بلوچستان اسمبلی قرارداد سے کوئی تعلق نہیں ۔ خان آف قلات

اتوار 5 اکتوبر, 2014

ہمگام نیوز

جلاوطن بلوچ آزادی پسند رہنما خان سیلمان داود خان آف قلات سے بلوچستا ن اسمبلی میں منظور کی گئی قراداد کے متعلق سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ بلوچستان کی آزادی ہی میرا مقصد ہے۔ بلوچستان اسمبلی میں جو قرارداد منظور کیا گیا اس سے میرا واسطہ نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ بلوچستان کی آزادی اور اپنے آنے والی نسل کی بہتر مستقبل کے لیے میں آخری سانس تک جدوجہد جاری رکھونگا۔میرا اور حیر بیار مری کا آزادی کے نکات پر ایک ہی موقف ہے ۔ مراعات کو خیرآباد کرکے جلاوطنی کی زندگی گزارنے کا مقصد ہی اپنی سر زمیں کو قابض سے آزاد کروانا ہے جس کے لیے امریکن نماہندگان اور عالمی برادری سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جاوید مینگل کس بناء پر بلوچستان کی آزادی کی بات کررہے ہیں؟ ٓ ایک جانب اپنے بھائی کو پاکستان کے لئے خود رخصت کرکے الیکشن کے لئے روانہ کرتے ہیں اور دوسری جانب قوم کے سامنے اختر مینگل سے اختلافات کی ڈھونگ رچاتے پھر رہے ہیں۔ ڈاکٹر اللہ نزر کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ایک آزادی پسند گوریلہ لیڈر کو کیا ضرورت تھی کہ وہ اختر مینگل سے ملاقات کرتے؟۔ مزید کہا کہ مہران مری کو بلوچ اور بلوچستان کے بارے میں کچھ نہیں معلوم اپنے آپ کو نواب مری کا جانشین کا نام دے کر اپنی پست قد کو بڑھانے چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ نواب مری کی فکر اور فلسفہ کو اس وقت حیر بیار مری ہی آگے لے جارئے ہیں جس کی پاداش میں حیر بیار مری کے خلاف پروپیگنڈہ جاری ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بی آرپی صرف نام کی جماعت رے گئی ہے اور ایک ڈکٹیٹر اس کو لیڈر کرکے قوم کے آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بلوچستان کی آزادی کے نکات پر میں سب سے بات کرنے کو تیار ہوں لیکن پارلمانی جماعتوں سے تعلق رکھنے والوں سے کھبی بھی بات نہیں ہوسکتی۔ انھوں نے کہا کہ شہیدوں کے نام پر سیاسات کرنے کا وقت اب گزر گیا اب بلوچ قوم باخوبی جانتے ہیں کہ کون کیا کررہے ہیں۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0