انتہائی غور طلب،تحریر: سردرو بلوچ

ہفتہ 1 جولائی, 2017

بلوچ جہد آزادی کا مشعل تمام تر مشکلات و کمزوریوں کے باوجود اگر آج تک روشن ہے تو اس کی روشنائی ان دلیر اور مخلص بلوچوں کی قربانیوں کی بدولت ہے جنہوں نے اپنے لہو کو قوم و سرزمین کی آزادی کےلئے پانی کی طرح بہایا۔
جہاں اس سرزمین کے آزادی کے لیئے ہر شہید کی قربانی کے پیچھے ان کے قیمتی کارناموں اور انمول کردار کی ایک اعظیم تاریخ ہے تو وہاں ایسے خاندانوں کی بھی کوئی کمی نہیں جنہوں نے ایک کے بعد ایک اپنے جگر گوشے تحریک پر قربان کئے اور اف تک نہیں کی محمد خان لانگو جس نے مجید اول کے بعد شھید امیر بخش و مجید ثانی کو قربانیوں کا مثال بنایا حاجی رمضان زہری نے جواں سال مجید کے زندگی کے بدلے اپنے اور حئی عرف نثار کی موت کو قبول کرکے تحریک پر اپنی دنیا اور خاندان وار دی اسطرح شھید رفیق شہسوار کے خاندان نے ایک کے بعد ایک قیمتی جوانیاں تحریک پر قربان کرکے یہ پیغام دیا کہ آزادی سے بڑھکر کچھ بھی نہیں واجہ اختر ندیم کا خاندان ہو یا واجہ ڈاکٹر اللہ نذر کا ہر ایک نے وقت آنے پر ثابت کردیا کہ یہ لہو اور سانسیں یہ خوبصورت جوانیاں یہ بز و بالا بالاد وطن اور قوم کی امانت ہیں دشمن کے سامنے لہو بہہ سکتا ہے مگر بک نہیں سکتا آنکھیں نکل سکتی ہیں مگر جھک نہیں سکتے یہ گرم سانسیں اور جسم سر مٹی پر گر کر مٹی میں مل سکتا ہے مگر دشمن کے قدموں پر گرنا ممکن نہیں ۔ بلوچوں کے ایسے خاندانوں کے بیچ ایک ایسا خاندان بھی ہے جس سے شاید قوم کی اکثریت واقف نہیں جو دشمن کے ناروا بربریت کے سامنے ڈٹ کر کھڑا رہا اور اپنے گھر کے چراغ ایک ایک کرکے طوفان کے نذر کرکے تحریک کے راہ کو روشن رکھا ایک کے بعد ایک فرزند قربان کرتے ہوئے انکے قدم کبھی بھی نہیں لڑکھڑائے دس نوجوانوں کو قربان کرنے کے بعد بھی انکار عزم و ہمت حوصلہ دیدنی ہے ۔
اس گم نام خاندان کی قربانیوں کی داستان اتنی اعظیم ہے کہ جسے الفاظ میں بیان کرنا کم از کم میرے لیے مشکل ہے میں ایک سرسری سا تعارف پڑھنے والوں کےلئے پیش کررہا ہوں تاکہ وہ جان سکیں کہ وطن کے محافظ اور سچے فرزند تاریخ عالم میں دیگر اقوام کے سامنے قومی ناموس و غیرت کو لیکر زندہ و تابندہ ہیں یہ جو بزدلوں اور قوم فروشوں کی تشہیر دشمن جس انداز میں کررہی ہے ان سب وطن فروشوں اور غداروں کے سامنے ایسے ایک خاندان کی عظمت اتنی عظیم جیسے کوہ چلتن کے بلندی و عظمت کے سامنے ایک خنزیر کی اوقات ۔
یہ خاندان مری قبیلے کے شیرانی شاخ سے تعلق رکھتا ہے اور انکے سربراہ کا نام ہے احمد خان ۔