برطانوی پارلیمنٹ نے فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے سے متعلق علامتی قرارداد کثرت رائے سے منظور کرلی

منگل 14 اکتوبر, 2014

لندن(ہمگام نیوز) برطانوی پارلیمنٹ نے فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے سے متعلق علامتی قرارداد کثرت رائے سے منظور کرلی ¾ قرارداد کے حق میں 274 اور مخالفت میں صرف 12 ووٹ ڈالے گئے۔غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق برطانیہ کی پارلیمان کے ایوان زیریں میں فلسطین کو علیحدہ ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کے حق میں ایک علامتی قرار داد پیش کی گئی جسے کثرت رائے سے منظور کر لیا گیاوزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے پیر کو قرارداد کے لئے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ کیمرون کے ترجمان نے قرارداد پیش ہونے سے پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ اس سے برطانیہ کی خارجہ پالیسی میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔قرارداد میں کہا گیا کہ فلسطین کو اسرائیل کی طرح ایک آزاد ریاست تسلیم کیا جائے تاہم اس قرارداد سے مسئلہ فلسطین پر برطانوی حکومت کا موقف تبدیل نہیں ہوگا اور برطانوی حکومت اس قرارداد پر عمل کرنے کی پابند نہیں ہوگی۔ایوان میں قرارداد پیش کرنے والے حزب اختلاف کے رہنما گراہم مورس کا کہنا تھا کہ فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے سے تعطل کا شکار امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا موقع ملے گا جو کہ دو ریاستی حل میں پوشیدہ ہے۔ برطانوی پارلیمان کے رکن سر ایڈورڈ لیتھ نے کہا کہ وہ حماس کے شدید مخالف اوراسرائیل کے حامی ہیں تاہم فلسطین میں فلسطینیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک سے ان کی سوچ میں تبدیلی آئی ہے، اسرائیل کے ایک دوست اور ہمدرد کی حیثیت سے اسرائیل کو مشورہ دوں گا کہ وہ غزہ میں فلسطینیوں پر آنے جانے کی سختیاں کم کرے، یہودی بستیوں کی تعمیر کا سلسلہ بند کرے اور فلسطینیوں کو انسانیت کا حصہ سمجھے۔حزب اقتدار قدامت پسند پارٹی کے رہنما نکولس سومز جو سابق وزیر اعظم ونسٹن چرچل کے پوتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ فلسطین کو تسلیم کرنا اخلاقی طور پر درست بھی ہے اور ہمارے قومی مفاد میں بھی ہے۔مشرق وسطی کے بارے میں وزیر توبیس ایلوڈ کا کہنا تھا کہ برطانیہ اسوقت فلسطین کو سرکاری طور پر تسلیم کرتے گا جب اس سے امن بحال ہو سکے گا۔واضح رہے کہ دنیا بھر میں 100 کے قریب ملک پہلے ہی فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کر چکے ہیں جبکہ حال ہی میں سویڈن نے فلسطین کو علیحدہ ریاست کے طور تسلیم کیا ہے اور اب برطانوی پارلیمان میں منظور کی جانے والی اس قرارداد کی صرف علامتی حیثت ہے اور برطانوی حکومت اس پر عملدرا?مد کی پابند نہیں ہو گی لیکن اس قرارداد کی منظوری سے مسئلہ فلسطین کے دوریاستی حل کے لیے دباو بڑھے گا۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0