امریکی عہدیدار ایلس ویلز کی ڈپلومیٹک گفتگو اور بلوچ قومی مفادات،تحریر"منجرو گٹ بلوچ


پاکستان کے دورے میں امریکی عہدیدار ایلس ویلزکی ڈپلومیٹک گفتگو سے متعلق پاکستانی میڈیا نے اپنی مرضی اور مزاج کے مطابق تیزی سے خوف کے عالم میں حواس باختگی سے عجب تشریحات بیان کرنا شروع کی جو کہ
پولیٹیکل سائنس،انٹرنیشنل ریلیشن کے مضمون سے دلچسی رکھنے والے کسی طالب علم اور دنیا کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے سیاسی کارکن کیلئے دلچسپی کا باعث ہوگا۔اور یہ بات انھیں اچھی طرح یاد ہوگا جب عالمی سیاست نے نائن الیون کے بعد ایک نئی رخ اختیار کرلی ۔یاد رہے اس وقت پاکستان میں مسلم لیگ سے نوازشریف بر سراقتدار تھا۔کسی کے وہم و گھمان میں بھی یہ نہ تھا کہ جب 12 اکتوبر 1999سے پہلے ایک اعلی امریکی عہدیدار نے پاکستان کے دورے کی واپسی پر یہ بیان دیا کہ” امریکہ پاکستان میں کسی بھی غیر جمہوری طریقے سے موجودہ جمہوری حکومت کی تبدیلی کی حمایت نہیں کرے گی”۔اس بیان کے بعد پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں عجب سی تبدیلیاں ہوتی رہی فوج نے مشرف کی سربراہی میں نام نہاد جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر برائے راست فوج نے 12 اکتوبر 1999 کو اقتدار پر قبضہ کرلیا۔جس کے بعد لگ بھگ 10 سال تک امریکی حکومت پاکستانی فقج کے ساتھ شراکت دی چلتا رہا۔ کیونکہ امریکیوں کو افغان خطے میں پاکستان کی شرارتوں اور ان کی حمایت یافتہ طالبان ، القاعدہ اور اسامہ بن لادن کے ایجنڈا اور امریکی مفادات اور اپنے اپنے دشمنوں کے مشترکہ  منصوبوں کا قبل از وقت خاصا اندازہ تھا۔سیاسی کارکنوں کی دلچسپی کیلئے یہ نقطہ بھی قابل غور ہونا چائیے کہ دنیا میں بسنے والے ہر قوم کی مزاج میں ایک خاص بات دوسروں اقوام سے یکسر مختلف ہوتی ہے۔مثلا افغان قوم کی مزاج میں بہادری اور تجارت و کام میں زیادہ محنت کرنا ،اسی طرح عرب قوم میں ضد ،غصہ اورجنگی بہادری وغیرہ،پنجابی میں بزدلی ،مکاری وغیرہ،جاپانیوں میں سخت کام سے نہ گھبرانے کی مزاج،یہودیوں کی زہانت وغیرہ اور اسی طرح امریکیوں کے مزاج میں ایک خاص بات یہ شامل ہے کہ جہاں سے بھی انھیں اپنے ملکی معاشی،سیاسی،عسکری  مفاد کے خلاف کوئی مشکوک عمل نظر آئے تو وہ اس کا پیچھا اس وقت تک نہیں چھوڑتے جب تک انھیں اس منصوبے کی حقیقت کا معلوم نہ ہو۔ اس کے بعد وہ یعقینا اسے اگلے قدم کے طور پر  کیفر کردار تک پہنچانے  کا عمل ترتیب دیتے رہے ہیں۔ دنیا کی تاریخ میں اس کی بہت سے مثالیں موجود ہیں۔اب اس بات کو کیاکوئی امریکی بھول سکتا ہے کہ ان کے دشمن نمبر 1 اسامہ بن لادن پاکستان کے فوجی گیریژن سے 2 فرلانگ کے فاصلے پر اپنی فیملی کے ساتھ القاعدہ کو وہاں سے آپریٹ کرتا رہا۔