ایک تیر سے دو شکار: تحریر : ایڈوکیٹ صادق رئیسانی

اتوار 26 جولائی, 2015

گذشتہ تین سالوں سے مسلسل یہ ڈھول پِٹتے ہوئے نظر آرہا ہے کہ خان قلات سلیمان داود واپس بلوچستان جارہے ہیں ، ان افواہوں میں کتنا حقیقت ہے اور کتنا فسانہ یہ شاید آنے والے وقت میں خود ہی افواہوں کے دھول چھٹنے کے بعد واضح ہوجائیگا، لیکن ان سارے چہ میگیوئیوں سے کن عزائم کی تکمیل مقصود ہے اس کو سمجھنا زیادہ مشکل نہیں ۔ سلیمان داود کے تحریک میں کردار ، حیثیت اور اسکے آنے اور جانے کے اثرات کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتا ہے کہ یہاں ایک مکتبہ فکر کے ہمدردیوں یا اختلافوں کا نشانہ سلیمان داود نہیں بلکہ کچھ اور ہے ، سلیمان داود محض ایک بہانہ یا یوں کہیں کچھ لوگوں کیلئے ایک سیڑھی ہے جس کا سہارا لیکر اس سوچ کو نشانہ بنانا مقصود ہے جس نے سب کے جمعداریوں کو چیلینج کیا ہوا ہے ، یہاں توپوں کا رخ سلیمان داود کی طرف ضرور ہے لیکن اصل نشانہ وہ سوچ ہے یا یوں کہیں کہ ان افواہوں کے بازار کو گرم رکھنے سے بلوچ قومی تحریک میں موجود منفی عناصر ایک تیر سے دو شکار کرنا چاہتے ہیں۔

جہاں تک سلیمان داود کا تعلق ہے تو بلوچ سیاسی تاریخ میں اسکا کردار مثبت و منفی کے بغیر غیر جانبدار ہی رہا تھا ، پہلی بار بلوچ قوم پرست سیاست کے سرخیوں میں وہ اس وقت قابلِ ذکر ٹہرے جب نواب اکبر خان بگٹی کے شہادت کے بعد قلات میں انہوں نے تمام بلوچ سرداروں کو بلا کر ایک گرینڈ جرگہ منعقد کیا تھا ، اس جرگے کی حیثیت اور حقیقت کیا تھی آج ہم میں سے بیشتراس حقیقت حال سے واقف ہیں ، جرگے میں اس وقت آزادی کے بات پر اتفاق رائے قائم نہیں ہوپایا تھا کیونکہ موجود زیادہ تر نواب و سردار سرکار کے آشیر باد سے بننے والے سردار تھے۔ اس بابت بلوچ سیاسی دوستوں کو اچھی طرح یاد ہوگا کہ جرگے کے اختتام پذیر ہونے کے بعد وہاں بشیر زیب کی قیادت میں بی ایس او آزاد اور واجہ غلام محمد کی قیادت میں بی این ایم نے شدید احتجاج بھی کیا تھا، لیکن کچھ وقت بعد خان قلات سلیمان داود باہر چلے گئے اور اس تاریخی جرگے کو بلوچ آزادی کے حق میں مختلف فورموں پر استعمال کرنے لگے اور اسی جرگے میں باقی موجود تمام نواب و سردار سب دشمن ملک کے سرکار سے جاملے۔ خان سلیمان داود کے اس قدم کو یقینا قابلِ تحسین ہی کہا جاسکتا ہے کہ اول انہوں نے جرگے کے باقی نواب و سرداروں کی طرح مراعات حاصل کرکے سرکار سے نہیں ملے اور دوم انہوں نے اس جرگے کو بلوچ قومی آزادی کے حق میں موڑ کر استعمال کرنے لگا۔

