براہمداغ بگٹی اور مذاکراتی پیشکش کچھ وضاحتیں: تحریر شبیر بلوچ

ہفتہ 28 نومبر, 2015

بلوچ قومی سیاست کے نشیب و فراز دنیا کے دوسرے تحریکوں کی نشیب و فراز سے مختلف نہیں ہیں ، دنیا کی تما م قومی تحریکوں میں ابھار،موضوعی جذبات،معروضی حالات،فکر و شعوراورعمل ونظریات کا بیک وقت عمل دخل رہا ہے۔ حقیقت پسندی ،شعور اور نظریات نے جب جذبات،موضوعی ذہنیت اور وقتی ابھار کو اپنے لپیٹ میں لے کر انکی جگہ دیر پا بنیاد وں کی حیثیت حاصل کر لی تو وہ قومی تحریکیں بغیر کسی مشکل کے حالات کے جبر سے نکل کر قومی آزادی کے اپنے منطقی انجام کو پہنچنے میں کامیاب ہوئیں۔اس کی بنیادی وجوہات میں کئی ایک وجوہات کو لیکر ہم اگر غور کریں تو وہاں کسی لیڈر کو اسکے اپنے موضوعی احساسات کے بجائے اسکے معروضی حالات کے باوصف دور اندیش سیاسی حکمت عملیوں کے تحت پہچان اور نام ملا اور ایسے قومی رہنماوں نے قوموں کو منزل تک پہنچانے کانہ صرف بیڑا اٹھایا بلکہ وہ قوم کی نظروں میں تا حیات اور بعد از مرگ یعنی ابدی طور پہ معزز معتبر ٹہرے۔مایوسی، منتشرلخیالی اور تنگ نظری جیسی کمزوریاں ان رہنماوں میں نہیں تھیں جنہوں نے اپنی کمٹمٹ ، مستقبلیت کی پیروکاری،بے باکی اور پیش قدمی کے ذریعے اپنی سرمین کی مٹی کو سونا بنایا۔

۔۔جس طرح کہا جاتا ہے کہ وہ لیڈر جو اپنے قوم کو آزادی سے ہمکنار کرتے ہیں وہ کبھی جد و جہد سے دست بردار نہیں ہوتے ہاں جب انکے سیاسی ادارے کمزور ہوتے ہیں تو وہ انکو اپنی مدبرانہ صلاحیتوں سے مزید تواناتر کرتے جاتے ہیں،عام سیاسی لوگ حالات سے ہمیشہ متاثر ہوتے ہیں لیکن سیاسی بصیرت کے حامل لوگ ہمیشہ حالات کے دھارے ہی کو بدل کرعام لوگوں کی زہن اپنی جانب موڑ دیتے ہیں۔
بلوچ قوم ایک تحریکی عمل کا حصہ دار ہے اور بے شمار قیمتی جانوں کی قربانی دیکر بلوچ عرصہ دراز سے اس میدان کارزار میں اپنی مجموعی قوت و اہلیت کو صرف کررہا ہے تاکہ وہ بھی قومی آزادی کی حصول میں کامیاب ہوکر اپنی سرحدوں کا خود مالک و مختار بن جائے مگر اوپر جو تمہید باندھی گئی ہے اس کا مطلب ہی یہی ہے کہ کسی بھی تحریک کو منزل تک پہنچانے میں قومی رہنماوں کا ایک قلیدی کردار ہوتا ہے۔ بلوچ قومی تحریک میں براہمداگ بگٹی کا بھی ایک کردار ہے جو عرصہ دراز سے آزادی کے لیے قوم کی رہنمائی کے داعوے دار ہیں ۔ براہمداگ بگٹی کے پاکستان سے اس وقت مذاکرات چل رہے ہیں اور بیک وقت براہمداگ بگٹی نے سنگت حیربیار مری سمیت دوسرے آزادی پسندوں کو اتحاد کی دعوت بذریعہ بیان دی ہے۔ براہمداگ بگٹی کی حالیہ انٹرویو سے یہ بات ظاہر ہوتا ہے کہ ایک طویل عرصہ سے براہمدگ بگٹی اور قابض پاکستان کے درمیان رابطے بحال ہیں ،جسکا انکشاف پہلے قابض کے مختلف اداروں کے ذریعے سے ہوتا رہا لیکن ۶۲ اگست کو اسنے خود کہا کہ وہ مزاکرات کے لئے تیار ہیں اور اس نے قابض سے اخترمینگل کی طرح گلہ شکوہ کیا کہ وہ مزاکرات کے لئے سنجیدہ نہیں اور ساتھ ہی ساتھ اس نے آزادی سے بھی دستبرار ہونے کا اشارہ دیا ۔ اس نے کمزوری کی عالم میں مزکرات کے ایجنڈا کا اختیار بھی قابض ریاست کوہی دیا ۔ جب براہمدگ کے پاکستان سے مزکرات چل رہے ہیں اسی دوراں براہمداگ بگٹی کی تمام آزادی پسندوں کو یکجہتی کی دعوت دینا مگر مزاکرات کے مقاصد کو واضح نہ کرنا اس بات کی طرف شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے کہ آیا کہیں قابض سے مزاکرات کے دوران اتحاد کی بات کرنا محض ایک بارگینیگ چپ تو نہیں ہے؟
موجودہ جدوجہد ۹۰کی دہائی میں شروع کی گئی اس کی ابتدا مخصوص سوچ کے حامل جہدکاروں نے کی جنکا مقصد بلوچ قومی آزادی تھی ،۲۰۰۵تک بلوچ قومی تحریک کو عوامی پذیرائی مل چکی تھی ،جوق درجوق بلوچ فرزند اس قومی کارواں میں شامل ہورہے تھے ،اسی دوران نواب اکبر خان بگٹی بھی قومی جہد سے متاثر ہوکر ساتھیوں سمیت اس کارواں میں شامل ہو ئے جن میں براہمد گ بگٹی بھی شامل تھا لیکن نواب بگٹی کی شہادت کے بعد براہمدگ بگٹی کی بی آر پی بنانے کے ساتھ قومی سوچ کوپروان چڑھانے کے بجائے گروہی سوچ کی جانب بلوچ قومی تحریک کو لے جانے کی دانستہ کوشش کابھی آغاز ہوا ، کیا بی آر پی بنانے کے بعد قومی تحریک میں پہلے سے موجود آزادی پسند منظم بلوچ طلبا تنظیم بی ایس او آزاد کی موجودگی میں بی ارایس او نہیں بنائی گئی ؟ اور کیا براہمداگ بگٹی یہ بھی بھول چکے ہیں کہ بی آ ر ایس او کو تشکیل دینے پر سنگت حیربیار مری نے انھیں بی ایس او آزاد کے نوجوانوں کے خدشات سے آگاہ کیا تھا؟ کیا بی آر پی کی طرف سے اس وقت موجود آزادی پسند بلوچ خواتین کی تنظیم خواتین پینل کو بھی کاونٹر کرنے کی کوشش نہیں کی گئی؟
اس وقت موجود تنظیوں کے خلاف تنظیمیں کھڑی کرنے کے بعد کیا بلوچ قومی آزادی کی تمام تنظیمو ں کی اتفا ق شدہ آزاد بلوچستان کے جھنڈے کو بی آر پی نے متنازعہ کرنے کی کوشش نہیں کی ؟ بی آر پی کی طرف سے آزادی پسند تنظیموں کے سامنے رکاوٹیں ڈالنے کے باجود انہی آزادی پسند تنظیوں کی طرف سے بی این ایف کی صورت میں اتحاد تشکیل دے کر آزادی پسند تنظیموں کے مابین تعاون کی کوشش کی گئی۔ کیا بی آرپی نے بی این پی مینگل کے لیے اس قومی اتحاد سے علیحد گی اختیارنہیں کی ؟ اور کیا بی این پی مینگل سے قربت کے لیے بی آر پی کے پاس کوئی سیاسی جواز تھا یا اب تک ہے ؟ جبکہ دوسری طرف بی این پی مینگل کو آزاد بلوچستان کے کیمپ میں لانے کے لیے بلوچستان لبریشن چارٹر پیش کیا گیا جو قومی آزادی اور بلوچ قومی مفادات کو مدنظر رکھ کر تشکیل دی گئی تھی۔ اس دستاویز میں ، بلوچستان کی آزادی ، جموریت ، ایک آدمی ایک ووٹ کے متعلق آرٹیکلوں کے علاوہ ۹۰ فیصد چارٹر میں تبدیلی کی گنجا ئش موجود تھی۔ ان شقوں میں شق ۱۱ بھی ناقابلِ تبدیل تھی جو کہتا تھا ہے کہ :
