اپنی دکانیں کاروباری مراکز اور تعلیمی ادارے رضاکارانہ طور پر بند رکھتے ہوئے 13 نومبر کو یوم شہدائے بلوچستان کے طور پر منائیں،بی ایس ایف

جمعہ 7 نومبر, 2014

کوئٹہ ( ہمگام نیوز)بلوچ سالویشن فرنٹ کی جانب سے 13 نومبر یوم شہدائے بلوچستان کے مناسبت سے13 نومبر تاریخی پس منظر یوم شہداء اہمیت اور مقصد کے عنوان سے ایک لیفلٹ شائع کیاگیا ہے جن کے مندرجات میں بلوچ قومی آزادی شہید محراب خان اور ان کے ساتھیوں کی جدوجہد اور موجودہ قومی آزادی کے تسلسل اور شہداء کے غیر معمولی قربانیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ بلوچ اور بلوچستان کے دیگر اقوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ 13 نومبر کے دن یوم شہدائے بلوچستان کے موقع پر اپنی دکانیں کاروباری مراکز اور تعلیمی ادارے رضاکارانہ طور پر بند رکھتے ہوئے 13 نومبر کو یوم شہدائے بلوچستان کے طور پر منائیں لیفلٹ میں کہا گیا ہے کہ بلوچ آزادی کی جدوجہد کا ایک طویل سلسلہ ہے جو 1839سے اب تک جاری ہے حالیہ قومی آزادی کی جدوجہد کو 1839اور بعد کے مذاحمتی اور دفاعی جدوجہدکے تسلسل سے کاٹ کر نہیں دیکھا جاسکتا بلکہ یہ اٹوٹ طور پر شہید محراب خان اور ان کے ساتھیوں کے جدوجہد کا ایک فیصلہ کن اور تاریخی موڑہے انگریز قابضین انیسوین صدی میں جب جنوبی ایشیاکا رخ کئے تو اس وقت بلوچستان کے سماجی اور سیاسی ڈھانچے کا سربراہ اورفرمانروا شہید خان محراب خان تھے جو خان بلوچ تھے برٹش حملہ آوروں نے بلوچستان پر قبضہ کرنے کے نیت سے جب بلوچستان میں اپنی فوجی و عسکری لاؤ لشکر کے ساتھ داخل ہوئے تو شہید محراب خان نے انگریزی قبضہ کو ناجائز غیر قانونی اور بلجبر قرار دیتے ہوئے تمام بلوچ قبائل کے سرکردہ اور قومی دستوں کو لے کر برطانیہ کے عسکری تکبر اور توسیع پسندانہ عزائم کے خلاف باقائدہ جنگ کا آغاز کیا اس جنگ میں ان کے کئی ہمراہ دار شہید ہوگئے بلکہ کل ملاکر 225افراد شہید ہوگئے اور انگریز بلوچستان کی آزادی اور خود مختاری کو روندھتے ہوئے بلوچستان پر قبضہ کرلیا یوں بلوچ قوم کی ہزاروں سالہ آزادی اور خود مختاری کو سلب کی گئی لیکن بلوچ قوم کے بہادر سپوت 13نومبر کے شہیدوں کی قربانیوں کی روشنی میں انگریز کے خلاف جوانمردی کے ساتھ جدوجہد کی 13نومبر کے شہداء کا خون بلوچ قوم کو خوف اور سراسیمگی کے بجائے امید اور حوصلہ دی برطانیہ اس وقت ہندوستان اور برصغیر کے کئی ممالک پرقبضہ کرلیا تھا اور بلوچستان پر قبضہ کے صورت میں انہیں ایک وسیع رقبہ حاصل ہوئی اور ایک اہم بندرگاہ بلوچستان جن کی سرحدین افغانستان ایران اور کئی ہمسائیہ ممالک کو ملاتی تھی اس لئے برطانیہ کو اپنے منصوبوں اور عزائم کی تکمیل کے ساتھ ساتھ اپنی توسیع پسندی کے لئے ایک اہم علاقہ مل گیا برٹش نے اس موقع سے فائدہ اٹھاکر شاہ ایران کے سویت یونین سے مراسم اور سویت یونیں کی اس خطہ میں براہ راست اثر ورسوخ سے ہزیمت اوربے چینی کا شکار ہوکر