ایران و پاکستان مشترکہ بلوچ نسل کشی کی پالیسی پہ گامزن ہیں۔ بی این ایم

جمعرات 25 دسمبر, 2014

کوئٹہ(ہمگام نیوز) بلوچ نیشنل موؤمنٹ کے مرکزی ترجمان نے ریاستی فورسز اور ایرانی فورسز کی مشترکہ بلوچ نسل کش حکمت عملیوں پرشدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا اسلامی شدت پسند ریاستیں اب مکمل طور پر بلوچ قوم کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی پالیسی کا آغاز کر چکے ہیں۔دونوں ریاستوں کی جانب سے نئے بلوچ کش معاہدے دراصل مقبوضہ بلوچستان پر اپنی گرفت کو مضبوط رکھنے کی پالیسی کا حصہ ہیں۔کیونکہ بدلتی ہوئی نئی عالمی صورتحال میں دونوں ریاستوں کا وجود خطرے میں ہے ۔ترجمان نے کہا کہ گزشتہ ایک دو ماہ سے مسلسل ان دونوں ممالک کے اعلیٰ سطح کے اجلاسوں اور گزشتہ روز مکران کے کمشنر و دیگر نام نہاد حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں کی ایرانی فورسز سے میر جاوا میں ملاقات اور پاکستان کی جانب سے مقبوضہ بلوچستان میں ایران کو بلوچ قوم کے خلاف عسکری کاروائی کرنے کی اجازت اور اس میں معاونت کرنے جیسے معاہدے نہ صرف عالمی قوانین برائے انسانی حقوق کی پامالی ہے بلکہ خطے کی امن کو تہہ و بالا کرنے کی ایک عالمی سازش کا پر تو ہے۔مرکزی ترجمان نے کہا کہ گزشتہ روز پنجگور میں ایرانی فورسز نے فائرنگ کر کے دو افراد کو زخمی کیا جو اسی تناظر کا آغاز ہے۔اسی طرح آج ماشکیل میں ایرانی فورسز کی جانب سے بلوچ آبادی پر مارٹر کے گولے فائر کئے گئے جو پاکستان اور ایران دو اسلامی شدت پسندوں کی جانب سے بلوچ نسل کشی کی مشترکہ پالیسی کا حصہ ہیں ۔ترجمان نے مزید کہا کہ آواران ڈنسر میں ریاستی فورسز نے آبادی پر سرچ آپریشن کے نام پر حملہ کر کے گھروں میں لوٹ مار کی اور قیمتی سامانوں سمیت خواتین و بچوں کو اپنی ظلم و جبر کا شکار بناتے ہوئے ایک ستر سالہ بزرگ گل محمد ولد دلمراد کو اغوا کیا،اسی طرح پسنی شادی کور میں ریاستی فورسز کا آپریشن جاری ہے جس میں ریاستی نام نہاد حکومتی جماعتوں کے آلہ کار برائے راست ریاستی مخبری کا کام انجام دے کر عام بلوچوں ،آزادی پسند کارکنوں و رہنماؤں کے عزیز و اقارب کو نشانہ بنا رہے ہیں۔عالمی برادری ایران و پاکستان کی بلوچ نسل کش پالیسیوں کاادراک رکھتے ہوئے بلوچ نسل کشی میں ان کے کردار کی بیخ کنی کرے ۔مرکزی ترجمان نے کہا کہ اقوام عالم کی پاکستانی فورسز کی بلوچ قوم پر جاری جارحیت پر خاموشی ایک معمہ بن چکی ہے جبکہ دوسری جانب دنیا کے ممالک ایران کے خلاف کئی اقسام کی معاشی پابندیاں لگا رہے ہیں مگر بلوچ مقبوضہ علاقوں پر اسکی پاکستانی کے ساتھ جنگی شراکت داری اور بلوچ نسل کشی پر خاموشی ایک حیران کن امر

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0