بزگر گٹ

اتوار 2 نومبر, 2014

بی ایل ایف بی این ایم اور بی ایس او کے بردار کشی کے بیانات ..

شرابی اور مسجد والا قصہ

تحریر ۔۔ بزگر گٹ

بی ایل ایف کے اگر دونوں اخباری بیانات جو اس نے BLA سے اپیل کے نام پر جاری کئے تهے جائزہ لیا جائے تو ان میں ایک طرف اپنے ثالثانہ کردار کا ذکر کرتے ہوئے اپنے آپ کےلیے غیر جانبدار هونے کا تاثر دیا گیا تها اور ساتھ ہی ساتھ ایک ایسے عمل (احتسابی عمل جس کو انجام دینا ناگزیر هوچکا هے ) کو بغیر تحقیق اور کسی بھی علمی وعقلی دلیل اور زمینی حقائق کے بنا ایک جرم گردانے کی لا حاصل کوشیش کی گئی تهی اور یہ عندیہ بهی دیا تها کہ پہلے حملہ کرنے والے کو تاریخ هرگز معاف نہیں کرئے گی باوجود اس کے کہ پہلا حملہ BLA کے دوستوں پر هوچکا تها اور اس سے ڈاکٹر اللہ نذر باخبر تهے دوسرا اور پهر تیسرا حملہ جس میں ایک ساتهی اپنے پیروں سے محروم هو گئے. اور تینوں حملوں کی معلومات میں نے بذات خود ڈاکٹر اللہ نذر کو دئیےتهے توایک ہی سانس میں دوایسے متضاد خیالات کے اظہار کے بنا پر ان اخباری بیانات کا پس منظر سیدھی طرح سے روایتی پاکستانی طرز سیاست کو آشکار کرتاتها ان بیانات کا مقصد حقائق کو نظر انداز کرکے اپنے عزائم کےلیے راه ہموار کرنا تها جس کا سب سے بڑا ثبوت اس وقت کهل کر سامنے آیا جب BLA کے دوستوں نے کاہان کے قریب چند ایسے مری نوجوانوں کو گرفتار کیا جو مری کے علیانی شاخ سے تعلق رکھتے تھے جو سندھ کے رہائشی تهے ان سے پوچھ گچھ کرنے پر اس بات کا انکشاف هوا کہ وه چند دن پہلے اس علاقے میں آئے تهے میں اس بات کا خلاصہ کرنا چاہتا هوں کہ جب اصل حقائق ہی سامنے نہیں آئے تهے کہ اصل مسئلہ کیا هے اور وہاں کاہان میں هواکیا هے. یا هو کیا رها هے اس طرح سے اظہار و الزام مناسب وعقلی فعل تها یہاں تک کہ قادر مری اور ناڑی مراد کو اصل حقیقت کا پتہ نہیں تها کہ اس دن کاہان میں کیا واقعہ پیش آیا جس کا ثبوت یو بی اے کے نام سے مزار بلوچ کا اخباری بیان تها جس میں حملے کے علاوہ کسی قسم کی بهی معلومات نہیں تهے اس کی اصل وجہ یہ تھی کہ سندھ کے رہائشی چند مری نوجوانوں کو نواب مری کے نام پر گمراہ کرکے BLA کے کیمپ کے قریب مورچہ بند کرکے ناڑی مراد خود کوہلو کے طرف روپوش هوگیا تها اسی لئے اسکو کاہان میں پیش آنے والے واقعہ کا کوئی علم نہیں تها اسی دوران ایسی صورت حال میں ہمارے ثالث اور غیر جانبدار هونے کے دعوے داروں نے ایک دم سے برادر کشی کا رونا شروع کر کے BLA پر اپنے دل کا بهڑاس نکالنا شروع کردیا فیس بک پر فیک آئی ڈیز سے بلیک ڈے کے ساتھ ہی ساتھ گالیاں اور بی این ایم کا بیان چند منٹ بعد بی ایس او کا بیان ایک ہی سلسلے کی کڑی نظر آئے اور اس بات میں کسی شک کی گنجائش ہی نہیں رہی کہ یہ سب کچھ بہت ہی سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ تها کیونکہ اس وقت تک ڈاکٹر اللہ نذر اور اسکے گروپ کے گروہی مفادات کو سب سے زیادہ خطرہ BLAکے پالیسیوں سے رہا هے خاص کر تنقیدی عمل نے انکو سیخ پاء کردیا هے تنقیدی مضامین ان میں اٹھائے گئے سوالات کا آج تک نہ تو ڈاکٹر اللہ نذر نے اور نہ ہی اسکے گروپ نے کهل کرکوئی بهی