سنگت حیربیار مری کے طریقہ جہد پر ایک نظر دوڑایا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ سنگت شروع دن سے آج تک ایک روایتی ڈھانچے میں خود کو ڈھال کر اس قومی سوچ کا مالک خود کو گردان کر اپنا جمعداری قائم کرنے کے بجائے ہمیشہ یہ کوشش کرتے رہے ہیں کہ وہ پیچھے رہ کر ہر اس شخص کو آگے آنے اور اس قومی سوچ کو پھیلانے کا موقع دیں اور جو شخص قومی سوچ کے تحت کام کرتا ہو یا کام کرنا چاہتا ہو تو سنگت اس سوچ کو وسعت اور استقامت دینے کیلئے ہر اس شخص کو سنبھالتے رہے ہیں ، ڈاکٹر اللہ نظر سے لیکر براہمدغ تک سب سنگت حیربیار کے اسی سوچ کے تحت آگے آئے۔ اسی طرح جب خان قلات اسی قومی سوچ کے تحت بیرون ملک گئے تو سنگت حیربیار نے انہیں بھی باقی تمام لوگوں کی طرح ہرممکن طریقے سے سنبھالا اور انکی کمک کی، جس سوچ کے تحت حیربیار جہد کرتا ہے اسکے تحت میرے خیال میں یہ بات بعید از قیاس بھی نہیں ہونی چاہئے کہ ایک ایسا شخص جو ماضی میں کسی بلوچ کش سرگرمی میں ملوث نہیں رہا ہو اور قومی سوچ کے تحت آزادی کیلئے کام کرنا چاہتا ہو تو سنگت حیربیار نا صرف اسکا ساتھ دیگا بلکہ اسکی ہر ممکن معاونت بھی کرے گا۔

ایک بلوچ اور قومی لیڈر ہونے کے ناطے خان سلیمان داود کی قومی سوچ کے تحت معاونت کرکے سنگت حیربیار نے وہ کیا جو اسکا فرض تھا اب ایک بلوچ ہونے کے حیثیت سے اس جہد کو آگے بڑھانے کیلئے کوشش کرتے جانا سلیمان داود کا فرض ہے ، خان کے حالیہ ملاقاتوں نے ضرور افواہوں کو جنم دیا ہے لیکن تاحال شنید یہی ہے کہ خان قلات ان ملاقاتوں کو اپنے قبائلی تناظر میں دیکھ رہے ہیں اور واپس جاکر سرکار سے ملنے کے قیاس آرائیوں کو مستر د کرتے ہیں، اس بابت انہوں نے کچھ وقت پہلے ایک بیان جاری کرتے ہوئے اپنی وضاحت دی تھی اور میرے خیال میں ہم سب یہ سمجھ سکتے ہیں کہ ایک شخص اگر ایک بار کسی افواہ کی تردید کردے پھر بار بار اسے تردید کرنے کی ضرورت بھی نہیں ، بہر حال ان افواہوں سے قطع نظر اگر سلیمان داود استقامت کے ساتھ اپنے سوچ پر کھڑے رہ کر آزادی کیلئے جدوجہد جاری رکھتے ہیں تو قوم میں انہیں عزت ملے گی اگر وہ واپسی کا فیصلہ بھی کرتے ہیں تو اس سے تحریک کو کوئی نقصان نہیں ہوگا لیکن تاریخ میں انکا نام بھی اس جرگے کے باقی سرداروں و نوابوں کے ساتھ ہی لکھا جائیگا بہر حال ان قیاس آرائیوں پر جتنا بات کی جائے وہ مزید ابہام کو ہی جنم دیں گے حقیقت جو بھی ہوگا وہ وقت کے ساتھ ظاھر ہوگا، لیکن اس سارے صورتحال میں بدرجہ اتم یہ دیکھا گیا ہے کہ ان افواہوں کے پَروں پر بیٹھ کر ایک طرف سلیمان داود کو شدید تنقید اور کردار کشی کا نشانہ بنایا جارہا ہے تو دوسری طرح خان کو استعمال کرکے سنگت حیربیار مری کے خلاف ایک بے بنیاد کردار کشی کا آغاز کیا گیا ہے۔