اس خاندان کا شمار انگیزی یلغار میں کمبد کی جنگ سے لیکر پاکستان کے پنجابی فوجی قبضہ گریت کے خلاف ہونے والی ہرجنگ میں ہوتا رہا ہے اور ہر جنگ میں انہوں نے اپنا قومی فریضہ نبھایا ہے شہید احمد خان نے خود بھٹو کے دور حکومت میں پنجابی فوجی جارحیت کے خلاف مزاحمتی جنگ میں حصہ لیا اور اسکا خاندان فوجی بربریت کا شکار رہا اور بحالت مجبوری انکو افغانستان ہجرت کرنا پڑا اور نواب خیربخش مری بابو جنرل شیرومری اور ہزار خان بجارانی کی قیادت میں کئی سال جلا وطنی میں گذارے وطن واپسی پر بیروزگاری اور تنگ دستی کے وجہ سے لسبیلہ اوتھل اور وندر کا رخ کیا لیکن جب دوبارہ سے تحریک نے نواب خیربخش مری اور واجہ حیربیارمری کی قیادت میں سراٹھایا اور تاریخ اپنے آپ کو دوہرانے لگا تو شہید احمدخان اپنے جوانسال بیٹوں اور خاندان کے ساتھ اپنے ابا و اجداد کی تاریخی کردار کی پاسداری کرتے ہوئے اس تسلسل کو پھر سے جاری و ساری رکھنے کےلئے پوری خاندان سمیت وطن کی پاسبانی کے لئے حاضر ہوا ۔اس کے تمام بیٹے اور بھتیجے کوہ ہستان مری کے ہر مختلف گوریلا کیمپوں میں اپنا فریضہ نبھاتے رہے گھر میں موجود عورتیں بچے بوڑھے حب چوکی وندر اور لسبیلہ میں دوسروں کی زمینوں پر مزدوری کرکے گذر بسرکرتے رہے اس خاندان کے نوجوانوں نے ان علاقوں میں بھی کہیں شہری حملے کر کے دشمن کے مفادات پر ضرب لگاتے رہے۔
2010 کا سال تھا جب پاکستانی خفیہ اداروں نے اپنے زرخرید مخبروں کے ذریعے ان کا سراخ لگایا اور شہید احمد خان کے بیٹے صحبت خان اور ان کے بھتیجے عرضی خان کو حب چوکی کے بازار سے اغواء کیا اور تقریبا 3 مہینے بعد صحبت خان کو شہید کر کے اس کی لاش شہید شادی خان مری کی لاش کے ساتھ کوئٹہ سے کچھ ہی فاصلے پر ڈگاری کراس پر پھینک دیا اور اس کے ایک مہینے بعد 2010 کے آخری مہینوں میں شہید عرضی خان کی لاش اوتھل سے ملی۔
مگر اس خاندان کو چونکہ اس قربانیوں کی اہمیت کا اندازہ بخوبی تھا اس سے ان کے حوصلے پست ہونے کے بجائے اور بڑھ گئے اور انھوں نے اپنے اس قومی فرض کو ایمانداری سے نبانے کی ٹھان لی۔اور کوہستان مری کے کیمپوں اور حب چوکی میں ان کے نوجوانوں نے سرکار پر کئے کامیاب حملے کیئے۔
چونکہ اندر کے بد خواہ اور قریبی مخبروں کے نگاہیں اس خاندان کا پیچھا کررہے تھے اسلئے ان لوگوں نے لسبیلہ سے اندرون سندھ ہجرت کا سوچا اور رات کے اندھیرے میں م حب چوکی سے سندھ کی طرف نکل گئے مگر بدقسمتی سے گھر کا بیدی لنکا ڈھائے نوری آباد کے قریب دشمن نے مزدہ ٹرک والوں کی بھیس میں انکو آگھیرا 2011 کے شروعات میں خفیہ اداروں نے اس ہجرت کے دوران شہید احمد خان ان کے 3 بیٹے اور 4 بھتیجوں کو اغواء کیا یعنی شہید احمد خان سمیت 8 فرزند خفیہ اداروں کے ہاتھوں اغواء ہوئے اور ایک مہینے بعد شہید احمد خان کی مسخ شدہ لاش شہید طارق کی لاش سمیت اوتھل میں پھینکا جب یہ لاشیں کراچی پہنچائے گئے تو پتہ چلا کہ لاشوں پر تیزاب بھی پھینکا گیا ہےاور ایک مہینے بعد شہید وزیر خان جو شہید احمد خان کا بھتیجا تھا اس کی لاش ایک اور شہید نصیب اللہ مری کی لاش سمیت لورالائی سے ملی اور لاشوں کی حالت ناقابل شناخت تھی اور چونکہ ان کے بھائی اس وقت تک خفیہ اداروں کی تحویل میں تھے انھوں نے یہ انکشاف کیا کہ ایک رات قبل شہید وزیر خان اور پہلے سے تحویل میں لیئے ہوئے شہید نصیب اللہ کو خفیہ اداروں کے اہلکار ہمارے پاس سے لے گئے اسی شہادت کی بنیاد پر ان کے خاندان والوں نے لورالائی سے ملنے والی لاش کو شہید وزیر کی لاش تصور کر لیا اور کویٹہ میں شہید احمد خان کے قبر کے ساتھ ہی شہید وزیر خان کو دفنایا گیا۔
