افغانستان سےامریکی فوج کے انخلا پر نظرِثانی کا مطالبہ

اتوار 5 جولائی, 2015

ہمگام نیوز
امریکی سینیٹ کے آرمڈ سروسز کمیٹی کے سربراہ سینیٹر جان مکین نے امریکی صدر براک اوباما سے کہا ہے کہ وہ افغانستان سے امریکی فوج کے مکمل انخلا کے فیصلے پر نظرِ ثانی کریں۔جان مکین نے یہ بات سنیچر کو اپنے دورۂ افغانستان کے دوران صحافیوں سے بات چیت میں کہی۔انھوں نے خبردار کیا کہ اگر طے شدہ منصوبے کے تحت سنہ 2106 کے اختتام تک افغانستان سے ساری امریکی فوج کو نکال لیاگیا تو نہ صرف امریکہ اب تک افغان جنگ میں ہونے والی پیشرفت سے ہاتھ دھو بیٹھے گا بلکہ اس سے ناقابلِ قبول خطرات بھی پیدا ہوں گے۔
ریپبلکن جماعت سے تعلق رکھنے والے سینیٹر جان مکین نے کہا کہ صدر اوباما کی جانب سے صرف ایک ہزار فوجیوں کو کابل میں امریکی سفارتخانے میں چھوڑنا ایک ایسا منصوبہ ہے جو موجودہ زمینی حقائق سے غافل رہتے ہوئے بنایا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کی موجودگی اور موسمِ گرما میں لڑائی کے مخصوص سیزن کے تناظر میں خطے میں خطرات کا ماحول مستقل طور پر موجود ہے۔جان مکین کے مطابق ’میرے خیال میں اس صورتحال میں ضروری ہے کہ امریکی انتظامیہ اپنے انخلا کے منصوبے پر نظرِ ثانی کرے اور ایسا منصوبہ بنائے جو زمینی حقائق سے مطابقت رکھتا ہو۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’دولتِ اسلامیہ نے جس ایک شعبے میں اپنی قابلیت دکھائی ہے وہ نوجوانوں کو اپنی جانب متوجہ کرنا ہے۔ اس کے علاوہ ہم افغانستان میں دولتِ اسلامیہ سے متاثر ہونے والے غیر ملکی جنگجوؤں کی آمد کا سلسلہ بھی دوبارہ شروع ہوتا دیکھ رہے ہیں۔‘
جان مکین نے کہا کہ دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں اور افغان طالبان کی لڑائیاں فوری طور پر تو ہمارے لیے فائدہ مند ہیں لیکن طویل المدتی نظریے سے ان دونوں کی موجودگی افغانستان کے لیے مفید نہیں ہے۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0