بلوچستان آزادی پوری دنیا کے لئے امن کاباعث بن سکتاہے ، ماما قدیر کا وفد سے گفتگو

ہفتہ 5 ستمبر, 2015

کوئٹہ (ہمگام نیوز) لاپتہ بلوچ اسیران کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 2237دن ہوگئے اظہار یکجہتی کرنے والوں میں بلوچستان نیشنل پارٹی نوشکی کے سنیئر عہدیدار امیر خورشید جمالدینی اپنے ساتھیوں سمیت لاپتہ افراد، شہداء کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کی اور بھرپور تعان کا یقین دلایا اور انہوں نے کہاکہ کہ مذہب کے نام پر بلوچوں کی تاریخی زمین کو قبضہ کرگیا روز اول بلوچ کی بجر اور استحصالی کے خلا ف بولتے اور جنگ کرتے ااڑہے ہیں اس وقت سے لیکر آج تک بلوچ فرزدوں کو اٹھا کر پھرغائب کرنے کا سلسلہ جاری ہے جس کا جائزہ لیا جائے تو ہزاروں کے حساب ہونگے ۔انہوں نے کہاکہ فورسز کارروائی یں ہزاروں کے حساب سے بلوچوں کو اٹھا کر جہازوں کے ذریعے لے گئے جن کے بارے میں آج تک کسی کو معلوم نہیں کہ وہ کہاہے اور کس حال میں ہیں دلیپ داس شیر علی اسد مینگل اور احمد شاہ بلوچ اور دیگر اس طرح کے بلوچوں کو غائب ہونے کا قصہ آج کا نہیں ۔ وئس فا رمسنگ پرسنزکے وائس چیئرمین ماماقدیر بلوچ اور سمی بلوچ نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اس وقت سیاسی پارٹی اور تنظیموں کی کمزوری کی بنیا د پر ان کو دنیا تک نہیں پہنچا گیا لیکن آج اپنے کو بھی نہیں بھولے ۔ وہ کب آور کس وقت کے قصے ہوں میرا کہنے کا مقصد یہ ہے کہ آج بلوچ کی اغوانماء کا قصہ آج کان نہیں اس وقت انگریز بھی اس طرح بلوچوں پر حکومت کرنے کی خاطر اس طرح حربے استعمال کئے لیکن پھر بھی وہ بلوچوں کی مزاحمت کوختم نہیں کرسکے ۔ تاریخ کا حصہ بننا کسی کی خواہش کے مطابق نہیں ہوتا بلکہ کردار خود تاریخ کے ساتھ جوڑتے ہیں تاریخ میں کردار سنوارنے کیلئے انسان جنونیت تک جانے اہئے آپ جس کام کیلئے ہر قسم کے تکلیف برداشت کریں ۔محنت کے ساتھ اپنے عمل کے ساتھ جوڑ ا رہنے چاہئے تو ہو اپنے کردار کے ذریعے حاصل ہوتا ہے اس سے جو تبدیلی رونما ہوجاتا ہے۔ وہ تاریخ میں لکھ جاتے ہیں یہ بات حقیت ہے بلوچستان آزادی پورے دنیا کیلئے امن کا باعث بن سکتا ہے اسی طرح بلوچ لیڈ ر بھی دنیا کیلئے سبق آموز حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر ااج بھی کسی بھی بلوچ کے سامنے نواب اکبر خان صباء دشتیار ی بالاچ مری اور کسی کانام لیں تو اان کے آنکھیں نم ہوجاتے ہیں۔ اس تاریخ ساز شخصیتوں کو ریاست نے اپنے راستے سے ہٹایا ۔ وہ تاریخ میں امر ہوگئے

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0