ایچ آر سی پی کی رپورٹ کو سراہتے ہیں۔ بی این ایم

پیر 13 اکتوبر, 2014

کوئٹہ(ہمگام نیوز) بلوچ نیشنل مومنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری بیان میں کہا ہے کہ ہیومن رائٹس کمیش آف پاکستان کی رپورٹ میں چند حقائق کو سامنے لایا گیا ہے۔ ہم چیئرپرسن ایچ آر سی پی زہرہ یوسف اور ٹیم کی فیکٹ فائنڈنگ مشن کی غیر جانب دارانہ رپورٹ کو سراہتے ہیں۔ اس رپورٹ میں قوم پرستوں کو کاونٹر کرنے کے لئے جس طرح مذہبی انتہاء پسندی کی فروغ کا ذکر کیا گیا ہے وہ سو فیصد سچائی پر مبنی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ ہم عرصے دراز سے ان تحفظات کا ذکر کرتے آرہے ہیں کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسیاں ایک منصوبے کے تحت مذہبی جنونیوں کو تمام تر لاجسٹک کمک کے ساتھ بلوچستان میں منظم کررہی ہیں تاکہ وہ بلوچستان کی قوم پرست سیکیولر قوتوں کی سرکوبی میں مدد فراہم کرسکیں۔ ا س حولے سے بی این ایم نے بارہا اقوم متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون سمیت دنیا کی تما م انسانی حقوق کے اداروں اور سیاسی ذمہ داراں کو خطوط ارسال کرکے یہاں کی صورتحال سے آگاہی دی ہے کہ کس طرح مذہبی انتہا ء پسند ی کو پروان چڑھایا جارہے جو نہ صرف خطے بلکہ عالمی سیاست کے لئے خطر ناک ہے ۔ خاص کر لشکر خراسان جو داعش کا علاقائی نظریاتی پارٹنر ہے سے متعلق ہم نے دو مہینے قبل تمام ذمہ دارعالمی اداروں کو تفصیلی ڈرافٹ بھیجے تھے۔ پچھلے سال آواران زلزلہ میں امدادی کارائیوں کے ذریعے جس طرح ان مذہبی گروہوں کو فوج اپنے ساتھ لے کر آئی تھی اسکی تفصیل ریکارڈ پر موجود ہے۔ بی بی سی اور دیگر میڈیا نے باقاعدہ اسکی رپورٹنگ بھی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں مختلف برانڈ کے مذہبی جنونیوں کوایک ساتھ جمع کیا گیا ہے ، ایک طرف لشکر جھنگوی ، جیش محمدی، فرقان الاسلام، جماعت دعویٰ دیگر ہیں جو مکمل استثنیٰ سے پورے بلوچستان میں فرقہ وارانہ دہشت گردی سے معصوم عوام کی خون ریزی میں ملوث ہیں تو دوسری جانب ڈیتھ سکواڈ ز ہیں جن کی سربراہی شفیق مینگل ، سراج رئیسانی اور امام بھیل جیسے غنڈے اور منشیات فروش کررہے ہیں جو باقاعدگی سے آئی ایس آئی اور ایم آئی کی مدد سے قوم پرست سیاسی کارکنوں کو اغوا کرکے تشد د کے بعد قتل کرنے میں ملوث ہیں ۔ اب لشکرخراسان بہ حرف عام داعش کی موجودگی ایک اور پیش رفت ہے جسکا مقصد مستقبل میں شام و عراق کی طرح بلوچستان کو جنگ جاہ بنانا ہے ۔ آواران میں ذگری فرقہ کے افراد کو نشانہ بنانا، اور انکے بسوں پر مذہبی رسومات ادائیگی کے بعد حملے بھی اسی ریاستی ایجنڈے کا حصہ ہیں۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیا ں ہے کہ ان قوتوں کو پاکستانی ایجنسیوں کی پدرانہ سرپرستی حاصل ہے۔ بی این ایم کے ترجمان نے کہا کہ اس وقت بلوچستان ایک بہت بڑی انسانی حقوق کے المیے سے دوچار ہے ۔ اگر اس پیش رفت کے خلاف دنیا سیکیولر بلوچ قوتوں کے ساتھ مل کر اس کی روک تمام میں ناکام رہی تو مستقبل میں اس کے منفی اثرات نہ صرف خطے بلکہ پورے دنیا پر بھی پڑیں گے۔

 

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0