افغانستان میں طالبان کا اہم دفاعی شہر پر قبضہ

بدھ 26 اگست, 2015

کابل(ہمگام نیوز) افغانستان میں امریکی فوج کے فضائی حملوں کے باوجود طالبان نے صوبہ ہلمند کے اہم دفاعی ضلعی ہیڈ کوارٹر موسیٰ قلعہ پر قبضہ کر لیا ہے۔

حالیہ ہفتوں میں یہ ہلمند کا دوسرا شہر ہے جس پر طالبان نے قبضہ کر لیا ہے۔ اس سے پہلے انھوں نے نوزاد پر متعدد حملوں کے بعد قضبہ کر لیا تھا۔

سال 2001 میں افغانستان پر امریکی کی قیادت میں اتحادیوں کے حملے کے وقت موسیٰ قلعہ میں طالبان سے شدید جھڑپیں ہوئی تھیں۔

سنیچر کو امریکی فوج کے فضائی حملوں میں اطلاعات کے مطابق 40 طالبان شدت پسند ہلاک ہو گئے تھے تاہم انھوں نے دوبارہ منظم ہو کر افغان فورسز کو پیچھے دھکیل دیا۔

ضلعی گورنر محمد شریف نے برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بدھ کو طالبان کے حملے کے بعد وہ شہر سے نکل گئے تھے۔

’ہم کئی دنوں سے اضافی مدد مانگ رہے تھے لیکن کوئی نہیں آیا، جس کی وجہ سے یہ ہو گیا۔‘

دوسری جانب صوبہ ہلمند میں ہی بدھ کو افغان فوج کی وردی میں ملبوس دو مسلح افراد نے فائرنگ کر کے نیٹو کے دو فوجیوں کو ہلاک کر دیا۔

علاقے میں واقع ایک فوجی اڈے پر دونوں اہلکار ایک گاڑی میں سوار تھے کہ ان پر فائرنگ کی گئی۔

نیٹو نے ابھی تک ہلاک ہونے والے فوجیوں کی شہریت کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کی ہیں۔

موسیٰ قلعہ 2001 سے پہلے طالبان کا مضبوط گڑھ اور ملک میں افیون کی کاشت کا مرکزی علاقہ تھا تاہم اتحادیوں فوجیوں نے طالبان کے منحرف کمانڈر کی مدد سے یہاں سے طالبان کو نکال دیا تھا۔

افغانستان سے دسمبر میں نیٹو افواج کے انخلا کے بعد سے بدامنی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور اس وقت ملک میں 12 ہزار نیٹو فوجی موجود ہیں اور ان کی مرکزی ترجیح افغان سکیورٹی فورسز کی تربیت ہے۔

طالبان نے صوبہ ہلمند کے دور دراز علاقوں میں اپنا اثر و رسوخ میں اضافہ کیا ہے جہاں سکیورٹی فورسز پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0