بسمارک

ہفتہ 24 جون, 2017

تمام اقوام میں ایسے منفرد افراد گزرے ہیں جنھوں نے اپنی ذہانت، علم اور جدوجہد سے اپنی قوم و ملک کی تقدیر بدل دی۔ بسمارک انہی افراد میں سے ایک ہے۔ اوٹو وون بسمارک یکم اپریل ۱۸۱۵ کو ایک ممتاز زمیندار اور فوجی افسر کارل ولیئم کے گھر پیدا ہوا ۔ بسمارک کی سوانح نگارجوناتھن اسٹین برگ کے مطابق بسمارک نے جرمنی تو بنایا مگر اس نے کبھی بھی اس پر حکومت نہیں کی۔ اس نے تین پروشین باشاہوں کے ماتحت پروشیا حکومت کی سربراہی کی جو کہ کسی بھی وقت بلا جھجک بسمارک کو اسکے عہدے سے فارغ کرسکتے تھے ۔ آج سے ایک سو پینتالس سال قبل جرمنی ستائیس چھوٹی چھوٹی ریاستوں پر مشتمل تھا۔ جن میں سب سے طاقتور ریاستیں پروشیا اور آسٹریہ تھیں اور یہ دونوں ریاستیں ایک دوسرے کی حریف تھیں۔ ۱۸۵۱ میں پروشیا کے بادشاہ فرڈیننڈ ولیئم چہارم بسمارک کو جرمن کنفیڈریشن میں اپنی ریاست کا نمائندہ مقرر کرتے ہیں۔ اس کے بعد بسمارک روس اور فرانس میں پروشیا کے سفیر مقر ر کیے جاتے ہیں ۔ نئے بادشاہ ولیئم اول نے ۱۸۶۲ میں بسمارک کو ترقی دے کر پرویشا کا چانسلر یعنی وزیر اعظم مقرر کیا ۔ پروشیا کا وزیراعظم مقر ہوتے ہی بسمارک اپنی زندگی کے سب سے بڑے مقصد یعنی متحدہ جرمن ریاست کی تشکیل پر کام کرنا شروع کردیتا ہے۔بسمارک نے طاقت میں رہتے ہوے دوسرے سیاست دانوں کی طرح کبھی بھی لوگوں کے بڑے ہجوم سے خطاب نہیں کیا کیونکہ اس کی توجہ ہمیشہ سرکاری اداروں کی نٹ اور بولٹ پر ہوتی تھی۔کتاب ، بسمارک : ایک زندگی کے مطابق بسمارک اپنے زیر دست کام کرنے والے لوگوں کو مکمل کنڑول کیا کرتے تھے اور وہ اپنے سخت رویے کی وجہ سے جابر اور ایک آمر کہلاتے تھے شاید بسمارک کا مزاج ، اس کا رویہ اور انداز کسی سے میل نہیں کھاتا تھا، وہ دوسروں سے مختلف تھا اسی لیے وہ کامیاب تھا۔ مارکسزم اور جدید کمیونزم کے بانی جرمن باشندے کارل مارکس بھی بسمارک دور میں جرمنی میں تھے لیکن وہ بسمارک کے مخالف اور انکے سیاسی پروگرام کے خلاف تھے۔بسمارک جرمنی کی سیاسی روایات جیسے کہ بادشاہی نظام کے حق اور ایک متحدہ جرمن ریاست پر یقین رکھتا تھا ، اس کی سیاست قوم پرستی، رسم ورواج اور حقیقت پسندی کے گرد گھومتی تھی جبکہ کارل مارکس انقلاب کے ذریعے مزدوروں کی حکمرانی چاہتا تھا۔ مارکس کے نزدیک نیشنلزم ایک ناسور ہے اور وہ اپنی تصوراتی دنیا میں قوم کے بجائے طبقوں کو تاریخ کا پہیہ سمجھتا تھا۔ بسمارک نے اپنی جرمن سرزمین کو متحد کرنے لیے کئی جنگیں چھیڑیں اور کئی جنگوں کو رکوایا۔ چھوٹی چھوٹی شاہی ریاستوں میں تقسیم جرمنی کو سب سے زیادہ خطرہ اپنے ہمسایوں سے تھا جو جرمنی کی کمزوریوں کو سمجھتے تھے۔ جرمن قوم کے کچھ علاقوں پر ڈنمارک کا قبضہ تھا بسمارک نے اپنے سب سے بڑے جرمن حریف آسڑیا کو اپنے ساتھ ملایا اور جرمن علاقوں کو آزاد کرانے کے لیے ڈنمارک سے جنگ چھیڑ لی۔ بسمارک جرمن علاقے پھر سے جرمن سرزمین میں شامل کر لیتا ہے اور ڈنمارک کو شکست ہوتی ہے۔ اس کے بعد جب آسڑیا پروشیا کے لیے مسئلے پیدا کرتا ہے تو بسمارک آسٹریا سے جنگ چھیڑ دیتا ہے اور دوسری طرف اٹلی کو اپنے ساتھ ملا لیتا ہے ۔ جنگ کے دوران بسمارک کے سیاسی مخالف اس پر قاتلانہ حملہ کرتے ہیں لیکن اس حملے میں بسمارک کو فقط معمولی زخم آتے ہیں اور اس جنگ میں جیت پھر سے بسمارک کی ہوتی ہے۔ آسڑیا کو شکست دینے کے بعد فرانس کے سربراہ نپولیئن سوئم ( جو کہ نپولیئن اول کے بھتیجے تھے) پروشیا کی بڑھتی ہوئی طاقت سے خوفزدہ ہوکر پروشیا کی سربراہی میں قائم شمالی جرمن ریاستی اتحاد پر حملہ کرنے کے لیے اعلان جنگ کرلیتا ہے۔ اس علان سے تمام جرمن قوم کے نذدیک فرانس ایک جاریت پسند حملہ آور کے طور پر اُبھرتا ہے۔ تمام جرمن ریاستیں پروشیا کی سربراہی میں اپنی سرزمین کی حفاظت کے لئے جنگ میں شامل ہوجاتی ہیں۔ بسمارک کی سربراہی میں پروشیا فرانس کو بھی اپنی حکمت عملی سے شکست سے دوچار کرلیتا ہے۔ اس جنگ کے بعد بسمارک جرمن ریاستوں کو متحدہ طاقت بنانے کے لیے ایک جرمن ریاست کی تشکیل پرکام شروع کرتا ہے۔ بلا آخر ۱۸ جنوری ۱۸۷۱ کو آسڑیا کے علاوہ تمام جرمن ریاستیں ویلیئم دوئم کی سربراہی میں جرمن سلطنت کی بنیاد رکھ لیتے ہیں۔ جرمن سلطنت قائم ہونے کے چند سال بعد بسمارک اور بادشاہ کے درمیان پالیسی پر اختلافات جنم لیتے ہیں جس پر بسمارک اپنے عہدے سے دستبردار ہوجاتے ہیں۔ جرمنی چند ہی سالوں میں یورپ کی طاقت بن جاتی ہے ، بسمارک ، متحدہ جرمنی کا بانی اور جرمن قوم کا ہیرو تیس جولائی ۱۸۹۸ کو انتقال کرلیتے ہیں ۔ بسمارک ایک عظیم اسٹیٹ مین تھا جسکی جنگ و خارجہ حکمت عملی اور انداز سیاست کو سمجھنے کے لیے جرمن دانشوروں کو ایک نیا لفظ Realpolitik ایجاد کرنا پڑا جسکے معنی ہیں حقیقت پسندی کی بنیاد پر سیاست کرنا۔ بسمارک کی موت کے بعد بھی جرمن قوم بسمارک کی گن گاتی ہے۔ ہٹلر جنگ جہانی دوم میں اپنی سب سے طاقت وربحری جہاز کو بسمارک کا نام دیتا ہے۔کہتے ہیں کہ جب بیس ویں صدی میں جرمنی شدید بحران کا شکار تھی اور ان کو کو ئی حل دکھائی نہیں دیتا تو جرمن کہا کرتے کہ ۔۔۔۔۔۔اگر بسمارک ہوتا تو وہ کیا کرتا ؟؟

image_pdfimage_print

[whatsapp] آرٹیکلز. RSS 2.0