اس کے بعد ملا منصور دوبارہ پاکستانی کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کے ساتھ آر سی ڈی روڈ پر آرام سے سفر کرتا رہا۔جہاں موقع پاکر امریکہ نے اسے بلوچستان میں نوشکی شہر کے مضافات میں ڈرون سے حملہ کرکے جان سے مار دیا۔ نواز شریف کی حکومت کی فوج کے ہاتھوں برطرفی اور افغانستان میں  امریکہ کے وہ کون سے  معاشی ،سیاسی،تزویراتی ، مفادات اور عسکری ارادے تھے ؟۔اس وقت یہ راز  امریکی خفیہ ادارہ سی-آئی- اے کے علاوہ اس کا  کسی کو کچھ بھی علم نہ تھا ۔نئی یا جاری گریٹ گیم میں تین واقعات کا آپس میں گہرا تعلق بنتا ہیں۔سب سے پہلے پاکستان میں بارہ اکتوبر 1999 کو فوج کی اقتدار پر برائے راست قبضہ دوئم امریکہ میں 2001 کو نائن الیون کا حملہ ہونا سوئم امریکہ کا برائے راست 7 اکتوبر 2001 کو افغانستان میں طالبان کی حکومت ختم کرنے کیلئے فیصلہ کن حملہ۔ ان تینوں واقعات کا ایک دوسرے سے ایک گہرا رشتہ ہیں۔اس بات کا زکر نہ کرنا سیاسی علم سے نابلدی اور ناانصافی ہی ہوگی کہ اس وقت پاکستان میں آئی-ایس-آئی کے سابق سربراہ جنرل حمید گل نے اپنی بیان میں ایک انتہائی اہم تاریخی جملہ یہ کہاتھا کہ نائن الیون بہانہ ،افغانستان ٹھکانہ ،پاکستان اصل نشانہ ہے۔وہ مشرف کے پالیسیوں کے سخت ناقد تھے۔امریکیوں نے اپنے کمال جرائت سیاسی و عسکری ہنر سے اس ریجن میں وہ تبدیلیاں لائے جو سب کو وطیرہ حیرت میں ڈال دیا۔اور اس دورانیے میں امریکی سی-آئی-اے نے اپنے ایجنڈے میں مشرف کو گورباچوف کی طرح خوب استعمال کیا۔امریکیوں کو اچھی طریقے سے معلوم تھا کہ افغانستان میں آئی-ایس- آئی کی حمایت یافتہ طالبان کی حکومت کو اکھاڑ کر باہر پیھنکنے کیلئے سب سے بہتر آپشن پاکستان ہے اس حوالے سے انھیں ان سے بہت سے کام لینا تھا۔پاکستان میں ہمیشہ سے اقتدار کی اصل سرچشمہ فوج رہی یے۔ان کے علاوہ نواز شریف کی کمزور نا اہل حکومت فورا کوئی کام نہیں کرسکتا تھا۔پاکستانی فوج نے امریکی صدر کے صرف ایک فون کال کی دھمکی پر اپنی ریاستی افغان پالیسی بدلنے پر مجبور ہوا۔انھوں نے امریکہ کو افغانستان پر حملہ کرنے کیلئے بہت سے ہوائی اڈے پیش کیئے۔کراچی پورٹ سے امریکہ اور نیٹو کی سپلائی میں مدد کی گئی۔امریکی ڈالر کی وصولی اور ان کے غضب سے بچنے کیلئے بہت سے القاعدہ اور چند طالبان کو گرفتار  کیا۔یہ سلسلہ آگے جاکر پاکستان کے اندر اداروں کی درون خانہ آپسی جنگ شروع ہوگئی۔بعض نے سی-آئی-اے کی ماسٹر پلان کو سمجھ کر خفیہ طریقے سے افغان طالبان کی مدد کو جاری رکھنا اپنے ملکی مفاد میں بہتر جانا۔