اگربلوچ قیادت منتشر رہی توقومی تحریک آزادی دنیاکے توجہ سے محروم رہے گی:عبدالستار پُردلی

ہفتہ 6 دسمبر, 2014

اگربلوچ قیادت منتشر رہی توقومی تحریک آزادی دنیاکے توجہ سے محروم رہے گی
افغانستان میں مقیم ممتازبلوچ دانشور واجہ ستار پُردلی کا ریڈیوگوانک کو انٹرویو
گوانک ریڈیو: واجہ پردلی صاحب کیا آپ ہمیں افغانستان کے بلوچوں کے بارے میں مختصر معلومات فراہم کرسکتے ہیں کہ وہ وہاں کہاں کہاں سکونت رکھتے ہیں ؟
ستار پردلی : افغانستان کے بلوچ شمالی بلوچستان یااُسے حرف عام میں اُوپری بلوچستان کہتے ہیں کے علاقے نیمروزمیں سکونت پذیرہیں جس کا مرکز زرنج ہے جب کہ اُس سے متصل ہلمند ،فرح اور قندہار سمیت بائیس صوبوں میں بلوچ زندگی گذارتے ہیں ۔ان علاقوں میں آباد بلوچوں کی اکثریت بلوچی میں بات کرتے ہیں مگر ایسے بلوچوں کی تعداد بھی کم نہیں جو اپنی زبان بھول چکے ہیں اور اب پشتو میں بات کرتے ہیں۔
گوانک ریڈیو : واجہ آپ ڈیورنڈ لائن اور گولڈ اسمتھ معاہدوں کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟
ستار پردلی :کچھ دن پہلے ہم بلوچوں نے 13نومبر کویوم شہدائے بلوچ کے طور پر منایا ۔اس سلسلے میں مجھے ایک جگہ کچھ بولنے کا موقع ملا تو میں نے اپنے بیان میں کہا کہ بلوچ 13نومبر 1839کو یاد کرکے تاریخ کے اُس جبر کو یاد کرتے ہیں کہ جس سے نہ صرف بلوچستان کے حاکم اور اُس کے ساتھیوں کی شہادت منسوب ہے بلکہ اس دن سے بلوچ بلوچستان کیخلاف انگریزوں کا نہ ختم ہونے والے سازشوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے ۔ڈیورنڈ لائن جو1871 کو دستخط ہوااس سلسلے کی پہلی سازش تھی جس کی وجہ سے بلوچستان کی وحدت ٹکڑوں میں تقسیم اور سیاسی قوت بکھر گیا۔شمالی اور مغربی بلوچستان کے درمیان لائن کھینچ کر اِسے دومملکتوں میں تقسیم کیا اور بعد میں مختلف معاہدات کے تحت مشرقی بلوچستان جوبلوچ قوت کا مرکز تھا کو مزید ٹکڑوں میں تقسیم کیاگیا۔
گوانک ریڈیو:واجہ آپ نے فرمایا کہ انگریز وں نے اپنے مفادات کو مدنظر رکھکر بلوچوں کو تقسیم درتقسیم کا شکار کیا تاکہ وہ اُن پر بہ آسانی حاکمیت کرسکیں ۔یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بلوچ اب بھی ٹکڑوں میں تقسیم اور اپنے بنیادی انسانی حقوق سے محروم غلامی کی زندگی گذار رہے ہیں آپ کے خیال میں بلوچ اس ضمن اپنی پالیسیاں کس طرح بناکر ترتیب دیں تاکہ وہ آزاد و خوشحال زندگی گذارنے کے قابل ہو جائیں ؟
ستار پُردلی : دیکھیں بلوچ قوم اپنی سات ہزار سالہ یا اس سے بھی زیادہ تاریخ رکھتی ہے مگر اب وہ پاکستان کے زیرتسلط پنجابی کی غلامی کی زندگی گذارنے مجبور ہیں ادھرایران میں گجرکا دست نگر ہے۔پاکستان جو میری ہم عمر یعنی اُسکی عمر صرف ستاسٹھ سال ہے ۔یہ امرخود ایک مضبوط دلیل ہے کہ بلوچ قوم مصنوعی جغرافیائی بندھنوں کا شکار ہے جس کے خلاف وہ ابتداء سے اب تک مسلسل جد و جہد کررہے ہیں پہلے انگریزوں کے خلاف برسرپیکار رہے بعد میں مغربی بلوچستان میں قاجار اور اُنکے جانشین ملاؤں کے خلاف لڑتے رہے ہیں جبکہ مشرقی بلوچستان میں بھی ایک نہ ختم ہونے والی جنگ جاری ہے ۔