ایران کا متنازعہ جوہری پروگرام، معاہدہ طے پا گیا

منگل 14 جولائی, 2015

ویانا(ہمگام نیوز) اعلٰی ایرانی اور مغربی سفارت کاروں کے مطابق تہران حکومت اور چھ عالمی طاقتوں کے مابین طویل عرصے سے جاری مذاکرات کے نتیجے میں آج منگل کی صبح ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق ایک تاریخی معاہدہ طے پا گیا۔

آسٹریا کے دارالحکومت ویانا سے ملنے والی مختلف نیوز ایجنسیوں کی رپورٹوں کے مطابق اس حتمی معاہدے پر اتفاق رائے کے لیے پیر اور منگل کے درمیان نصف شب تک کا وقت مقرر تھا جبکہ فریقین کے مابین مذاکرات اس کے بعد تک بھی جاری رہے۔

نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس نے ویانا کے علاوہ تہران اور واشنگٹن سے موصولہ رپورٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ان مذاکرات میں شرکاء آخری رکاوٹیں عبور کرنے میں بھی کامیاب رہے۔

جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے نے اپنی ابتدائی رپورٹوں میں لکھا ہے کہ مذاکرات کے شرکاء جو متفقہ مصالحتی حل تلاش کرنے میں کامیاب رہے، اس کے مطابق اقوام متحدہ کے معائنہ کار ایران کے ایسے دوروں کے لیے دباؤ ڈال سکیں گے، جن کے تحت وہ اپنے مانیٹرنگ فرائض کی انجام دہی کے لیے ایرانی فوجی تنصیبات کے دورے کر سکیں۔ ایرانی حکام کے لیے تاہم یہ لازمی نہیں ہو گا کہ وہ ان معائنہ کاروں کو ایسے دوروں کی ہر قیمت پر یا فی الفور اجازت دیں۔

نیوز ایجنسی اے پی کے مطابق اس ڈیل کے تحت ایران عالمی ادارے کے معائنہ کاروں کے ایران کے دوروں کے حق کو چیلنج کر سکے گا اور کسی بھی اختلاف رائے کی صورت میں فیصلہ ایک ایسا ثالثی بورڈ کرے گا، جس میں ایران اور اس کے ساتھ جوہری تنازعے پر مذاکرات کرنے والے چھ ملکوں کے نمائندے شامل ہوں گے۔

اسی دوران ایک اعلیٰ ایرانی سفارت کار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر آج منگل کی صبح خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا، ’’سخت محنت کا پھل مل گیا ہے اور ہم ایک معاہدے تک پہنچ گئے ہیں۔‘‘

ادھر یورپی یونین کی ترجمان کیتھرین رے نے کہا ہے کہ ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے وزرائے خارجہ عالمی وقت کے مطابق آج منگل کی صبح ساڑھے آٹھ بجے، جب ویانا میں صبح کے ساڑھے دس بجے ہوں گے، دوبارہ مل رہے ہیں جس کے بعد ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا جائے گا۔

تازہ ترین رپورٹوں کے مطابق ویانا میں مغربی سفارت کاروں نے اپنی شناخت ظاہر کیے بغیر یہ بھی کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ طے تو پا گیا ہے تاہم اقوام متحدہ کی طرف سے عائدہ کردہ تہران کو ہتھیاروں کی فراہمی کے خلاف پابندیاں پانچ سال تک برقرار رہیں گی۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0