افغانستان کی جنگ ویتنام سے کیسے مختلف ہے۔؟

جمعرات 12 اکتوبر, 2017

تحریر:محمد اشرف حیدری
ترجمہ:حیرآس بلوچ

افغانستان اور ویتنام دو مختلف ممالک ہے۔ دو مختلف ادوار میں مختلف نظریہ اور جغرافیائی سیاست سے متاثر ہوئے ہیں ۔حالیہ نیو یارک ٹائمز کے آرٹیکل “ویتنام سے ٹرمپ کو کیا سبق سیکھنا چاہیے “۔؟ افغانستان کیلئے امریکہ کی ویتنام کے تجربے سے ڈیوڈ ایلیٹ ایک سبق اخذ کرتے ہیں ۔ جو اسی طرح بحث کرتے ہے۔ کہ پچھلے 16 سالوں سے افغانستان امریکن ویتنام میں بدل رہا ہے۔ایک دلدل جس سے امریکہ کو نکلنا چاہیے ۔ما ہرین تعلیم اور پالیسی بنانے والوں کیلئے ویتنام جنگ کی پیچیدگیاں اب بھی دلچسپ ہے جو افغانستان میں عالمی مداخلت کو بے معنی سمجھتے ہیں۔
دو مختلف ممالک مختلف ادوار میں مختلف نظریہ اور جغرافیائی سیاست سے متاثر ہوئےہیں ۔ویتنام میں امریکہ نے اپنے علاقائی (remote ) مفادات کو بچانے کی کوشش کی جسے کمیونزم سے ایک وسیع نظریاتی خطرہ تھی۔ اس کے برعکس افغانستان میں امریکہ کی کوشش پھیلنے والے دہشتگردی کے اثرات، انتہاپسندی، جرائم کو روکنا ہیں جو سیدھا امریکہ کی سرزمین کی سیکورٹی کیلئے خطرہ ہے۔ 9/11 ایک المناک یاد ہے۔ حال ہی میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی 72 ویں سیشن کے خطاب میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےبین الاقوامی نوعیت کی دہشتگردی کے خطرات کی نشاندہی کی ہے۔انہوں نے دنیا کے حکمرانوں سے درخواست کی کہ وہ”دہشتگردوں کو محفوظ پناہ گاہیں، راستے، فنڈنگ اور کسی بھی قسم کی مدد سے انکار کرے۔ ان کے غیر اخلاقی اور منحوس نظریے کی وجہ سے ہمیں انہیں اپنے قوموں سے نکالنا چاہئیے ۔انہوں نے دہشتگردوں کی معاونت کرنے والوں کی نشاندہی کی۔ تاکہ وہ ان ممالک کو سامنے لائے جو القاعدہ، حزب اللہ، طالبان اور دوسرے دہشتگرد جو معصوموں کو ذبح کرتے ہیں ان کی امداد اور مالی معاونت کرتے ہے۔ اسی لیے ویتنام کے برعکس افغان قوم نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو بلایا تاکہ وہ دہشتگردی سے چٹھکارا حاصل کر سکے جو جنوبی ایشیاء میں باقی ہے۔ برعکس ویتنام کے دہشتگردی کے خلاف اس جنگ میں افغان قوم اور ان کے بہادر سپاہی ایک اسٹریٹجک اثاثہ رہے ہیں۔
افغان صدراشرف غنی نے حال ہی میں اقوام متحدہ کے اجلاس میں کہا کہ آج 20 سے زائد بین الاقوامی دہشتگرد تنظیمیں افغان سرزمین پر مسلط ہیں ۔اگرچہ ہم صف اول میں ہے لیکن خطرے کوئی سرحدیں نہیں جانتے۔ انہوں نے بین الاقوامی نمائندوں کو یاد دلاتے ہوئے کہا دہشتگرد جو کہیں بھی پناہ لیے ہوہے ہیں وہ کابل پر ایک حملہ کرے یا برسلز، بارسلونا، لندن یا کہیں اور ان کیلئے برابر کے فتوحات ہیں۔ افغانستان کے حوالے دونوں اطراف کی رضامندی پچھلے سولہ سال سے ہیں۔ جبکہ امریکی انتظامیہ اور عوام ویتنام کی جنگ پر منقسم تھے۔9/11 نے ہمیں حال ہی میں افغانستان کے عوام کی بڑی پائیدار رضامندی کی یاد دلائی۔( pariah state) کے زیر اثر طالبان جنہوں نے ایک ملک میں امریکیوں کو متواتر نشنانہ بناہے رکھا ۔جہاں ہماری کثیر جہتی کامیابیوں بشمول انسانی حقوق اور جمہوریت کے قیام کے اشتراک کا کام رہتا ہیں ۔
