا پھر کوئی نیا پارٹی یا تنظیم چاہے وہ ایک شخص کیوں نہ ہوتشکیل دے کر پھرقومی یکجہتی کا اظہار کرو
حیربیار مری ایسے اتحادوں کے خلاف ہے جو قوم کو بے وقوف بنانے کے لیے اور قوم کے نام پر دکانداری کے لیے بنائے جاتے ہیں اب فیصلہ قوم کرے کہ حیربیار مری قومی جدوجہد کو نقصان دے رہے ہیں یا وہ پارٹیاں اور تنظیمیں جنہوں نے تنظیمیں توڑ کر یا قوم کے نام پر نئی پارٹیاں بنا کر اتحاد کی باتیں کر تے ہیں یہاں تو جدوجہد کے نام پر وار لارڈز بنائے جار ہے ہیں۔جس طرح افغانستان میں نوے کی دھائی میںڈاکٹر نجیب کے دور میں افغانستان کی دفاع کے لیے قومی کنڈک بنائے گئے تھے بعد میں وہی میلیشیا طاقتور ہو کر وارلارڈ بن گئے اور افغانستان میں خانہ جنگی کا سبب بنے ہمارے ہاں بھی مسلح تنظمیں وہی افغانستان والی کنڈک بن گئے ہیںاور ان کے سربراہ وارلارڈ بنتے جارہے ہیں تحریک کے شروع میں بی ایل ایف کو بی ایل اے نے حکمت عملی کے تحت بنایا آج وہ طاقتور ہوکر نہ تو بی ایل اے کے ساتھ کسی انضمام کے لیے تیار ہے بلکہ بی ایل اے کو اپنے محفلوں میں قبائلی ملیشیا تک کہتے ہین اور بی ایل اے کے سنگت جب ان سے انضمام کرنے اور قومی فوج تشکیل دینے کی بات کرنے گئے تھے تو ان کا مذاق اڑایا گیا، آج بی ایل اے کو مکران میں برداشت نہیں کیا جاتا ہے بالکل اسی طرح جس طرح ایک کنڈک دوسرے کو اپنے حدود میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتا تھا یہ سب ہمارے نظروں کے سامنے سے گزرے ہیں مجھ سے زیادہ ان کے بارے میں استاد واحد قمبر اور عبدالنبی بنگلزئی علم رکھتے ہیں کیونکہ کچھ دن کے لیے وہ بھی ان میں سے ایک کنڈک کے مہمان رہے ہیں۔ میں استاد واحد قمبر عبدالنبی بنگلزئی اور افغانستان میں موجود ان تمام سنگتوں سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ بی ایل ایف، یوبی اے، لشکر بلوچستان ،بلوچستان ریپبلکن گارڈ اور بلوچ ریپبلکن پارٹی کا موازنہ ان قومی کنڈکوں سے کریں جو افغانستان کے دفاع کے لیے بن کر بعد میں افغانستان میں خانہ جنگی کا سبب بنے ان میں اور ہمارے قومی آزادی کے لیے بننے والے تنظیموں میں کیا ہمیں کوئی فرق دکھائی دیتا ہے ؟ اگر نہیں تو پھر کیوں آج بی ایل اے کو غلط کہا جارہا ہے جب وہ ایک قومی فوج تشکیل دینے اور بی ایل ایف اور بی ایل اے کی انضمام کی بات کرتا ہے یا مھران کو یو بی اے کو ختم کرنے اور بی ایل اے کے پلیٹ فارم میں کام کرنے کا آفر کرتا ہے حیربیار کو بلوچستان لبریشن چارٹر پیش کرنے اور ایک منظم اتحاد بنانے کی کوششوں پر کیوں ڈکٹیٹر کا لقب دیا جاتا ہے اور بلوچستان لبریشن چارٹر کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں کیوںکی جاتی ہیں؟۔
یوبی اے بی ایل اے کو توڑ کربنایا گیا آج اسی یوبی اے نے بی ایل اے کے مڈی پر قبضہ کر کے تھوڑی بہت طاقت حاصل کرلی تو وہی مڈی آج بی ایل اے کے کمانڈروں کے خلاف استعمال کر رہا ہے اور دشمن کے بجایے بی ایل اے کے خلاف لڑنے پر تیار ہوا ہے۔ ڈیرہ بگٹی اور نصیر آباد بیلٹ میں بی ایل اے کی موجودگی کے باوجود بی آر اے کا قیام اور پھر بی آر اے کی موجودگی میں بلوچ ریپبلکن گارڈ کا قیام کیا ہم قومی آزادی کے نام پر یہاںافغانستان کی طرح کنڈک نہیں بنارہے ہیں اور آزادی کے نام پر وارلارڈ ز نہیں بنارہے ہیں کل یہی بی آر جی طاقتور ہو کر بی آر اے کے خلاف کھڑا ہوجائیگا جس طرح بی ایل ایف آج بی ایل اے کو مکران میں برداشت نہیں کرتا ہے کل بی آر جی اسی طرح نصیرآباد میں بی آر اے کو برداشت نہیں کرے گا کل لشکر بلوچستان بی ایل ایف بی این ایل ایف اور بی آرجی اور بی آر اے طاقت حاصل کر کے ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہوجائنگے کیا پھر ہم اس قوم کو اور بلوچستان کو خانہ جنگی سے بچا پائیں گے ؟
اگر جواب نہیں میں ہے تو آج بی ایل اے اگر زامران مری سے یو بی اے کو ختم کرنے اور ساتھ کام کرنے کی آفر دے رہا ہے تو بی ایل اے کے اس قدم کو خوش آئیند کہنے اور اس کی حمایت کرنے کے بجائے کیوں یو بی اے اور زامران مری کی حمایت کیا جارہا ہے؟