تاکہ طالبان کے زریعے افغان حکومت کو کمزور کرکے امریکہ اور نیٹو کو واپس جانے پر مجبور کیا جائے۔تاکہ اس خطے میں ہندوستان کو اپنے منصوبوں کی تکمیل کی جانب آسانی سے کام نہ کرنے دیا جائے۔  لیکن پاکستان اور خارجی دنیا کےموثر بڑی طاقتوں کے درمیان کسی کا ایسا سوچنا ان کی احمقی کی شروعات ہوگی۔جبکہ امریکہ تنگ آمد بہ جنگ آمد کے مصداق پاکستان کی ان شرارتوں سے بیزار ہوکر امریکہ میں زیادہ اختیار رکھنے والے صدر ٹرمپ نے پاکستان پر سخت الزامات لگا کر ڈبل گیم کیھلنے کی دھمکی دے کر فوار مدد بند کرنے کا باقاعدہ فیصلہ کیا۔
پنجابی ایک طرف عالمی دہشتگردی کی جنگ اور دوسری طرف خود پاکستان کی ریاست کو اس پیچیدہ سیاست میں مسلسل پھنستے  دیکھ کر مستقبل میں اپنے ریاستی وجود کیلئے خطرہ محسوس ہوتا یے۔خصوصا داخلی طور پر انھیں سب سے زیادہ بلوچ قومی تحریک سے خطرہ محوس ہوتا رہا ہے۔کیونکہ بلوچ قومی آزادی کی تحریک میں شہداء کی قیمتی خون ،بلوچ اسیران کی لازوال قربانی بلوچ آزادی پسند رہنماوں سیاسی پارٹیوں کی عالمی فورمز پر سفارتی، سیاسی،محازوں پر پیش کی جانے والے بلوچ مقدمہ آزادی کو پیش کرنےکی طفیل بلوچ قومی آزادی کے حق میں امریکی سینیٹر ڈینا رورابیکر اور حال ہی میں سوئٹزر لینڈ کے شہر جنیوا میں “بلوچستان ہاوس “کی جانب سے فری بلوچستان کمپین،لندن اور نیویارک میں بلوچستان کی آزادی کے حق میں عالمی سطح پر اگاہی مہم بنگلہ دیش کی حمایت ،دنیا کی سب سے بڑی جمہوریہ ہند وستان کے وزیر اعظم کی بلوچ قوم کی آزادی کی حمایت کو سیاست کی دنیا میں بلوچ قومی آزادی کے حق میں ایک بڑی پیش رفت سمجھاجارہا ہے۔ جس سے کئی دفعہ ریاست پاکستان حواس باختہ ہو کر ان کی چیخیں نکل گئی تھی۔
پنجابیوں کو ہمیشہ سے ہر وقت ہر فورم ہر امریکی اعلی عہدیداروں سے یہ پوچھنا کہ وہ آزاد بلوچستان کی حمایت کرتے ہے یا نہیں؟۔لیکن ان احمق پاکستانی صحافیوں،اور ایران کی حمایتی مخصوص میڈیا بلوچ عوام کے نام پر سیاست و صحافت سے عوام کو سر گردان و مایوس کرنے والی بدنیت میڈیا اورحکومتی عہدیداروں کو کون کس طرح سمجھائے کہ ایک سفارت کار کی ڈپلومیٹک گفتگو کیلئے کوئی دانش مند ہو جو ان کی ڈپلومیٹک گفتگو کو سمجھے ؟یہان یہ نقطہ بھی قابل غور ہونا چائیے اس امریکی اعلی عہدیدار کی دورہ کا اہم مقصد پاکستان کو امریکی حکومت کا یہ پیغام پہنچانا تھا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف حقانی نیٹ ورک ے بارے میں فیصلہ کن اور سخت کاروائی کرے۔جب کہ اس بلوچ مسئلے بابت ایلس ویلز کی بات کو خود امریکی میڈیا نے آخر کیوں نظر انداز کیا؟ ۔