’’قابض ریاستوں کی جعلی پارلیمنٹ میں شامل ہونا اس منشور کی روح کے خلاف ہے۔ سامراج کی مرضی کے ان سامراجی اداروں میں حصہ لینا ہماری آزادی کی ا صولی جدوجہد میں رکاوٹ بنے گا۔ اس لیے کوئی فرد یا سیاسی تنظیم جو اس منشور کو منظور کرتا ہے وہ پاکستانی یا ایرانی جعلی پارلیمانی نظام میں شامل نہیں ہوسکتا‘‘
اخترمینگل کو پاکستانی پارلیمنٹ میں شرکت کرنا تھا اسی لیے اس نے چارٹر کو مسترد کیا کیونکہ چارٹر کی شق ۱۱ اس کے پارلیمنٹ کے راستے میں رکاوٹ تھی ،سنگت حیربیار مری نے اخترمینگل سمیت تمام بلوچ پارٹیوں سے چارٹر کے ایک فریم ورک کے تحت نزدیکی کی کوشش کی اور یہ فریم ورک بلوچ قومی مفادات کی عکاس ہے۔ جبکہ براہمدگ بگٹی کے تعلقات اختر مینگل کے ساتھ پارلیمنٹ میں جانے سے پہلے بھی اچھے تھے اور پارلیمنٹ میں جانے کے بعد بھی انکے تعلقات میں کوئی خلل نہیں آیا ۔ کیا براہمداگ بگٹی یہ ابہام دور کرنے کی کوشش کریں گے کہ قومی آزادی کی جدوجہد کے حوالے سے ان تعلقات کی نوعیت کیا ہے؟
سب سے پہلی بات تو یہ ہے موصوف اس بات کی وضاخت کرے کہ قومی مزاکرات اور اتحاد کن نکات پہ ہوں، اور اس کا مقصد کیا ہو ۔ اگر بنیادی نقطہ بلوچ آزادی اور مقصد آزاد بلوچستا ن ہے تو بلاشہ اس پہ اصولی طور پہ کسی کو انکار نہیں ہونا چاہیے مگر اس کیلئے انہیں دو کشتیوں کی سواری ترک کرنا ہو گی ،ذاتی مفاد اور سیاسی حوالے غیر مستقل مزاجی کے بجائے انہیں ایسے راستے کا انتخاب کرنا چاہئے کہ جس پہ اسے یقین ہو اور انجام تک اس پہ کھڑے رہ سکیں۔ایک طرف کمزور اور غیر مستقل مزاج سیاسی موقف کے ساتھ قابض سے مزاکرات اور مطالبے اور دوسری طرف مستقل مزاج اور حقیقی آزادی پسندوں کو اتحاد و مزاکرات کی دعوت بذات خود ایک مضحکہ خیز عمل ہے ۔ اس کی وضاخت لازمی ہے کہ وہ کس نوعیت کے مذاکرات کرنے کے خواہاں ہیں۔اور ان مزاکراتی ایجنڈوں میں کون کوں سے مسائل کو لیکر بحث مباحثے ہونگے اور کن باتوں کو لیکر ان پر فیصلے لیئے جائیں گے، آیا مذاکرات کا مقصد پاکستان کے ساتھ ساز باز کرنے کے لیئے دیگر تمام اکائیوں کو راضی کرواناہے یا اس کی مکمل نفی کر کے صرف قومی سوال کے راستے میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے واسطے آپس میں مل کر بیٹھنا ہے ؟
لیکن یہ یاد رہے کہ جناب نے جس طرح سنگت حیربیار مری اور باقی دوستوں کو سرجوڑ کر معاملات کا حل ڈھونڈنے کی پیشکش کی ہے اس سے بہت پہلے سنگت حیربیار اور ساتھیوں نے موصوف سمیت بلوچستان میں موجود تمام تحریکی ذمہ دران کو بلوچ تحریک میں موجودبحران کو حل کرنے کے واسطے ایک باضابطہ چارٹر پیش کیا تھا جسمیں کچھ بنیادی اور مخصوص و یکساں قبولیت کے حامل نکات کو چھوڑ کر باقی سب پر گفت و شنید کی گنجا ئش رکھی گئی تھی ، اسکا مقصد ہی یہی تھا کہ ایک مشترکہ مقاصد کی خاطر اندرونی طور پر ہم آہنگی پیدا کی جاسکے اور دنیا کے سامنے ایک تحریری دستاویز رکھی جاسکے کہ جس میں تحریک کو لے کر مکمل ایک ضابطہ عمل وضع کیا گیا ہو، مگر گروہی سیاست ، شوق لیڈری ،پارٹی پرستی اور سیاسی بصیرت کی کمی کی وجہ سے جدوجہد کو نقصان پہنچا ،جسکی موصوف اپنے بیان میں اقرار کررہے ہیں۔