مشترکہ بلوچ قومی آبادی اور زمین کو تقسیم کرکے ایران اور افغانستان میں شامل کردیا بلکہ گولڈ سمتھ لائن اور ڈیورڈ لائن کے زریعہ باقائدہ خونی لکیریں کھینچ کر بلوچ قومی وحدت کو بے رحمی کے ساتھ تین حصوں میں تقسیم کردیاایک وسیع خطہ ایران میں بلجبر شامل کردیا اور اسی طرح کچھ بلوچ علاقہ افغانستان میں شامل کردیا یاد رہے کہ گولڈ سمتھ لائن اور ڈیورڈ لائن کی کوئی قانونی اور فطری حیثیت نہیں بلکہ افغانستان بھی ڈیورڈ لائن کے غیر فطری سرحدی لکیر کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے اور بلوچ قوم بھی برٹش قابضین کے دونوں کھینچی گئی سرحدی لکیروں کو غیر فطری اور غیر قانونی سمجھتے ہوئے آزاد اور متحدہ بلوچستان کی موقف اور مطالبہ کو بلوچستان کی آزادی کی کامل آزادی سمجھتی ہے اگرچہ انگریز حملہ آوروں نے 13نومبر کو شہید خان محراب خان اور ان کے ساتھیوں کو شہید کرتے ہیں لیکن ان کی خون سے آزادی کی مشعل کو جو ایندھن فراہم ہوتی ہے اور آزادی کے جدوجہد جہالاوان سراوان اور مری علاقوں میں تسلسل کے ساتھ جاری رہتی ہے انگریز فوجی بھرتی بورڈ کے خلاف مری بلوچوں کی مثالی مزاحمت مری علاقوں میں قومی جدوجہد میں شدت اور ابال کے ساتھ جہالاوان کے پہاڑوں میں شہید خان محمد زرکزئی اور ان کے ساتھیوں کے غیر معمولی دفاعی جدوجہد جو انگریز قابضین کے حوصلوں کو پست کرنے کے لئے کافی تھے جبکہ بخش اول سردار خیر بخش مری شہید علی دوست نورا مینگل سردار دوست محمد بارانزائی نے اپنی بے لوث اور انتھک جدوجہد سے نہ صرف تاریخ کو ایک نئی کروٹ سے دیتے ہیں بلکہ بلوچ قوم کو مزاحمتی جدوجہد کی شکل میں قومی و دفاعی راستہ و فکر دیتے ہوئے ثابت کرتے ہیں کہ بلوچ قوم غلامی اور تابعداری کے ذلت آمیز زندگی کے رحم وکرم پر ہونے کے بجائے اپنی زمین آذادی اور شناخت کے لئے ہمیشہ کمر بستہ رہے ہیں اس تسلسل میں میر یوسف عزیز مگسی کے عظیم قومی کردار کو کھبی فراموش نہیں کیا جاسکتا جنہوں نے بلوچ قومی آزادی کے لئے مزاحمتی جدوجہد کے ساتھ ساتھ سیاسی قلمی اور سفارتی جدوجہد کو بھی تیز کیاانہوں نے بلوچ قوم کی سیاسی بیداری کے لئے دن رات محنت کیا بلکہ انہوں نے آزادی کی جدوجہد کو نصب العین بناکر بلوچ قوم کی موقف کو عالمی سطع پر اجاگر کیا بلوچ قومی مزاحمت کی شدت اور ہندوستان میں انگریز ی قبضہ کے خلاف بڑے پیمانے پر جدوجہد اور جنگی عظیم دوئم کے تباہ کاریوں نے برطانیہ کو شدید کمزور کردیا تھا وہ شدیدجنگی بحران کاشکار ہوگئے تھے ان کے خلاف مختلف ممالک میں قومی مزاحمتی عمل نے ان کے پاؤں سے زمین کھینچتے ہوئے نظر آئے ان کے ارادوں میں لغزش اورعزائم متذبذب ہوگئے بلآخر وہ بلوچ وطن کی قبضہ سے دستبرداری کا اعلان کرتے ہوئے11اگست کو بلوچستان کی آزادی کا باقائدہ اعلان کیا13 نومبر 1839سے لیکر 11اگست 1947تک آزادی کے جانثاروں شہید خان محراب خان اور شہید سردار کریم شاہوانی سمیت ہزاروں دیگرقومی متوالوں کی