اسپین سے علیحدگی، کاتالونیا میں علامتی ریفرینڈم

اتوار 9 نومبر, 2014

بارسیلونا(ہمگام نیوز) کاتالونیا اسپین کی امیر ترین ریاست ہے اور یہاں کے عہدے دار اور عوام میڈرڈ سے اضافی اختیارات طلب کر رہے ہیں۔ اتوار کے روز ہونے والی رائے شماری قانونی تو نہیں تاہم ریفرنڈم میں ’’ہاں‘‘ ہسپانیہ کو پریشان ضرور کرے گی۔

جنوبی یورپی ملک اسپین کے قدامت پسند وزیر اعظم ماریانو راخوئے کی حکومت نے اس عزم کا اظہار کیا ہے ہے کہ وہ ہر صورت ملکی سالمیت کا تحفظ کریں گے۔ کاتولونیا کی ریاستی حکومت کی جانب سے کئی ماہ قبل جب اسپین سے علیحدگی کے باب میں ریفرنڈم کرانے کا اعلان کیا گیا تھا ، تب ہی سے میڈرڈ میں اس کو کالعدم کروانے کے لیے کوششیں تیز کر دی گئی تھیں۔ اسپین کی آئین ساز اسمبلی اس ریفرنڈم کو منسوخ کر چکی ہے تاہم کاتالونیا مصر ہے کہ یہ ریفرنڈم کروایا جائے گا۔ آج اتوار کو اس علاقے کے عوام اگر اسپین سے علیحدگی کے حق میں ووٹ ڈالیں گے تو اس کی علامتی حیثیت بھی میڈرڈ کے لیے خوش گوار نہیں ہو سکتی۔

کاتولونیا کو تحریک اسکاٹ لینڈ میں ہونے والے حالیہ ریفرنڈم سے بھی ملی ہے۔ مذکورہ ریفرنڈم میں اسکاٹ لینڈ کےعوام نے برطانیہ کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا تاہم جن افراد نے علیحدگی کے حق میں ووٹ ڈالے تھے ان کی تعداد اچھی خاصی تھی۔ اس ریفرنڈم کا اثر یہ تو ہوا کہ برطانیہ کے سیاست دان اسکاٹ لینڈ کو زیادہ سے زیادہ اختیارات دینے کا وعدہ کرنے لگے۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0