بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ کا ہڑتال کی کال سے اظہارِ لاتعلقی

جمعہ 28 نومبر, 2014

قلات(ہمگام نیوز) بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ قلات زون کے ترجمان نے اپنے ایک وضاحتی بیان میں 30نومبر کو قلات میں شٹر ڈاﺅن ہڑتال سے لاتعلقی کا اظہار کرکے بیان میں کہا ہے کہ ہڑتال کا اعلان بی ایس او آزاد قلات کی جانب سے کیا گیا ہے جبکہ بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ بلوچ سالویشن فرنٹ کا اتحادی ہے اور الائنس کے ضابطہ اخلاق کے مطابق سال میں دو اہم مواقع پرشٹر ڈاﺅن ہڑتال کا فیصلہ حتمی ہے جوکہ 27مارچ یوم قبضہ اور 13نومبر یوم شہدائے بلوچستان کے حوالہ سے ہیںاور اسی تناظر کو لے کر آئے روز ہڑتالوں سے بلوچ عوام کی معاشی مشکلات کو مدنظر رکھ کر مخصوص دنوں میں دکان بندی کا فیصلہ کیا گیا ہے تا کہ روز روز کی ہڑتالوں سے بلوچ عوام کی مشکلات اور مصائب میں اضافہ نہ ہوگزشتہ دنوں زون کی جانب سے علاقائی سطح پرجو مشترکہ شٹر ڈاﺅں کا اعلان کیا گیا ہے بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ قلات زون کا اس سے کوئی تعلق نہیں بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ بلوچ سالویشن فرنٹ کا اتحادی تنظیم ہے اور الائنس بناتے وقت جس ضابطہ اخلاق کو ڈرافٹ کی صورت میں ترتیب دی گئی ہے بی آئی ایم اس کی مکمل پابند ہے اور تنظیم کا کوئی بھی ہنکیں یا یونٹ اس کی خلاف ورزی کا متحمل نہیں ہوسکتا ترجمان نے کہاکہ قلات سمیت بلوچستان بھر سے ریاستی اداروں نے بلوچ نوجوانوں کی اغواءاور گمشدگیوں میں ایک دفعہ پھر تیزی لائی ہے بی آئی ایم ریاست کے اس قسم کے مکروہ عزائم کو کاﺅنٹر انسرجنسی کا حصہ قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے بلوچستان میں مداخلت کی اپیل کی ہے کہ وہ ریاست کے جنگی جرائم پر مبنی کاروائیوں کا نوٹس لے کر بلوچ قومی نسل کشی روکنے میں اپنی کردار اداکریں ترجمان نے کہاکہ ریاست بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نہ صرف بلوچ وطن پر جبری طور پر قبضہ کیا ہے بلکہ تمام ترجنگی اصولوں کو پائمال کرتے ہوئے زیادہ جارحانہ اور خونریز ہوگیا ہے ترجمان نے کہاکہ ہم شہید ظہور لانگو شہید فیصل جان اور شہید رشید جان سمیت تمام بلوچ شہداءکو قومی آزادی کی جدوجہد میں مثالی کردار پر شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں ان کی مشن آزادی کی جدوجہد ہے شہداءنے جانفشانی اور جرائت سے تحریک آزادی کو ایندھن دی ہے ان کی فکر و خیالات ہمارے لئے مشعل راہ ہے وہ ہمارے ہیرو رہبر اور رہنماءہے بلوچ جدوجہد بغاوت نہیں بلکہ آزادی کی جدوجہد ہے اور آزادی کی تحریکوں کو تشدد اور طاقت سے کمزور نہیں کیا جاسکتا

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0