ارشاد مستوئی، شفقت رودینی اور دشمن کے خطرناک عزائم تحریر: نود بندگ بلوچ

ہفتہ 5 ستمبر, 2015

حالیہ بلوچ جہد آزادی جتنا طول پکڑتا جارہا ہے، یہ اتنے ہی شدت کے ساتھ ہمیں ایک جنگ کے حقیقی بدصورت خدوخال سے آشنا کرارہا ہے۔ تمام زعم و تصورات ٹوٹ رہے ہیں اور حقیقت کا کڑوا گھونٹ ہمارا گلو کاٹتے ہوئے حلق سے اتر رہا ہے۔ دوسری طرف 15 سال گذرنے کے باوجود زندہ و پائندہ تحریک دشمن کیلئے بھی ایک خطرے کی گھنٹی کی سی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ کوئی تحریک جتنا زیادہ طول اختیار کرے اسکی بیخ کنی اتنی ہی زیادہ مشکل ہوتی جاتی ہے۔ اس بڑھتے دورانیے کو دیکھ کر دشمن بتدریج اپنے بربریت ، چالبازیوں اور پروپیگنڈہ کے شدت میں اضافہ لارہا ہے۔ آج واضح طور پر دِکھ رہا ہے کہ دشمن ملک بلوچ تحریک کے خلاف ایک کثیرالجہتی پالیسی پر عمل پیرا ہر صورت تحریک کو پیچھے دھکیلنے بعد ازاں ختم کرنے کی کوششوں میں ہے۔ ایک طرف دشمن ریاست اپنے حربی قوت کے استعمال میں شدت پیدا کرتے ہوئے اب اسکا استعمال آبادیوں پر بے دریغ کررہا ہے ، دوسری طرف بلوچستان کے مختلف علاقوں میں نوابوں ، سرداروں، جرائم پیشہ افراد اور مذہبی جنونیوں کے سربراہی میں ڈیتھ اسکواڈ تشکیل دیکر انہیں مکمل طور پر مسلح کرتے ہوئے قتل و غارت کی چھوٹ دے رہا ہے ، تیسری طرف پاکستان کے مذہبی جماعتوں کو بلوچستان میں سہولت فراہم کرکے فرقہ وارانہ نفرت کی بیج بورہا ہے اور چوتھی طرف دشمن کے خفیہ ادارے بدستور بلوچ سیاسی کارکنوں اور تحریک کے ہمدردوں کو اغواء کرنے ، تشدد کا نشانہ بنانے اور شہید کرکے انکی مسخ شدہ لاشیں پھینکنے میں مشغول ہیں۔ اب حال ہی میں دشمن نے تحریک کے خلاف مزید ایک محاذ” پروپیگنڈہ وار” کی صورت میں کھول دیا ہے اور شدت کے ساتھ اس پر عمل پیرا ہے۔
پاکستان بلوچ تحریک کے خلاف اپنے اس ” پروپیگنڈہ وار ” کے ذریعے ایک طرف بلوچ جہدکاروں اور ہمدردوں پر نفسیاتی حملہ کرنا چاہتا ہے تو دوسری طرف بلوچ تحریک کو عالمی سطح پر بتدریج کمزور ، منتشر اور ٹوٹتا دِکھا کر کسی بھی ممکنہ عالمی حمایت یا ہمدردی کے راستے بند کرنا چاہتا ہے اس کے علاوہ ساتھ میں اپنے لوگوں اور فوج کے حوصلے بلند کرنا چاہتا ہے۔ اس “پروپیگنڈہ وار” پر اگر ہم غور کریں تو گذشتہ کچھ عرصے سے ہم واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں کہ پاکستانی فوج نے اپنے پورے میڈیا کو پابند کیا ہوا ہے کہ وہ بلوچستان میں انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں پر چپ کا روزہ رکھیں اور بلوچ تحریک کے منفی پہلووں (مستونگ میں یو بی اے کا حملہ ، براہمدغ کی آزادی سے دستبرداری) کو خاص طور پر اچھالیں اسکے علاوہ حال ہی میں سرینڈروں کا ڈرامہ بھی سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ اگر ہم غور کریں تو گذشتہ دنوں خاص طور پر یو بی اے، بی آر اے اور کچھ بی ایل ایف سے ضرور سرینڈر ہوئے ہیں اور یہ سرینڈر ہونے والے ایسے کمزور کڑیاں تھیں جن کو بہت پہلے راستے سے ہٹانا لازمی تھا لیکن ان آستین کے سانپوں کو مذکورہ تنظیمیں مصلحت پسندی اور حماقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے محض تعداد کی بڑھوتری کی خاطر برداشت کرتے رہے، لیکن جس تعداد میں پاکستان اپنے میڈیا میں سرینڈر کرنے والوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کررہا ہے وہ بالکل جھوٹ اور پروپیگنڈہ ہے۔ حقیقت میں سرینڈر کرنے والے میڈیا میں پیش کیئے گئے تعداد کا عشر عشیر بھی نہیں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب سے تحریک شروع ہوا ہے ایسے کمزور افراد کا جانا یا سرینڈر ہونا اور نئے دوستوں کا آنا لگا رہا ہے، تحریک کے اس بھٹی میں تپنے کے بعد کچھ کندن بن کر آگے نکل جاتے ہیں اور کچرا بڑھتے حرارت کے ساتھ نکلتا رہتا ہے۔ دشمن اب اپنے پروپیگنڈہ کو مضبوط کرنے کیلئے اس قلیل تعداد کو بڑھا چڑھا کر پیش کررہا ہے۔ یہاں ایک بات قابلِ ذکر ہے کہ سلامیوں کے اس ڈرامے میں ریاست کو کوئی ایسا شخص میسر نہیں آیا جس کو استعمال کرکے وہ بی ایل اے کے خلاف پروپیگنڈہ کرسکتا اس لئے وہ یو بی اے کے کچھ بگوڑوں کو بی ایل اے کا ظاہر کرکے اپنے خواہشات کی تکمیل کی سعی لاحاصل کرچکا ہے لیکن اسے کوئی خاطر خواہ پذیرائی نہیں ملی۔ گذشتہ سالوں میں دشمن کے طرز عمل پر اگر غور کیا جائے تو ایک بات واضح طور پر مشاہدے میں آتا ہے کہ دشمن بی ایل اے کو اپنے لئے کسی بھی اور تنظیم سے زیادہ خطرہ سمجھتا ہے، اس لئے یہ خیال ہر گز بعید از قیاس نہیں تھا کہ دشمن بی ایل اے کے خلاف کوئی نا کوئی پروپیگنڈہ ضرور سامنے لائے گا۔
گذشتہ دنوں پاکستان نے اپنے مختلف ٹی وی چینلوں پر بریکنگ نیوز کے طور پر سرفراز بگٹی کا ایک انٹرویو دِکھایا جس میں وہ دو بلوچوں شفقت رودینی اور ابراہیم نیچاری کو میڈیا کے سامنے پیش کرتے ہوئے انہیں بی ایل اے کا کمانڈر ظاہر کررہے تھے۔ یہ پہلی بارہے کہ پاکستان دو ایسے لاپتہ بلوچوں کو میڈیا کے سامنے پیش کرتا ہے جن کے بارے میں اسکا دعویٰ ہے کہ یہ بی ایل اے کے ٹارگٹ کلرز ہیں۔ حالانکہ دیکھا جائے اس سے پہلے زبیر ، خلیل اور سمیع کی صورت میں بی ایل اے کے حقیقی علاقائی کمانڈر یا ذمہ دار دشمن کے ہاتھوں اغواء ہوچکے تھے لیکن انکے اغواء کے بعد مسخ شدہ لاشیں ہی ملیں۔ اس پریس کانفرنس میں جو ویڈیو پیش کی گئی اس میں شفقت رودینی کچھ ایسی باتیں کرتا ہے جس سے مستقبل میں ریاست کے ارادے اور اس پروپیگنڈہ کے مقاصد ظاہر ہوتے ہیں۔ شفقت رودینی کہتا ہے کہ اس نے بی ایل اے کے کہنے پر بلوچ صحافی ارشاد مستوئی کا قتل کیا ہے یہ کہتے ہوئے وہ یہ بھی تسلیم کرتا ہے کہ ارشاد مستوئی ایک ایماندار شخص اور بلوچ تحریک کے ہمدرد صحافی تھے۔ اسکے بعد وہ کہتا ہے کہ بی ایل اے ماما قدیر کو بھی قتل کرنے والا ہے اور یہاں وہ یہ اضافہ کرتا ہے کہ اسکی وجہ یہ ہے کہ ماما قدیر اللہ نظر اور براہمدغ کی زیادہ بات مانتا ہے۔
