افغانستان، نئے صدر کی حلف برداری اور اسے در پیش چیلنجز

پیر 29 ستمبر, 2014

کابل ہمگام نیوز۔۔۔ افغانستان میں انتخابی تعطل کے بعد نئے صدر کی حلف برداری آج صدارتی محل کابل میں ہوگی جس میں دنیا بھر سے مختلف سربراہاں مملکت کے علاوہ دیگر اہم شخصیات شرکت کریں گے ، بی بی سی اردو نے اپنے ایک تجزیاتی رپورٹ میں نئے صدر کو درپیش چیلنجز کا احاطہ کچھ اس طرح کیا ہے

افغانستان میں لمبے عرصے تک جاری انتخابی تنازعے کے بعد بالآخر نئے صدر کا فیصلہ ہو گیا ہے اور اب اشرف غنی اپنا کام سنـھالنے میں ذرا بھی وقت ضائع نہیں کرنا چاہیں گے۔
اب جبکہ امریکہ کی ثالثی سے افغانستان میں جاری انتخابی تعطل ختم ہوگیا ہے اور اتحاد کی ایک حکومت قائم ہوئی ہے ایسے میں نئے صدر اشرف غنی کے سامنے سب سے بڑے چیلنجز کیا ہیں؟
اتحاد کا قائم رکھنا
ہرچند کہ اشرف غنی اور ان کے قریب ترین حریف عبداللہ عبداللہ نے سر عام امریکہ کی ثالثی والے اتحاد معاہدے کی حمایت کی ہے تاہم عبداللہ عبداللہ کے بعض حلیف نے یہ واضح کردیا ہے کہ انھیں اس پر زبردست تحفظات ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ مسٹر غنی کی جیت دھاندلی پر مبنی ہے۔
اس لیے صدر کی ترجیحات میں اس نئی حکومت کو متحد رکھنا اور اسے طاقتور بنانا سرفہرست ہوگا۔
اس حکومت کو جلد از جلد آئندہ سال ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے قبل انتخاب کے نظام میں بھی اصلاحات لانے کی ضرورت ہے جو کہ بہت آسان کام نہیں ہے اور بہت سے افغانوں کا کہنا ہے کہ کمزور اتحادی معاہدہ زیادہ دنوں تک قائم نہیں رہ سکتا۔
افغانستان کو راہ پر لان

انتخاب کے نتائج میں چھ ماہ تک جاری رہنے والی غیر یقینی صورت حال نے افغانستان کی کمزور معیشت پر، جو زیادہ تر بیرونی امداد پر انحصار کرتی ہے، تباہ کن اثرات مرتب کیے۔
ورلڈ بینک کے سابق ماہر معاشیات ہونے اور ناکام ریاستوں کے مسائل کے حل کا تجربہ رکھنے کے سبب افغانستان کی معیشت کو بحال کرنے کے لیے اشرف غنی کی صلاحیتوں پر شک نہیں کیا جا سکتا لیکن اس ضمن میں ان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج ملک میں وسیع پیمانے پر موجود بدعنوانی ہے۔
اگر چہ غنی نے کہا ہے کہ وہ بدعنوانی برداشت نہیں کریں گے تاہم یہ اس بات پر منحصر ہے کہ آیا وہ سنجیدہ اصلاحات لانے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔ ان کے پیش رو حامد کرزئی تو اس معاملے میں زیادہ تر ناکام ہی رہے۔
عوام کا تحفظ۔۔۔

اشرف غنی ایک ایسے وقت میں اقتدار سنبھال رہے ہیں جب بین الاقوامی افواج وہاں سے روانہ ہونے والی ہے اس لیے ان کے اقتدار سنبھالنے کا وقت بڑا نازک ہے۔

آئندہ سال سے ان کے پاس تقریباً ساڑھے تین لاکھ افغان فوجی ہوں گے جن میں سے بہت سوں کے پاس اچھا اسلحہ نہیں اور وہ ان طالبان سے نبرد آزما ہوں گے جن کے خلاف ڈیڑھ لاکھ مضبوط نیٹو افواج بہترین اسلحے کے ساتھ لڑتی رہی ہے۔
جب سیاست داں انتخابی نتائج پر بحث کر رہے تھے اسی دوران طالبان نے بعض علاقوں میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اشرف غنی اس کمیشن کی سربراہی کر رہے تھے جو سکیورٹی ذمہ داریوں کی منتقلی کی نگرانی کر رہا تھا اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ افغان افواج کو سمجھتے ہیں۔
وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ آنے والے کئی برسوں کے دوران انھیں امریکی امداد کی ضرورت ہوگی اور اپنے پیش رو کے برخلاف انھوں نے کہا ہے کہ وہ واشنگٹن کے ساتھ دو طرفہ سکیورٹی معاہدے پر دستخط کے لیے تیار ہیں جس کے بعد کم از کم چند ہزار غیرملکی فوج کی افغانستان میں موجودگی یقینی ہوگي۔
بات کریں یا نہ کریں؟

اشرف غنی نے کہا ہے کہ ملک میں جاری تصادم کو پرامن طور پر حل کیا جائے گا لیکن انھیں طالبان کے ساتھ مذاکرات کا ایک ایسا سلسلہ ورثے میں مل رہا ہے جس کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے۔
طالبان کے لیے قطر میں سیاسی دفتر کا قیام ناکام ہو چکا ہے۔ یہاں تک کہ کئی درجن طالبان کی رہائی کے بعد بھی حکومت اور طالبان رہنماؤں کے درمیان اعتماد کی بحالی نہیں ہو سکی ہے۔
بہت سے افغانوں کو اشرف غنی کے بہتر امکانات پر شک ہے۔
طالبان حامد کرزئی کی طرح اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ دونوں کو ’امریکی کٹھ پتلی‘ کہتے ہیں۔ زمینی حالات بتاتے ہیں کہ طالبان بات کی بجائے لڑنے کے زیادہ قائل ہیں۔
اور بیگم کا کیا؟

اشرف غنی کے سامنے ان کے مستقبل کی ذمےداریوں اور اپنی اہلیہ رولا کے انتخاب کے بارے میں مشکلات ہیں۔
اشرف غنی کی اہلیہ لبنانی نژاد امریکی ہیں اور دونوں کی ملاقات سنہ 1970 کی دہائی میں طالب علمی کے دونوں میں بیروت میں ہوئی تھی۔
افغانستان کی خاتون اول نے ہمیشہ انکسار سے کام لیا ہے لیکن اب چیزیں مختلف ہو سکتی ہیں۔
رولا غنی نے اس سال اپنے شوہر کی انتخابی ریلی میں پہلی بار عوام سے خطاب کیا تھا۔
انھیں پذیرائی ملی اور بعض خاتون کارکنوں کا خیال ہے کہ خاتون اول کا متحرک کردار ملک میں خواتین کی زندگی پر مثبت اثر ڈالے گا۔
لیکن یہ ابھی واضح نہیں کہ مردوں کے تسلط والے ایک قدامت پسند معاشرے میں ان کا کتنا نمایاں کردار ہو سکتا ہے اور کیا ان کے شوہر ایسی کوئی چیز ان کے لیے پسند کریں گے؟

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0