جناب کو یہ بھی احساس کرنا ہوگا کہ قوم مایوس نہیں ہے بلکہ اپنی قومی آزادی کے لئے اپنا سب کچھ تیاگ دینے کے لئے تیار ہے اسکے برعکس براہمدگ بگٹی جیسے ناامید سیاست دان سخت اور پیچیدہ حالات کی وجہ سے دل برداشتہ ہوکر قابض کے تمام شرائط ماننے کا اشارہ اپنے مایوس کن بیانات کے ذریعے دے چکا ہے ۔
اگر موصوف کی باتوں کو غور سے سنیں آگے چل کر وہ کہتے ہیں کہ ریاست سے مزاکرات کو ایک ممکنہ راستے کے طور پر اپنایا جاسکتا ہے اگر بلوچ قومی تحریک میں شامل تمام اکائی اس بات کا فیصلہ کریں، یہ سوال کہاں سے آیا؟ اسکا بلوچ قوم کو بخوبی معلوم ہے کہ تحریک آزادی کے ابتدائی دنوں سے لیکر آج تک جو بھی لوگ شہید کیئے گئے اور غائب کرکے انہیں ازیت خانوں میں ٹارچر کیا گیا ان تمام لوگوں کا مقصد بلوچ سرزمین کی آزادی تھی ۔اگر بلوچ قومی تحریک کے مجموعی منظرنامے کو دیکھا جائے تو اس میں بار بار اس بات کو دہرایا گیا ہے کہ قابض ریاست سے گلو خلاصی ہی آخری حل ہے اور پاکستان کے ساتھ ساتھ حتی کہ آزادی کے نقطے پر ہم کسی دوسرے فریق کے علاوہ بیٹھنے پر راضی نہیں ہیں، بلوچ نے ہمیشہ یہ مطالبہ سامنے رکھا کہ قابض ریاست سے سڑک، نالی، گٹر، یا نلکی کے بجائے صرف آزادی کے واحد نقطے پر ہی بات ہوسکتی ہے اور وہ بھی اقوام متحدہ یا دوسرے مہذب ممالک کی ضمانتی ثالثی کے طور پر، اگر آج بی آرپی کی ماضی کی تمام تحریروں، تقریروں، انٹریوز اور بیانات کو اٹھا کر دیکھا جائے تو ان میں یہ بات تواتر کے ساتھ دہرائی گئی ہے کہ ہم پاکستان سے کسی بھی قسم کی مزاکرات نہیں کرنا چاہتے اور ہمارا ایک مقصد ہے وہ ہے آزاد بلوچ سرزمین۔ لیکن حالیہ برہمدگ بگٹی کا موقف انکی نفی کرتا دکھائی دیتا ہے۔
سنگت حیربیا ر نے کئی سال پہلے قومی تحریک میں لیڈر شپ کی سطح پر مسائل کی بات از خود قوم کو بتائی تھی لہذا اب ایسے میں براہمداگ کا یہ بات کے چلو آو مزاکرات کرتے ہیں مگر جو فیصلے ہونگے وہ اکثریتی رائے سے ہونگے ایسا ہی ہے جیسے کوئی پارلیمانی جماعت الیکشن قریب ہوتے ہی سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے لئے دوسرے جماعتوں کو دعوت دے۔ اس سیاسی رویے کا شکار بی آر پی سمیت بی این ایم بھی ہے اسی لیے بی آرپی اور بی این ایم کی اتحاد کی کوششیں ناکام ہوئیں لیکن اب بھی براہمداگ بگٹی اسی خاکے کو ذہن میں لیے اصول، قومی مفادات کے بجاے اکثریت و اقلیت کے گرد گھوم رے ہیں ۔ پارلیمانی طرز کی سیاسی اپروچ قومی مسائل پر کوئی مذاکراتی عمل تو نہیں بس چند ایک لوگوں کا پریشر گروپ تو ہوگا جو دونوں طرف سے دباؤ کے حکمت عملی کے تحت پاکستان سے بیرونی اور سنگت حیربیار سے اندرونی معاملات پہ بات چیت کیلئے استعمال ہوگا تو بلوچ قوم اور جہد کاروں کے ساتھ اس سے بڑھ کر اور مذاق کیا ہوسکتا ہے۔براہمداگ کو چاہیئے کہ وہ پہلے ڈاکٹر مالک، اور اسکی ہمنواوں سے پاکستانی ایما پر ہونے والے مذاکرات کی قوم کے سامنے وضاحت کریں۔ جب الیکشن کے دوران بی آر پی کی ایک حمایتی تنظیم ڈاکٹر مالک کے گھر پر حملہ کرتا ہے اس وقت نہ تو براہمدگ بگٹی کو ڈاکٹر مالک کی سفید ریشی اور نہ ہی بی آر پی کونظر آیا لیکن جب ڈاکٹر مالک قابض کے مقبوضہ بلوچستان میں وزیراعلی بن کر ان سے ملاقات کرتا ہے تو اس سے ملنے کے لیے بی آر پی اور براہمدگ بلوچ اور سفید ریشی کا جواز پیش کرتا ہے حالانکہ بلوچستان میں گھانا کی طرح قابض کی چوکھٹ پر سجدہ ریز kabusia کا کردار آج ڈاکٹر مالک ادا کررے ہیں ، ڈاکٹر مالک جیسے لوگ بلوچستان پر پاکستانی قبضہ کو قبضہ گیر کے پارلیمنٹ میں جا کر جائز ٹھرانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔بی آرپی نے بلوچ قومی تحریک میں پارلیمانی طرز سیاست کی داغ بیل ڈالنے کی رسم پیدا کی ہوئی ہے کہ جہاں نمبرنگ کا گیم ہوتا ہے جس کے نمبر زیادہ ہوتے ہیں وہ پارلیمانی لیڈر منتخب ہوتے ہیں اسی رجہان کو قومی سیاست میں براہمدگ نے متعارف کروایا ہے جہاں اپنے دو داماد اور داماد کے داماد کو اپنے ساتھ ملاکر ایک طرح کی خاندانی شخصیات کی برتری کا شوشہ چھوڑا جا رہا ہے ،حالانکہ قومی ٖفیصلہ کرنے کے لئے قومی کمنٹمنٹ ،اصول،دوتل و دوپستی جس میں بڑی بڑی باتیں کرنا ،بھڑک بازی کرنے کے بجائے قو ل و فعل میں ہم آہنگی کے حامل لوگوں سے نزدیکی قومی آزادی کے اصول میں بنیادی فلسفہ ہے ،اسی فلسفہ کے تحت فکری بنیادوں پر قومی آزادی حاصل کرنے کے سوچ سے ہم آہنگ لوگ یکجا ہوکر قومی کاروان کو منزل تک لے جاسکتے ہیں ،لیکن براہمدگ بگٹی اور اسکی پارٹی اس معاملہ میں کنفیوژن اور ابہام کا شکار نظر آتا ہے اسکی ایک طرف پاکستان نواز پارٹی بی این پی اور لشکر بلوچستان سے نزدیکی اور سنگتی دوسری طرف آزادی پسندوں کے ساتھ یکجہتی اور اتحاد کی باتیں موافق نہیں ہیں۔اگر سنگت حیربیار مری کی طرح بی این پی مینگل کے حوالے براہمدگ اپنی پوزیشن واضح کریں تو پوری قوم کو سمجھنے میںآسانی ہوگی ۔قابض کے ساتھ بہت سی جہد میں بات چیت کا عمل ضرور ہوا ہے ،ایک دوسرے سے ملاقاتیں بھی ہوئی ہیں لیکن دنیا کی تمام تحریکوں میں قومی جہدکاروں نے اپنی پوزیشن واضح کیا ہے اوراپنے قومی آزادی کے ایجنڈے کے تحت مزاکرات کئے ہیں ،گاندھی ،عمر مختار،جیولیس نیریرے ،سب نے مزاکرات کئے لیکن وہ اپنے قومی آزادی کے اصولی موقف سے دستبرادرنہیں ہوئے اسی طرح سنگت حیربیار مری اور رحمان ملک کی ملاقات کی