افغانستان کی خاتون اول کی توجہ عورتوں کے حقوق پر

بدھ 15 اکتوبر, 2014

افغان صدر اشرف غنی کی اہلیہ رولا غنی نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ افغانستان کے بچوں اور عورتوں کے حقوق کے لیے کام کریں گی۔ ان کے اس عزم پر اس بحران زدہ ملک کے قدامت پسند حلقوں کی جانب سے تنقید کی جا رہی ہے۔

رولا عنی کا تعلق ایک لبنانی عیسائی خاندان سے ہے، اور صدر اشرف غنی کے قدامت پسند مخالفین اس بات کو ملک کے عام انتخابات میں خاصا اچھال چکے ہیں۔ تاہم انتخابات میں فتح اور صدر بننے کے بعد غنی نے خاتون اوّل کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ رولا غنی کی توجہ ملک میں خواتین اور بچوں کی بہبود پر مرکوز رہے گی۔

صدر غنی نے عہدے کا تقریر حلف برداری میں کہا تھا: ’’میں اپنی شریک حیات کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے میری اور افغانستان کی مدد کی۔‘‘

افغانستان کے قدامت پسند معاشرے میں خواتین عموماً پردے میں رہتی ہیں اور سرکاری سطح پر بھی ان کی شمولیت خاصی کم ہے۔ تاہم خاتون اوّل کا یہ ارادہ کے وہ بھرپور طور پر انسانی حقوق کے لیے کام کریں گی، ملک کے رجعت پسند حلقوں میں خاصی متنازعہ بات سمجھی جا رہا ہے۔ یہ حلقے یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ رولا غنی افغانستان کے بارے میں جانتی ہی کیا ہیں۔ خیال رہے کہ رولا غنی صرف سن دو ہزار دو سے افغانستان میں مقیم ہیں۔ خاتون اوّل کہتی ہیں کہ ان کا افغانستان سے پہلا تعارف انیس سو پچھہتر میں اس وقت ہوا تھا جب انہوں نے افغانستان کا نجی دورہ کیا تھا۔

رولا غنی کا یہ بھی کہنا ہے کہ مستقل طور پر افغانستان کے مختلف صوبوں کے سفر کرنے اور لوگوں سے رابطہ رکھنے کی وجہ سے ان کا افغانستان کی ثقافت اور معاشرے کے بارے میں علم میں بہت اضافہ ہوا ہے۔

خاتون اوّل، جو تربیت کے لحاظ سے صحافی ہیں، کہتی ہیں کہ ذرائع ابلاغ افغانستان کی خواتین کو درست انداز میں پیش نہیں کرتے۔ وہ کہتی ہیں، ’’گو کہ یہ ٹھیک ہے کہ زیادہ تر خواتین اوّل سرکاری زندگی سے اوجھل رہی ہیں، مگر یہ بات بھی یاد رکھی جانا چاہیے کہ اس ملک کی عام عورت معاشرے میں فعال ہے، نہ صرف سماجی اور سیاسی میدان میں بلکہ کاروباری دنیا میں بھی۔‘‘

بشکریہ ڈی ڈبلیو

 

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0