اللہ نظر خان قلات کے خاندان پہ انگلی اٹھاتے وقت شہید ورنا محراب و آغا محمود کا لحاظ رکھتے۔ بی ایس ایف

بدھ 22 اکتوبر, 2014

کوئٹہ(ہمگام نیوز) بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کئے گئے ایک بیان میں گزشتہ دنوں سلیمان داﺅد کے بارے میں ڈاکٹر اللہ نذر کی جانب سے کردار کشی
پر مشتمل اخباری موقف کو ابہام آرائی پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ کٹھ پتلی بلوچستان اسمبلی میں پاس کئے گئے قرارداد کے بارے میں خان آف قلات نے وضاحت کی تھی کہ ان کا اس قرارداد سے کوئی تعلق نہیں اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے دوٹوک الفاظ میں موقف اختیار کیاتھا کہ آزادی ان کا مقصد ہے اور وہ آخری سانس تک آزادی اور بلوچ قوم کے بہتر مستقبل کے لئے جدوجہد کریگی لیکن ڈاکٹر اللہ نذر اپنی زمہ دار انہ حیثیت کے باوجود خان قلات بارے میں الزام تراشیوں پر مبنی ایک غیر زمہ دارانہ بیان کا متحمل ہوکر سلیمان داﺅد کے حالیہ قومی کردار کو آلودہ کرنے کی بھر پور کوشش کرتے ہوئے زمینی حقائق کے برعکس ان کو الزام دیکر رائے عامہ کے آنکھوں میں دھول جھونکنے کی روایتی انداز میں کوشش کی جو کہ سلیمان داﺅکی حالیہ قومی اور سفارتی کردار سے قطعی طور پر متصادم ہے ترجمان نے کہاکہ ڈاکٹر اللہ نذراور اس کے دوستوں کی کنفیوژن اور تضاد بیانی کا اندازہ اس بات سے بخوبی اندازہ لگا یا جاسکتا ہے کہ چند ماہ پہلے انہوں نے بی ایل ایف کے سپریم کونسل کو جواز بناکر سنگت حیر بیار مری کو تحریک کے لئے نقصاندہ قراردینے کے ساتھ ساتھ ان کے خلاف غیر سیاسی زبان استعمال کرکے منفی پروپیگنڈہ میں لپٹی ایک بیان اخبارات اور میڈیا کی زینت بنائی گئی اور اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا سے لے کر نجی اور عوامی جلسوں میں غیر اخلاقی طرز عمل سے سنگت حیر بیار مری کے خلاف منفی حربہ استعمال کئے گئے لیکن آج ایک دم ڈاکٹر اللہ نذر کی جانب سے سنگت حیر بیار مری کو قابل احترام دوست کے نام سے بار بار یاد کرنے کا عمل چی معنی دارد کیا بی ایل ایف کے جانب سے جاری بیان اللہ نذر کا موقف نہیں تھااور اس کو جاری کرنے کا مقصد تاثر اور نیت کیا تھاکیا ڈاکٹر اللہ نذر بی ایل ایف کی اپنی سپریم کونسل کی بیان کو واپس لے کر اس بات کی وضاحت کریں گے کہ وہ کس قوت اور مروت کے دباﺅ میںآکر قومی رہبرسنگت حیر بیار مری اور اس سے جڑے دوستوںکے قومی کردار پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کرکے زمینی صورتحال کے برعکس زہر افشانی کی اور آج سنگت حیر بیار مری کے لئے ان کے جذبات کو کس تناظر میں دیکھا جائے اور اس بارے میں ان کی سابقہ پوزیشن کا کس طرح تجزیہ کیا جائے تر جمان نے کہاکہ بلوچ قومی تحریک کے زمین پر موجود تضادات اور معاملات پرپردہ ڈالنے اور انہیں دبانے کے لئے روایتی اور غیر اخلاقی حربہ استعمال کرنے کی کوششوں کے ساتھ تسلسل سے قومی کرداروںکو ہدف بنایا جارہاہے تاکہ چند لوگوں کی سیاسی اجارہ داری گروہی اور علاقائی سیاست کے علم سرنگوں نہ ہوںاور وہ برابراپنے غلط پالیسیوںکو لے کرحقائق کو عوام کے آنکھوں سے چھپانے کی روایت برقرار رکھ سکیںسلیمان داﺅ کے بارے میں گزشتہ دنوں کا بیان اور اسے تحریک