براہوئی ادب:مکالمے کی ضرورت:تحریر: منظور بلوچ

جمعہ 4 ستمبر, 2015

جب بھی براہوئی ادب کی بات ہوتی ہے۔ تو ادب کے لفظ استعمال مشکلات پیدا کرتا ہے۔ اس لیے کہ لکھی جانے والی ہر چیز ادب نہیں ہوتی۔ لیکن ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ براہوئی میں جو کچھ لکھا گیا اسے ادب سمجھا جائے خواہ یہ سانپ کے زہر سے بچنے کا ہڈی ہو۔ بدعت کے خلاف سرزنش ہو ۔ فکشن کے نام پر نعرہ بازی ہو۔ مزاحمتی شاعری کے نام پر رپورٹنگ یا تک بندی ہو ۔ کہا جاتا ہے کہ یہ سارا ادب ہے اور اسے ادب سمجھ کر پڑھنا چاہئے۔دنیا میں ادب کے حوالے سے کئی فلسفیانہ مباحثے جاری ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں اب تک ہم ادب کی تعریف بھی متعین کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔لیکن اس کے باوجود ہمارے پاس اتنے تخلیق کار نہیں جتنے کہ دانش ور موجود ہیں۔اصل میں حالیہ عرصہ میں ادب کے حوالہ سے جس نئے ڈائیلاگ کی ضرورت تھی/ہے ۔ اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ یہی ناخواندہ دانش ور ہیں۔ آپ کو ناخواندہ دانش ور کی اصطلاح پر حیرت ہوئی۔ لیکن برابر کی لٹریچر کے حوالے سے یہ ایک حقیقت ہے۔ہمارے ہاں اکثر ایسے دانش ور ہیں جو مطالعہ کرتے نہیں۔ پڑھنے کی ان کو عادت نہیں۔ کسی مجلس میں گفتگو کرتے وقت ان کو سوچنے کی بھی ضرورت نہیں پڑتی۔ اس لیے ان سے کسی بھی بڑے ’’ادبی انکشاف‘‘ کی توقع رکھی جاسکتی ہے ۔حالیہ عرصہ میں جب مادری زبانوں کی تعلیم کے لئے درسی کتب کی تیاری کا مرحلہ پیش آیا۔ تو وہاں ایک ’’ماہر‘‘ اور دانش ور نے کہا کہ سارے سینئر براہوئی ادیب جاہل ہیں۔ یہ سرے سے کچھ جانتے ہی نہیں۔ مقبول اسسٹنٹ پروفیسر خداداد گل کہ، وہ ان ریمارکس پر احتجاجاً واک آؤٹ کرگئے اور کہا کہ وہ آئندہ اس طرح کی کسی بھی میٹنگ میں شریک نہیں ہونگے۔اسی طرح ایک اور سرکاری میٹنگ میں حروف تہجی کے حوالے سے ایک حساس مسئلہ کو چھیڑا گیا ۔ اس ضمن میں سوچنے اور سمجھنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی گئی ۔ان حالات میں یقیناًبراہوئی لٹریچر کے حوالے سے مذاکرے کی ضرورت ہے۔ جس میں کم از کم پڑھے لکھے اور ادب دوست اور ادب کا ذوق رکھنے والے جمع ہوں۔ کچھ بات چیت ہوجائے اور بحث و مباحثے کی سبیل نکالی جائے اور اس قسم کے سلسلے کو جاری رکھا جائے اور اس کے حوالے سے آج تک براہوئی ادب میں جو کچھ لکھا گیا اس کا از سر نو مطالعہ کیا جائے(اکثر ناخواندہ دانش وروں نے براہوئی لٹریچر کو مکمل طور پر پڑھا بھی نہیں)۔

صرف تعریف کرنے سے کام نہیں چلے گا۔ ادب اور اس سے متعلق مذاکرات اور مباحث کو منطقی انداز میں لینے کی ضرورت ہے ۔ اور یہ بات ذہن میں ہونی چاہئے کہ یہ کوئی قبائلی معاملہ نہیں یا کسی کی نام نہاد انا اور عزت کا مسئلہ نہیں بلکہ ادب کے حوالے سے جانکاری کی ایک کوشش یا اب جبکہ حالت یہ ہے کہ یونیورسٹی کی سطح پر اگر طالب علم سوال کرے تو اسے پروفیسر صاحبان بدتمیزی پر محمول کرتے ہیں ۔ حالانکہ سوال کرنا طالب علم کا بنیادی حق ہے۔ اب جس طرح کسی جامعہ کی سطح پر سوال پوچھنا منع ہو۔ وہاں حکومت کی جانب سے ہزاروں ایم فل اور پی ایچ ڈی سکالرز کی رجسٹریشن کا کریڈٹ لینا ایک لمحہ فکریہ کے سوا کچھ بھی نہیں۔ اس لیے کہ کسی ایک کتاب کا بھی مطالعہ کیے بغیر آخر ایم فل اور پی ایچ ڈی کس طرح کی جاسکتی ہے ۔اگر کوئی لٹریچر کے حوالے سے دیکھا جائے تو کوئی بھی فرد ایک پڑھے بغیر کئی کتابیں تصنیف کرسکتا ہے ۔ کوئی بھی فرد صرف ونحو، جانے بغیر خود سے الفاظ ایجاد کرسکتا ہے۔ جس کی وجہ سے کبھی براہوئی کا انداز تحریر سندھی کبھی’’بنگالی‘‘ کی طرح محسوس کرنے لگتا ہے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ براہوئی دنیا کی واحد زبان ہے جس کے متعلق جو کوئی جو چاہے کہہ سکتا ہے اگر اس بارے میں سوال کیا جائے یا منطق پوچھی جائے تو کہا جاتا ہے کہ یہ سوال کرنے والے دراصل ’’علمی ترقی‘‘ کو روکنا چاہتے ہیں۔اسی تناظر میں گزشتہ روز ڈاکٹر عبدالرحمن بروہی سے متعلق ایک خبرشائع ہوئی ۔ جس میں کہا گیا کہ علمی ادبی اعتبار سے بلوچستان ایک زرخیز خطہ ہے ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ علمی ادبی حوالوں سے بھی بلوچستان کے ساتھ زیادتیاں ہوتی رہیں۔ ہمیں پسماندہ رکھنے کی شعوری کوششیں کی گئیں۔ جن کا تدارک ضروری ہے۔ ورنہ آنے والے دنوں میں اس رویے کے منفی اثرات کو روکا نہیں جاسکے گا۔ اس عبارت کے حوالہ سے پہلا سوال یہ پیدا کرتا ہے کہ علمی ادبی اعتبار سے بلوچستان ایک زرخیز خطہ ہے ۔لیکن حیرانگی کی بات یہ ہے کہ آج اکیسویں صدی میں بھی اس خطہ میں کسی علمی ادبی تحریک کی بنیاد ڈالی گئی۔ اور اس وقت دیکھا جائے تو سب زیادہ عدم برداشت ’’ادب‘‘ سے تعلق رکھنے والے افراد میں پایا جاتا ہے۔ کتنے ادب سے وابستہ لوگ ہونگے جنہوں نے کوئی ڈھنگ کی کتاب یا کوئی مضمون لکھا ہو جس سے کم از کم ہماری دنیا کی دیگر علمی تحریکوں سے واقفیت ہوسکے ۔

اگر اس حوالے سے ہمارے ساتھ زیادتیاں ہوتی ہیں تو اس کا ردعمل دیکھنے میں کیو ں نہیں آیا۔ کیا کبھی کسی نے ان زیادتیوں کے خلاف آواز بلند کی اور پھر اچانک ساٹھ عشروں ۔۔۔کے بعد یہ کہنا کہ ہمارے ساتھ زیادتیاں ہوئیں۔ تو جناب اس وقت آپ کہاں تھے۔ جب یہ زیادتیاں ہورہی تھیں۔ اس وقت آپ نے قوم اور اہل قلم کو کیوں نہیں جھنجوڑا جہاں تک پسماندہ رکھنے کی شعوری کوششوں کا تعلق ہے سچی بات یہ ہے کہ اس حوالے سے ہماری رہنمائی ادیبوں نے نہیں ، سیاسی رہنماؤں نے کی اور اس کے مقابلے میں ہم نے روشن خیال،دانش ور سیاسی رہنماؤں کے خلاف جو مورچہ بنایا وہ نام نہاد ادبی سوچ رکھنے والوں کی ’’لٹ خانہ‘‘ ثابت ہوا۔ساری عمر نواب خیر بخش مری کی مخالفت کرنے والے ان کے علم و دانش کے برابر تو کیا ان کے ساتھ دو چار قدم چل کر ان کا سانس پھولنے لگتا ہے یہ سارے لکھنے والے تھے جنہوں نے نیشنلزم کو معتوب ٹھہرایا۔ مزاحمت کی مخالفت کی ۔ دراصل ہمارے لکھنے والوں نے ایک بزدل قوم بنانے کی کوشش کی اور سوچنے، سوال کرنے کے عمل کو ناپسندیدگی کا نام دیا۔