علمی جواب دیا هے اور نہ کهل کر سامنے آئے ہیں یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے سوشل میڈیا پر گالی گلوچ اور الزام تراشی سے زبان بند کرانے کے حربے استعمال کئے گئے اخباری انٹرویوز میں اشاروں میں وار سائیکو بیرونی ایجنٹ ملٹی نیشنل کمپنیوں سے سودا کرنے والے جیسے القاب سے ڈرانے کی کوشیش کی گئی جب کچھ نہیں هوا تو سنگت حیربیار مری پر دباؤ بڑھانے کے لئے انکو بی ایل ایف کے پلیٹ فارم سے تحریک کے لئے نقصان دہ قرار دیا جب اس سے بهی بات نہیں بنی تو سلیمان داود کو نشانہ بناکر اپنا الو سیدھا کرنے کی کوشش کی گئی بیچ میں چارٹر پر گرگٹ والا موقف 13 نومبر کو متنازعہ کرنا نواب مری سے اختلافات کو غلط رنگ میں پیش کر کے اپنے عزائم کی تکمیل کرنا وغیرہ وغیرہ یہ سب الگ سے تهے .
آج جن مشکلات سے BLA کے دوست دوچار ہیں اس کا اندازه شاہد کسی کو هو قابض دشمن سے مقابلہ اپنی جگہ بلوچ قومی سیاست کو لیکر مفاد پرستوں کے طرف سے پورے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت تحریک کو ہائی جیک کرنے کی کوششوں کا بهی سامنا هے مفادپرستوں کے ہاتھوں قومی تحریک کو ہائی جیک هونے سے بچانا ایک الگ مکمل محاذ اور اس کے ذمہ داریوں کا اضافی بار گراں کی حقیقت کو ثابت کرتا هے جس سے فرار هونا سیدھی طرح سے قومی تحریک سے خیانت کے زمرے میں آتا هے .وه اس لیے بهی کہ اسی تحریک سے قابض دشمن کا خاتمہ ممکن هوگا وه بهی اس صورت میں جب یہ قومی شکل اختیار کرکے جلد از جلد قومی طاقت میں تبدیل هوجائے گا کسی بھی معمولی مفاد کے لیے اس تحریک کے قومی رخ کو ہر قدم پر موڑا جائے اور اس کے قومی صورت اورقومی طاقت کے راستے میں رکاوٹ بن کر اس کے فطری سمت کو بدل کر گروہیت کو تقویت دیا جائے تو کیا یہ تحریک سے خیانت نہیں هوگا اور جب اس عمل کو پوری طرح سمجها جائے اور اسکو نظر انداز کیا جائے تو کیا یہ بهی قومی خیانت نہیں هوگا ؟؟ ایسی صورت حال میں جب BLA کے دوست اپنے هرعمل کے اخلاقی جواز کے ساتھ قوم کے سامنے اپنے هر عمل کی وضاحت پیش کر رہے ہیں اور تمام صورت حال میں قوم کو شریک کررهے ہیں دوسری طرف ڈاکٹر اللہ نذر اور اسکے گروپ کے طرف سے بغیر ثبوت بغیر معلومات ایک دم سے ایسا شور مچانا کہ برادر کشی هورهاهے وغیرہ وغیرہ میرے خیال سے پوری طرح اسی تسلسل کو ظاہر کرتا هے جس میں وار سائیکو بیرونی ایجنٹ ملٹی نیشنل کمپنی سے ساز باز تحریک کے لیے خطرہ قرار دئیے تهے .BLA مستقبل میں اپنے تمام اس حکمت عملی کو جو مڈی چور اور سازشی قاتلوں کے خلاف سرانجام دے رہا هے اس دوران اپنے تمام کارکردگی کو حقائق اور ثبوت کے ساتھ قوم کے سامنے ضرور پیش کرئے گا
تب اس طرح سے دوستوں کو پاکستانی طرز سیاست کی بنیاد پر بدنام کرنے کی منافقانہ عزائم کو ڈاکٹر اللہ نذر کیا نام دینگے مجھے اندازه نہیں. . لیکن اتنا جانتا هوں کہ کسی بھی مقام سے 90 کے زاویے پر سے یو ٹرن لینا ڈاکٹر اللہ نذر کے لیے کوئی مسئلہ نہیں اب اگر بلوچ قومی تحریک میں ڈاکٹر اللہ نذر اور اسکے گروپ کے کار کردگی کا جائزہ لیا جائے تو بہت سے سوالات سامنے آتے ہیں مجھے اس موقع پر ایک علاقائی قصہ یاد آیا جس کا ذکر شاہد اس موقع پر مناسب هو.