سے الگ قرار دینے کی کوشش بھی انہی حربوں کی کڑی ہے کیونکہ سلیمان داﺅد نے اپنی اخباری موقف میں جن معاملات کی نشاندہی کی تھی اور جن حقائق کو لے کر لب کشائی کی تھی ان کے اس موقف میں وہ تحفظات تو حقیقت پر مبنی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر اللہ نذر سمیت واقفاںحال کو بھی معلوم ہے کہ سلیمان داﺅد سنگت حیر بیار مری کے ساتھ جڑھ کر قومی آزاد ی کے لئے کام کررہے ہیںاور سفارت کاری کے حوالہ سے وہ حیر بیار کے ساتھ مل کر ایک ساتھ کام کرنے کو ترجیح دیکر اپنے متزکرہ بیان میں اس بات کی وضاحت کی ہے کہ حیر بیار مری قومی آزادی کے لئے بہتر کردار ادا کررہے ہیںاور اس کے ساتھ وہ ان اختلافات کی نشاندہی کو بھی ضروری سمجھتے ہوئے مجموعی قومی موقف کی تائید بھی کی ہے لیکن ان کایہ موقف ڈاکٹر اللہ نذر کے لئے ناپسندیدگی کا درجہ حاصل کرتے ہوئے نہ صرف ناقابل برداشت ہوتا ہے بلکہ صبر کے لبریز پیمانہ کے ساتھ وہ سلیمان داﺅد سمیت ان کے پورے خاندان کو مورد الزام ٹہراتے ہیں کہ ان کا آزادی کی تحریک میںکوئی کردار نہیں اگرچہ خاندان علاقہ اور احمدزئی حیثیت سے ہٹ کر اس فیملی کے کئی لوگ جو آزادی کے لئے جدوجہد میں بحیثیت بلوچ شریک ہیں اور کئی سپوت اس راہ عمل میں شہید ہوچکے ہیں لیکن ایک طرح سے ان شہداءکے کردار سے یکسرانکاری ان کے پورے خاندان کو دوش دینا کونسا سیاسی بالیدگی ہے جنہوں نے آزادی کے لئے اپنی خون بہائے ہیں ڈاکٹر اللہ نذر صاحب آپ سلیمان داﺅد اور ان کی خاندان کی کردارکشی سے پہلے ان شہداءکا بھی لحاظ رکھتے تو بہتر تھا جنہوں نے آزادی کے عظیم مقصد کے لئے اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے شہادت قبول کی ان میں شہید آغا محمود احمد زئی اور شہید ورنا محراب خان احمدزئی سمیت شہیدخان محراب خان شامل ہے آپ اپنی اجارہ دارنہ اورمہم جوہانہ رویہ سے بالاتر ہوکر اگر آغا شیردل خان کے کردار کو مدنظر رکھتے جو آج پہاڑون میں محاذ پر موجود آزادی کے لئے جدوجہد میں شامل ہے اگر آپ ماضی میں جاکر دیکھ لیں تو آغا عبدالکریم خان احمد زئی کے قومی کردار سے آپ کیسے انکار کرسکتے ہیں جب کے ستر کے دہائی میں آغا سلمان احمدزئی جو پانچ سال تک پہاڑون میں مزاحمتی جدوجہد میں شریک تھیں آپ کس بنیاد پر اس خاندان کو بغیر کسی فرق کے ایک ہی لاٹھی سے کردار کشی کررہے ہیں بلکہ لفظ خاندان کا استعمال قطعادرست نہیںجو از خود گروہی اور علاقائی سیاست کا عکاس ہے ترجمان نے کہاکہ اگر خان قلات سیلمان داﺅد نے بلوچ قوم کو کوئی فائدہ نہیں دیا تو انہوں نے بلوچ قوم کو نقصان بھی نہیں دیا ماضی میںکئی لوگ اسی ریاستی فریم ورک کے حصہ تھیں لیکن وہ بعد میں تحریک آزادی میں شامل ہوگئے اب ان کے ان ماضی کے پیش نظر ان کی موجودہ کردار سے انکار نہیں کیا جاسکتا آپ سمیت ہم سب میں سے کسی نہ کسی کا تعلق نیشنل پارٹی بی این پی یا ان کے طلباءونگ کا حصہ تھے تو پھر اگراسی وابسطگی کو لے کر جانچ پرکھ کا سلسلہ شروع کیا جائے تو کئی کے ماضی پر ریاستی سیاست کے داغ موجود ہوں گے آج اگر کوئی آزادی کی تحریک کے لئے اپنی صلاحیت اور خدمات رضاکارانہ طور پر پیش کررہاہے تو اس میں غلط کیا ہے۔۔۔۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0