جیسا کہ شروع میں ذکر کیا گیا ہے ، ان عناصر کو نا خان قلات سے کوئی رغبت ہے اور نا ہی رنجش بلکہ معمولی خبروں کو اسکینڈلوں میں بدل کر توپوں کا رخ وہ اس سوچ کی طرف کرنا چاہتے ہیں ، جس سوچ سے انکے جمعداری کو خطرہ ہے ۔ وہ سوچ سنگت حیربیار اور اسکے ہم خیالوں کی وہ قومی سوچ ہے جو تمام قومی معاملات سے گروہیت ، شخصیت پرستی ، ذاتی و گروہی مفادات ، جمعداری کے خواہشات کا خاتمہ کرکے مکمل اور خالص قومی فکر و سوچ اور اسی کے تحت جدوجہد کو سائنسی اور غیر روایتی طریقے سے مرتب کرنا چاہتے ہیں ، لیکن اس قومی تحریک میں سب نے اپنی جاگیریں بنائی ہوئی ہیں ، کسی کیلئے سربراہی نسل در نسل بن گئی ہے ، کسی کیلئے قومی تحریک آمدن کا سب سے بڑا ذریعہ ، کسی کیلئے یہ تحریک قبائلی جاگیر بن چکی ہے تو کسی کیلئے نوابی کا ذریعہ ، کسی کے غندہ گردی کا پشت بن چکا ہے تو کسی کے جمعداری کے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے کا وسیلہ یہاں تک کے نیشنل پارٹی اور بی این پی جیسے پارٹیاں بھی اس تحریک کے طفیل اپنے لیئے سرکار سے مراعات بٹور رہے ہیں۔ اب ان سارے ابن الوقتوں کے سامنے یہ سوچ ایک رکاوٹ کی طرح کھڑا ہے اور سب کو کسی حد تک روکا ہوا ہے، یہی سوچ کھرے اور کھوٹے ، اصل و نقل کو الگ الگ خانوں میں بانٹنے کا پیمانہ بن چکا ہے ، اب وہ عناصر اس سوچ کو ختم کرنا چاہتے ہیں اپنے مفادات کے چلتی گاڈی کے سامنے سے یہ رکاوٹ ہٹانا چاہتے ہیں ، یہاں تک کے اس سوچ کا مقابلہ کرنے اور اسے ختم کرنے کیلئے کیا پالیمانی پارٹی کیا آزادی پسند ، کیا مسلح تنظیم کیا سرفیس پارٹی کیا اندرون ملک کیا بیرون ملک سب کے اندر کے چھپے کھوٹے ایک ہوگئے ہیں اور اس سوچ کو مٹانا چاہتے ہیں ، کیونکہ اگر یہ سوچ سلامت رہتی ہے تو وہ مزید چھپ کر تحریک کے آڑ میں اپنے مفادات کا کاروبار نہیں چلاسکتے اور ایک ایک کرکے قوم کے سامنے ظاھر ہوتے جائیں گے، انکے ذاتی و گروہی مفادات اور جمعداری کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ یہی ہے ۔ اب ذرا سوچیں کہ یہ سب قومی سوچ کے تحت کبھی ایک نا ہوسکے بلکہ بنے بنائے بی این ایف کو بھی توڑ دیا لیکن جب یہی سوچ انکے منفی عزائم کے سامنے رکاوٹ بنا تو انکے جھَٹ سے ہاتھوں کے زنجیر جنیوا میں بن گئ، ویسے بی این پی کے ساتھ ایک تضاد رکھتے ہیں لیکن جاوید مینگل کے توسط سے وہ اس سوچ کے خلاف اختر مینگل کے بی این پی کےساتھ ایک انڈر سٹینڈنگ بناتے ہیں اور براہمداغ تو اپنے اخباری انٹرویوں میں ببانگ دہل اس بات کا اقرار بی این پی سے ممکنہ اتحاد اور حیربیار سے انکار کرتے ہوئے کرتا ہے۔ مسئلہ یہاں کیا ہے وہی قومی سوچ ہے۔
اسی طرح فیس بک کو دیکھیں یہ در حقیقت کوئی مسئلہ نہیں ، یہاں کوئی آکر جو کچھ کرتا ان کو کوئی مسئلہ نہیں تھا لیکن انہیں فیس بک سے مسئلہ ہی یہی ہے کہ اس سے وہی سوچ اپنا اظہار پاکر انکے جمعداری کو چیلنج کرتے ہوئے انکے منفی عزائم و عوامل پر سوال اٹھاتا ہے۔ فیس بک کی مخالفت کی وجہ فیس بک ازخود نہیں بلکہ وہ فیس بک کا بہانہ استعمال کرکے اس قومی سو چ کو کچلنا چاہتے ہیں بلکہ یہ ہر ممکن ذرائع و وسائل کو استعمال کرسکتے ہیں اس سے پہلے نواب خیربخش مری کے کندھوں پر بندوق رکھ وہ اس سوچ کو مٹانا چاہتے تھے ، انہیں چارٹر سے بھی کوئی تکلیف نہیں از خود چارٹر ان کیلئے کوئی مسئلہ نہیں لیکن ان کیلئے یہاں مسئلہ یہ ہے کہ یہ چارٹر اسی قومی سوچ کا لب لباب ہے، اس چارٹر کے تحت آکر وہ اپنے ان خاندانی ، جاگیری ، جمعداری اور کاروباری مراعات سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے جو انہوں نے قومی تحریک کو استعمال کرکے بنائے ہیں ۔ حتیٰ کے انکو حیربیار سے بھی کوئی اختلاف نہیں بلکہ انہیں خوف اس سوچ سے ہے جو حیربیار رکھتا ہے یقین کریں اگر آج بھی حیربیار اپنے سوچ و فکر سے دستبردار ہو تو انکے لیئے سب سے زیادہ قابلِ قبول شخص حیربیار ہی بنے گا ۔ اب خان کے ساتھ انہیں کوئی مسئلہ نہیں بلکہ انکا مسئلہ یہ ہے کہ خان اس سوچ کے ساتھ کھڑا ہوا ، اب وہ افواہوں کا بازار گرم کرتے ہوئے خان کو محض ذریعہ استعمال کرکے اس قومی سوچ پر حملہ کرنا اور اسے کمزور کرنا چاہتے ہیں کیونکہ اگر یہ سوچ پھیل گیا اور قوم نے اس سوچ کو پوری طرح اختیار کرنا شروع کردیا تو پھر تحریک کو اپنے مفادات کیلئے استعمال کرنے والے گروہ کا چہرہ فاش ہوجائیگا اور وہ ختم ہوجائینگے اس لیئے وہ اس سوچ کو روکنے کیلئے آخری حد تک جائینگے ، لیکن یقین کریں یہ سوچ حقیقی قومی سوچ اور آزادی کا راستہ ہے نا اسے سیاسی ابن الوقت اور مفاد پرست روک سکیں گا اور نا ہی یہ خان قلات ہو یا کوئی اور شخص اسکے جانے سے کمزور ہوگا ، یہی وہ سوچ ہے جو ہمیں منزل تک سر کرے گا۔

