ایران: اپنی عزت بچانے کے لیئے انٹیلی جنس آفیسر کے قتل پہ 26 سالہ خاتون کو پھانسی

ہفتہ 25 اکتوبر, 2014

ریحانہ جباری کو ایک سابق اینٹیلی جنس آفیسر کے قتل کی پاداش میں آج صبح پھانسی دے دی گئی۔ جباری کا موقف یہ تھا کہ کئی سال پہلے یہ قتل اُس نے اپنی عزت و ناموس بچانے کے لیے کیا تھا۔

تہران(ہمگام نیوز) 2007ء میں ریحانہ نے سابق اینٹیلی جنس اہلکار مرتضیٰ عبدل علی سربندی کو چُھرا گھونپ کر قتل کر دیا تھا۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ایک مبصر کے مطابق ریحانہ نے سربندی کا قتل اپنے دفاع میں کیا تھا کیونکہ سربندی نے ریحانہ کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔

ریحانہ پر سربندی کے قتل کا مقدمہ 2009ء میں نہایت ناقص طریقے سے چلایا گیا تھا۔ ایرانی اداکاروں اور دیگر نامور شخصیات نے ریحانہ کو سنائی جانے والی پھانسی کی سزا پر سخت احتجاج کرتے ہوئے اس سزا کو روکنے کی اپیل کی تھی اور اس صدا کی باز گشت مغربی دنیا میں بھی سنائی دے رہی تھی۔

ریحانہ جباری انٹیریر ڈیکوریٹر تھیں اور ایک ایڈورٹائزنگ کمپنی کے لیے کام کر رہی تھیں۔ انہوں نے 20 سال کی عمر میں 47 سالہ مرتضیٰ عبدل علی کے قتل کا ارتکاب کیا تھا، جو انٹیلی جنس ایجنسی کا سابق اہلکار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ڈاکٹر اور تین بچوں کا باپ تھا۔

اقوام متحدہ اور انٹر نیشنل ہیومن رائٹس گروپوں کے مطابق ریحانہ کے خلاف مقدمے کی کارروائی کے دوران اُس پر دفتر استغاثہ کی طرف سے بہت زیادہ دباؤ تھا اور اُس نے جرم کا اقرار غیر معمولی دباؤ اور دھمکیوں کے تحت کیا تھا۔ ان تنظیموں کا ماننا ہے کہ ریحانہ کے مقدمے کی سماعت دوبارہ ہونی چاہیے تھی

اقوام متحدہ میں ایران میں انسانی حقوق کے امور کے خصوصی نمائندے احمد شہید نے اپریل میں کہا تھا کہ سربندی نے اپنے آفس کی ڈیزائننگ کے لیے ریحانہ کی خدمات حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی اور اس بہانے ریحانہ کو ایک اپارٹمنٹ لے جا کر اُس کے ساتھ جنسی زیادتی کی تھی۔

 

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0