افغانستان نے امریکہ کے ساتھ سیکورٹی معاہدے پہ دستخط کردیا

منگل 30 ستمبر, 2014

ہمگام نیوز۔۔۔۔

افغانستان کی نئی حکومت نے منگل کو امریکہ کے ساتھ دو طرفہ سکیورٹی کے اس معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں جس کے تحت سنہ 2014 کے بعد بھی امریکی فوجی افغانستان میں رہیں گے۔
امریکہ کے ساتھ دو طرفہ سکیورٹی کے اس معاہدے پر دستخط افغان حکومت کے مشیر برائے قومی سکیورٹی حنیف اتمر نے کیے۔واضح رہے کہ سابق صدر حامد کرزئی نے اس معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا جس کے سبب امریکہ سے تعلقات میں کشیدگی آ گئی تھی اور سکیورٹی کے خدشات میں اضافہ ہو گیا تھا۔اشرف غنی کے معاون داؤد سلطان زئی نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’معاہدے پر دستخط سے یہ پیغام جائے گا کہ صدر اشرف غنی نے اپنا عہد نبھا دیا ہے۔ انھوں نے وعدہ کیا تھا کہ حلف برداری کے دوسرے دن اس پر دستخط ہوں گے اور یہ ہو رہے ہیں۔‘اس دستخط کے بعد اس سال کے آخر تک افغانستان سے زیادہ تر نیٹو افواج واپس چلی جائیں گی جبکہ 9800 امریکی فوجی وہیں رہیں گے۔آئندہ سال امریکی قیادت والے مشن کے تحت افغانستان میں صرف ساڑھے 12 ہزار غیرملکی فوجی رہ جائیں گے جس میں امریکہ کے علاوہ جرمنی اور اٹلی کے فوجی بھی شامل ہوں گے۔بی ایس اے کی رو سے بعض مخصوص فوجی دستوں کو ملک میں رہنے کی اجازت ہوگی تاکہ وہ ’انسدادِ دہشت گردی‘ کی کارروائیاں کر سکیں اور افغان فوج کو ضروی تعاون اور تربیت فراہم کر سکیں۔افغانستان میں آئندہ سال امریکی فوجیوں کی نصف تعداد رہ جائے گی اور پھر اس کے بعد سنہ 2016 کے اوائل میں اس میں بھی مزید کمی کی جائے گیامریکہ کے ’افغان مشن‘ کے لیے نیٹو نے جتنی تعداد میں افواج بھیجی تھیں وہ اس میں مسلسل کمی اور وہاں کا کنٹرول مقامی سکیورٹی فورسز کے حوالے کرتی جا رہی ہے۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0