بات بھی براہمدگ بگٹی نے اپنے بیان میں کی ہے سنگت حیربیار سے لندن جیل سے رہائی کے بعد رحمان ملک نے ملاقات کی تھی اور اس سے کہا تھا کہ وہ کیا چاہتے ہیں سنگت حیربیار مری نے اسے صاف اور شفاف الفاظ میں کہا کہ وہ قومی آزادی چاہتے ہیں پھر اسکے بعد سنگت حیر بیار مری نے نواب خیربخش مری ،براہمدگ بگٹی ،سمیت تمام اپنے ساتھیوں سے کہا کہ اس نے رحمان ملک سے کیا باتیں کی تھی اور چند مہنے بعد اپنے ایک انٹریو کے ذریعے یہ بات پبلک بھی کی تھی ۔ لیکن براہمدگ بگٹی نے اپنے حالیہ انٹریو میں رحمان ملک سے بات چیت کا تذکرہ کیا۔ براہمداگ بگٹی کا انٹریو ۲۶ اگست ۲۰۱۵ کو لیا گیا، اگر فرض کیا جائے کہ رحمان ملک سے براہمداگ بگٹی کی بات چیت وزارتِ داخلہ پر براجمان رہنے کے آخری دنوں (مارچ ۲۰۱۳ ) میں بھی تھا تو براہمداگ کا رابطہ انٹریو سے ۲ سال ۶ مہنے ہوئی ہوگی۔ اتنے عرصے اس بات کو چپا کر سنگت حیربیار اور رحمان ملک کی اس ملاقات کو منفی طور پر اچالنا (جس ملاقات کے بارے میں موصوف کو ملاقات کے بعد کی بتادی گئی تھی)جدوجہد کے حوالے سیاسی سنجیدگی اور ذمہ داری پر شکوک و شبہات کو وسعت دیتا ہے ۔
دوسری طرف بی آر پی کے حمایتی تنظیم کی طرف سے بلوچ قوم کے خلاف طاقت کا غلط استعمال ہورہا ہے جس کے نتیجہ میں کئی بے گناہ اور قومی تحریک سے ہمدردی رکھنے والے لوگوں کے جانوں کا زیاں ہورہا ہے۔ اس عمل کی وجہ سے لوگوں کو دیدہ دانستہ قومی تحریک سے دور رکھنے کی کوشش کی گئی انکے غلط پالسیوں ،حکمت عملیوں اور غیرزمہ دارانہ عمل کی وجہ سے بلوچ قومی تحریک طاقتور اور توانا ہونے کے بجائے کنفیوژن اور ابہام کی نظر ہوا ہے ،شروع میں بی این پی مینگل نے اپنے مبہم حق خودرادیت کے نعرے کے ساتھ قومی جہد میں کنفیوژن پیدا کیا لیکن اسکے مکمل پاکستانی سیاست میں جانے کے بعد اسی سنگین پیچیدگی کے نامناسب رویہ کو بلوچ قومی تحریک میں براہمدگ بگٹی نے اپنایا ،اس نے حق خودرادیت کی جگہ ریفرنڈم ،اکثریتی رائے پر قومی جہد سے دستبرداری کا موقف ،قومی بیرک کو متنازعہ بنانے جیسے عمل کے ساتھ ساتھ بی این پی سے قربت کی وہ غلیظ سیاست روا رکھی ہے ۔ اسکے علاوہ جس انداز سے قومی اجتماعی قوت کو منتشر کرنے کی عمدا کوشش کی گئی ،براہمدگ بگٹی کی قومی تحریک میں ہر قدم ارادتہََ ، عمدَا یا بلاارادہ قومی یقانگت اور اتفاق کے بجائے عدم اتحاد ،نااتفاقی اور پھوٹ کا سبب بنا۔ آج انکی طرف سے اچانک اور غیر متوقع طور پاکستان کے ساتھ مزاکرات کے دوران اتحاد یکجہتی کی پیشکش انکے ماضی کے کردار اور عمل سے مطابقت نہیں رکھتا ہے اسی لیے براہمداگ کے عاجلانہ اور خلاف توقع بیان نے مندرجہ بالا شکوک و شبات اور سوالات کو جنم دیا ہے جس کی ہم نے وضاحت ضروری سمجھا تاکہ قوم کے سامنے ایک رائے رکھا جاسکے

image_pdfimage_print

[whatsapp] آرٹیکلز. RSS 2.0