شفقیت رودینی کے بابت معلومات لینے پر بہت سے متضاد اور مشکوک باتیں سامنے آئے اور یہ بھی واضح طور پر کہا جاسکتا ہے کہ اسکا بی ایل اے سے کوئی تعلق نہیں رہا ہے۔ اس پر غور کریں تو یہ شخص چھ سالوں سے لاپتہ مشتاق بلوچ کے چھوٹے بھائی ہیں، مشتاق کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ بی ایس او آزاد خضدار کے کسی یونٹ کے یونٹ سیکریٹری تھے اور انکا تعلق غالباً لشکرے بلوچستان سے بھی تھا۔ شفقت رودینی پر سال 2012 کے آخری ماہ نومبر یا دسمبر میں ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے اہلکار حملہ کرتے ہیں جس میں اسے تین گولیاں لگتی ہیں اور وہ زخمی ہوجاتا ہے۔ اس واقعے کے بعد شفقت رودینی منظر عام سے غائب ہوجاتے ہیں ، کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے گھر کے اندر ہی روپوش تھے جبکہ کچھ لوگوں کے مطابق جب ریاستی ادارے اسے اغواء کرنے آئے تھے تو شفقیت نے مزاحمت کی جس کی وجہ سے اسے زخمی کرکے خفیہ ادارے اسے اپنے ساتھ لے گئے اور لاپتہ کردیا۔ خیر وہ زخمی ہوکر گھر میں روپوش ہوئے تھے یا پھر اغواء ہوئے ہیں لیکن یہ واقعہ ارشاد مستوئی کے قتل سے تقریباً ڈیڑھ سال پہلے کا واقعہ ہے۔اس کے علاوہ معلومات کے مطابق کے جب 2012 میں اس وقت شفقت رودینی پر حملہ ہوا تھا تو اسے اغواء کیا گیا ، اغواء کے کچھ دنوں بعد علاج معالجہ کرکے ایک ڈیل کے تحت اسے اس شرط پر رہا کردیا گیا کیا وہ شفیق مینگل کے ڈیتھ اسکواڈ کا حصہ بنیں گے، جس کے بعد اسے چھوڑ دیا گیا اور شفقت باقاعدہ ان کیلئے کام کرنے لگا۔ یہ خیال اس لیئے رد نہیں کیا جاسکتا کیونکہ توتک میں قلندرانی قبیلے کے 18 افراد کو اغواء کرنے کے بعد ان میں سے کئی کے عزیزوں کے سامنے یہ شرط رکھی گئی تھی کہ اگر باقی لوگ شفیق مینگل کے ڈیتھ اسکواڈ کا حصہ بنیں تو ان افراد جن میں قلندرانی قبیلے کے سردار کے تین بیٹے بھی شامل تھے کو چھوڑ دیا جائے گا۔ بہت سے لوگ اسی لالچ میں شفیق کے ہاتھوں استعمال ہوئے لیکن کبھی انکے لاپتہ عزیز منظر عام پر نہیں آسکے۔ غالب گماں ہے کہ شفقت رودینی کو بھی اسی طرح اسکے بھائی مشتاق رودینی کے رہائی کیلئے ڈیتھ اسکواڈ میں شامل ہونے کو کہا گیا یا شاید یہ میڈیا بیان بھی اسی کا ایک حصہ ہو لیکن گذشتہ سال توتک اجتماعی قبروں کے بعد دشمن کے پالیسیوں میں شفٹ دِکھائی دیتا ہے کیونکہ ایک طرف شفیق مینگل کو محدود کردیا گیا اور دوسری طرف شفیق مینگل کے بہت سے ساتھیوں کو سرکار نے خود ہی مارنا اور اغواء کرنا شروع کیا۔ ایک اور ذرائع کے مطابق یہ تقریباً ایک سال پہلے کی بات ہے کہ خضدار میں واقع اسی شفقت رودینی کے گھر پر اسی دوران دوبارہ چھاپہ پڑتا ہے جب شفیق مینگل کے دوسرے کارندوں کا پکڑ دھکڑ شروع ہوتا ہے۔ اس چھاپے میں شفقت رودینی کے بڑے بھائی غضنفر رودینی سمیت 3 اور افراد کو اغواء کیا جاتا ہے جن میں سے غضنفر کو کچھ دنوں بعد رہا کردیا جاتا ہے لیکن باقی تینوں کا کوئی پتہ نہیں چلتا اور اہلِ علاقہ کے مطابق ان تینوں میں سے ایک شفقت رودینی تھا۔