پاکستانی میڈیا دوئم بلوچ کے نام پر ایک مخصوص میڈیا جو کہ اپنے غیر فطری آقا ایران کی خوشنودی کی خاطر اس بلاجواز ڈپلومیٹک گفتگو کو بڑھا چڑھا کر اپنے نادانی سے بلوچ دشمنی کا ثبوت دے رہے ہے۔اور یہ مخصوص میڈیا من وعن پاکستانی میڈیا کی بیانیہ کو آگے پیھلا کر بلوچ سیاسی کارکنوں کی رائے عامہ کو گمراہ کرکے آگے بڑھانا خود ناسمجھی اور بدنیتی پر مبنی عمل سمجھا جائے گا۔تمام سنجیدہ ازادی پسندوں کو ایسے قوم۔دشمن حرکات کو سنجیدگی سے نوٹس لے کر حقیقی تصویر قوم کو دکھا کر اس بلوچ دشمنی کا سدباب کرنا چائیے۔
ایک بیرونی سفارت کار خصوصا ایک امریکی جس کو سیاسی ،سفارتی گفتگو کیلئے کمال کی مہارت حاصل ہوتی ہے۔وہ پاکستان کے سفارت کار حسین حقانی کی طرح بھی نہیں جو پیسوں کی خاطر بھک کر تمام ریاستی راز افشاء کرے۔اور اپنے جاب ڈسکرپشن و ملکی مفادکے خلاف کام کرے۔اپنے بہترین قانونی نظام کی بدولت امریکی بالکل ایسا نہیں کرسکتے ۔ان کیلئے سب سے اہم اپنے آئین اور ملکی مفاد ہوتا ہیں۔
حال ہی میں ایک امریکی خاتون ایلس ویلز جو کہ ڈپٹی اسسٹنٹ سیکرٹری اسٹیٹ کے عہدے پر فائز ہے ۔زیادہ امکان یے اس صحافی کو فوج کی طرف سے بیھجے گئے مخصوص سوالوں کے ساتھ خصوصا یہ سوال کیا کہ وہ “آزاد بلوچستان” کی حمایت کرے گا یا نہیں؟ اب کوئی زارا ایک لمحے کیلئے سوچھے سوال کرنے والا ایک معمولی پاکستانی صحافی اور جواب دینے والا ایک زمہدار اعلی امریکی عہدیدار کی ڈپلومیٹک گفتگو۔کیا ایلس ویلز کو یہ اندازہ نہیں ہوگا کہ اس صحافی کو فوج نےاس مخصوص سوال کیلئے میرے پاس بیھجا ہوگا؟۔اسے ضرور اندازہ ہوگا۔کون کیسا پاگل ہوگا جو اپنے ریاستی راز کو چلتے میں ایک معمولی پنجابی صحافی کو میڈیا کے سامنے سب کچھ من وعن بتادے۔جنوبی سوڈان،مشرقی تیمور،کوسوو اور اریٹیریا کی آزادی کی تحریک کی آخر تک امریکیوں اور دوسرے عالمی طاقتوں نے مدد کا کھلم کھلا اعلان کبھی بھی نہیں کیا تھا لیکن پوری دنیا بے اپنی آنکھوں سے صاف دیکھا وہ چاروں تحریک بالآخر  کس طرح کامیاب ہوکر کس طرح سے آزاد ہوئے ؟۔
اسی طرح سابق یوگوسلاویہ جو ایک ایک سوشلسٹ ریپبلک تھا جس کی سیاسی  اور معاشی پالیسیز یورپ و امریکہ کیلئے حال و مستقبل میں ناقابل قبول تھے۔ وہاں دوسرے مظلوم اقوام بوسنیا،کروشیا،کوسوو،البانیا،مونٹی نیگرو جیسے اقوام پر سرب قوم کی بالاداستی پنجابی اور ایرانی گجر کی طرح ظالمانہ تھے۔جس میں امریکہ اور نیٹو نے منصفانہ اور اہم وقت پر انٹروینشن کرکے سربوں کے مظالم سے  بہت سی مظلوم اقوام کو نجات دینے میں مدد کی۔سوشلسٹ ریپبلک یوگوسلاویہ سربوں کی غلط داخلہ اور ناکام خارجہ پالیسی کی وجہ سے جب اس طرح کی انتشار و انارکی میں پھنس چکا تھا جیسے آج کل پنجابیوں کی غیر فطری ریاست پاکستان پھنس چکا ہے۔