دو شرابی لنگوٹیا یار تهے هر رات کو پی کر غول غپاڑا ان کا عادت بن چکا تها علاقے کے لوگ بھی انکے اس عادت سے واقف تهے هر رات پی کر ایک ڈرامہ هوتا ہی تها لوگ ان سے دور ہی رہتے تھے مگر علاقے میں ایک ایسا شخص تها جو ان دونوں کو لعنت ملامت کرتا رہتا تها کبھی کبھار ان کے کان بهی کینچتا تها مار پیٹ بهی هوتا دونوں شرابی اس شخص سے بہت زیادہ تنگ تهے شراب پینے کی عادت وه نہیں چهوڑ سکتے تھے اور لعنت ملامت کے عادت سے یہ شخص دست بردار هونے کو تیار نہیں تها دن میں دونوں شرابی دوست جہاں تک ممکن هوتا لوگوں میں اس شخص کے خلاف نفرت پھیلانے کی کوشیش کرتے کبھی اس کے گهر والوں پر الزام کبھی اس پر لیکن علاقے کے اکثر لوگ سمجهتے تهے کہ اصل مسئلہ کیا هے ان کے باتوں پر زیاده توجہ نہیں دیتے تهے اتفاق سے اس شخص کا گهر محلے کے مسجد کے ساتھ تها ایک دن یہ شخص اپنے گھر میں تعمیراتی کام کروارہا تها دن کو گرد مٹی مسجد میں گرتا یا دیواروں پر کام کرتے وقت کبھی کبھارکچھ اضافی ریت سمیٹ وغیره مسجد میں گرجاتا اسی دوران اس بات کا جب ان دونوں شرابیوں کو جب پتہ چلا تو رات کو پی کر سیدھا اس شخص کے گهر کے سامنے شور شرابہ شروع کر دیا وه کافر تم کو خدا کے گهر کا لحاظ نہیں نکلو باہر گیٹ پر پتھر برسا رہے تهے اور چیخ رهے تھے یہ ہندو هے مسلمان نہیں اپنے گهر کو بنا رها هے خدا کے گهر کو خراب کررها هے وغیرہ وغیرہ. اس شور شرابے میں ایک تماشائی نے کہا واه بهی خدا کے گهر کے ورثوں کو دیکهو چند دن پہلے یہی شرابی رات کو نشے میں دھت کهڑے هوکر مسجد کی دیوار پر پیشاب کررهاتها جب میں نے منع کیا تو مجھے کہا کیا مسجد کا مولوی تمهارا باپ هے کیا میں اس کے سر پر پیشاب کررها هوں جو تم ناراض هو رهے هو میں تو نالی میں پیشاب کررها هوں.
کہنے کا مقصد یہ هے کہ برادر کشی کے الزام کو لیکر اگر ڈاکٹر اللہ نذر اور اسکے گروپ کے حالیہ اخباری بیانات یا شور شرابے کو دیکها جائے تو بات یہی بنتی هے
کیونکہ ڈاکٹر اللہ نذر کے طرف سے قومی تحریک کو لیکر مکران میں بےگناہ بلوچوں کا بغیر تحقیق بڑی تعداد میں قتل کے معمولات کا سامنے آنا.کیا برادر کشی کے زمرے میں نہیں آتا ؟ بی این ایم پر قبضہ کرنے کےلیے شهیدغلام محمد کے ساتھ جو سلوک کیا وه برادر کشی کے زمرے میں نہیں آتا ؟؟ غلام محمد کے شهادت کے بعد عصاء ظفر سے جو سلوک کیا وه کیا تها ؟؟اس کے بعد خلیل و منان کے ذرئعے بی این ایم پر قبضہ کیا اور بی ایس او پر قبضہ کرکے بی ایس او کو گروہئت کا شکار کرکے بحران سے دوچار کردیا لیڈری کے شوق میں دیگر آزادی پسند گروپس سے بے بنیاد کچھ وکیل شروع کرکے ایک خلیج پیدا کردیا وه کیا هے وه کیا برادر دوستی کہلاتا هے؟ .ثناء بلوچ کو الاعلان غیر مسلح کرکے غیر محفوظ بنانا وه کیا تها . دیگر ایسے بہت سے ایسے معمولات جن کے بارے میں بہت سے شکوک و شبہات پیدا هوچکے ہیں وه کیا ہیں ؟؟ اگر ڈاکٹر اللہ نذر سب سے پہلے برادر کی وضاحت کریں تو بہتر هوگا کیونکہ اگر برادر کی حقیقی وضاحت هو تو برادر کش یا کشی کا خلاصہ مشکل نہیں هوگا .

image_pdfimage_print

[whatsapp] آرٹیکلز. RSS 2.0