ہمیں نہیں بھولنا چائیے کہ ہمارے دشمن ہمیشہ اس کوشش میں رہے ہیں کہ ہمیں آپس میں لڑا کراور خودمتحدہوکر ہمیں غلام اور زیردست رکھیں ۔ بلوچوں کے خلاف سازشوں کو سمجھنے کیلئے محمود خلق بری کے بیانات پر توجہ دینا چائیے جو سینٹوکا سربراہ اور رضاشاہ کا قریبی دوست تھا ۔ اُس نے سینٹوکے ایک اجلاس میں اظہارخیال کرتے ہوئے کہا تھاکہ ہم ہمیشہ سے اس تشویش میں رہے ہیں کہ بلوچوں کو جب بھی موقع ملے وہ ہم سے جدا ہوجائیں گے اوروہ اس وقت سوویت یونین کی مدد سے ایک آزاد بلوچ ریاست بنانے کی کوشش میں ہیں ۔ یہ اُس وقت کی بات ہے جب دنیا دو بلاکوں میں منقسم تھا۔یہاں یہ بات یاد رکھنا چائیے کہ ایرانی اور پاکستانی حاکم اچھی طرح جانتے ہیں کہ بلوچ اُس وقت سوویت یونین کی مدد سے یا اب کسی اور قوت کی مدد حاصل کرکے غلامی سے آزادی کیلئے بیقرار ہیں۔وہ یہ بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ بلوچ اب شعوری پراس چیز کاادراک رکھتے ہیں کہ وہ دنیا کے بیش بہا ترین گلزمین کے مالک ہیں تیل ،گیس ،کوئلہ دیگر قیمتی معدنیات کے علاوہ بلوچستان میں سونے کاوہ خزانہ مدفون ہے جو دنیا کا پانچواں بڑا خزانہ کہلاتا ہے ۔ابتدائی رپورٹس کے مطابق وہاں 104 بلین ڈالر سے زائد مالیت کا سونا موجود ہے۔بلوچوں کے ان تمام خزانوں پر دشمنوں کی للچائی ہوئی نظریں ٹکی ہوئی ہیں جووہ مال غنیمت کے طور پر حاصل کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔قارئین کویاد ہوگاکہ جب بلوچستان میں میر غوث بخش بزنجو کی سربرائی میں نیپ کی حکومت تھی تو بھٹو کو رضاشاہ نے اُکسا کر اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ اُنکی حکومت کو گرادیں ۔جس کی وجہ سے بلوچ ایک دفعہ پھر کوہ نشین ہوئے 55ہزارمسلح بلوچ سرمچاروں کے خلاف 80ہزار پاکستانی فوجی میدان میں اُتارے گئے لیکن اسکے باوجود وہ بلوچوں کو شکست دینے کامیاب نہیں ہوئے تو شاہ ایران نے کھل کر پاکستان کی بھرپور مدد کی تاکہ بلوچ متحد ہوکرپاکستان کے خلاف نہ لڑسکیں جو بعد میں ایران میں بھی بلوچوں کے جنبش کا سبب نہ بن سکے۔ آج بھی بلوچوں کے دشمن اُنکی دولت لوٹنے اور اُنھیں دائمی غلام رکھنے یکجاہیں ایسے میں ہمیں جس کی ضرورت ہے وہ ہماری سیاسی قیادت میں اتفاق ہے جہاں تک سرمچاروں میں اتحاد کی بات ہے وہ متحد ہیں لیکن سیاسی میدان میں اتحاد و اتفاق نہ ہونے کی وجہ سے اُنکی کارکردگی متاثر ہوئی ہے ۔مجموعی طور پر بلوچوں کو اپنی آزادی کیلئے ایک مشترکہ لیڈر کی ضرورت ہے ۔دیکھیں کوئی بھی نظام زندگی کسی ترتیب و نظم و ضبط کے بغیر ممکن نہیں حتٰی کہ شہد کی مکھیاں بھی اپنی نظام زندگی کو منظم رکھنے ایک ملکہ رکھتے ہیں بلوچوں کو بھی یہ بات جاننا ہوگا کہ بغیر ایک لیڈر یا کسی مضبوط الائنس کے اُنھیں اپنا موقف دنیا تک پہنچانے میں دشواری ہوگی۔ دنیا کیلئے کسی منتشرتحریک کی حمایت مشکل ہے اگربلوچ ایک لیڈر ایک پلیٹ فارم اور ایک اسپیکر چُننے میں کامیاب ہوں گے تو دنیا کو اُنھیں سمجھنے میں آسانی ہوگی۔دوسری بات جو بہت لازمی اور توجہ طلب ہے وہ یہ کہ آج تک ہم نے جتنی بھی جنگیں لڑی ہیں وہ قبائلی بندھنوں سے آزاد نہ ہو سکی ہیں جبکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بحیثیت بلوچ قوم جد وجہد کو آگے بڑھائیں ۔