قیاسات تو بہت سے کیئے جاسکتے ہیں لیکن یہاں جس بھی پہلو پر یقین کرکے دیکھا جائے تو دو چیزیں بالکل واضح ہیں پہلی یہ کہ شفقت رودینی کم از کم ایک ڈیڑھ سال پہلے ہی ارشاد مستوئی کے قتل سے پہلے اغواء ہوگیا تھا اور دوسری بالکل با وثوق بات یہ ہے کہ نا شفقت رودینی اور نا ہی اسکے بڑے بھائی مشتاق رودینی کا کبھی بھی بی ایل اے سے تعلق رہا ہے۔ یعنی شفقت رودینی کا بی ایل اے سے کوئی تعلق نہیں اور یہ سارا ڈرامہ محض بی ایل اے کے خلاف ایک پروپیگنڈہ محاذ کھولنے کی کوشش ہے۔ ریاست اس طرح کے ڈرامے آئے روز کرتا رہتا ہے لیکن اس پروپیگنڈہ پر روشنی ڈالنے اور اسکے حقیقت پر قلم اٹھانے کی جسارت میں اس لیئے کررہا ہوں کیونکہ جہاں اس پروپیگنڈہ سے دشمن کے خطرناک عزائم کھل کر نظر آرہے ہیں وہیں دوسری طرف ڈاکٹر اللہ نظر اور خاص طور پر براہمدغ بگٹی کے پیروکاروں کا اس ویڈیو پر دمہ چوکڑی اور اسکی بار بار تشہیر کچھ اور پتہ دیتا ہے۔ ذرا غور کریں کے یہ ویڈیو ایک ایسے وقت میں سامنے لایا جاتا ہے جب بی ایل اے پاکستان کے ایک اہم دفاعی تنصیب جیونی ائیرپورٹ پر ایک کامیاب اور بڑا حملہ کرتا ہے۔ ہم اس سے پہلے بھی دیکھ چکے ہیں کہ جب بھی بی ایل اے کوئی بڑا حملہ کرتا ہے تو دشمن کوئی نا کوئی ڈرامہ ضرور رچاتا ہے تاکہ اس حملے سے توجہ ہٹائی جائے جناح ریزیڈنسی کے حملے کے اگلے ہی روز کوئٹہ میں بہادر خان وومین یونیورسٹی پر خودکش حملہ اور کئی بلوچ بہنوں کی شہادت قصہ پارینہ نہیں۔ ایک طرف یہ پروپیگنڈہ ریاست کے اسی توجہ ہٹاو مہم کا حصہ لگتا ہے تو دوسری طرف یہ ایک ایسے وقت ڈرامہ رچایا جاتا ہے جب براہمدغ بگٹی کے آزادی سے دستبرداری والے
انٹرویو پر بلوچ سماج میں ہر طرف سے خاص طور پر بی ایل اے کے ہم خیال دوستوں کی طرف سے شدید تنقید کی جاتی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دشمن براہمدغ کو ایک “محفوظ راستہ” دینا چاہتا ہے اور بی ایل اے کے خلاف یہ ڈرامہ براہمداغ سے توجہ ہٹانے کی ایک کوشش ہے اور خاص طور پر یار لوگوں کا اس پروپیگنڈے کی کثیر تشہیر اس خیال کو مزید تقویت بخشتی ہے۔
ایک بات تو واضح ہے کہ شفقت رودینی چاہے جو بھی ہے، اس نے یہ الفاظ تشدد کے بعد ادا کیئے ہیں یا اپنے رضا سے لیکن یہ الفاظ اسکے اپنے نہیں ہیں بلکہ اسکے منہ میں ٹھونسے گئے ہیں اس سے تو محض ادا کرائے گئے ہیں۔ اس لیئے اس کے بیان کے کچھ اہم مندرجات پر غور لازمی ہے جس سے ریاست کے مستقبل کے ارادے عیاں ہوتے ہیں۔ اس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بی ایل اے نے ارشاد مستوئی کا قتل کیا ہے لیکن قبول نہیں کیا تاکہ پاکستان کی بدنامی ہو۔ ارشاد مستوئی ایک ایماندار اور بلوچ دوست صحافی تھے ، وہ بلوچ مسئلے کو اکثر و بیشتر مختلف چینلوں و اخبارات میں ہائی لائٹ کرتے رہتے تھے اور کوئٹہ پریس کلب میں کوء پریس کانفرنس کرنا ہو یا کوئی بیان دینا وہ ہر وقت بلوچوں کے مددگار رہتے۔ اس سے بالکل واضح ہوتا ہے کہ اسکا قتل کسی آزادی پسند کو نہیں بلکہ دشمن ریاست کو ہی فائدہ پہنچائے گا۔ اس کے قتل کے بعد واقعی سارے شکوک وشبہات پاکستان کی طرف ہی گئے اور اس پر دباو بھی تھا اب خود کو بری الذمہ کرنے کیلئے ریاست اپنے رحم وکرم پر پڑے ایک شخص سے ارشاد مستوئی کے قتل کا ذمہ داری بی ایل اے پر عائد کروانا چاہتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک ایسے شخص کا قتل جس سے ریاست کو فائدہ اور بلوچوں کو نقصان ہو اسے بی ایل اے قتل کیوں کریگا؟ اگر واقعی بی ایل اے اسے قتل کرتا تو پھر اسے قبول کیوں نہیں کرتا؟ کیا ارشاد مستوئی اتنے بڑے صحافی تھے کہ بی ایل اے اسکا بوجھ نہیں اٹھاسکتا؟ اگر ایسی بات ہے تو پھر بی ایل اے نے اس سے بھی ایک بڑے صحافی چشتی مجاہد کو قتل کرکے اسکی ذمہ داری قبول کی تھی، کیا ارشاد مستوئی ایک بلوچ صحافی تھے اس لئے؟ اگر ایسا ہے تو پھر بی ایل اے فیض الدین ساسولی کے قتل کو قبول نہیں کرتا۔ یہاں سب سے حیرت کی بات بلکہ مشکوک بات یہ ہے کہ قابض ریاست کو بلوچوں کے ایک ہمدرد صحافی سے کیا ہمدردی؟ جب وہ اپنے ایک پنجابی صحافی حامد میر تک کو بلوچ مسئلے پر بات کرنے پر قتل کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں ایسے حالت میں اسی بلوچ مسئلے پر برملا اظہار کرنے والے ارشاد مستوئی کیلئے انکے دل میں کیسے ہمدردی پیدا ہوگئی ہے؟ واقعات کے یہ تانے بانے واضح کرتے ہیں یہ محض ایک اور ریاستی پروپیگنڈہ اور جھوٹ ہے۔
اسی طرح ماما قدیر کے بارے میں بھی قابض ملک شفقت رودینی کے زبان سے یہ کہتا ہے کہ بی ایل اے ماما قدیر کو قتل کرنا چاہتا ہے تاکہ ریاست بدنام ہو اور اسکی وجہ یہ بیان کی کہ ماما قدیر کا اللہ نظر اور براہمدغ سے قربت ہے، یہاں حیرت ناک اور مشکوک بات یہ ہے کہ ماما قدیر وہ شخص ہے جو مسلسل ریاستی اداروں کے خلاف احتجاج کرتے رہے ہیں اور واضح طور پر اسکے وجود سے ریاستی اداروں کی بدنامی ہی ملتی ہے۔ پاکستانی تناظر میں بولا جائے تو وہ پاکستان کیلئے خطرہ ہے اور اسی ایک جملے میں پاکستان اسکی قربت اللہ نظر اور براہمدغ سے بھی بتاتا ہے پھر ایسے شخص سے پاکستان کو آخر ایسی کیا ہمدردی ہوسکتی ہے کہ وہ وارننگ دیکر اس شخص کو محتاط رہنے کیلئے کہے اور اسکے ممکنہ و مبینہ قاتلوں کو
گرفتار کرے؟ حالانکہ اسی ماما قدیر کو ریاستی ادارے متعدد بار دھمکی دے چکے ہیں اور حراساں کرچکے ہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ کسی بھی طور ماما قدیر کا قتل ریاست کیلئے ایسا نقصان ہوگا کہ وہ اسے روکے۔ ایک قابلِ غور بات ہے کہ بالفرض اگر بی ایل اے ماما قدیر کو قتل کرنا چاہتا تو اس کیلئے ماما کا قتل کونسا مشکل کام ہوتا کہ اسے اتنا وقت اور پلاننگ کرنا پڑے ، اسے میرے خیال میں اگر بی ایل اے مارنا چاہتا تو اسے نا لمبی پلاننگ کی ضرورت ہوتی اور نا ہی ہر ایک کو بتانے کی ضرورت بلکہ فیصلہ کرتے ہی اسی دن اسے مارسکتے تھے؟ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ دشمن ریاست ماما قدیر کو راستے سے ہٹانا چاہتا ہے لیکن عالمی میڈیا میں پہچانے جانے کی وجہ سے اگر ماما قدیر کو کچھ بھی ہوتا ہے تو یہ واضح ہوجائیگا کہ اسے ریاست نے مارا ہے اور خوب شور مچے گا اس لیئے اب دشمن چاہ رہا ہے کہ یہ پروپیگنڈہ کرکے ایک طرف ماما قدیر کو راستے سے ہٹایا جائے اور دوسری طرف اسکا ملبہ بی ایل اے کے سر گِرا کر خود بری الذمہ ہوا جائے اور بی ایل اے کو بدنام کیا جائے۔
