ارشاد مستوئی قتل سے تعلق نہیں، ماما قدیر ریاستی ہتھکنڈوں سے ہوشیار رہیں۔ بی ایل اے

ہفتہ 5 ستمبر, 2015

کوئٹہ(ہمگام نیوز) بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جینئد بلوچ نے ماما قدیر بلوچ کو قتل کی وجہ سے سیکورٹی دینے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست جدوجہد آزادی کو کاؤنٹر کرنے کی کوششوں کو جاری رکھتے ہوئے سیاسی کارکنوں کی اغواء نما گرفتاری اور تشدد کرکے زبردستی ویڈیو پیغام نشر کرنے کا مقصد قومی تحریک کے خلاف ایک منظم سازش ہے ۔یہ بات انہوں نے نامعلوم مقام سے سیٹلائٹ فون پراین این آئی سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ ترجمان نے کہا کہ ہم ایک ذمہ دار تنظیم کی حیثیت سے اس بات کی وضاحت ضروری سمجھتے ہیں کہ بلو چ لبریشن آرمی ہر اس شخص کو نشانہ بناتی ہے جو ریاست کا آلہ کار بن کر قومی تحریک کے خلاف کام کرتا ہے اور صحافتی اداروں سمیت صحافی برادری کے سامنے اس سے پہلے بھی ہم واضح کرچکے ہیں کہ ہر صحافی اپنے صحافی فرائض بلاخوف و خطر پورے کرے لیکن جن صحافیوں نے اپنی صحافتی ذمہ داریوں اور فرائض چھوڑ کر ریاست کے ایجنڈے پر کام کیا تو ان کو پہلے ہم نشانہ بناچکے ہیں جن میں مجاہدچشتی ، محمود آفریدی ، فیض ساسولی اپنے صحافتی فرائض کو چھوڑ کر ریاست کے ایجنڈے پر کام کر رہے تھے اس لئے انہیں نشانہ بنایا گیا ارشاد مستوئی کے قتل کو جواز بناکر قبضہ گیر ریاست بلوچ لبریشن آرمی اور تحریک آزادی کو بدنام کرنے کی سازش کررہی ہے بلوچ لبریشن آرمی ریاستی ظلم و جبر کے خلاف بولنے ،لکھنے یا کام کرنے والے جہد کاروں کی جہد کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اوران میں ماما قدیر جیسے بزرگ جہد کار جوکہ چھ سال سے لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے کام کررہے ہیں جہد اورقربانی کو قابل تحسین سمجھتی ہے ایک ذمہ دار تنظیم کی حیثیت سے ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ریاست ایک سازش کے تحت ماما قدیر کی سادگی سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہی ہے ماما قدیر کو کو ان ریاستی ہتھکنڈوں سے ہوشیار رہنا چاہئے ہمیں یقین ہے کہ بزرگ ماما قدیر ان ریاستی مذموم ہتھکنڈوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہوئے اسی طرح خلوص دل سے اپنے کام کو جاری رکھیں گے قبضہ گیر ریاست نے ماما قدیر کے بیٹے سمیت ہزاروں بلو چ فرزنندوں کو عبرتناک ازیٹوں کے بعد شہید کردیا اور اب اسی قبضہ گیر ریاست کی طرف سے ماما قیدر کو سیکورٹی فراہم کرنا انتہائی مضحکہ خیز عمل ہے

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0