اقوام متحدہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں کو روکے۔ ہمشیرہ ودود رئیسانی

منگل 9 دسمبر, 2014

کوئٹہ (ہمگام نیوز) ہمشیرہ میر عبداودود رئیسانی نے انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں پر زور دیا ہے کہ وہ بلوچستان میں جاری بلوچ نسل کشی ،ما ورائے عدالت جبری گمشدگیوں اوربلوچ نوجوانون کی مسخ شدہ لاشوں کے ملنے پر خاموش رہنے کی بجائے پاکستانی ریاست پر اپنا دباﺅ آج دنیابھر میں انسانی حقوق کا عالمی دن منایا جا رہا ہے پاکستانمیں انسانی حقوق کی تنظیمیں فوٹو سیشنز اور فائیو اسٹار ہوٹلوں میں سیمینارز تک محدود ہیں اور پاکستانی ریاست کے زیر اثر ہیں جسکی وجہ سے انکی ذبانوں پر تالے لگے ہوئے ہیں جبکہ آئے روز بلوچ نوجوانوں کے اگواءاور انکی مسخ شدہ لاشوں کے ملنے پربلوچ آزادی پسندوں کے احتجاج کے باوجود اقوام متحدہ اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظمیں بھی پاکستانی انسانی حقوق کی تانظیموں جیسا برتاﺅ کر رہی ہیں جس قدر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بلوچساتان میں پاکستانی خفیہ اداروں کے ہاتھوں ہو رہی ہیں شاید دنیا کے کسی ملک میں ہو رہی ہوں عراق شام سمیت دیگر ممالک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر امریکہ سمیت تمام ممالک جلد رد عمل دکھاتے ہیں لیکن سوال ہی ہے کہ بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی شدید خ؛لاف ورزیوں پر خاموشی کیوں ہمشیرہ میر عبدالودود رئیسانی نے مزید کہا کہ ہم اقوام متحدہ اور بین الا قوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بلوچستان میں پاکستانی خفیہ ادروں کے ہاتھوں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر اپنا موئثر احتجاج ریکارڈ کریں تاک بلوچ نسل کشی کو روکا جاسکے۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0