بسیمہ سے فورسز نےدرجنوں نہتے بلوچوں کو اغواء کرکے لاپتہ کردیا، بی ایس او آزاد

ہفتہ 5 ستمبر, 2015

کوئٹہ (ہمگام نیوز) بی ایس او آزاد کے مرکزی ترجمان نے بلوچستان بھر میں جاری فورسز کے کاروائیو ں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاستی فورسز کی تسلسل کے ساتھ ہونے والی کاروائیوں میں بڑی تعداد میں شیر خوار بچے، خواتین و نہتے بلوچ فرزند زخمی و شہید ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فورسز کی تسلسل کے ساتھ جاری کاروائیوں میں مشکے، آواران، جھاؤ، بسیمہ ، ڈیرہ بگٹی و مکران کے مختلف علاقوں سمیت بلوچستان بھرمیں کم عمر بچوں سمیت کئی خواتین شہید کیے جا چکے ہیں۔ ریاستی فورسزبلوچستان میں انسانی حقوق کا احترام اور جنگی قوانین کی پاسداری کیے بغیر نہتے بلوچ آبادیوں پر زمینی و فضائی طاقت کا بھر پور استعمال کررہے ہیں۔ بلوچ عوام کی آزادی کی تحریک کو کاؤنٹر کرنے اور چائنا و دیگر ممالک کی سرمایہ کار کمپنیوں سے بلوچ عوام کی مرضی کے بغیر ہونے والے معاہدات کو پائیہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے ریاستی فورسز بلوچ نسل کشی کی کاروائیوں کا مرتکب ہو رہے ہیں۔ بی ایس او آزاد کے ترجمان نے کہا کہ آج بسیمہ کے علاقے راغئے کے گرائی، سُکن و مختلف علاقوں کا گھیراؤ کرکے فورسز نے گھروں میں لوٹ مار کے بعد ایک درجن سے زائد گھروں کو نذر آتش کردیا، گھروں میں موجود موٹر سائیکلوں و دیگر قیمتی سامان کو بھی فورسز اپنے ساتھ لے گئے جبکہ خواتین و بچوں پر تشدد کرکے انہیں شدید زخمی کردیا۔ بیسمہ سے فورسز نے 25سالہ عیسیٰ،70سالہ بزرگ غوث بخش سمیت درجنوں نہتے فرزندان کو اغواء کرکے لاپتہ کردیا، انہوں نے کہا کہ بلوچستان بھر میں تسلسل کے ساتھ ریاستی فورسز کے ہاتھوں ہونے والی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے باوجود اقوام متحدہ و انسانی حقوق کے عالمی اداروں کی خاموشی باعثِ حیرت ہے۔ کیوں کہ ریاستی فورسز بلوچستان میں خود کو کسی جنگی قوانین و انسانی احترام کا پابند سمجھے بغیر ، بغیر کسی رکاوٹ کے آبادیوں پر حملہ آور ہو کر لوگوں کو شہید، زخمی و اغواء کرتے ہیں۔ ان کاروائیوں میں فورسز کمسن بچوں کو براہ راست شہید کرنے میں بھی ملوث ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور آزاد صحافت کے دعویدار عالمی میڈیا نے اپنے پیشہ ورانہ فرائض ادا کرنے کے برعکس خاموشی کا رویہ برقرار رکھا تو بلوچستان میں جاری نسل کشی کی کاروائیوں میں تاریخ انہیں بھی مجرم ٹہرائے گی۔ا نسانی حقوق کے علمبردار تنظیموں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بلوچستان میں کمسن بچوں کو فورسز کے ہاتھوں نشانہ بنانے کی کاروائیوں ، اور جنگی قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف موثر آواز اُٹھائیں۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0