جدوجہد کا ثمر آزادی کی صورت میں ملی اگرچہ آزادی کایہ سرخ سویراجلدی اندھیروں کی اوٹ میں چلی گئی لیکن آزادی اور وطن کی حفاظت کے لئے ایک قومی فکر شہیدوں کی میراث کے طور پر ہمیں بطور وراثت ملی اس فکر کو برطانوی استعمار زمین میں دفن نہ کرسکے تو نومولود ریاست اس فکر آزادی کو کیسے کچل سکتا ہے کسی بھی فرد کی شریانوں کو ختم کیا جاسکتا ہے لیکن اس کی فکرآزادی کو قتل نہیں کیا جاسکتا بہر حال برطانوی سامراج جاتے جاتے ہمیں گولڈ سمتھ اور ڈیورڈ لائن جیسے نام نہاد غیر فطری اور متنازعہ سرحدوں کازخم دیتے ہوئے درپردہ بلوچستان پر قبضہ کے لئے ایک دفعہ پھر پاکستانی امپریلزم کو بھر پور تعاون اور مدد کمک کی 11اگست کو بلوچستان کی آزادی کے اعلان کے بعد ایک ہی سال میں پاکستانی ریاست کا بلوچستان کا جبری الحاق ایک دفعہ پھر اس طویل غلامی کے سیاہ تریں باب کا آغاز ہے بلوچ قوم ایک دفعہ پھر طویل غلامی اور تاریکی میں چلی گئی بلوچ قوم کو ایک سال کی آزادی تو ملی لیکن برطانیہ کے ساز و باز اور ریاست کے ساتھ برٹش مفادات اور وفاداریوں اور کالونیل دلچسپیوں کی عوض ایک بار بلوچ قوم پر غلامی مسلط کی گئی اوربلوچ سماج کو خاک و خون سے آلودہ کی گئی بلوچ قوم کی بدترین خونریزی کی گئی اور بلوچ نسل کشی کے سلسلہ کو جاری رکھا گیا بلوچ قوم کی تاریخ تہذیب ثقافت اور قومی اقدارو روایات کو مسخ کیا گیالیفلٹ میں مزید زکر کیا گیا ہے کہ 13نومبر ہماری تاریخ کا ایک روشن باب ہے ہمارے لئے فخر کا مقام ہے کہ ہمارے شہداء نے اپنے سے بڑے طاقت کے سامنے سرجھکانے کے بجائے ڈٹ کر ان کا مقابلہ کیا انہوں نے اپنی بہادری اور قربانیوں سے بلوچ قومی تاریخ کا مقام بلند کردیا تاریخ تو غلامی قبول کرنے سے شاندار نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کا سر مدافعتی اونچا ہوتاہے آج بلوچ قومی آزادی کی جدوجہد 174سال میں داخل ہوچکی ہے اور یہ 13 نومبر1839کا تاریخی تسلسل ہے بلوچ نوجوان اپنی زمہ داریوں کا احساس کرچکے ہیں بلوچ عوام کے تما م آزادی خواہ طبقہ اپنی آزادی اوردفاع سے غافل نہیںیہ سوچ ہماری کامیابی کی کلید ہے بلوچ قوم کی آزادی کے جدوجہد کے ساتھ والہانہ ہمدردی ہمارے حوصلوں کو چلتن کی چوٹیوں سے بھی بلند کرتی ہے لیفلٹ میں شہداء کی برسی کے لئے مشترکہ دن کی چناؤ کو زیر بحث لاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ قومی آزادی کے راہ عمل میں شہید ہونے والے شہداء کے طویل تریں فہرست کی موجود گی میں اگربلوچ شہداء کے برسی کے لئے سال کے365 دن بھی مختص کیا جائے تو سال کے تمام دن شہداء کے سالروچ تقریبات کے لئے ناکافی ہوں گے کیونکہ174 سالہ طویل جدوجہد کے دوران ہزارون معلوم و نامعلوم شہداء آزادی کے قربان گاہ پر اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے چندشہداء کی برسی مناکر باقی شہداء کو یادنہ کرنا تمام گمنام شہداء کے ساتھ نا انصافی ہوگی اس لئے بلوچ آزادی پسند