اور تقریبا 1 مہینے بعد شہید احمد خان کے بیٹے شہید شربت خان اور بھتیجے شہید زمان خان کی لاش اوتھل سے ملی اور قابل شناخت تھی انھیں بھی کوئٹہ میں شہدا قبرستان میں دفنایا گیا۔
اور شہید احمد خان سمیت آٹھ فرزندوں میں سے 4 کو شہید کیا گیا اور ان کے دو بیٹے رحمدل اور رسول بخش اور دو بھتیجوں کو چھوڑ دیا گیا۔
ان لاشوں کی بھرمار نے اس خاندان کے نوجوانوں کو تحریک آزادی سے دور کرنے کے بجائے اور زیادہ حوصلہ بخشا اور انھوں نے اپنے نوجوانوں کو کیمپوں اور شہروں میں کاروائیوں کے لئے پہلے سے زیادہ جذبہ سے سرشار بھیجتے رہے۔
2015 میں شہید احمد خان کے دو بھتیجے شہید صورت خان عرف منشی کو اس کے بھائی سمیت حب چوکی سے اغواء کیا 9 مہینے بعد 2016 میں شہید صورت خان عرف منشی جو کہ حب چوکی میں گروپ کمانڈ کر رہا تھا کی لاش کراچی سے ملی اور اسے حالات سازگار نہ ہونے کی وجہ سے وہیں کراچی میں دفنایا گیا۔
یہ سلسلہ یہی نہیں رکھا اور اس خاندان کے نوجوانوں نے قربانیوں کی چونکہ تاریخ رقم کرنے کی ٹھان لی تھی۔2016 کے نومبر کے مہینے میں ایک کاروائی کے بعد شہید احمد خان کے بیٹے جس کو پہلے بھی خفیہ اداروں نے اغواء کے بعد چھوڑ دیا تھا اپنے دو چچازاد کے ساتھ حب چوکی کے پہاڑی سلسلے کی طرف جا رہے تھے راستے میں پہلے سے گھات لگائے دشمن نے ان پر حملہ کردیا گرفتاری کی کوشش کی لیکن مزاحمت جنکے خون میں شامل ہو وہ کیا سر جھکائنگے دو بدو شدید جھڑپ کے بعد تینوں فرزند شہید ہو گئے اور دشمن کو بھی شدید نقصان سے دوچار کیا اور اسی حواس باختگی میں قبضہ گیر فوج نے شہید احمد خان کے جوان سال بیٹے شہید رسول بخش اور دو بھتیجے شہید رزاق اور شہید زبیر خان کی لاشوں کو دینے سے انکار کر دیا اور یہ شرط رکھا کہ لاشیں اس وقت ملیں گی جب اس خاندان کے باقی ماندہ لوگ سرینڈر کرینگے۔۔
لیکن پڑھنے والوں کو یہ بتاتے ہوئے مجھے فخر محسوس ہورہا ہے کہ ان حیرت انگیز قربانیوں کی داستان مجھے قلم بند کرانے والا شھید احمد خان کے جوان سال بیٹے ہیں جنکے پشت پر یتیموں اور بیواہوں کی ایک فوج ہے مگر انکے جذبے اور حوصلے دیکر چلتن اور زرغون شرما جاتے ہیں
اس جواں سال سربراہ کےحوصلوں اور جذبہ حب الوطنی کا اندازہ اس بات سے لگائیں تو اس نوجوان کا جواب تھا “ان شہیدوں نے اپنی زندگی میں ایسا نہیں کیا تو میں کون ہوتا ہوں ان کی شہادت کو ضائع کرنے والا اگر میں ان کا حقیقی سپوت ہوں تو میں اور میرا باقی ماندہ خاندان بھی اسی سلسلے کو برقرار رکھیں گے”۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] آرٹیکلز. RSS 2.0