اگر ہمارے زبان و ادب کے ساتھ زیادتیاں ہوئی ہیں تو کس نے اور کیوں کی؟ اس حوالے سے آج تک کسی نے کوئی تحقیق کیوں نہیں کی؟ تحقیق پر کس نے پابندی عائد کی ہے! آج تک براہوئی زبان میں جتنی کتابیں بھی لکھی گئی ہیں ان میں سے ایک بھی اس قابل نہیں ٹھہرا کہ اس پر ریاستی پابندی عائد ہوتی اس لیے سرکار یا ریاست نے کبھی اس کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔ہم نے آج تک اور اب بھی ’’ریڈیائی لٹریچر‘‘ پیدا کررہے ہیں۔ پسماندگی کو آگے بڑھانے میں ہمارا اپنا کردار دوسروں سے کچھ زیادہ ہی ہے۔ایک وجہ یہ ہے کہ آج تک ہمارے ہاں شاعری کے سوا کسی اور صنف میں کوئی کام تک نہیں ہوا یہی وجہ ہے کہ فلسفی تو اپنی جگہ آج تک ہم ایک نقاد بھی نہیں پیدا کرسکے تنقید و تحقیق تو اپنی جگہ، تخلیق کی جو صورت حال ہے وہ ہمارے سامنے ہے۔ڈاکٹر عبدالرحمان بروہی نے ایک اور ’’ بڑا علمی انکشاف‘‘ کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ برصغیر میں ادبی تاریخ کے حوالے سے دیکھا جائے تو براہوئی اور بلوچی زبان کا ادبی خزانہ سب سے قدیم ہے اور عربی اور فارسی زبان کے ہم پلہ ہے ۔ دوسری سانس میں وہ اس پر افسوس ظاہر کرتے ہیں کہ بدقسمتی سے ہمارے ہاں تحقیقی رحجان کو فروغ نہیں ملا۔ جس کی وجہ سے ہمارے ادب پارے بروقت سامنے نہیں آسکے ۔اس بڑے’’ علمی انکشاف‘‘ نے کم از کم مجھ جیسے طالب علم کو تو چکرا کر رکھ دیا ہے کیا واقعی ڈاکٹر صاحب نے ایسی بات کہی یا رپورٹنگ غلط ہوئی۔بہر حال اگر براہوئی اور بلوچی زبان کا ادبی خزانہ سب سے قدیم ہے۔۔۔ تو کہاں ہے ؟ اس کے بارے میں ہمیں آج تک کیوں معلوم نہیں ہوسکا۔ کیا اس میں بھی کسی کی سازش شامل تھی؟اور یہ کہنا کہ ہمارا ادب عربی اور فارسی زبان کے ہم پلہ ہے مجھ جیسے کم فہم کے لئے یہ اتنا بڑا انکشاف ہے کہ وہ ہضم کرنے کے قابل نہیں ہے۔ دوسرے الفاظ میں اردو ادب ہمارے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں اس لیے کہ عربی اور فارسی تو عالمی سطح کے ادب اور زبانوں میں شمار ہوتے ہیں اور ہماری حالت یہ ہے کہ ہم اخبار کا ایک تراشہ براہوئی میں ترجمہ کرتے وقت پسینے پسینے ہوتے ہیں۔اگر واقعی کوئی قدیم ادبی خزانہ موجود ہے۔ تو ڈاکٹر صاحب کو تو معلوم ہوگا ۔ معلوم نہ ہوتا تووہ یہ بات کیسے کرتے؟ لہٰذا یہ ان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس حوالے سے بات کو صاف کریں اور بتائیں کہ اس ادبی خزانہ کو کہاں تلاش کیا جائے؟ اور اس ادبی خزانہ میں کیا کیا گوہر نایاب موجود ہیں؟ ۔کیونکہ آج کا دور تو آپ سے آپ کی دعویٰ کا ثبوت مانگتا ہے کیونکہ کل کلاں کو اگر ہم یہ کہہ دیں کہ ہمارا فکشن تو چیخوف، دوستوسکی اور ٹالسٹائی کے ہم پلہ ہے۔ کہنے میں کوئی حرج نہیں لیکن اس سے ہماری جو جگ ہنسائی ہوتی ۔ اس کا بھی کسی نے سوچا ہے یا نہیں۔ڈاکٹر صاحب کی اس بات سے اتفاق کیا جاسکتا ہے کہ تحقیق کی بے انتہا ضرورت ہے لیکن تحقیق کوئی آسان کام تو نہیں ہے اول تو ہمارے ہاں ایسے ادارے ہی نہیں ہیں جو تحقیق کے لئے فنڈز مختص کرسکیں ۔ جس ادارے سے ڈاکٹر صاحب کا تعلق ہے۔ اس میں گزشتہ بیس سالوں سے الیکشن تک نہیں ہوئے۔ اس کا سالانہ گرانٹ ایک کروڑ روپے بنتا ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ یہ خطیر رقم کہاں خرچ ہوتی ہے۔ لیکن ڈاکٹر صاحب کو تو معلوم ہوگا ۔ بہتر ہے کہ وہی اس پر روشنی ڈالیں۔تخلیق کی بات ہوچکی ۔۔۔تنقید وجود نہیں رکھتی۔ ایسے میں تحقیق کرنا۔۔۔ ایک بہت بڑا سوال ہے؟ کیونکہ تحقیق کا بنیادی تعلق دیانت اور عدل سے ہے یہ نہیں کہ ہم ایک سچ پہلے سے تراش کر رکھیں اور اس کے بعد اس کو تخلیق سے ثابت کریں۔ جبکہ تحقیق تو سچائی کی تلاش کا نام ہے۔ کیا ہمارے نام نہاد بقراط تحقیق کی بے رحمی کو برداشت کرسکیں گے؟ اپنی بات تحقیق کی۔۔۔تو حوالے سے لے دے کہ ہمیں ڈاکٹر صاحب کی ایک ہی کتاب’’ براہوئی زبان و ادب کی مختصر تاریخ‘‘ ملتی ہے اور ابتک ایسی کتاب کو آگے پیچھے کرکے کتابیں لکھی جارہی ہیں۔ حتیٰ کہ افضل مراد کی اس موضوع پر نئی کتاب دراصل ڈاکٹر صاحب کی کتاب کا نیا ایڈیشن ہی ہوئے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ براہوئی میں نسائی ادب پر کام کرنے والے قیوم بیدار نے اسی ایک موضوع پر اب تک تین کتابیں چھپ چکے ہیں۔ پہلی کتاب براہوئی میں غالباً 2002ء میں چھپی۔۔۔ اس کے بعد حالیہ عرصہ میں اردو زبان میں یہ کتاب پہلے براہوئی اکیڈمی اور اب براہوئی ادبی سوسائٹی نے چھاپی ہے۔ہم ڈاکٹر صاحب کی اس بات سے سو فیصد اتفاق کرتے ہیں کہ ادبی گروہ بندی کرنے والوں کو تاریخ معاف نہیں کرے گی۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس حوالے سے بھی تو اب تک کوئی کام نہیں ہوا۔ادبی گروہ بندی کا آغاز براہوئی اکیڈمی اور براہوئی ادبی سوسائٹی کے قیام سے ہوتا ہے۔آج یہ صورتحال ہے کہ براہوئی لٹریچر کے حوالے سے کوئی تاریخ تک نہیں لکھی گئی۔۔۔ تاکہ پتہ چل سکے کہ اپنے ذاتی مفادات کے لئے گروہ بندی کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔میرا ذاتی خیال ہے کہ آنے والے وقت میں کچھ اور ہو یا نہ ہو۔ اس حوالے سے کام ہوگا۔۔۔کیونکہ مجھ جیسے طالب علم نے ادب کے حوالے سے جو کچھ دیکھا، سنا اور پڑھا۔۔۔ اس میں بہت سارا مواد موجود ہے۔ جس پر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔تاکہ معلوم ہوسکے کہ ہم نے کس طرح ان لوگوں کو بھی ادیب اور شاعروں کی صف میں لاکھڑا کیا۔ جس میں یہ اہلیت اور صلاحیت تک موجود نہیں تھی۔اور پھر سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ہم نے ادب کم،نوجوانوں کو گمراہ کرنے کا کام زیادہ کیا ہے۔ جس کی وجہ سے بہت سے لوگ ادبی انعامات کے حقدار بھی ٹھہرتے رہے ہیں۔اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ براہوئی لٹریچر کے حوالے سے تسلسل کے ساتھ مذاکرات اور مکالمے کیے جائیں۔ صرف بڑے بڑے دعوؤں سے براہوئی ادب کے قد کو نہیں بڑھایا جاسکتا۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] آرٹیکلز. RSS 2.0