قیادت سر جوڑ کر اس سلسلے میں شہداء کی برسی کے لیے ایک مشترکہ دن پر متفق ہوکر 13نومبر کو یوم شہدائے بلوچستان کا اعلان کردیا ہر گزرتے دن کے ساتھ ایک بلوچ فرزند کی شہادت کا واقع رونما ہونے کی وجہ سے روز اتنے شہداء کے دن نہ تو منائے جاسکتے تھے اورنہ ان کی یاداور تعزیتی تقریبات کے لے سال کے تمام دن کافی پڑھتے تھے جبکہ بلوچ قوم کے تمام شہدا ء عظیم یکساں اور برابر ہے اس لئے 13 نومبر کا انتخاب ایک تاریخی فیصلہ ہے اور اس دن کی اہمیت ہمارے لئے یہ ہے کہ بلوچ وطن کے فرمانروا شہید محراب خان اور ان کے ساتھیوں کی شہادت کادن ہے اور اس دن کو شہدائے بلوچستان کے طور پر منانے سے شہداء کے مقصد جدوجہد کو نہ صرف جلاء ملتی ہے بلکہ 13 نومبر کی قربانیاںآزاد بلوچ ریاست کی جدوجہد کو تاریخی بنیادیں فرائم کرتی ہے یہ دن اس بات کو تقویت دیتی ہے کہ 12 نومبر 1839 کے بعد بلوچ وطن کی جبر ی تقسیم اور بندر بانٹ اور بلوچ وطن کے حوالہ سے انگریز اور موجودہ ریاست کے تمام معائدات غیر قانونی اور بلوچ مرضی منشاء کے برعکس ہے اور بلوچ قوم مسئلہ کا حل آزاد بلوچ ریاست 13 نومبر سے قبل والی پوزیشن پر بحالی سے مشروط ہے لیفلٹ میں عوام سے تجدید عہد کے طور پر کہا گیا ہے کہ بلوچ وطن کی آزادی کی تاریخی مطالبہ اور اسی تسلسل کو لے کرشہید ہونے والے تما م معلوم و نامعلوم بلوچ شہداء شہید محراب خان شہید سردار خیر بخش مری اول سردار خان محمد زرکزئی شہید نواب نوروز خان شہید میرسفر خان زرکزئی شہید بالاچ خان مری شہید علی محمد مینگل شہید دلمرادخان لاشاری شہید غلام رسول لاشاری شہید دادشاہ مبارکی شہید رحیم زردکوئی شہید صدو مری شہید غلام محمد بلوچ شہید گل بہار بلوچ شہید امیر بخش لانگو شہید غفار لانگوشہید رحمت شاہین شہید حمید شاہیں شہید غلام اللہ بلوچ شہید سہراب مری شہید کریم دہوار شہید امیر الملک بلوچ اور تما م نامور اور گمنام شہداء کوبھر پور انداز میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اقوام عالم اور مہذب دنیا کو ایک پیغام دیں کہ بلوچ وطن پاکستانی اور ایرانی ریاست کا فطری حصہ نہیں بلکہ ہماری اپنی تاریخ وطن شناخت تہذیب زبان ادب اور الگ وحدت ہے ہماری آزادی کو دونوں ریاستوں نے سلب کیا ہے ہماری جغرافیہ کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے ہماری مشترکہ قومی وحدت اور آبادی کو تقسیم کیا گیا ہے ہماری مادر وطن کو غلام بنایا گیا ہے غلامی میں رہتے ہوئے ہماری تاریخ اقدار ثقافت لباس اور زبان آہستہ آہستہ معدوم ہورہاہے ہماری منفرد قومی شناخت کو خطرہ لاحق ہے جبکہ ہماری ہزاروں سالہ تاریخ موجود ہے ہم شہداء کے قومی دن کے مناسبت سے مہذب دنیا سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ہماری آزادی میں ہماری سیاسی سفارتی اور اخلاقی کرکے ہمیں غلامی سے نجات دلانے میں اپنی بین الاقومی فرض نبھائیں۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0