یہ وہی سوچ ہے جس کے تحت حیربیار ایک سردار کا بیٹا سردار کا دعویٰ نہیں کرتا ، یہ اس سوچ کے تحت ہی ممکن ہے کہ ایک شخص اپنے باپ ، سگے بھائیوں ، بھانجوں اور سالوں کو چھوڑ کر اپنے فکری سنگتوں پر اکتفاءکرتا ہے اور انہیں اپنے لیئے چنتا ہے، یہ اس سوچ کے طفیل ہی ہے کہ خود پر عہدوں اور مراعات کا طرہ سجانے کے بجائے قوم کے ہر شخص کو آگے آنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ یہ یہی سوچ ہے کہ جنہوں نے قومی آزادی کے فکر کو چند لوگوں کے ایک سرکل سے نکال کر بلوچستان کے کونے کونے میں پہنچا دیا، یہ اسی سوچ کے تحت ممکن ہے کہ جس میں سگے رشتوں اور سینارٹی کو دیکھے بغیر احتساب ہوتا ہے، یہ سوچ آپ کے ذاتی و گروہی مفادات چھین کر انہیں اجتماع کے نذر کردیتا ہے اور قومی آزادی کا راہ ہموار کرتا ہے، اسی لیئے آج یہ تمام ایک جھُٹ ہوکر اس سوچ کو روندنا چاہتے ہیں۔

آج سلیمان داود کو لیکر اللہ نظر سے لیکر جاوید مینگل تک بیانات دیتے ہیں ، انکا مقصد موقع کو غنیمت جان کر فائدہ اٹھاتے ہوئے اس سوچ کو کمزور کرنے کی کوشش ہے ، لیکن یاد رہے کمزور شخصیات اور گروہ ہوتے ہیں سوچ نہیں ہم رہیں یا نا رہیں جب تک یہ سوچ ہے ہر طرح کے مفاد پرستوں کے سامنے اسی طرح رکاوٹ بنا رہے گا جس طرح بنا رہا ہے، اور یہ سوچ کسی کے جانے سے کمزور نہیں ہوسکتا بلکہ یہ مزید شفافیت کے منازل طے کرتا ہوا آگے بڑھتا جائے گا ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] آرٹیکلز. RSS 2.0