کل بی ایل ایف کا ایک بیان نظروں سے گذرا کہ انہوں نے 2011 سے بی ایل اے اور یوبی اے کے مسلئے کو حل کرنے کی کوشش کی لیکن انہیں کامیابی نہیں ملا بی ایل ایف نجانے کونسی کوشش کی بات کر رہے ہیں ؟ ہوسکتا ہے کوئی خفیہ کوشش کیا ہوجس کا ہمیں علم نہیں ہو جہاں تک ہماری معلومات ہے تو یوبی اے کے مسئلے پر بی ایل اے کے سنگتوں نے سب سے پہلے بی ایل ایف کو کردار ادا کرنے کی بات کی لیکن بی ایل ایف نے کیا کردار ادا کیا یا کیا کوششیں کیئے اس کو قوم کے سامنے لائیں، جہاں تک بشیر زیب کی آرٹیکل میں جو معلومات ہیں اس سے تو یہ ظاھر ہوتا ہے کہ اس مسئلے کے بابت بی ایل ایف نے کوئی کوشش نہیں کیا بلکہ اس مسئلے پر خاموشی اختیا ر کی۔
آج حیربیار مری کے خلاف ہمارے آزادی پسند وں نے آسمان سر پر اٹھا لیا کہ حیربیار مری قومی جدوجہد کو نقصان دے رہے ہیں اور مریوں کو مڈی کے لیے آپس میں لڑانے کی کوشش کر رہے ہیں جہاں تک میں سمجھتا ہوں اور جہاں تک میں نے دیکھا ہے اس جدوجہد کے شروع سے لے کر اب تک اور جہاں تک افغانستان میں جس وقت حیربیار مری اور ان کے ساتھی اس مڈی کو افغانستان سے بذریعہ ریگستان منتقل کر رہے تھے اس میں نہ زامران مری نا ہی ناڑی مراد اور نا ہی قادر اور رحمدل کا کوئی کارنامہ تھا اس کے گواہ استاد قمبر بھی ہےں۔ یہ مڈی وہاں پارٹی مڈی کہا جاتا تھا اور اس حساب سے اس مڈی کا حقدار صرف بی ایل اے ہے کیونکہ جنہوں نے یہ مڈی منتقل کیا وہ سب بی ایل اے کے سنگت ہیں اس مڈی کے لیے قومی اصطلاح ہی غلط ہے، اگر بی ایل اے نے قومی جدوجہد کو منظم کرنے کے لیے سب کو کمک کیا تھا وہ ان کی جدوجہد سے نیک نیتی ہے یہ مڈی دشمن کے خلاف استعمال کرنے کے لیے لایا گیا تھا لیکن یوبی اے اس وقت ان پر قابض ہو کر انہیں بی ایل اے کے کمانڈروں کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے آج اگر حیربیار کے سنگت ناڑی مراد کے طرف گئے تو مڈی کے لیے نہیں بلکہ اس لیے اس مڈی کا اپنوں پر استعمال روک کے اسے قابض کے خلاف استعمال کریں اور جس طاقت کو ناڑی مراد قادر اور زامران نے توڑا ہے اسے دوبارہ یکجا کرنے کیلئے، حیربیار مری اور بی ایل اے کے سنگت کوشش کرر ہے ہیں علاقے میں رہنے والے تمام مری بزرگوں کو چاہیے کو وہ اس مسئلے کو آپس میں افہام و تفہم سے حل کروانے میں کردار ادا کریں اپنی طاقت کو یکجا کر کے قومی طاقت بنائیں اور اس مڈی کو بی ایل اے کے خلاف استعمال کرنے کے بجائے قومی دفاع کے لیے استعمال کیا جائے اور یو بی اے اگر بی ایل اے میں واپس نہیں آسکتا تواس کو جو بھی تنظیم پسند ہو اس میں شمولیت اختیار کرے بجائے الگ نام کے کام کرنے سے اسی طرح باقی تنظمیوں سے جو لوگ نکلے ہیں وہ بھی الگ تنظیمیں بنانے کے بجائے بی ایل اے بی ایل ایف اور بی آر اے میں سے کوئی بھی تنظیم
پسند کرکے شامل ہوجائیں اسی طرح پھر تنظمیوں کو توڑنے والوں کی بھی حوصلہ شکنی ہوگی اور مستقبل میں قومی فوج بنانے کے لیئے اور منظم قومی اتحاد کیلئے راہیں بھی ہموار ہونگی۔ ٍ

image_pdfimage_print

[whatsapp] آرٹیکلز. RSS 2.0