اب مستقبل میں ریاست کے عزائم پر غور کریں تو بالکل واضح ہوجاتے ہیں۔ شفقت رودینی کو بی ایل اے کا ممبر ظاہر کرتے ہوئے ارشاد مستوئی اور حبیب جالب کے قتل ساتھ میں ماما قدیر ، حافظ حمداللہ کے قتل کی سازش بی ایل اے پر میڈیا میں ڈال کر دشمن اپنے لئے ایک راستہ ہموار کرنا چاہتا ہے۔ اپنی باتیں میڈیا میں رکھنے اور خوب تشہیر کرنے کے بعد آنے والے دنوں میں قابض ملک پاکستان، بلوچستان میں کئی اہم شخصیات جیسے کے ماما قدیر، نصراللہ بلوچ شاید کئی اور بلوچ ہمدرد صحافی جن کو ریاست اپنے لیئے خطرہ سمجھتا ہے کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اور یہ قتل جتنے بھی واضح انداز میں ریاستی اداروں کی طرف اشارہ کرتے ہوں لیکن شفقت رودینی کے اس بیان کو ریفرنس استعمال کرکے وہ ان اہم شخصیات کے قتل کی ذمہ داری بلوچ صحافی ارشاد مستوئی کی طرح بی ایل اے پر ڈالنا چاہتا ہے۔ ایسے صورت میں ماما قدیر سمیت مختلف شخصیات اور بلوچ ہمدرد صحافیوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلے سے ہی اپنے ممکنہ خطرات اور جس سے خطرہ ہے اسکی تفصیلات میڈیا میں سامنے لانا چاہئے تاکہ وہ خود بھی نقصان سے بچ سکیں اور دشمن کا یہ پروپیگنڈہ وار بھی ناکام ہوجائے۔

جس طرح ریاست کے اس ڈرامے کی تشہیر ایک ایسے وقت ہوئی جب براہمدغ کے آزادی پر سمجھوتے پر انگلیاں اٹھ رہی تھیں اور جس طرح خاص طور پر بی آر اے اور عمومی طور پر بی ایل ایف کے ذمہ داران اس پروپیگنڈہ کی تشہیر کررہے ہیں اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ جب ریاست بی ایل اے پر ماما قدیر کے قتل کے سازش کا الزام لگا کر ساتھ میں وجہ اللہ نظر اور براہمدغ کو قرار دیکر ان کیلئے ایک نرم گوشہ پیدا کرنا اور بی ایل اے کو ” بیڈ بوائے ” ثابت کرنا چاہتا ہے، کئی شکوک و شبہات کو جنم دے رہا ہے۔ حیرت یہ ہے کہ یہی عناصر استاد اسلم پر الزام لگاتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ ریاست کا بندہ ہے اور گاڑیوں کے قافلوں میں افغان سرحد سے آر پار انتہائی آسانی سے آتا جاتا ہے اور اسے کچھ نہیں ہوتا لیکن اسی بیان میں دشمن ملک جس طرح سے استاد اسلم کو نفرت کا نشانہ بنارہا ہے اور اس پورے سازش کو اس طرح موڑ رہا تھا کہ انگلیاں اس پر اٹھیں واضح کرتی ہیں کہ دشمن کو سب سے زیادہ تکلیف استاد اسلم سے ہے اور ایک گمنام ہاتھ کی صورت میں جس طرح دشمن براہمدغ سے توجہ ہٹانے کی کوشش کررہا ہے یہ پہلو بھی اپنے اندر شکوک و شبہات کا انبار رکھتا ہے، جن پر غور کرنا اور انہیں آشکار کرنا نہایت ضروری ہے۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] آرٹیکلز. RSS 2.0