اور سابقہ مشیر سلامتی Mc george bundy کے جس میں پائیدار جنگی پالیسی مرتب کرنے کا تجربہ ویتنام کے زمینی حقائق کے حوالے سے کم رہا۔اور اس کے برعکس Lt General H.R. McMaster افغانستان میں خدمات انجام دے چکا ہے .اور آس پاس کے خطے کا بخوبی علم رکھتا ہے اسی وجہ سے صدر ٹرمپ کی حکمت عملی افغانستان میں موجود ان اہم خطرات کو نمٹنے کیلئے توجہ مرکوز کررکھا ہے۔ بیرونی ریاست کی دہشتگردی کو فروغ جو کہ طالبان اور اس جیسے دہشتگرد دہشتگردی کا ماحول پیدا کرتے ہیں۔
ایک مضبوط ایجنڈا قومی امن،ترقیاتی حکمت عملی ، مکمل طور پر افغانستان کی سیکورٹی، حکومت، ضروریات اور چیلنجز پر افغانستان کی National unity Govt نے امریکہ کی حکمت عملی کو سراہا ہیں ۔اس کو شش میں صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹیو عبدالللہ عبداللہ متحدہ نظریاتی لیڈرشپ مہیا کرتے ہیں ۔ اس کے برعکس شمال و جنوب ویتنام میں نظریاتی تقسیم Capitals اور دونوں صدور کے درمیان مقابلے کو توانائی بخشتی تھی۔
دہشتگردی کے خلاف جو مکمل طور پر ہمیں ویتنام کے آپریشنل ماحول کے پیچیدگیوں سے علیحدہ کرتی ہے وہ یہ ہے کہ افغان قوم اور ہمارے حکمران ایک ساتھ کھڑے ہیں ۔افغانستان میں خانہ جنگی کی حقیقت بے بنیاد ہیں جبکہ ویتنام کو خانہ جنگی نے خاک کر دیا ان کے درمیان جو کمیونزم کی حمایت اور دوسرے جو مخالفت کرتے تھے اور جمہوریت کو ادارتی شکل دینا تھا ۔لیکن صدر Ngo din diem کی کمزور لیڈرشپ کی وجہ سے جو ایک کیتھولک تھا مگر بدھ مت آبادی کی اکثریت تھی ان میں فرق کر کے انکے جنگی کوششوں کو سراہنے کی بجائے ان کی حوصلہ شکنی کرتا تھا۔ ایک ناکام حکومت جوکہ امریکہ کی داخلی اور خارجی حمایت سے کٹ گئی تھی۔اس کے خلاف ” حتمی احتجاج” جو کہ 11 جون 1963 کو ہوئی نتیجہ کن ثابت ہوئی۔
ساری بین الاقوامی دنیا جو کہ امریکہ کی رہنمائی میں کام کر رہے ہیں۔ افغانستان میں رہے جب تک ہم اپنے پاوں پہ کھڑے ہوتے ہیں ۔افغان قوم اور حکومت کی مدد سے امریکہ صحیح راستے پر گامزن ہیں جو ہمیں انتہاہ پسندی، دہشتگردی اور منظم جرائم جو افغانستان کو غیر مستحکم اور امریکی سرزمین کیلئے خطرہ ہیں ۔اسی لیے امریکہ کو صبر کا دامن تھامنا چاہیے۔ سیاست کو مسٹر ٹرمپ کے حکمت عملی کے بحث میں نہیں لانا چاہیے ہماری مشترکہ دشمن کے خلاف کامیابی کیلئے ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] آرٹیکلز. RSS 2.0