بحرین میں بم دھماکا، دو پولیس اہلکار ہلاک

منگل 28 جولائی, 2015

منامہ(ہمگام نیوز) بحرین کے شیعہ اکثریتی علاقے میں ہوئے ایک بم دھماکے کے نتیجے میں کم از کم دو پولیس اہلکار ہلاک جبکہ چھ دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔ حکام نے اس کارروائی کو ’دہشت گردانہ حملہ‘ قرار دیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بحرین کے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ سِترہ نامی جزیرے کے شیعہ اکثریتی علاقے میں دھماکا ایک ایسے وقت پر ہوا، جب کچھ دن قبل ہی بحرین کی سنی حکومت نے کہا تھا کہ ایران سے اسلحہ اسمگل کرنے کی ایک کوشش ناکام بنا دی گئی تھی۔ اس علاقے میں سکیورٹی فورسز اور شیعہ مظاہرین کے مابین اکثر جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔

وزارت داخلہ نے اس خونریز کارروائی میں پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک دہشت گردانہ کارروائی تھی۔ بتایا گیا ہے کہ اس دھماکے کے فوری بعد پولیس نے جائے وقوعہ کی طرف سے جانے والی تمام شاہراہوں کو بند کر دیا۔

اے ایف پی نے عینی شاہدین کے حوالے سے مزید بتایا ہے کہ اس علاقے میں پہلے بھی سکیورٹی اہلکاروں پر متعدد حملے کرنے کی کوششیں کی جا چکی ہیں۔

بحرین میں 2011ء سے شیعہ مظاہرین ملک کی سنی بادشاہت سے مطالبات کر رہے ہیں کہ وہ ملک میں سیاسی اصلاحات متعارف کرائے۔ انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ اس عرصے کے دوران رونما ہونے والے مختلف پرتشدد واقعات کے نتیجے میں کم ازکم 89 افراد مارے جا چکے ہیں۔

یہ امر اہم ہے کہ بحرین کے دارالحکومت میں ایسے مظاہرے دیکھنے میں نہیں آتے لیکن ماناما کے نواحی علاقوں میں گزشتہ چار سالوں سے شیعہ مظاہرین سکیورٹی فورسز سے متصادم ہوتے رہتے ہیں۔

حرین کی سنی حکومت نے ماناما میں تعینات شیعہ ریاست ایران کے سفیر کو طلب کر کے ایرانی لیڈروں کی بیانات پر اپنا احتجاج بھی ریکارڈ کرایا تھا۔ گزشتہ اتوار کے دن ایرانی وزارت خارجہ کی ایک خاتون ترجمان نے بحرین پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ ایران پر بے بنیاد الزامات لگا کر علاقائی سطح پر تناؤ کی کیفیت پیدا کرنا چاہتا ہے۔

حال ہی میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے بھی کہا تھا کہ تہران عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری ڈیل کے باوجود اپنی موجودہ پالیسی برقرار رکھتے ہوئے بحرین میں بھی شیعہ برادری کی مدد جاری رکھے گا۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0