بلوچستان: انسداد پولیو مہم کو موثر بنانے کے لیے قانون سازی پر غور

منگل 15 ستمبر, 2015

صوبائی وزیر صحت رحمت اللہ بلوچ نے میڈیا  کو بتایا کہ ایک مسودہ قانون تیار کیا گیا ہے جس میں ایسے والدین جو اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوانے سے انکار کریں گے ان کے لیے سزا تجویز کی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بہت سے والدین آگاہی نہ ہونے اور ویکسین سے متعلق غلط تصورات کے باعث بچوں کو یہ قطرے نہیں پلواتے جنہیں متعلقہ حکام اور صحت کا عملہ دوبارہ رابطہ کر کے قائل کرتا ہے اور ان میں سے کچھ لوگ آمادہ بھی ہو جاتے ہیں۔

’’نیا بل ہم لا رہے ہیں ایک تو یہ ضروری ہوگا کہ بچوں کو اسکول میں داخل کروانے کے لیے پولیو ویکسین کارڈ ہو، بلکہ اب یہ بل خاص طور پر ان لوگوں کے لیے ہوگا جو قطرے پلوانے سے انکار کرتے ہیں۔‘‘

گزشتہ سال بلوچستان میں پولیو وائرس سے متاثرہ 25 کیسز رپورٹ ہوئے تھے لیکن رواں برس اب تک صرف پانچ کیس ہی سامنے آئے ہیں۔

بلوچستان میں پولیو کے خلاف پیر کو تین روزہ مہم شروع کی گئی ہے اور صوبائی وزیر کے بقول حالیہ مہینوں میں جس تواتر سے انسداد پولیو مہم جاری رکھی گئی یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ ماضی کے برسوں کی نسبت پولیو سے متاثرہ بچوں کے کیسز کم رپورٹ ہوئے۔

صوبائی وزیر صحت کا کہنا تھا کہ اب اس مہم سے وابستہ افراد کے لیے فول پروف سکیورٹی کا انتظام کیا گیا ہے جس سے توقع ہے کہ ایسے ناخوشگوار واقعات سے بچنے میں خاصی حد تک مدد ملے گی۔

انھوں نے ایک بار پھر اس تاثر کی نفی کی کہ پولیو سے بچاؤ کی ویکسین غیر اسلامی یا مضر صحت ہے۔ ان کے بقول بہت سے ممالک اس ویکسین کے استعمال سے اپنے ہاں اس موذی وائرس پر قابو پا چکے ہیں اور آنے والی نسلوں کی صحت کے لیے ضروری ہے کہ والدین اپنے پانچ سال تک کے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلوائیں۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0