اس وقت پروفیشنل ڈپلومیٹ  مسٹر رچرڈ ہالبروک یوگوسلاویہ میں امریکی ریاست کی نماہندہ خاص تھا۔رچرڈ ہالبروک جو کہ ایک پروفیسر،مصنف،رسالےکا مدیر،بینکنگ سرمایہ کاری کے ساتھ بہترین اور قابل پروفیشنل ڈپلومیٹ تھا۔ان کے ناقدین کا ماننا تھا کہ انھیں جنگوں کے مسائل مسائل اور بحرانوں کے حل میں خاصی زاتی دلچسپی اورصلاحیت تھا۔وہ اپنی  قابلیت سے اس میں پائیدار حل کی جانب مختلف آپشن تلاش کرکے ممکنہ پائیدر حل کی راہ نکالتے۔یوگوسلاویہ کی حصے بخرے ہونے کے بعد سیاسی تجزیہ نگاروں کا ماننا یے کہ وہ اپنی ڈپلومیسی قابلیت سے سربوں سے مزاکرات کی میز پر ایک تہائی یوگوسلاویہ کے حصے کو تقسیم کیا۔جب آگے سرب حکومت کو اندازہ ہوا کہ یہ کچھ اور کرنے جارہا ہے۔جو کہ ہمارے سوشلسٹ ریپبلک ریاست کو توڑ رہا ہے۔تو رچرڈ ہالبروک سے مزید مزاکرت نہ کرنے کا مشکل فیصلہ کیا۔تب اس وقت بات بہت آگے گزرچکی تھی۔جہاں سے سربوں کیلئے واپسی کے تمام راستے ناممکن دکھائی دیئے۔جب سربوں نے مزاکرت کی میز پر نہ آئے جیسے کہ پاکستانی وزیرخارجہ خواجہ آصف کبھی کبھار میڈیا میں ایسی بے ہودہ اور مایوسانہ باتیں کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہے۔” کہ ہم نے ماضی میں امریکہ کے کہنے پر جعلی جہاد لڑا “وغیرہ ۔۔۔۔تو اس وقت یوگوسلاویہ میں مزاکرات کی میز پر انکار کے بعد رچرڈ ہالبروک نے حالات کو کر باقی ماندہ یوگوسلاویہ کو ٹھکانہ لگانے کیلئے یورپین فوجی اتحاد نیٹو اور امریکی فضائیہ کے اختیارداروں کو اپنی قلم سے ایک سفارش یہ کردی کہ اب سرب صدر سلوبوڈان میلاسوچ  کے ریاستی غیر انسانی مظالم اور خرابیوں کے تدارک کیلئے لازمی ہے کہ یوگوسلاویہ پر فضائی حملے شروع کیئے جائے۔اس وقت یوگوسلاویہ کی فضاء کو “نو فلائی زون”قرار دیا گیا۔نیٹو اور امریکہ کی فوج نے   یوگوسلاویہ پر اس تیزی سے وہ فضائی حملے کیئے جس کا مقابلہ سرب فوج نہ کرسکے اور بالآخر 1990 میں یوگوسلاویہ کا شیرازہ بکھر کر پارہ پارہ ہوگیا۔جس سے مظلوم اقوام کو آزادی ملی ۔اور بالآخر بعد میں عالمی عدالت انصاف نے ہیگ کے مقام پر سرب صدر کو کوسوو،بوسنین،کروٹ سب اقوام کی نسلی کشی کے مرتکب مجرم قرار دے کر سلوبوڈان میلاسوچ کو انٹر پول کےزریئعے گرفتار کرکے عمر قید کی سزا سنائی۔ قومی آزادی کی ایک سیاسی کارکن اور جہد کار کو اپنی قومی آزادی کے عطیم مقصد کیلئے زیادہ تر اپنے قومی طاقت پر انحصار کرنا چائیے۔جو یعقینی اور پائیدار ہوتی ہے۔دنیا کے طاقتور اقوام اور ان کی سیاسی ،معاشی،سفارتی،عسکری مدد سے کوئی زی الشعور انکار نہیں کرسکتا،لیکن ہمارا مطمع نظر اور سوچ اپنے قومی طاقت پر ہونا چائیے۔