شہید بالاچ مری نے ایک اچھی ابتداء کی اُس نے جو طاقت منظم کیا اور اب حیر بیار مری اُس کا جانشین ہے اُسمیں پہلی بار قبائلی سوچ وقبائلی وابستگیوں کے بجائے بلوچ قومی سوچ کی حوصلہ افزائی کی کوشش کی گئی ۔ اور وہ تمام آزادی پسند قوتوں کو کسی الائنس میں مشترکہ جد وجہد کیلئے کوششوں میں مصروف ہے۔اگراتحاد کی بنیاد بلو چ و بلوچیت کی سوچ پر ہو تو بلوچوں کے کامیابی کے امکانات بہت روشن ہوں گے۔اس سے نہ صرف داخلی طور پر تحریک توانا ہوگی بلکہ بین القوامی طور پر بھی اسکے دوررس نتائج برآمد ہوں اور بڑی قوتیں بلوچ کو مضبوط و منظم پاکر اُن کے بارے زیادہ سنجیدگی سوچنے لگیں گے ۔اسمیں کوئی شک نہیں بلوچوں کی جد وجہدو بیشمار قربانیاں،بیس ہزار سے زائدکی گمشدگیاں،لاپتہ لوگوں کا لانگ مارچ تحریک کی آواز کو دنیا تک پہنچانے اپنی اہمیت رکھتے ہیں مگر جب سیاسی قوتیں یکجا ہوں گی توبجا طورپردشمن کے پاؤں کے نیچے سے زمین کھسک جائیگی۔
گوانک ریڈیو:واجہ آپ کے خیال میں بلوچ آزادی پسند قیادت کن باتوں کو ملحوظ خاطر رکھکر اپنی پالیسیاں بنائیں تاکہ منزل تک پہنچنے میں آسانی ہو؟
ستار پُردلی : میں نے بلوچستان لبریشن چارٹرکا بغور مطالعہ کیا ہے میں اُس کا حمایتی ہوں تاہم اُسمیں کمی بیشی یا بہتری کی گنجائش ضرور موجود ہے ایک آزاد خود مختار و سیکولر ریاست کاڈھانچہ اس چارٹر میں موجودہے جس پر اتفاق کی صورت میں دنیا کیلئے کل کے آزاد بلوچستان کے خدوخال اچھی طرح واضح اور قابل قبول ہیں بشرطیکہ تما م آزادی پسند قوتیں اُسے ایک بنیاد بنا کر اُس میں اپنا حصہ ڈالیں اور دنیا کو یہ باور کرائیں کہ ہم ایک ایسے ملک کیلئے جدوجہد کررہے ہیں جونہ صرف بلوچوں کے امنگوں کے مطابق ہے بلکہ دنیا کے نئے تقاضوں سے بھی ہم آہنگ ہے۔
گوانک ریڈیو: واجہ جسطرح آپ نے نشاندہی کہ بلوچ روایتی جدوجہد سے نکل کر بلوچ قومی تشکیل کی طرف جانے کی سعی کررہے ہیں مگر اُن کے درمیان تضادات و چپکلش اب بھی موجود ہے۔آپ کے خیال میں اسکے اسباب کیاہیں اور اس کاحل کیسے تلاش کیا جاسکتا ہے؟
ستار پُردلی : اسکی یہ وجہ ہے کہ ہمارے کچھ لیڈرحضرات ابھی تک خود کو پُرانے خیالات سے آزادکرنے کامیاب نہیں ہوئے ہیں دوسری بات یہ کہ بلوچ دشمن قوتیں ہمیشہ ایسے کمزورکڑیوں کی تلاش میں رہتے ہیں تاکہ اُنکی کمزوریوں سے فاہدہ اُٹھاکر اُنھیں تحریک کے اندر تضادات اُبھارنے کا سبب بنائیں ۔موجودہ تحریک آزادی اس بات کا تقاضاکرتی ہے کہ بلوچ قبائلی بندھنوں سے خودکو آزادکرکے صرف اورصرف بلوچ بنیں کوئی بگٹی،مری ، رخشانی ،لاشاری،بزنجو،اسماعیل زئی وغیرہ جیسے قبائلی شناخت پرنازاں ہونے کے بجائے بلوچ تعارف پر فخر محسوس کریں۔اگر ہم ایسا کرسکے توپہلے مرحلے میں یہ بہت بڑی مثبت تبدیلی ہوگی جو بعد میں بڑی کامیابیوں کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔
گوانک ریڈیو: واجہ آج کل بلوچستان میں دیواروں پر لشکرخراساں اور دیگر انتہاپسند تنظیموں کی طرف سے ذکری بلوچوں کو کافرقراردے کراُن کے خلاف جہادکے اعلانات کئے جارہے ہیں ۔آپ کے خیال میں انکی حقیقت کیا ہے اور محرکات کیا ہو سکتے ہیں؟
