بابو نوروز خان ان کے ساتھیوں کی جدوجہد مثالی وبلوچ قوم کے لئے مشعل راہ ہے:بی ایس ایف

اتوار 16 جولائی, 2017

کوئٹہ (ہمگام نیوز)بلوچ وطن موومنٹ بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ پر مشتمل الائنس بلو چ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کئے گئے بیان میں کہا ہے کہ 1958 میں قومی آزادی کی جدوجہد میں شہادت کا رتبہ پانے والے بابو نوروز خان زرکزئی میر دلمراد لاشاری شہیدمیربٹے خان زرکزئی شہید مستی خان زرکزئی شہیدمیر غلام رسول لاشاری شہیدمیربہاول خان موسیانی شہید جمال خان جام شہیدمیر ولی محمد موسیانی اور ان کے فکری ساتھیوں کی جدوجہد مثالی اور بلوچ قوم کے لئے مشعل راہ ہے بابو نوروز خان اور ان کے ساتھیوں نے ون یونٹ اور غلامی کے خلاف مزاحمتی طریقہ جدوجہد کو اپناتے ہوئے پہاڑوں کارخ کیا یہ سلسلہ آغا عبدالکریم خان کے جدوجہد کا تسلسل تھا استمان گل اور آزادی کمیٹی کا بلوچستان خاص کر قلات و گرد نواح میں وسیع تر تیاری جو آغا عبدالکریم کی گرفتاری کے بعد ادھورا رہ گیا تھانوروز خان اور ان کے ساتھیوں نے اسی کوششوں کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی ابتداء میں میر دلمراد نے اپنے چند فکری ساتھیوں اور اپنی قبیلہ کے کچھ افراد سے مل کر جدوجہد کی داغ بیل ڈالی بعد مین انہوں نے بابو نوروز کی قیادت اور کمانڈ میں متفقہ طور پر جدوجہد آزادی کے سلسلہ کو آگے بڑھا یا جہاں انہوں نے آزادی کے لئے مزاحمتی جدوجہد کو ترجیحات اول سمجھے وہاں انہوں نے ایوب خان سمیت مختلف حکومتی نمائندوں کو اپنا پیغام پہنچانے کی کوشش کی ایوب خان کو لکھے گئے ان کے خطوط اورکچھ غیر ملکیوں کی گرفتاری کے بعد ان کے پیغامات سے یہ واضح ہے کہ ان کا مطالبہ صرف اور صرف آزادی کا تھا اگرچہ وہ باقائدہ جدیدتنظیمی شکل میں نہ آسکی لیکن ان کا مطالبہ اور ایجنڈا بہت واضح اور دو ٹھوک تھا بابو نوروزاور ان کے ساتھیوں کے مثالی اورشاندار الفاظ جو دہرانے کے لائق ہے ان کاکہنا تھا کمزوری اور تذبذب دکھانے سے تحریکیں مضبوط نہیں ہوتے یہ وہی لوگ کرتے ہیں جنہیں اپنی آزادی سے دلچسپی نہیں ہوتی آزادی چاہنے والے انجام کا پرواہ کئے بغیر،بغیر کسی ہچکچاہٹ کی جدوجہد کرتے ہیں جیل میں پھانسی کے سزا پانے والے بہادر فرزندوں کا کہنا تھا کہ یہ جدوجہد ہماری گرفتاری سے ختم نہیں ہوسکتے ہماری خون سے اس کی بنیادوں کی تعمیر ہوگی ہماری شہادت ضرور اپنا رنگ جہدوطن کی صورت میں دکھائے گی پھانسی گھاٹ پر جانے والوں کے آزاد بلوچستان کا نعرہ ان کی واضح اور اصولی موقف کو اور بھی واضح کردیا ہے ہمارے بعض لوگ ان کی جدوجہد کو خان کی گرفتاری سے تعبیر کرتے ہیں وہ یا زمینی حقائق کو مسخ کررہے ہیں یا انہیں زمینی حقائق کا علم نہیں یا پھر وہ بھی ریاست اور پارلیمنٹ کے دلدادہ بلوچوں کے پروپیگنڈہ اور ڈس انفارمیشن کا بلواسطہ شکار ہوچکے ہیں یہ ہم مانتے ہیں ان کے پاس جدید سائنٹیفک تنظییم نہیں تھے لیکن ان کے ریکرومنٹ میں تمام فراد فکری اور حربی طور پر بہت مضبوط تھے گرفتاری سے قبل بھی ان کے کئی ساتھیوں کی شہادت کے واقعات کا تذکرہ ہے جن میں شہید مگسی زہری کا نام سمیت کئی دیگر نام شامل ہوسکتے ہیں جو تحقیق طلب ہے ترجمان نے کہاکہ ان کی جدوجہد اور اور قوت کو کچلنے کے لئے ریاست اپنی تمام تر طاقت استعمال کیا مقامی لوگوں کا استعمال کیا لیکن ریاست کی ناکامی ہوئے اور پھرانہیں نام نہاد مذاکراتی حربوں کے صورت میں دھوکہ سے گرفتار کرکے پابند سلاسل کیا گیا بعد ازان کے ساتھ ساتھیوں کو پھانسی دیکر شہید کیا گیااوربا بو نوروز خان شہید میر دلمراد لاشار ی میر جلال خان زرکزئی اور میر محمد عمر کو تا حیات قید کی سزاء دیکر پس زندان کیا گیا دوران حراست انہیں سخت تریں تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا زہنی و جسمانی ٹارچر اور تفتیش و ازیت کے سخت تریں مرحلوں سے انہیں گزار گیا بابونوروز خان گرفتاری کی ابتدائی سالوں می جیل ہی وفات پاگئے ترجمان نے کہاکہ 1958میں بابو نوروز اور ان کے دیگر آزادی خواہ ساتھیوں نے بے سروسامانی اور انتہائی محدود وسائل کے ساتھ جدوجہد کی اگر انہیں مذاکرات کے نام پر دھوکہ نہیں دیا جاتا تو شاید آج بلوچ اپنی منزل کوپاکر آزاد ی کی ساتھ زندگی گزارہے ہوتے ان کی سرفروشی اور شہادت نے قومی اورسماجی جذبوں کی نشودنماء کی ترجمان نے بابونوروزخان زرکزئی اور ان کے تمام فکری دوستوں سمیت سنگت ورنا نوروز شہید عبدالقادر لانگوکو آزادی جیسے عظیم مقصد کے لئے قربانیوں اور بہادرانہ شہادت پر خراج تحسین پیش کرتے ہو ہے کہا ہے کہ تاریخ ان کے جدوجہد اور نام کو ہمیشہ دہراتے ہوئے سنہرے الفاظ میں یاد کریگی

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0