بلوچ کی سرزمین کو اس وقت قابض  پنجابی پاکستان نے بزور طاقت مقبوضہ بنایاہے۔ہمیں بنگالیوں کی طرح پاکستان سے آزادی کرنا ہے ۔آج جو ناگفتہ حالات پاکستان کی مجموعی  صورتحال کی ہے وہ مظلوم اقوام سندھی،پشتون،اور بلوچ قوم کیلئے کافی حوصلہ افزاء ہے۔دشمن ریاست اس توانائی کے شدید بحران کا شکار ہے۔بجلی کے لوڈشیڈنگ کا مسئلہ،امن و امان کا مسئلہ ،شیعہ سنی اور دوسرے بہت سے مزہبی تضادات،ناکام داخلہ و خارجہ پالیسی،معاشی حالات کی خراب صورتحال،امریکہ کی فوجی اور سویلین امداد کی بندش،ڈالر 5کی قیمت کا  100 روپے سے بڑھ کر 113 روپے تک پہنچنا۔اور معاشی ماہرین کی پیشنگوہی ہے کہ ہوسکتا ہے حالات اگر اسی طرح سے رہے تو 1 ڈالر 150 روپے کی ہوسکتی ہے۔روپے کی قدر میں گراوٹ سے زیادہ مہنگاہی بیں روزگاری کے ساتھ ساتھ بیرونی قرضوں کا بہت زیادہ بڑھنا ۔ان کی نارمل ادائیگی اور  سود کی ادائیگی علیہدہ سے ان کیلئے ایک بڑی مشکل ہے۔سیاسی بدامنی بھی بہت زیادہ ہے۔پارلیمانی کرپٹ وزراء کی فوج ظفر موج تو موجود ہے ۔لیکن کوئی قابل اعتماد اورمدبر لیڈر ان میں شروع سے ناپید رہا ہے اور یہ خلاء آج تک پر نہیں ہوا ہے۔پشتون قوم کے وہ قبائلی علاقے جہاں کبھی کبھار بغیر وردی کے پاکستان کی فوج کے ساتھ شامل ہو کر جنگی معاز میں بے فرنٹ لائن پر جاکر لڑنے کیلئے خود کھود پڑتے۔اس فوج اور آئی-ایس-آئی کی غلط و بدمعاش پالیسیز سے پشتون قوم نے وہ تکالیف اٹھائے ہیں جو ناقابل بیان ہیں۔اور وہ بے حد خوش ہونگے جب انھی غیرت مند پشتونوں کو آئی -ڈی- پیز بنا دیا۔مشرقی باڈر پر  ہندوستان کی فوج مسلسل پیش قدمی اور ایل-او-سی باڈر کراس کرکے آگے پیش قدمی کی خاطر اپنی پوری طاقت و تیاری کے ساتھ الرٹ کھڑے ہیں۔وہاں ہر ہفتہ کوئی حملہ ضرور ہوتا ہے۔شمال میں افغانی قوم شروع سے لے کر اج تک ڈیورنڈ لائن کو قبول نہیں کی ہے۔اس کے علاوہ اس بھکاری بدمعاش ملک کی معاشی حالت کافی پریشان کن ہے۔ان کے پاس صرف ڈھائی مہینے کی ریزرو معفوظ ہے۔جو کہ بہت مشکل و ناممکن ہے ایک ریاست کی مجموعی اسٹرکچر کو چلانے کیلئے۔ دنیا بلوچستان کی حقیقی قوت بلوچ قوم کو نظر انداز نہیں کرسکتا۔البتہ وقت کا اہم اور سنجیدہ تقاضہ ہے کہ بلوچ سیاسی پا رٹیز،رہنماء سیاسی اختلافات کو صرف اختلافات سمجھ لے اور تمام اسٹیک ہولڈرز ایک دوسرے کو اہمیت دے کر ایک اعتماد سازی کی ماحول پیدا کرکے آزادی کی قومی جہد کو آسان اور وقت  پہ ممکن بنائے۔حالات اسی طرح سے چلتے رہے پاکستان کی موت 100% یعقینی ہے۔دنیا ہمیں کمک کرے نہ کرے ہماری دشمن ریاست پاکستان ضرور ٹوٹ کر بکھر جائے گی۔ تو ہمارا وطن آزاد بلوچستان لازم ہی ہوگا۔