ستارپُردلی :پاکستان بلوچوں کے خلاف دو عسکری قوتیں استعمال کررہی ہے ایک ریگولرفورس جو وردی میں ایف سی کے روپ میں ہے اور حقیقت میں بلوچستان میں اُنہی کی حکومت ہے۔آپ کو یادہوگا ڈاکٹرمالک صاحب نے اقتدارمیں آنے سے قبل کہاتھا کہ میں آتے ہی بلوچ گمشدگاں کامسلہ حل کروں گامگراب وہ اس ضمن میں اپنی بے بسی کا اظہارکررہاہے۔اسلم رئیسانی نے بھی اپنے دورحکومت میں اس بات کا اقرار کیا تھا کہ یہاں ایک اور متوازی حکومت قائم ہے۔وہ متوازی حکومت ایف سی اور آئی ایس آئی کے بنائے ہوئے لشکر وں کی ہے جو بلوچوں سے برسرپیکار ہیں۔اب معاملہ پہلے سے بھی گھمبیر ہے کیونکہ وزیرستان میں آپریشن کے بہانے ریاست کے پیرول پرچلنے والے عناصر کو یہاں منتقل کیا گیا ہے جویہاں الفرقان ، لشکر خراساںیالشکرجھنگوی جیسے ناموں سے اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔بلوچوں کو یہ بات ہرگز نہیں بھولنا چائیے کہ ریاست اُنھیں مختلف حصوں میں تقسیم کرکے اُنھیں مختلف ناموں سے مارنا چاہتی ہے ۔ ایسے حالات میں اس بات کے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں کہ کہیں بلوچوں کوکسی پراکسی وار کی طرف نہ دھکیل دیا جائے۔ لہذابلوچوں کو ہر لحاظ سے محتاط اور خبردار رہنا چائیے۔ شیعہ سُنی مسائل کو اچھالنے کے امکانات زیادہ ہیں دوسری طرف ایران کی بھی یہی خواہش ہے کہ بلوچوں کو مزید الجھایا اور کمزورکیا جائے ۔ پچھلے دنوں مشرقی بلوچستان میں ایرانی فورسز نے بلا اشتعال راکٹ باری کی ۔ایران بھی حملے کرتا ہے اُسکا شکار بلوچ ہے اگر پاکستان بھی کوئی عمل کرتا ہے اُس سے بلوچ ہی متاثر ہوتا ایرانی خفیہ ادارے اورپاکستانی آئی ایس آئی ملکر بلوچوں کو دست و گریبان کرنے اور اُنکے بربادی کے پیچھے ہیں بلوچوں کو کسی طرح بھی اُنکے فریب میں نہیں آنا چائیے۔
گوانک ریڈیو:آپ کا بہت بہت شکریہ آخر میں اگر آپ کا کوئی پیغام ہے تو فرمائیے تاکہ ہم اُسے بلوچ قیادت و قوم تک پہنچانے کی سعی کریں ؟
ستار پُردلی: میری بلوچ آزادی پسند قیادت سے ایک اپیل ہے کہ وہ آپس میں مل بیٹھنے اور آپس کے معاملات سلجھانے کا اہتمام کریں یہ نہ صرف میری خواہش ہے بلکہ ہربلوچ اس بات کا خواہشمدہے اور نئے حالات کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ہمارے سارے لیڈرکسی مشترکہ پلیٹ فارم سے جدوجہد کی راہیں تلاش کریں، اپنا ایک مشترکہ لیڈر کا انتخاب عمل میں لائیں اور باقی سب اُس لیڈرکے دست و بازو بن کر
اُسکے معاون و مدد گار بن جائیں ۔میری بلوچ نوجوانوں سے بھی یہی اپیل ہے کہ وہ قیادت پر دباؤ بڑھائیں تاکہ وہ منتشر ہونے کے بجائے ایک دست ہوکر آگے بڑھیں اُنھیں یہ جاننا چائیے کہ جو بیس ہزارکے قریب بلوچ غائب ہیں وہ کسی ایک لیڈر کی لیڈری کیلئے قربان دینے نہیں نکلے ہیں نہ کسی نے اپناسب کچھ کسی ایک کیلئے نچھاورکیاہے بلکہ ان سب کی قربانیاں آزادبلوچستان کیلئے ہوئی ہیں بلوچ اُنکی قربانیوں کی طرف دیکھیں ،اُنکے ارمانوں کاپاس رکھیں ،دشمن سے کسی بھی لمحے بے خبر نہ رہیں تاکہ ساری قربانیاں رائیگاں نہ جائیں۔
(بشکریہ گوانک ریڈیو)

image_pdfimage_print

[whatsapp] انٹرویوز. RSS 2.0